ہٹلرکا مجسمہ اور ایک ہندوستانی خاتون

Share Article
Hitler's statue and an Indian woman
یونان کی گولڈن ڈان پارٹی کی ویب سائٹ پر نیلی ساڑھی میں ملبوس ایک ہندوستانی خاتون جرمنی کے آمر ایڈولف ہٹلر کے مجسمے کو دیکھتی نظر آ رہی ہیں۔ اس عورت کا نام’ساوتری دیوی‘ ہے۔ اگر ساوتری دیوی کے نام اور لباس کو نظر انداز کر دیا جائے تو وہ مکمل طور پر یوروپی عورت تھیں۔ وہ 1905 میں فرانس کے لیون شہر میں پیدا ہوئی تھیں۔ ساوتری دیوی کی ماں برطانوی تھیں جبکہ والد یونانی-اطالوی تھے۔
وہ پہلی جنگِ عظیم کے اختتام کے بعد 1923 میں ایتھنز پہنچ گئیں۔ انھوں نے مغربی اتحاد پر یونان کی توہین کرنے کا الزام عائد کیا۔ ساوتری دیوی کا خیال تھا کہ یونان اور جرمنی مظلوم ممالک تھے۔یہودیوں کے خلاف ہٹلر کی ظالمانہ کارروائیاں ساوتری دیوی کے نزدیک ’آرین نسل‘ کو بچانے کا قدم تھا۔ انھوں نے ہٹلر کو اپنا رہنما یا گائیڈ بنا لیا تھا۔ 1930 کے آغاز میں ساوتری دیوی یورپ کی بت پرست تاریخ کی تلاش میں ہندوستان آئیں۔ ان کا خیال تھا کہ انڈیا میں ذات پات کے نظام کی وجہ سے دوسری ذاتوں میں شادیاں نہیں ہوتیں اور یہاں انھیں خالص ’آریہ نسل‘ کے لوگ ملیں گے۔ساوتری نے ہندوستانی زبانیں سیکھیں اور یہاں ایک برہمن شخص سے شادی بھی کی جسے وہ اپنی ہی طرح’آرین‘ کہتی تھیں۔ساوتری دیوی کا کہنا تھا کہ ہٹلر زمانے کی رفتار کے برعکس چلنے والا انسان ہے۔ جو ایک دن دنیا سے برائیاں ختم کر دے گا اور’آریوں کی حکمرانی کا سنہرا دور‘ شروع ہوگا۔
ساوتری نے ملک کے بہت سے حصوں کا دورہ کیا۔ وہ لوگوں سے بنگالی اور ہندی زبان میں باتیں کرتی اور آریوں کی اہمیت ان پر واضح کرتی تھیں۔ 1945 میں جرمنی میں نازیوں کے خاتمے کے بعد ساوتری دیوی یورپ پہنچیں اور 1948 میں وہ جرمنی پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔وہاں انھوں نے نازی جرمنی کے کئی پرچے تقسیم کیے اور نعرے لگائے کہ ‘ایک دن ہم دوبارہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور جیت جائیں گے۔’ساوتری کی شادی اور اپنے شوہر کے ساتھ ان کے تعلقات کو شبے کی نظر سے دیکھا گیا۔
اپنی زندگی کے آخری سالوں میں ساوتری ہندوستان واپس آ گئی تھیں۔ وہ ہندوستان کو ہی اپنا گھر سمجھتی تھیں وہ دہلی میں ایک فلیٹ میں رہنے لگیں، پاس پڑوس کی بلیوں کو کھانا کھلاتی تھیں اور اکثر شادی شدہ ہندو عورتوں کی طرح سونے کے زیورات پہنا کرتی تھیں۔ 1982 میں انگلینڈ میں اپنے ایک دوست کے گھر وہ انتقال کر گئیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *