بنگال میں صحت خدمات تعطل کا شکار

Share Article

 

مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتہ کے این آر ایس اسپتال میں ڈاکٹروں پر حملے کے واقعہ کے 6 دن گزر چکا ہے۔ اس کے خلاف ڈاکٹروں کی تحریک اتوار کوچھٹے دن بھی جاری ہے۔ ہفتے کی شام وزیر اعلی ممتا بنرجی نے پریس کانفرنس کر صاف کر دیا تھا کہ وہ تحریک چلا رہے ڈاکٹروں سے بات کرنے کے لئے این آ ر ایس اسپتال میں نہیں جائیں گی بلکہ ڈاکٹروں کو ہی سیکریٹریٹ میں آنا پڑے گا۔ اس کے بعد دیر رات ساڑھے 11 بجے کے قریب پریس کانفرنس کر جونیئر ڈاکٹروں نے صاف کر دیا ہے کہ وہ سیکرٹریٹ میں نہیں جائیں گے۔ مسئلہ کے حل کے لئے وزیر اعلی کو ہی آنا پڑے گا۔ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ یہ تحریک صرف ان تک محدود نہیں رہ گیا ہے بلکہ سینئر ڈاکٹروں سے لے کر ریاست بھر کے میڈیکل عملے نے ہڑتال کی ہے۔ چند منتخب جونیئر ڈاکٹروں کے ساتھ بند کمرے کے اندر میٹنگ کر کے اس کا حل نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعلی کو اسپتال احاطے میں سب کے سامنے آمنے سامنے بات کرنی ہوگی۔ اس کے بعد اتوار کو صحت بحران اور زیادہ گہرا ہوگیا ہے۔ اتوار کی صبح اس اسپتال کا ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ تو کھل گیا ہے لیکن آوٹ ڈور اب بھی بند ہے۔ اس کے مطابق اسپتال کے دونوں دروازے پر بڑی تعداد میں پولیس کی تعیناتی کی گئی ہے۔ اندر آنے جانے والے ہر ایک شخص کا شناختی کارڈ دیکھا جا رہا ہے۔ مریضوں کے ساتھ آنے والے اہل خانہ کو بھی کم تعداد میں اندر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ایمرجنسی میں کافی سنگین حالت میں بیمار مریضوں کو ہی دیکھا جا رہا ہے۔آؤٹ ڈور اب بھی بند ہے۔ اس کے علاوہ پیتھالوجی، ایکس رے اور دیگر طبی سروس مکمل طور پر بند رکھا گیا ہے۔ صحت کی دیکھ بھال اور زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ اگرچہ ایمرجنسی سروس شروع ہو گئی ہے لیکن مریضوں کو دیکھنے کے لئے نرسوں کی تعداد کم ہے۔تحریک چلا رہے جونیئر ڈاکٹروں کی حمایت میں نرس میں بھی اتر گئی ہیں.۔ ادھر ا ین آر ایس کے علاوہ ایس سی ایم، آر جی کیر میڈیکل کالج سمیت ریاست کے دیگر سرکاری اسپتالوں میں صحت کی خدمات مکمل طور پر متاثر ہو گئی ہے، کیونکہ یہاں کے تمام ڈاکٹروں نے استعفی دے دیا ہے۔آؤٹ ڈور تو تمام اسپتال بند کئے ہیں۔

 

Image result for Health services are suspended in Bengal

کیا ہے ایس ایس سی ایم کی حالت:

کولکاتہ کے واحد سپرا سپیشلٹی اسپتال ایس ایس سی ایم کی حالت سب سے بدتر ہے۔یہاں کے 117 ڈاکٹروں نے ایک ساتھ استعفی دے دیا ہے۔ اس کی وجہ سے یہاں صحت کی دیکھ بھال مکمل طور ٹھپ ہے۔اتوار کی صبح ایمرجنسی سروس شروع کی گئی ہے۔ لیکن چنیدہ لوگوں کو ہی علاج مل رہا ہے۔اسپتال میں داخل شدید بیمار مریضوں کی حالت بگڑ رہی ہے، کیونکہ ڈاکٹروں کی غیر موجودگی کی وجہ سے ان کی دیکھ بھال کرنے والے طبی اہلکاروں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے۔گذشتہ جمعرات کو وزیر اعلی ممتا بنرجی ایس ایس سی ایم اسپتال میں ہی گئی تھیں جہاں سے ڈاکٹروں کو خبردار کیا۔ اگرچہ اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ یہ کولکاتہ کا واحد سپرا سپیشلٹی اسپتال ہے۔ اس لئے یہاں ریاست بھر سے لاکھوں کی تعداد میں مریض پہنچتے ہیں۔ ایمرجنسی تو کھلا ہوا ہے۔کچھ سینئر ڈاکٹر مریضوں کو دیکھ رہے ہیں لیکن جونیئر ڈاکٹر کام پر نہیں لوٹے ہیں۔ لہذا دور دور سے آنے والے مریض کے لواحقین کافی پریشان ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *