ہندوستان میں ووٹروں کے ساتھ دھوکہ ہوتا ہے

Share Article

میگھناد دیسائی 
امریکہ میں رِپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی نے صدارتی عہدہ کے انتخاب کے لیے اپنے امیدوار طے کردیے۔ اوبامہ تو ابھی صدر ہیں، اس لیے ان کا امیدوار بننا تو طے تھا، لیکن رومنی کو امیدوار بننے کے لیے ایک طریقہ عمل کے تحت لوگوں کی رائے جاننی تھی، جو پچھلے سال سے ہی مختلف ریاستوں میں شروع ہوا تھا۔ ووٹروں نے ان کی طرف دیکھا، ان کی پارٹی کے اراکین نے انہیں ووٹ دیا اور امیدوار کے طور پر منتخب کیا۔ دوسری طرف چین میں سوچ کچھ الگ ہے۔ وہاں پارٹی کے کچھ عہدیدار لوگ چند امیدواروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ انہیں دکھانا ہوتا ہے کہ وہ سخت ہیں۔ یہ ہو جنتاؤ اور وین جیاباؤ کے متعلق صحیح تھا۔ ان کے جانشین، جنپنگ اور لی کوکیانگ کو بھی پرکھا گیا ہے اور کافی اچھا پایا گیا ہے۔ انتخاب کا پیمانہ واضح نہیں ہے۔ حال ہی میں بو جیلائی نے جو کیا، اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کامریڈ اپنی طاقت کا غلط استعمال کر سکتے ہیں۔ چین میں جانشین کے انتخاب کے بارے میں یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ گڑبڑ ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اقتدار حاصل کرنے کے نظام کی فطرت ہی یہی ہے۔ جب تک یہ ختم نہیں ہوجاتا ہے یا پھر اس کے غلط نتائج سامنے نہیں آتے ہیں، تب تک اسے اچھا اور استحکام عطا کرنے والا کہا جاتا ہے۔ برطانیہ میں پارٹی کے لیڈر کے انتخاب کا طریقہ کچھ الگ ہے۔ وہاں امیدواروں کو نامزد کیے جانے کے بعد الیکشن کرایا جاتا ہے ۔ ڈیوڈ کیمرون اپنی پارٹی کے ساتھ غیر مقبول ہوگئے اور ایسا کہا جا رہا ہے کہ لندن کے میئر بورِس جانسن کا نام کیمرون کے خلاف الیکشن لڑنے کے لیے رکھا جا سکتا ہے۔ لبرل ڈیموکریٹ لیڈر نِک کلیگ کو وِنسے کیبل کی چنوتی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ملی بینڈ کو جب لیبر پارٹی کا لیڈر منتخب کیا گیا تھا، تو انہیں اپنی پارٹی کے قریب چھ لیڈروں کی چنوتیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ہندوستان کو بھی اس مسئلہ کا سامنا کرنا پڑے گا کہ 2014 کے الیکشن میں وزیر اعظم کے عہدہ کے لیے منموہن سنگھ کا جانشین کون ہوگا۔ راہل گاندھی کا نام آ سکتا ہے، لیکن لگتا ہے کہ راہل گاندھی نے اگلے دس سال تک کانگریس کی تنظیم کو مضبوط بنانے کا من بنا لیا ہے۔ حالانکہ یہ کافی مشکل کام ہے۔ وہ وزیر اعظم بننا نہیں چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو کانگریس کے پاس 2014 کے الیکشن کے لیے اپنا لیڈر منتخب کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ بیشک سونیا گاندھی کسی کا نام سامنے رکھیں گی۔ نام کا اعلان صحیح وقت پر کیا جائے گا۔ اجیت پوار نے استعفیٰ دے کر یہ دکھا دیا ہے کہ این سی پی میں جانشین بننے کے لیے الیکشن کرانا ہوگا۔ انہوں نے سینچائی گھوٹالے کی طرف دھیان اس لیے دلایا ہے، کیوں کہ وہ اپنی طاقت دکھانا چاہتے ہیں، تاکہ شرد پوار یہ نہ سوچیں کہ ان کی بیٹی ہی ان کی جانشین ہوگی۔ کانگریس کی حلیف پارٹیوں نے آگے آنے والے الیکشن میں شکست کی بو سونگھ لی ہے اور وہ وقت رہتے محاذ سے باہر ہونے کی بات سوچ رہی ہیں۔ ہندوستانی سیاسی پارٹیوں کے پاس اقتدار میں بنے رہنے کی آئڈیولوجی کے علاوہ کوئی اور آئڈیولوجی ہے ہی نہیں۔ زیادہ تر پارٹیاں چھوٹی رہ جاتی ہیں، کیوں کہ وہ مانتی ہیں کہ مول تول کرکے سرکار میں بنے رہا جا سکتا ہے اور بڑی پارٹیوں کی طرح سر درد کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کا اپنا الگ مسئلہ ہے۔ اس کے پاس وزیر اعظم بننے کے لیے کئی امیدوار ہیں۔ سشما سوراج کی بھی بات کی جاتی ہے تو نریندر مودی اور ارون جیٹلی کی بھی بات آتی ہے۔ نتن گڈکری تو اپنی امیدواری سے انکار کرتے ہیں، لیکن ان کا بھی اپنا مفاد ہے اور اڈوانی سوچتے ہیں کہ امیدوار کو اس کی صلاحیت کی بنیاد پر عہدہ دینا چاہیے۔ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی آر ایس ایس کی منظوری سے اپنی پارٹی کے اراکین سے اپنا لیڈر چننے کے لیے کہتی ہے تو یہ ہندوستانی سیاست میں ایک انقلابی قدم ہوگا۔ ہندوستان کی سیاسی پارٹیوں کے اندر الیکشن نہ ہونا ہندوستانی جمہوریت کے لیے غلط ہے۔ ہندوستان میں ووٹروں کے ساتھ دھوکہ ہوتا ہے، کیوں کہ انہیں پتہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ کسے وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے ووٹنگ کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ ہندوستانی سیاست کی کوالٹی میں گراوٹ آئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *