جے پی گروپ پر سماعت جاری، عدالت نے کہا کہ پہلے جے پی گروپ کے این سی ایل اے ٹی کے حکم کے خلاف زیر التواء درخواست پر فیصلہ کریں گے

Share Article

نیشنل بلڈنگ کنسٹرکشن کمپنی (این بی سی سی) نے آج سپریم کورٹ کو جے پی گروپ کے ادھورے منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے نئی تجویز تفویض کی۔ سپریم کورٹ نے اس تجویز پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔ کورٹ نے کہا کہ پہلے وہ جے پی گروپ کے این سی ایل اے ٹی کے حکم کے خلاف زیر التوا درخواست پر فیصلہ کریں گے۔ اس کے بعد این بی سی سی کی تجویز پر غور کریں گے۔

گزشتہ 5 ستمبر کو نیشنل بلڈنگ کنسٹرکشن کمپنی (این بی سی سی ) نے جے پی گروپ کے ادھورے پروجیکٹ کو مکمل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ این بی سی سی نے سپریم کورٹ میں نئی تجویز پیش کرنے کی حامی بھری تھی۔ سپریم کورٹ نے این بی سی سی کو نئی تجویز پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔

گزشتہ 3 ستمبر کو سپریم کورٹ نے این بی سی سی کو نوٹس جاری کرکے پوچھا تھا کہ کیا وہ پراجیکٹ پورے کرنے پر کوئی بہتر منصوبہ پیش کرنا چاہتا ہے۔ سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ اگر این بی سی سی ان پروجیکٹس کو ہاتھ میں لے تو ہم جے پی انفرا ٹیک پر بقایا سینکڑوں کروڑ کے ٹیکس میں رعایت دے سکتے ہیں۔جے پی گروپ نے کہا تھا کہ اسے اپنے گروپ کو بحال کرنے کا ایک موقع ملنا چاہئے۔وہ تمام بینکوں کے قرض ادا کرکے تین سالوں میں تمام ہاؤسنگ پراجیکٹ مکمل کرنا چاہتا ہے۔ تب سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ پہلے وہ این بی سی سی کے اختیارات پر غور کرنا چاہتے ہیں۔

گزشتہ 18 جولائی کو کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ فلیٹ خریداروں کے حق میں جلد فیصلہ لے۔ سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے جلد ہی فلیٹ خریداروں پر فیصلہ لینے کی بات کہی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *