پیغام انسانیت کے علمبردار طوطیٔ ہند حضرت امیر خسروؒ

Share Article

ڈاکٹر ماجد دیوبندی
ہر دور میں اللہ تعالی نے دنیا میں ایسے لوگوں کو بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا کہ جن کے فیض سے دنیا اور اہل دنیا روحانی طور پر استفادہ کرتے رہے۔ہندوستان کو یہ فخر حاصل رہا ہے کہ اس کے بارے میں خدا کے بعد تمام عالموں کے ر ہنما اورقیامت تک ہمارے لیے مشعل راہ محبوبِ خدا حضرت محمد رسول اللہؐ نے خو د فرمایا کہ’’ مجھے ہند کی جانب سے ٹھنڈی ہوائیں محسوس ہو رہی ہیں‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ازل سے ہی ہندوستان کی جانب حضوؐر کی توجہ رہی ہے۔اس وجہ سے ہے کہ یہاں اللہ کے ولیوں اور بزرگان دین کا ایک وسیع سلسلہ موجود رہا اور دنیا کے اکثر بزرگان دین نے ہندوستان کا رخ کیا۔ وجہ یہی تھی کہ جو سرکار دو عالم ؐ نے فرمایا اس کو پورا ہونا تھا اور ہندوستان کی مٹی میں ایمان کی جڑیں مضبوط ہونی تھیں۔ آج پوری دنیا میں اگر دیکھا جائے تو اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بیشتر بزرگان دین برصغیر ہند میں ہی ہیں۔کچھ صحابہ کرام بھی ہندوستان سے ہو کر گزرے ہیں لیکن اُن کے مزارات کی تصدیق نہیں ہے کہ وہ ہندوستان میں موجود ہیں۔ اگر ایک جانب ہندوستان میں حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒہیں تو دوسری جانب حضرت بابا فریدالدین گنج شکرؒ۔ ایک جانب دہلی میں حضرت بختیار کاکیؒ ہیں تو دوسری جانب محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیاؒ موجود ہیں جن کے فیض سے دنیا کے لاکھوں لوگ سرشار نظر آتے ہیں۔ اُنہی محبوب الٰہیؒ کے سب سے عزیز قابل فخر مرید ہیں حضرت  امیر خسروؒ۔ہر بزرگ کو اپنے مریدوں میں کسی نہ کسی سے زیادہ لگائو رہا لیکن امیر خسرو  ؒ تنہا ایسے مرید ہیں کہ جن کے بارے میں محبوب الٰہیؒ نے فرمایا کہ ’’ قیامت کے دن ہرشخص سے سوال ہوگا کہ تم کیا لائے۔مجھ سے پوچھا جائے گا تو عرض کروں گا کہ اس ترک اللہ (امیر خسروؒ) کے سینے کا سوز لایا ہوں‘‘۔
حضرت امیر خسروؒ ضلع ایٹہ کے قصبہ پٹیالی میں 651ھ کو پیدا ہوئے اور بعد میں اپنے تخلص اور موروثی خطاب ’’امیر‘‘ کی نسبت سے امیر خسروکہلائے۔طوطئی ہند حضرت امیر خسروؒ(اسم گرامی ابوالحسن لقب یمین الدین اور تخلص امیر خسرو) کے  والدسیف الدین محمود جو ترکستان کے رہنے والے تھے نے مغلوں کی یلغار سے پریشان ہو کر ہندوستان کا رخ کیا اور متھرا سے ایٹہ جانے والی شاہراہ پر گنگا کے کنارے پٹیالی قصبہ عرف مومن آباد میں سکونت اختیار کی۔سیف الدین محمود کی شادی ایک  ہندوستانی امیر عماد الملک کی بیٹی دولت ناز سے ہوئی جو شوہر کی زندگی میں اور اس کے بعد بھی اکثر پٹیالی میں رہیں۔چار بچّے ہوئے ۔تین لڑکے اور ایک لڑکی۔یمین الدین محمود(امیر خسروؒ) ان میں منجھلے بیٹے تھے۔ ابھی امیر خسروؒ  آٹھ سال کے تھے کہ والد کا سایہ اُن کے سر سے اٹھ گیا۔اس کے بعد ان کے نانا عمادالملک نے اُن کی پرورش کی۔ عمادالملک سلطان غیاث الدین بلبن کے عہد کے امراء میں شمار  کیے جاتے  تھے۔اس کے بعد 671ھ میں اُن کا بھی انتقال ہو گیا۔اندازے کے مطابق تقریباً آٹھ برس  کی عمر میں امیر خسرو دہلی آگئے ہوں گے۔اس کے بعد خسرو سلطان بلبن کے بھتیجے علائوالدین کشلوعرف ملک چھجو کی ملازمت میں آ گئے۔امیر خسروؒ ایک معزز خاندان کے چشم و چراغ تھے۔راج دربار میں بھی اُن کو ممتاز حیثیت حاصل تھی۔انہوں نے دہلی کے متعدد سلاطین کی ملازمت کی اور کم ازکم پانچ بادشاہوں کے یہاں بہت ذمہ دار عہدوں پر قائم رہے۔بچپن سے ہی امیر خسرو ؒ شعر کہنے لگے تھے ۔ساتھ ہی بزرگوں کی تعلیمات کودل و دماغ میں اتارناشروع کر دیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ُان کے کلام میں اعلی اخلاقی قدروں کی جھلک نمایاں ہے۔ امیر خسروؒ کے یہاں نسلی،  مذہبی یا سماجی اونچ نیچ کا رجحان بالکل نہیں تھا۔ وہ پیغامِ انسانیت کے علمبردار تھے اور اپنی شاعری میں بھی یہی اقدار انہوں نے اپنائیں۔شاعری میں یوں تو وہ ہر صنف میں ماہر تھے لیکن تصوف میں اُن کو کمال حاصل تھا۔ ان کی شاعری کے بارے میں علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں:’’امیر خسرو کی غزل گوئی پر تقریظ کرنی ہو تو صرف یہ کہنا کافی ہے کہ وہی خم خانہ سعدی کی شراب ہے جو دوبارہ کھنچ کر تیز ہو گئی ہے۔انہوں نے غزل کی اصلیت کے علاوہ کمالِ شاعری کی بہت سی چیزیں اضافہ کیں اور ایجادات و اختراعات کے چمن کھلا دیے۔‘‘
امیرخسرو کو درباری اور سپاہی کی حیثیت سے ملک کے طول و عرض میں سفر کرنے کا موقع ملا۔انہیں گائوں والوں اور سماجی رسم و رواج سے بھی اتنی ہی دلچسپی تھی جتنی سپاہ اور فن حرب سے تھی۔وہ اپنے وطن کی مٹی سے بے پناہ محبت کرتے تھے جہاں طرح طرح کے مذاہب،نسل،زبان،رواج اور مختلف طریقوں کا سنگم دیکھنے کو ملتاہے۔ اُن کے نظریات و خیالات رنگ و نسل کے امتیاز سے بالاتر ہیں۔اُن کی تصانیف ہندوستان کی ملی جلی تہذیب اور طرزِ زندگی کی آئنہ دار ہیں۔اسی تہذیب و تمدن کے ماحول اور اُن کے مزاج میں قلندری کی وجہ سے اُن کی زندگی میں ایک ایسی ساعت بھی آئی کہ وہ اُس دور کے روحانی پیشوا اور برگزیدہ بزرگ حضرت نظام الدین اولیا  ؒ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہو گئے۔اُن کی صحبت میں انہوں نے اکثر دنیاوی آلام و کشاکش سے پناہ لی۔سکون ،چین اور اپنے مسائل کے حل کی تلاش میں بار بار اُن کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔اپنی ایک تصنیف میںانہوں نے اپنے پیر و مرشد سے  اپنی ملاقاتوں اور ان کی تعلیمات سے متعلق قلم بند کی ہے۔حضرت محبوب الہٰیؒ سے ملنا تھا کہ امیر خسروؒکی زندگی ہی بدل گئی۔دنیا سے دور رہ کر وہ اپنے پیر و مرشد پر ہی فدا ہو بیٹھے اور شاید یہ اُن کی زندگی کا اہم ترین رخ تھا جس نے ان کو طوطئی ہند بنا دیا۔’’سیرالاولیا‘‘ میں خواجہ امیر خرد کرمانی نے لکھا ہے کہ امیر خسروؒ اپنا عارفانہ کلام ہمیشہ حضرت نظام الدین اولیاء ؒکی نذر ہی کیا کرتے تھے۔یوں بھی امیر خسروؒ کی دہلی میں سب سے بلند مرتبہ صوفی نظام الدین اولیاؒ ہی تھے۔یہ وہی محبوب الٰہی ہیں کہ جن کے  بارے میں ’’سیر الاولیا‘‘ میں لکھا ہے کہ روزہ رکھتے تھے مگر افطار اور سحر کے  وقت بھی برائے نام ہی کھاتے تھے۔
جب امیر خسروؒ پیدا ہوئے تو آپ کے والد آپ کو چادر میں لپیٹ کر ایک مجذوب کے پاس لے گئے۔اُس مجذوب نے امیر خسروؒ کو دیکھ کر کہا تھا کہ تم اس بچّے  کو میرے  پاس لے کر آئے ہو۔یہ تو خاقانی سے بھی دو قدم آگے نکلے گا۔(خاقانی کا شمار ایران کے صف اوّل کے شعراء میں ہوتا ہے)۔مجذوب کی پیشین گوئی بعدمیں صحیح نکلی اور دنیا میں امیر خسروؒ کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا۔پیر و مرشد سے عشق کا یہ عالم کہ اُن کی خدمت میں ایک معمولی خادم کی طرح رہتے تھے جبکہ خود خسروؒ بہت امیر تھے۔کہتے ہیں کہ مریدی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اپنا سب کچھ پیر کی چوکھٹ سے باہر چھوڑ کر آنا پڑتا ہے اور اُس کی ایک مثال تھے حضرت امیر خسروؒ۔محبت کا یہ عالم کہ ایک درویش سے اپنے پیر و مرشد کی جوتیاں کئی لاکھ روپے میں خرید لیں اور کہنے لگے اگر شیخ کی جوتیوں کے بدلے وہ میرا سارا مال و متاع اور جان بھی مانگتا تو میں وہ بھی حاضر کر دیتا۔پھر وہ جوتیاں اپنے سر پر رکھ کر حضرت محبوب الہٰی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ سنایا۔پیر نے فرمایا کہ تم نے سستے خرید لیے۔ خود محبوب الٰہی اُ ن سے بے حد محبت کرتے تھے۔ایک روز فرمایا ’’  اگر شریعت اجازت دیتی تو میں یہ وصیت کرتا کہ خسرو کو میری قبر میں دفن کرنا تاکہ دونوں ایک ساتھ رہیں۔وہ میرے صاحب ِاسرار ہیں۔میں جنت میں اُن کے بغیر کیسے جائوں گا‘‘۔مرشد اور مرید کی ملاقاتوں کا اختتام اچانک اور افسوسناک ہوا۔حضرت نظام الدین کی علالت کی خبرملتے  ہی امیر خسرو فوراً دہلی پہنچے لیکن روشنی بجھ چکی تھی۔خبر سن کر بے چین ہو گئے۔اپنی ساری دولت پیر و مرشد کے ایصال ثواب میں خرچ کر ڈالی۔اپنے مرشد کے مزار پر انہوں نے اپنے درد و غم کی ترجمانی میں بڑاپر سوز دوہا کہا ہے جو آج بھی حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے عرس کے موقع پر ہر سال گایا جاتا ہے۔
گوری سوئے سیج پر مکھ  پر ڈالے کیس
چل خسرو گھر آپ نے سانجھ بھئی چو دیس
دوہے کے بول جو امیر خسروؒ کے لبوں پر آئے وہ ایسی زبان کے تھے جسے انہوں نے  اپنا  لیا تھا  اور شایدہر زبان سے زیادہ اثر انگیز الفاظ ہیں جو دل سے نکلے ہوئے ہیں۔  محبوب ِ محبوبِ  الٰہی امیر خسروؒ کا  وصال 725ھ کو حضرت  نظام الدین  اولیاء  کے  چھ ماہ بعدٹھیک اُسی تاریخ یعنی ۱۸؍شوال میں ہوا اور ان کی خواہش کے مطابق تدفین حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی پائنتی کی جانب کی گئی۔ امیر خسرو کی اسی خواہش کو اپنے ایک شعر میں نظم کرتے ہوئے یہ تحریر ختم کر رہا ہوں۔
جہاںروزے کی چوکھٹ ہے وہیںخسرو کی تربت ہے
عجب  در  ہے عجب دربانِ محبوبِ الٰہی ہے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *