!سر ساحل بیٹھ کر نظارہ طوفان دیکھنے والے

Share Article

اسد مفتی ،ایمسٹرڈیم، ہالینڈ
سکھرکے ایک ریلیف کیمپ میں سیلاب سے تباہ حال شخص کے لقمہ اجل بن جانے پر متاثرین برہم ہو گئے۔جس پر مشتعل متاثرین میں حکومت اور انتظامیہ کے خلاف جذبات بے قابو ہو گئے اور متاثرین اور پولس میں تصادم کی شکل اختیار کر گئے۔ کئی افراد زخمی ہو گئے۔ دوسری طرف سوات سے خبر آئی ہے کہ خیبر پختو نخوامیں تاریخ کے بدترین سیلاب کے دوران کالام میں گھرے افراد کے انخلا آپریشن میں فوجی ایکسیکو ٹیموں میں اقربا پروری اور بدانتظامی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ پاک فوج کی طرف سے لگائے گئے کالام کے گرین ہوٹل میں ریلیف کیمپ میں سیلاب متاثرین کو ٹوکن جاری کئے گئے، جن کے تحت انہیں وہاں سے نکالا جانا تھا مگر ہوا یہ کہ کسی نمبر کا لحاظ کئے بغیر’’بلڈی سویلین‘‘ کو قطعی نظر انداز کر کے صرف فوجیوں کے خاندانوں کا انخلا کیا گیا۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں سیلاب کا ریلہ ابھی مزید آئے گا، جس سے سیلاب میں مزید شدت آ جائے گی۔ محکمہ موسمیات کے صدر قمر الزماں چودھری نے ایک یوروپین نیوز ایجنسی کو انٹر ویو دیتے ہوئے بتایا ہے کہ سیلاب کی دوسری لہر دریائے سمندر میں آئے گی، جس سے سندھ کے محفوظ علاقے بھی سیلاب کی زد میں آ جائیں گے، سیلاب کی دوسری لہر میںفی سیکنڈ 28720 مکعب میٹر پانی کی لہر اٹھ رہی ہے۔ اس وقت سیلاب کا پانی کراچی شہر سے صرف 400کلو میٹر دوری پر ہے۔ بارش اور سیلاب سے پاکستان کا ایک بڑا حصہ دلدل بن گیا ہے، دو کروڑ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور پانچ کروڑ سے زیادہ افراد متاثرین میں شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکی مون جنھوں نے پاکستان کا’’سیلابی دورہ‘‘ کر کے تباہ کاریوں پر دلی صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے ساری دنیا کا دورہ کر کے آفات سماوی کے مقامات کا مشاہدہ کیا ہے، لیکن میں نے ایسی خوفناک اور بڑی تباہی کسی اور مقام پر نہیں دیکھی۔ انھوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی مدد کریں، اس پر پاکستان کے ہمسایہ ہندوستان نے فوری طور پر پاکستان کو پانچ ملین ڈالر کی پیشکش کی، اس پیشکش کو قبول کرنے میں پاکستان نے ہچکچاہٹ کا مظاہرکیا اور بالآخر ہندوستانی مدد قبول کر لی۔
لاہور کا ایک اردو روزنامہ جس نے پاکستان کو آج تک پاکستان نہیں بننے دیا ہے۔ ایک حالیہ اشاعت میں اپنی روایتی ہندوستانی دشمنی کے حوالہ سے لکھتا ہے’’ہندوستانی امداد کی پیشکش زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے‘‘۔ہندوستانی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کی جانب سے پاکستان میں سیلاب سے متاثرین کے لئے پانچ ملین ڈالر کی امداد کے حوالہ سے مذکورہ اخبار لکھتا ہے کہ ہندوستان نے ستلج اور بیاس کے بند کھول کر پاکستان میں سیلاب کا ریلہ چھوڑ دیا ہے اور ساتھ میں 5ملین ڈالر کی امداد کی پیشکش کر دی ہے۔ پاکستان کی بربادی میں جس اخبار کا سب سے بڑا ہاتھ ہے وہ اپنے ادار یہ میں مزید لکھتا ہے کہ ہندوستان پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ بعض اوقات ہندوستان پاکستان میں سیلاب برپا کرنے کے لئے پانی کا استعمال کرتا ہے اور بعض اوقات وہ پاکستان کو صحرا میں تبدیل کرنے کے لئے پانی کے بہائو کو روک دیتا ہے، جو اس کی پاکستان کے خلاف سازشوں کا ایک حصہ ہے۔(خدا کا شکر ہے کہ اخبار نے پاکستان میں ہونے والی موسلادھار بارشوں کو سازش کا نام نہیں دیا)۔
اگر بات پاکستان کے خلاف ہوگی تو طالبان کیوں کسی سے پیچھے رہیں گے۔ عالمی خبر رساں ایجنسی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان اعظم طارق نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ سیلاب متاثرین کے لئے مغربی ممالک کی امداد قبول نہ کرے کیونکہ مغربی ممالک سیلاب متاثرین کے لئے ریلیف فنڈز کی آڑ میں اپنا ایجنڈا نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اپنی ’’خود مختاری‘‘ کی پاسداری کرتے ہوئے مغربی ممالک سے ریلیف فنڈز لینے کا ارادہ تر ک کر دے۔ انھوں نے اپنی دھمکی کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اگر حکومت پاکستان مغربی ممالک سے فنڈز لینے کا خیال دل ودماغ سے نکال دے تو ان کا گروپ (طالبان) اپنے طور پر سیلابی متاثرین کے لئے ریلیف فنڈز کا انتظام کرے گا۔
پاکستان میں تباہ کن سیلابی حملوں کی وجہ سے امریکہ نے ڈرون حملے روک دئے تھے۔ امریکہ کو فکر تھی کہ ایک ایسے وقت اور حالات میں جبکہ عوام سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے مصائب میں گرفتار ہیں اور تکالیف سے دوچار ہیں۔ ایسے  میںامریکی ڈرون حملوں سے پاکستانی عوام میں امریکہ کے خلاف نفرت کے جذبات بڑھیں گے اور امریکی دشمنی میں اضافہ ہو جائے گا، لیکن امریکہ نے اپنے صبر کا پیمانہ لبریز کرتے ہوئے شمالی وزیرستان کے علاقہ میں ڈرون طیارہ سے حملہ کر دیا۔ریوری ضلع میں طالبان کے گیسٹ ہائوس’’حجرہ‘‘ پر دو میزائل داغے گئے۔ اس حملہ میں نہ صرف 13طالبان ہلاک ہو ئے بلکہ طالبان کا ایک کمانڈر امیر معادیہ بھی لقمہ اجل بن گیا اور یوں ماہ اگست میں امریکہ کا یہ پہلا ڈرون حملہ ہے جو دوران سیلاب کیا گیا ہے۔سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے کی بجائے جاگیردار وڈیرے اور دولت مند طبقے ان کو بڑھا رہے ہیں۔ اس تباہ کن سیلاب کی مار غریب عوام پر بھاری پڑ رہی ہے ۔اس قدرتی آفات کے نازل ہونے پر دولت مند طبقات ، غریب و لاچار بے بس عوام کی تکالیف میں اضافہ کر رہے ہیں۔ بیشتر حلقوں کا کہنا ہے کہ سیلاب کے پانی کو دولت مند طبقات کے دبائو پر غریب لوگوں کی زمینوں کی طرف موڑ دیا جاتا ہے ۔ حکومت کے با اثر لوگ دبائو ڈال کر نہروں اور بیراجوں میں خود سے شگاف ڈلوا رہے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان اور اس کے اطراف کے غریب لوگوں نے شکایت کی ہے کہ اس علاقہ کے کئی با اثر خاندان جن میں حکمران کھوسہ خاندان بھی شامل ہے کی زمینوں اور زرعی فصلوں کو بچانے کے لئے مقامی آبادی کی جان و مال کی پرواہ نہ کرتے ہوئے 11بلین روپے کی لاگت سے تیار شدہ تونسہ بیراج میں شگاف ڈال دیا گیا ۔ اس طرح وزیر خورشید شاہ نے اپنے حلقہ کو بچانے کے لئے نہر میں شگاف ڈالنے کی کوشش کی۔ اس کوشش کے دوران وزیر کے حامیوں اور فوج میں لڑائی ہوئی، جس پر وزیر اور اس کے حامی جائے وقوع سے فرار ہو گئے۔سکھر بیراج جس کی تعمیر انگریزوں نے 1932میں کی تھی اور جو اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے۔ 1.5ملین کیوسک پانی کے اخراج کا یہ ڈیم کسی وقت بھی دھوکہ دے سکتا ہے اسی طرح گدو بیراج جو 1952میں تعمیر کیا گیا تھا، کی حالت بھی خستہ ہے۔
پاکستان میں اس وقت سیلاب نے جو تباہی مچا رکھی ہے اس کے سبب یہ دنیا کا ساتواں بڑا اور تباہ کن سیلاب ہے۔ سب سے زیادہ تباہ کن سیلاب چین میں آیا تھا جبکہ ہالینڈ ایسے تباہ کن سیلابوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ انسانی تاریخ کا سب سے بڑی تباہی لانے والا سیلاب 1931میں چین میں آیا تھا۔ جس کے نتیجہ میں37لاکھ لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے۔
پاکستان میں کچھ آوازیں ایسی بھی اٹھ رہی ہیں جو سیلاب کے حوالہ سے مجھے بے چین اور پریشان کر رہی ہیں ۔ان میں ایک آواز عمران خان کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حکومت کی بے اعتباری کی وجہ سے مقامی اور بیرون ملک افراد سیلاب متاثرین کو عطیات دینے سے گریز کر رہے ہیں۔ مقامی اور بیرونی و غیر ملکی عطیہ دہندگان کو حکومتی اداروں پر بھروسہ نہیں ہے کہ ان کی امداد حقیقی متاثرین کو پہنچے گی،جبکہ حکومت نے ان تمام خدشات اور اطلاعات کی تردید کی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ پاکستان میں کسی ادارے کے مقاصد خواہ کتنے ہی عظیم، اعلیٰ  اور بلند کیوں نہ ہوں وہ بالآخر انسانوں(پاکستانی) ہی کے ذریعہ حاصل کرنا ہوتے ہیں اور پاکستانی کیسے ہیں یہ ہر کوئی جانتا اور مانتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *