ہندوستان میں وقف جائداد کی لوٹ

Share Article

عزیز اے مبارکی
حالیہ دنوں حکومت کرناٹک کے ذریعے تشکیل کردہ کمیٹی نے ریاست کے اندر وقف بورڈ کی زمینوں کا سروے کیا، جس میں ہزاروں کروڑ کے گھوٹالے کا پردہ فاش ہوا ہے۔ اس کمیٹی نے گھوٹالے سے متعلق سات ہزار صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ ریاست کے وزیر اعلیٰ ڈی وی سدانند گوڑا کو سونپی ہے۔ اس کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ وقف جائیداد کی لوٹ سے متعلق یہ گھوٹالہ ٹو جی اسپیکٹرم سے بھی بڑا گھوٹالہ ہوسکتا ہے۔ کمیٹی کو پتہ چلا ہے کہ زیادہ تر بدعنوانیاں سال 2001 سے 2012 کے درمیان ہوئی ہیں جب وقف کی زمینیں داخل خارج کے ذریعے پرائیویٹ پارٹیوں کو منتقل کی گئیں، جس کی وجہ سے سرکاری خزانے کو تقریباً دو لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ داخل خارج (میوٹیشن) ایک قانونی طریقہ ہے، جس کے ذریعے سرکاری زمین، تمام دستاویزات کی پوری طرح چھان بین اور ویری فکیشن کے بعد افراد، اداروں یا کمپنیوں کو منتقل کر دیا جاتا ہے یا فروخت کر دیا جاتا ہے۔ لیکن مذکورہ کمیٹی نے پتہ لگایا ہے کہ وقف کی ان زمینوں کو پرائیویٹ افراد کے ہاتھوں فروخت کرنے یا منتقل کرتے وقت قانونی طریق کار کی کھل کر خلاف ورزی کی گئی ہے۔

 ہندوستان میں وقف جائیداد کے اندر یہ بدنظمی مسلم برادری کی اس ناکامی کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ کوئی منظم ادارہ نہیں قائم کر سکے جو ان جائیدادوں پر مؤثر ڈھنگ سے نظر رکھ سکے۔ ہندوستان کے زیادہ تر مسلمان نہایت خستہ سماجی و اقتصادی صورتِ حال سے گزر رہے ہیں۔ اس سماج کے اندر غریبی، ناخواندگی اور بے روزگاری بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے۔

ریاست کے اندر وقف بورڈ کی 33,741 جائیدادیں 54 ہزار ایکڑ کی رجسٹرڈ زمینوں پر پھیلی ہوئی ہیں، جن میں سے 27 ہزار ایکڑ زمینوں کو ان مصارف میں نہیں لایا گیا جن کے لیے وہ وقف کی گئی ہیں، بلکہ انہیں غیر قانونی طریقے سے کہیں اور منتقل کر دیا گیا۔
کرناٹک میں وقف جائیداد سے متعلق جس گھوٹالے کا پردہ فاش ہوا ہے، یہ ملک کے اندر اپنی نوعیت کا کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، بلکہ پورے ملک میں وقف جائیدادوں کی لوٹ کا معاملہ سامنے آتا رہا ہے۔ ہندوستان میں وقف جائیداد کے اندر یہ بدنظمی مسلم برادری کی اس ناکامی کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ کوئی منظم ادارہ نہیں قائم کر سکے جو ان جائیدادوں پر مؤثر ڈھنگ سے نظر رکھ سکے۔ ہندوستان کے زیادہ تر مسلمان نہایت خستہ سماجی و اقتصادی صورتِ حال سے گزر رہے ہیں۔ اس سماج کے اندر غریبی، ناخواندگی اور بے روزگاری بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے۔ تاہم، اگر وقف کی ان جائیدادوں کا صحیح انتظام و انصرام ہوتا یا پھر انہیں انہی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا، جن کے لیے ان جائیدادوں کو وقف کیا گیا تھا، تو مسلمانوں کے بہت سے دیرینہ مسائل بغیر کسی باہری مدد کے آسانی سے حل ہوسکتے تھے۔ لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے درمیان سے جو لوگ اقتدار کا حصہ بنے یا جنہیں قوم کا رہنما بنایا گیا، وہی بدعنوان ہوگئے۔ ان میں سے بہت سے لیڈر ایسے ہیں جنہیں وقف جائیداد کے موجودہ اداروں کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، لیکن انہوں نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ان زمینوں کے ایک ایک ٹکڑے کو بیچ ڈالا۔ ہمیں یہ جان کر کافی افسوس ہوتا ہے کہ خود ہمارے نام نہاد مسلم لیڈروں نے ہندوستان میں موجود وقف کی 70 فیصد جائیدادوں کو فروخت کردیا ہے۔ان اداروں میں پھیلی بدنظمی اور بدعنوانی کے متعدد اسباب ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے ’’سرکاری مسلمانوں‘‘ کا ایک ایسا طبقہ بنا دیا ہے جو اِن اداروں کو اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں اور پھر اونچے عہدوں پر بیٹھ کر اپنی من مانی کرتے ہیں۔ عام لوگ تو وقف کا پوسٹر یا بورڈ دیکھ کر یہی سمجھتے ہیں کہ یہ زمین ان کی ہے جہاں سے کسی مقدس مذہبی فریضہ کو انجام دیا جاتا ہوگا، لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ یہی وہ جگہیں ہیں جہاں پر دن کے اجالے میں کھلی لوٹ مچی ہوئی ہے۔ سب سے منافقانہ بات تو یہ ہے کہ جو لوگ وقف املاک کی لوٹ میں پوری طرح ملوث ہیں، ان کی شکل و صورت کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ مذہب اسلام کے اصلی پیروکار یہی لوگ ہیں۔ وقف کی ان جائیدادوں کو ان لوگوں کی مرضی سے گروی رکھا گیا، فروخت کیا گیا یا ان پر غیر قانونی قبضہ کیا گیا، جن کے ذمے ان جائیدادوں کی حفاظت کا کام سونپا گیا تھا۔ ہندوستان کی زیادہ تر ریاستوں میں وقف بورڈ بدعنوانی کا مرکز بن چکے ہیں۔ ان لوگوں کی اس لوٹ کا جب بھی پردہ فاش ہوتا ہے تو یہ ’’اسلام کو خطرے میں بتاکر‘‘ خود کو بچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

مغربی بنگال میں وقف جائیدادوں پر قبضہ
وقف جائیداد کی لوٹ پورے ملک میں جاری ہے۔ مغربی بنگال ملک کی وہ ریاست ہے جہاں پر وقف کی سب سے زیادہ جائیدادیں ہیں، اسی لیے یہاں پر وقف جائیدادوں کی لوٹ دوسری ریاستوں سے زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر صرف کولکاتا میں میسور فیملی فاتحہ فنڈ وقف اسٹیٹ پر چار ہزار لوگوں کا ناجائز قبضہ ہے۔ اسی طرح کولکاتا اور اس کے اردگرد کے اضلاع میں سیکڑوں مسجدیں اور وقف زمینیں ہیں جن پر لوگوں نے غیر قانونی طریقے سے قبضہ کر رکھا ہے۔ مغربی بنگال میں 64 مساجد ایسی ہیں جن پر باہری لوگوں نے غیر قانونی قبضہ جما رکھا ہے۔ مغربی بنگال کے اندر تقریباً 184 ہزار وقف جائیدادیں ہیں، جو کہ پورے ملک کی وقف جائیدادوں کا 31 فیصد ہے، لیکن بائیں بازو کی حکومت کے دوران ان میں سے زیادہ تر کو فروخت کیا جاچکا ہے۔ سی پی آئی (ایم) نے وقف کی زیادہ تر زمینوں پر اپنے پارٹی دفاتر بنا رکھے ہیں۔ اسی طرح بایاں محاذ کی حکومت نے کوچ بہار کے طوفان گنج علاقہ میں 50 ہزار مربع میٹر کی وقف اراضی پر، جس کی قیمت تقریباً 20 کروڑ روپے ہے، بس ڈپو بنا دیا ہے۔ مدناپور (کھرگ پور) میں قبرستان کی ایک زمین پر بڑا ڈپارٹمینٹل اسٹور اور دیگر کمرشیل کمپلیکس تعمیر کیے گئے ہیں۔ بردوان ضلع میں وقف کی سیکڑوں بیگھے زمین کو پرائیویٹ کوئلہ کمپنیوں کے ہاتھوں فروخت کر دیا گیا۔
فروری 1996 میں کولن اسٹریٹ، کولکاتا میں پہلی بار وقف پراپرٹی سے متعلق بدعنوانی کا واقعہ سامنے آیا، جس میں حمید الہدیٰ اور ان کی فیملی کو ملزم بنایا گیا۔ مسلمانوں اور دیگر تنظیموں کی طرف سے بہت زیادہ دباؤ کے بعد اس وقت کے وزیر اعلیٰ آنجہانی جیوتی بسو نے مارچ 1997 میں جسٹس گتیش رنجن بھٹا چاریہ کی قیادت میں ایک عدالتی کمیشن کی تشکیل کی۔ مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندوں اور اماموں کے بیانات درج کیے گئے۔ اور پانچ سال کی تفتیش کے بعد 31 دسمبر، 2001 کو مغربی بنگال حکومت کو ایک انکوائری رپورٹ سونپی گئی۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر سی پی آئی (ایم) کے لیڈر اور وقف بورڈ کے سابق رکن، حمید الہدیٰ کو گرفتار کیا گیا، لیکن بہت سے لوگوں کا اب بھی یہ خیا ل ہے کہ حمید الہدیٰ کو قربانی کا بکرا بنایا گیا تاکہ سی پی آئی (ایم) کے کچھ بڑے لیڈروں کو بچایا جاسکے۔ بہت سے لوگوں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ اگر بایاں محاذ کی حکومت اپنی بدنامی دور کرنا چاہتی تو وہ اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیتی اور جسٹس جی آر بھٹاچاریہ کمیشن کی رپورٹ میں پیش کی گئی تجویزوں پر ضرور عمل کرتی۔ جسٹس جی آر بھٹا چاریہ کمیشن نے درج ذیل تجویزیں پیش کی تھیں:
–  وقف جائیدادوں کے انتظام کو ڈی سنٹرلائز کیجئے اور پوری ریاست میں درج فہرست اور غیر درج فہرست جائیدادوں سے متعلق تنازعات کے مد نظر ضلعی وقف بورڈ کی تشکیل کیجئے۔
—  اقتدار کی مرکزیت کو ختم کیجئے اور ایسے اصول وضع کیجئے تاکہ وقف بورڈ کے اراکین اور وقف کمشنر اپنی ذمہ داریوں سے منھ نہ موڑ سکیں۔
—  مجموعی اور انفرادی ذمہ داری طے کیجئے اور کسی بھی اہل کار کو ایک بار سے زیادہ کسی عہدہ پر بنے مت رہنے دیجئے۔ کوئی رکن یا اس کا قریبی رشتہ دار وقف جائیداد کی منتقلی اور لین دین میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔
—  پٹّے یا کرایے پر دینے سے متعلق قوانین و ضوابط میں تبدیلی آنی چاہیے۔
—  وقف جائیدادوں کا سروے اور اندراج جتنا جلد ممکن ہو، پورا کیجئے۔
—  وقف جائیدادوں کے متولیوں کو اس بات کا اختیار دیجیے کہ وہ غیر قانونی طور پر زمین کی فروخت کے خلاف عدالت میں جا سکیں۔
–  وقف جائیدادوں کی فروخت کا کوئی بھی رجسٹریشن بورڈ کی منظوری کے بغیر مت ہونے دیجیے۔

وقف اراضی کے مشکوک لین دین کی چند واضح مثالیں
چنئی:  1997 میں تمل ناڈو وقف بورڈ نے مدراس کے کمرشیلائزڈ ٹرپلی کین ہائی اسٹریٹ پر واقع وقف کی 1,719 مربع فٹ اراضی کو محض 3 لاکھ روپے میں بیچنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، ضابطہ کے مطابق، اس قسم کی فروخت کے لیے بورڈ کے کم از کم دو تہائی اراکین کی منظوری لینی ضروری ہوتی ہے۔
ممبئی :  مہاراشٹر وقف بورڈ نے اَلٹا ماؤنٹ روڈ پر واقع 4,532 مربع میٹر کی وقف اراضی کو محض 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دیا، اور خریدار کوئی اور نہیں بلکہ مکیش امبانی تھے، جنہوں نے اس جگہ پر اپنا 27 منزلہ گھر بنایا ہے۔
بنگلور :  تقریباً پانچ ایکڑ کی اراضی پر بنا یہاں کا وِنڈسر مینر ہوٹل وقف کی زمین پر واقع ہے جو وقف بورڈ کو ہر ماہ صرف 12 ہزار روپے بطور کرایہ ادا کرتا ہے، جب کہ اس کی قیمت 500 کروڑ روپے سے کسی طرح کم نہیں ہے۔
فرید آباد :  وقف بورڈ نے تقریباً پانچ ایکڑ زمین کئی سالوں سے گیارہ ماہ کے پٹّے پر دے رکھی ہے، جس کا کرایہ صرف 500 روپے سے 1,500 روپے ماہانہ آتا ہے۔ اس جگہ پر ایک فیکٹری بنا دی گئی ہے اور اس طرح زمین کے استعمال میں ہیر پھیر ہوئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *