جموں کشمیر سے دفعہ 370 ہٹانے کے بعد وادی میں موجودہ حالات کا جائزہ لینے کے لئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے داخلہ سکریٹری راجیو گابا سمیت خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ یہاں ایک اہم میٹنگ کی۔
ذرائع کے مطابق،میٹنگ میں جموں کشمیر کے موجودہ حالات پر چرچہ کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی روزمرہ ضروریات اور ان کوکسی طرح کی پریشانی نہ ہو، اس کا خیال رکھتے ہوئے سیکورٹی فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کومحتاط رہنے کے لئے کہا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وادی میں ماحول خراب کرنے کے لئے افواہ اڑانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ سیکورٹی ایجنسیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ افواہ اڑانے والوں سے سختی سے نمٹنے کے ساتھ ہی اس کی حقیقت کو بھی جلد سے جلد سامنے لائیں ، تاکہ عام کشمیری کسی الجھن کے نیٹ ورک میں نہ پھنس پائے۔
اجلاس میں عام شہریوں کی روزمرہضرورتوں، ضروری اشیاء ، اے ٹی ایم میں نقد رقم کی دستیابی کی مناسب مقدار میں دستیابی پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں سیکورٹی ایجنسیوں اور خفیہ محکمہ کے اعلی حکام نے وادی سے ملی رپورٹ بھی پیش کی۔ رپورٹ کی بنیاد پر وہاں کے حالات کا جائزہ لیا گیا اور ضروری اقدامات کرنے کی ہدایات دی گئی۔
بتایا جا رہا ہے کہ اس اجلاس میں جموں کشمیر میں نافذ کرفیو میں دی گئی ڈھیل کے بعد کے حالات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پیر سے وادی میں جہاں مواصلاتی نظام پر لگی روک کو ہٹایا گیا ہے، وہیں اسکول بھی کھولے گئے۔ ذرائع کی مانیں تو حکومت حالات کا جائزہ لینے کے بعد سے اگلے چند دنوں میں تمام پابندیوں کو ہٹانے پر غور کر رہی ہے۔ ساتھ ہی سیکورٹی فورسز کو پاکستان کی جانب سے ہونے والی دراندازی اور جنگ بندی کے واقعات کا منھ توڑ جواب دینے کے لئے کہا گیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here