ہندوستانی پوری دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کررہے ہیں

Share Article

کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں ذہانت، تعلیم اور تجربوں کی بہتات ہے۔ یہاں کے بچے پوری دنیا میں ملک کا نام روشن کررہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایک ہندوستانی بچے نے دبئی میں اپنی ذہانت کی دھوم مچادی تو امریکہ کے ایک اسپیلنگ مقابلہ میں دو ہندوستانی نژاد بچوں نے فاتح ہوکر ہندوستان کا نام روشن کیا۔ حالانکہ اس وقت امریکہ میں کچھ لوگ ہندوستان کی شبیہ خراب کرنے کے لئے بھرپور کوشش کررہے ہیں اور نصابی کتابوں میں انڈیا کی جگہ ساﺅتھ ایشیا لکھنے کی مہم چلارہے ہیں مگر ایجوکیشن فاﺅنڈیشن جانتا ہے کہ خطے میں جو حیثیت ہندوستان کو حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں ، لہٰذا وہ اس مہم کو مثبت نقطہ نظر سے نہیں دیکھ رہا ہے۔

p-8دنیا بھر میں ہندوستان کا نام روشن ہورہا ہے۔غالباً اسی وجہ سے کچھ لوگ اب تاریخ بدل کر ہندوستان کا نام پس پردہ لے جانا چاہتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں امریکہ کے کچھ ماہرین تعلیم نے اسٹیٹ بورڈ آف ایجوکیشن سے اپیل کی ہے کہ وہ نصابی کتابوں سے انڈیا کی جگہ جنوبی ایشیا لکھیں۔غالبا یہ لوگ ہندوستان کی شبیہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن شاید انہیں معلوم نہیں ہے کہ ہندوستانی نژاد کبھی بھی ہندوستان کا نام اور اس کی شبیہ کو ختم نہیں ہونے دے گا ۔کیونکہ ہندوستان کی مٹی میں زرخیزی ہے۔ اس مٹی سے جو بھی جنم لیتا ہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں رہتا ہو، اپنے ملک کا نام روشن کرتا ہے۔ خلیجی ممالک سے لے کر امریکہ تک ہر جگہ ہندوستانی بچے اپنے ملک کا نام روشن کررہے ہیں جس کی وجہ سے انہیں خوب سراہا جارہا ہے اور ان کی ذہنیت کو تسلیم کیا جارہا ہے۔ ابھی کچھ دنوں پہلے ہندوستان کے ایک ہونہار آٹھ سالہ بچے نے دبئی میں اپنی ذہانت کا لوہا منوایا ہے۔ اس آٹھ سالہ بچے کی ذہانت کی وجہ سے اسے گوگل بوائے کہا جاتا ہے۔ اس بچے کا نام ” کوٹیلہ پنڈت “ ہے ،۔ یہ بچہ ہریانہ کی جیمز ماڈرن اکیڈمی کا طالب علم ہے۔ دبئی کے دورے میں دنیا بھر کے بارے میں بے پناہ معلومات رکھتے ہوئے ، سامعین کی طرف سے کئے گئے مشکل سوالات کے جوابات دے کر اس بچے نے سب کو حیران کردیا۔ کو ٹیلہ پنڈت کو مختلف تعلیمی ادارے اپنے ہا ں مدعو کرتے رہتے ہیں اور اس کی اس خوبی سے اپنے طالب علموں کو روشناس کرواتے ہیں۔
اسی طرح دو ہندوستانی نژاد بچے نے امریکہ کے نیشنل اسپیکنگ بی مقابلہ جیت کر ہندوستان کا نام روشن کیا ہے۔امریکہ میں منعقد ہونے والے اس ‘ مقابلہ میں ٹیکساس کے 11 سالہ ہند نژاد امریکی بچہ نہار جنگا اور نیویارک کے 13 سالہ ہند نژاد جیے رام ہیتھوار نے یہ مقابلہ جیتا۔ ان دونوں بچوں نے فائنل میں 25 راﺅنڈ تک مقابلہ کیا جس کے بعد دونوں کو مشترکہ طور پر مقابلے کا فاتح قرار دیا گیا اور دونوں کو 40 ہزار ڈالر فی کس انعام میں ملا۔ اس کے علاوہ دیگر تحائف اور انعامات بھی شامل تھے۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ ہندوستانی نژاد امریکی طالب علم ’نیشنل سپیلنگ بی‘ کے مقابلے میں فاتح رہے۔گذشتہ برس 2015 کا مقابلہ بھی وینیا شیوشنکر نے جیتا تھا جبکہ وینیا کی بڑی بہن کاویہ نے 2009 میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔2014 میں آنسن سوجوئی اور 2016 کے فاتح جے رام کے بڑے بھائی شری رام ہیتھوار نے جیتا تھا۔اس کے علاوہ 2013 کا مقابلہ ارویند ماہنکالی جبکہ 2012 کا سنگدھا ندرپتی، 2011 کا سکینا رائے اور 2010 کا انامیکا ویرامنی نے جیتا تھا۔
امریکہ میں ’نیشنل سپیلنگ بی‘ کے گذشتہ نو مقابلوں میں فتح حاصل کرنے کے علاوہ ہندوستانی نژاد امریکی بچوں نے امریکہ میں منعقدہ ’نیشنل جیوگرافک بی‘ کے آخری پانچ مقابلوں میں کامیابی حاصل کی۔ اس مقابلے میں لاکھوں امریکی بچوں کے جغرافیائی علم سے متعلق امتحانات لیے جاتے ہیں۔ 2005 سے امریکی میں منعقد ہونے والے ان دو مقابلوں میں ہندوستانی نژاد بچوں کی کامیابی کا تناسب 80 فیصد ہے۔امریکہ میں اسکول جانے والے بچوں میں ہندوستانی نژاد بچوں کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہے ۔ فیصد میں اتنی کمی کے باجود آخر کیا وجہ ہے کہ وہ غیر معمولی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں؟اس سوال کا جواب جاننے کے لیے یونیورسٹی آف پینسلونیا کے دویش کپور اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سانتا کروز کے نیروکر سنگھ نے تحقیق کی۔اس تحقیق کے دوران سکولوں اور کالجوں میں منعقد ہونے والے دیگر مقابلوں میں ہندوستانی نژاد بچوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا تو پایا کہ ہندوستانی بچے پڑھائی سے متعلق بالخصوص سائنس اور ریاضی کے مقابلوں میں اچھی کارکردگی دکھادیتے ہیں کیونکہ ان کی ذہنی صلاحیت بہت مضبوط ہوتی ہے۔ ہند نژاد بچے جن شعبوں میں دلچسپی لیتے ہیں ان میں اچھی سبقت حاصل کرلیتے ہیں۔جو اس بات کی علامت ہے کہ ہندوستانی نسل میں دیگر نسلوں کی بہ نسبت زیادہ ذہانت پائی جاتی ہے۔
البتہ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یوروپ کے مقابلے میں جنوبی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں ہندوستان کی زمین زیادہ مردم خیز ہے،لیکن ہندوستان کے بچے مخصوص شعبوں میں ہی دلچسپی رکھتے ہیںاور ان شعبوں میں انتہائی ذہانت کا ثبوت دیتے ہیں لیکن جن شعبوں میں ان کی دلچسپی نہیں ہوتی ہے اس میں وہ پچھڑ جاتے ہیں ۔مثال کے طور پر موسیقی اور ایتھلیٹکس سمیت دیگر شعبوں میں ہندوستانی نژاد نوجوان نمایاں پوزیشن حاصل نہیں کر پاتے ہیں۔اسی طرح اسکولوں کی سطح پر ایتھلیٹکس اور کھیلوں کے مقابلوں میں ہندوستانی نژاد بچے باقاعدگی سے حصہ لیتے ہیں لیکن کالجوں میں بظاہر یہ بالکل غائب ہو جاتے ہیں اور پرفیشنل سپورٹس میں بھی نظر نہیں آتے ہیں۔ 2013 کے امریکی سکولوں میں موسیقی کے مقابلے آل نیشنل اونر اینسمبل میں مجموعی طور پر اوکسٹرا میں شامل جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے امریکی بچوں کی تعداد 45 فیصد تھی جبکہ اس میں ہندوستانی نژاد بچوں کی تعداد محض دو فیصد تھی جبکہ بینڈ میں جنوبی ایشین نژاد بچوں کی تعداد 13 فیصد تھی اور اس میں ہندوستانی نژاد بچوں کی تعداد صرف ایک فیصد تھی۔
نیشنل سپیلنگ بی‘ میں کامیابیوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو رواں برس فائنل مرحلے میں جانے والے 285 امیدواروں میں سے 70 کا تعلق جنوبی ایشیا سے تھا۔ان میں سے متعدد میٹلائف ساو¿تھ ایشیا سپیلنگ بی مقابلے کے ذریعے اسپیلنگ کے قومی مقابلے تک پہنچے۔یعنی کہ جنوبی ایشیا نے یوروپ پر بازی مارلی اور جنوبی ایشا پر ہندوستان نے۔ گذشتہ برس 2015 کا مقابلہ بھی وینیا شیوشنکر نے جیتا تھا۔ان میں سائمنز سائنس مقابلہ، انٹل سائنس ٹینلٹ سرچ، میتھ کاو¿نٹس، ٹرومین، چرچل، مارشل اور رودوش سکالرشپ کے مقابلے شامل ہیں۔البتہ ہندوستانی نژاد طالب علموں میں سے کسی نے آئس ہاکی، بیس بال، امریکن فٹبال، باسکٹ بال میں پروفیشنل سپورٹس لیگ نہیں کھیلی۔یعنی کہ ہندوستانی بچے جن شعبوں میں دلچسپی رکھتے ہیں ان میں اعلیٰ مقام تک پہنچ جاتے ہیں ،کیونکہ ان میں عظیم ذہانت پائی جاتی ہے۔
غرضیکہ اگر نصابی کتابوں سے انڈیا کا نام ہٹا بھی دیا جائے تو انڈیا کا نام کبھی مٹایا نہیں جاسکتا ہے۔ کیونکہ اس کے بچے جہاں بھی ہیں وہ نمایاں مقام حاصل کرکے اس ملک کا نام روشن کررہے ہیں۔نصابی کتابوں سے انڈیا کی جگہ جنوبی ایشیا لکھنے کا مشورہ دینے والوں کا خیال ہے کہ انڈیا کے بجائے جنوبی ایشیا کہنا زیادہ درست ہے جس سے 1947 کے پہلے اور بعد کے ہندوستان کے فرق کو سمجھا جا سکے گا۔ان کا کہنا ہے کہ نصابی کتابوں میں قدیم ہندوستان اور جدید ہندوستان کے ذکر سے بچے الجھن کا شکار ہو سکتے ہیں کیونکہ قدیم ہندوستان اور پاکستان کی تاریخ ایک رہی ہے۔میڈیا میں شائع ہونی والی رپورٹ کے مطابق ماہرین تعلیم اور سیکولر ایشیائی تنظمیوں کے درمیان اس معاملے پر اختلاف ہے۔ہندوستانی امریکی اداروں نے ان ماہرین تعلیم پر الزام لگایا ہے کہ ’وہ نام بدل کر ہندوستان کا ہی نام ہمیشہ کے لیے مٹا دینا چاہتے ہیں۔چنانچہ نیو یارک ٹائمز کے نام ایک خط میں ہارورڈ یونیورسٹی میں سوشیالوجی کے پروفیسر ایمریٹس نیتھن گلیزر اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا لفظ کو تاریخی طور قبولیت حاصل نہیں ہے۔لہٰذا انڈیا کی جگہ جنوبی ایشیا لکھنا کسی طرح مناسب نہیں ہوگا۔ بہر کیف فی الوقت ایجوکیشن بورڈ نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ غالباً وہ ایسا کرنے سے گریز کرے گا۔

بوکس:
یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ ہندوستانی نژاد امریکی طالب علم ’نیشنل سپیلنگ بی‘ کے مقابلے میں فاتح رہے۔گذشتہ برس 2015 کا مقابلہ بھی وینیا شیوشنکر نے جیتا تھا جبکہ وینیا کی بڑی بہن کاویہ نے 2009 میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔2014 میں آنسن سوجوئی اور 2016 کے فاتح جے رام کے بڑے بھائی شری رام ہیتھوار نے جیتا تھا۔اس کے علاوہ 2013 کا مقابلہ ارویند ماہنکالی جبکہ 2012 کا سنگدھا ندرپتی، 2011 کا سکینا رائے اور 2010 کا انامیکا ویرامنی نے جیتا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *