خدارا پاکستان کی مدد کیجئے

Share Article

وسیم راشد
رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہوچکا ہے، یہ وہ مقدس مہینہ ہے، جس کے لیے دنیا بھر کے مسلمان پورے سال انتظار کرتے ہیں اور اس مہینہ کی فضیلت اور برکت سے کوئی محروم نہیں رہتا، مگر اس بابرکت مہینہ کا استقبال کیا ہے پاکستان میں بھیانک سیلاب نے۔ پاکستان میں اس مبارک مہینے کے خیر مقدم کے لیے نہ تو وسائل ہیں اور نہ ہی عوام میں وہ جوش و خروش۔ پاکستان یوں تو اپنی آزادی کی 63ویں سالگرہ بھی منا رہا ہے، مگر بھیانک سیلاب نے پاکستان کو پھر سے 50سال پیچھے کردیا ہے۔ اس تباہ کن سیلاب سے تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور تقریباً 7-8لاکھ مکانات تباہ و برباد ہوگئے ہیں۔ نہ جانے اس ملک پر خدا کا کیا خاص قہر ہے کہ آزادی کے بعد سے اب تک نہ تو اس ملک کو کوئی صحیح رہنما نصیب ہوسکا اور نہ ہی یہ ملک اندرون خانہ جنگی، دہشت گردی، بھکمری، غریبی، بیماری اور جہالت سے باہر نکل سکا۔ اس وقت بھی جب کہ پاکستان اس قدرتی آفت کا شکار ہوا ہے، وہاں کے حالات پہلے ہی بہت خراب تھے۔ جمہوریت کا تو پاکستان میں تصور ہی نہیں ہے، کیوںکہ وہاں عوام جمہوریت کو اپنے ہاتھوں کا کھلونہ بنا کر رکھتے ہیں، غربت، جہالت اور مایوسی نے وہاں کے نوجوانوں کو اس قدر باغی بنادیا ہے کہ انہوں نے ہر مسئلہ کا حل بندوق کو بنالیا ہے اور گن پوائنٹ پر زندگی بسر کرنے کے طریقے سیکھ لیے ہیں۔ اس وقت جب کہ سیلاب نے پورے پاکستان کو اپنی زد میں لے لیا ہے، وہاں کے حالات مزید خراب ہوگئے ہیں۔ اس سیلاب کی سنگینی کا اندازہ ہم اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ کاری انسانی امور کے ترجمان مدرزیو گلیلیانو کے اس بیان سے لگاسکتے ہیں کہ پاکستان میں بدترین سیلاب کی تباہ کاریاں دسمبر 2005سونامی طوفان، پاکستان میں 2005کے شدید زلزلے اور ہیتی میں ہوئے زلزلہ سے زیادہ ہیں۔ان کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ 80لاکھ افراد بے گھرہوچکے ہیں۔ جب کہ 2005کے زلزلہ میں 30 لاکھ سے زیادہ افراد، سونامی میں پچاسی لاکھ سے زیادہ اور ہیتی میں زلزلہ سے تیس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے تھے۔ یعنی گلیلیانو کے ان اعداد و شمار پر جائیں تو پاکستان اب تک کی سب سے بھیانک قدرتی آفت سے نبرد آزما ہے۔ یہ وقت پاکستانی حکومت پر ایسا آپڑا ہے کہ اس کو صرف اور صرف اپنے ملک کے عوام کو ہی دیکھنا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ عالمی برادری سے رابطہ قائم کر کے پاکستان کی باز آبادکاری کے کاموں کو جنگی پیمانے پر کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی خیبر پختونخوا، ڈیرہ اسماعیل خاں وغیرہ میں بارش کے بعد مزید سیلاب آنے کا جو خطرہ منڈلا رہا ہے، اسے بھی دھیان میں رکھنا چاہیے، کیوںکہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب کے جنوب مغربی علاقوں میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے۔ ایسے وقت میں جب کہ پاکستان میں سیلاب کے بعد وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا بھی خدشہ ہے، ایسے میں پوری دنیا سے اگر امداد مل جائے تو شاید پاکستان وقتی طور سے اس آفت ناگہانی کا سامنا کرلے، کیوںکہ اقوام متحدہ کے پاکستان میں امدادی کاموں کے نگراں مینول بیلز کا کہنا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں آلودہ پانی سے وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا خدشہ بہت زیادہ ہے۔ صوبۂ سندھ کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ صالح فاروقی کا کہناہے کہ دریائے سندھ کے کنارے اور آس پاس کے علاقوں میں آباد تقریباً 2لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے، لیکن ابھی بھی سیلاب کی زد میں لوگوں کے آنے کا خدشہ ہے۔ اب یہاں یہ سوال بھی پیدا ہورہا ہے کہ خود پاکستانی حکومت نے اس سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے کتنا کام کیا ہے۔ وفاقی حکومت پر ہر طرف سے نکتہ چینی کی جارہی ہے اور اس میں سب سے زیادہ آصف علی زرداری کے دورۂ برطانیہ و فرانس شامل ہیں۔ کتنے تعجب کی بات ہے کہ جس کا ملک بھیانک سیلاب کی زد میں ہو، وہ 9دن بعد واپس آئے اور 11ویں دن ان علاقوں کا دورہ کرے۔ زرداری نے پہلی بار جمعرات 12؍ اگست کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔اور صدر محترم اس وقت دورے پر روانہ ہوئے تھے، جب سیلاب نے شمال مغربی پاکستان میں تباہی مچانا شروع کردی تھی اور واپس آنے کے دو روز بعد وہ 12؍ اگست جمعرات کو صوبۂ سندھ کے دریائے سندھ کے کناروں پر واقع شدید متاثرہ شہر سکھر کے دورے پر گئے ۔ حیرت ہے  کہ جس وقت پوری عالمی برادری کے لوگ زرداری صاحب کے ملک میں امدادی و فلاحی کاموں کے لیے ان کے ملک پہنچ گئے تھے۔ اس وقت وہ ملک سے باہر تھے۔ انہیں تو اپنے ملک میں رہ کر ہی عالمی برادری سے رابطہ قائم کرنا چاہیے تھا اور جس طرح گیلانی نے عالمی برادری سے مدد کی اپیل کی ہے، انہیں بھی اس میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ ایسے میں اقوام متحدہ نے 460ملین ڈالر کی فوری امداد کی اپیل کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ بروقت امداد نہ پہنچنے پر مزید ہلاکتوں اور تباہی کا اندیشہ ہے۔ برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈلفیڈ) کے سکریٹری اینڈریومشیل نے پاکستان کے 8لاکھ افراد کے لیے امداد کا اعلان کیا ہے۔ یقینا قابل تعریف ہے، اس امداد کے تحت تقریباً136000حفظان صحت پیک، 4560ٹوائیلٹس، 336000صابن، 720000بالٹیاں، جیری کین40000پانی کو صاف کرنے کے پیکٹ اور 800000پانی کو صاف کرنے کی گولیاں تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ سب نہایت اہم اور ضروری امداد ہے اور ایسے میں حکومت پاکستان کو برطانیہ کا شکر گزار ہونا چاہیے، مگر یہاں پھر یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ اس بحرانی موقع پر ایران اور عرب کہاں ہیں، اسلامی ممالک میں عرب کے پاس بے تحاشہ پیسہ ہے۔ قدرتی تیل کے وسائل نے اس کو بے پناہ دولت و قوت عطا کر رکھی ہے۔ ایسے میں تو ان عرب ممالک کو پاکستان کی مدد کرنے کے لیے اپنے تمام وسائل لگا دینے چاہئیں، یہاں امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک کا بیان اس ضمن میں بہت اہم ہے کہ سیلاب کی اس تباہ کن صورت حال میں پاکستان کا بہترین دوست چین کہاں ہے؟ اسلامی کانفرنس تنظیم کے ممالک اور ایران کہاں ہیں؟ واشنگٹن میں دفتر خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رچرڈ ہالبروک نے ان ممالک پر سخت تنقید کی اور یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ اس وقت تو لگانا ممکن نہیں ہے، مگر دنیا کو اس وقت جاگنا چاہیے اور پاکستان کی مدد کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ تو پوری طرح پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔ مگر عرب ممالک سے کوئی کیوں آگے نہیں آرہا ہے؟ او آئی سی ممالک اور چین کہاں ہیں؟ رچرڈ ہالبروک نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں یہ وقت سیاست کرنے کا نہیں اور نہ ہی ایک دوسرے پر انگلی اٹھانے کا ہے، بلکہ متحد ہو کر سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کرنے کا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ امیر خاں ہوتی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ہم تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دنیا کی مدد کر رہے ہیں، لیکن اب ان کے صوبے میں جو تباہی آئی ہے، اس دوران عالمی سطح پر ان کی بھر پور مدد نہ کی گئی تو پھر وہ بھی اپنے تعاون پر سوچیںگے۔ ڈیرہ اسماعیل خاں میں بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خاں کا بھی یہ کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ امیر حیدر خاں ہوتی نے نامہ نگاروں کو یہ بھی کہا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہی کے نتیجے میں پاکستان 50سال پیچھے چلا گیا ہے۔ اس لیے اب عالمی سطح پر سمجھنا ہوگا کہ اگر مصیبت کے وقت میں دنیا نے ہمارا ساتھ نہ دیا تو ہم سے بھی اچھے کی امید نہ رکھے، دراصل کوئی دھمکی نہیں ہے، یہ پریشان حال اور مصیبت زدہ عوام کا درد ہے، جو امیر حیدر خاں سے یہ سب کہلوا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں سیلاب سے سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے اور شاید اس درد اور تکلیف میں انہوں نے عالمی برادری سے خطاب کیا ہے۔ سیلاب سے زندہ بچ جانے والے افراد بھی امداد کی فراہمی میں تاخیر پر حکومت پاکستان پر بے تحاشہ تنقید کر رہے ہیں، کیوںکہ عالمی برادری سے مدد کی تو اپیل آپ بار بار کر رہے ہیں، مگر خود حکومت پاکستان کے وزرائے اعلیٰ سیلاب میں 10 دن سے گھرے افراد کے پاس نہ تو ہمدردی کے لیے جانے کو تیار ہیں اور نہ ہی کوئی امدادی قافلہ بھیجنے کو ، اسی لیے شاید سیلاب سے متاثرہ ضلع مظفر گڑھ میں متاثرین نے اقتصادی امور کی وزیر مملکت پر حملہ کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم گزشتہ ایک ہفتے سے مصیبت میں گھرے ہوئے ہیں اور وزیر صاحبہ اب صرف منہ دکھانے کے لیے ان کے پاس آئی ہیں۔
ایک 45سالہ عورت ماہی باچی اپنا دکھ بیان کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ’’ہم نے اس حکومت کو ووٹ دیا تھا، ہم نے آصف زرداری کو اپنا حکمراں بنایا تھا، لیکن ہم نہیں جانتے کہ وہ اتنے لاپروا کیوں ہیں۔ ہم خوراک اور پانی کے بغیر یہاں موجود ہیں، ہمارے بچے کمزور ہوچکے ہیں، لیکن حکومت کی طرف سے کوئی بھی ہماری امداد کے لیے نہیں آیا۔‘‘
اس خاتون نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ مہربانی کر کے ہمارے لیے گاڑیاں بھیجیں، جو ہمیں یہاں سے نکالیں، ہم بہت بڑے خطرے میں گھرے ہوئے ہیں، ایک طرف پانی ہے اور دوسری طرف بھوک ہے۔
یہ ایک خاتون کی پکار نہیں ہے، بلکہ ہر صوبہ سے، ہر علاقہ سے لوگوں نے پاکستانی حکومت کی لاپروائی کو نشانہ بناتے ہوئے مدد کی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہ جو قدرت نے ان پر آفت ڈالی ہے، وہ تو الگ ہے پرچوروں، لٹیروں اور ڈاکوؤں نے بھی ان علاقوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔
غوث پور، کشمسور ضلع کی رانو بیرادائی کا کہنا ہے کہ تین روز سے ان کے علاقے میں دو سو کے قریب ڈاکو گھس آئے ہیں جو کہ لوٹ مار کر رہے ہیں۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ قدرتی آفت کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں میں امداد نہ پہنچنا، بھکمری، وبائی امراض کا پھوٹ پڑـنا، چوری، ڈاکہ زنی ان سب نے بھی عوام کو بے حال کر رکھا ہے۔ رمضان کے اس مبارک مہینے میں جب کہ خیرات، زکوٰۃ بھی بے تحاشہ نکالی جاتی ہے اور غریبوں کی امداد میں ہر صاحب حیثیت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔ اگر پوری دنیا کے مسلمان متحد ہو کر اپنے صدقہ، خیرات، زکوٰۃ کو بھی صحیح طرح پاکستان تک پہنچانے کا انتظام کردیں تو بھی ڈوبتے کو تنکے کا سہارا تو مل ہی سکتا ہے۔ ورنہ تو پھر جیسی جس پر پڑتی ہے، وہ خود ہی جھیل لیتا ہے، مگر ہم سب کا بھی فرض ہے کہ ہم جو بھی امداد کرسکیں ،و ہ ضرور کریں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

One thought on “خدارا پاکستان کی مدد کیجئے

  • August 28, 2010 at 3:03 pm
    Permalink

    محترمہ وسیم صاحبہ آپکا یہ مضمون بہت اچھا ہے.آپ نےپاکستان کی موجودہ صورتحال کو بہت اچھے ڈھنگ سے واضح کیا ہے .

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *