Prize-Distribution
سلام ایجوکیشنل اینڈ آدر ویلفیئر سوسائٹی، بیڑ کے زیر انصرام ہز ہولی نیس حضرت منصور شاہ ولی ؒ اُردو ہائی اسکول شاہو نگر، بیڑ کی جانب سے ایک عظیم الشان تقریب ’’تقسیم انعامات و اعزازات اور ثقافتی پروگرام‘‘ ، ہفت روزہ اذان ادب، ہدیٰ ایجوکیشن سوسائٹی HEART اور ہمدرد پبلک لائبریری کے اشتراک سے رام کرشن لان امبیکا چوک شاہو نگر، بیڑ میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب کی صدارت سرپرست اعلیٰ محمد ابراہیم انوری نے انجام دی۔ محمد اسلم انوری( سیکریٹری سلام ایجوکیشن سوسائٹی)، فرید احمد نہری، فرّہ فاطمہ نہری، ڈاکٹر شیخ اعجاز پروین، ڈاکٹر شیخ رفیق اسحاق، ڈاکٹر سیدہ تنویر بدرالدین، ڈاکٹر شیخ امام حسین(لیکچرار ملیہ سینئر کالج) ، اعجاز سر(سیکریٹری مون ایجوکیشن سوسائٹی ، گیورائی)، مومن سمیہ فاطمہ(پرنسپل بدر انٹرنیشنل اسکول)، شفیق فاروقی (فاروقی پیٹرول پمپ) اور شیخ اخلاق( پراپرٹی ڈیلر) بحیثیت مہمانان خصوصی موجود تھے۔صدر جلسہ سرپرست اعلیٰ محمد ابراہیم انوری نے اپنے مخصوص انداز میں اعزازات اور انعامات پانے والوں کو مبارکباد پیش کی۔ اور اپنے صدارتی خطاب میں طلبا و طالبات کو تعلیم پر زور دینے کی اپیل کی ۔ انھوں نے کہا کہ پہلے طلبا زیادہ محنت نہیں کرتے تھے۔ اب اساتذہ زیادہ محنت کرتے ہیں اور طلبا کو تیار کرتے ہیں اس لیے طلبا میں ذوق و شوق اور محنت کرنے کا جذبہ بڑھنے لگا ہے۔انھوں نے کہا کہ علمی دنیا کی بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ جوا ، شراب، سود سے نجات کی صورت نظر نہیں آتی انسانی حرمت میں داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اب انسانی میلان قرآن کریم کی طرف بڑھ رہا ہے کہ سکون اور نجات کا باعث بنے۔ عبد اللہ اڈبار، کملاداس ثریا، مریم جمیلہ، موریس بوکائی وغیرہ کے قبول اسلام سے انسانیت کو راہ حق ملنے کی توقع ہوگئی ہے۔ اسلام کو نظام حیات کے طور پر قبول کرنے عوام تیار ہے۔ لیکن ریزرویشن وغیرہ کی رکاوٹیں حائل ہیں۔ ویسے بھی امبیڈکر کی روش نے بھی ایک موڑ پیدا کردیا ہے۔ اب Islam the Alternative جرمنی کے سفیر مراد ہوف مین اسلام کو متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
محمد صفی انوری صدر مدرس منصور شاہ ہائی اسکول، نے اپنے خطاب میں اس تقریب کا مقصد واضح کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سال رواں میں طلبا و طالبات کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی اور مستقبل میں مزید ترقی کرنے کے لیے ان کو انعامات دئیے جارہے ہیں۔اسی طری تعلیمی میدان سے جڑے چند احباب کو ان کی قابل قدر خدمت کے لیے اعزازات سے نوازا جارہا ہے۔
علم، اخلاق، سچائی، عدل ، احسان اور حقوق العباد کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اس بنیادی خوبیوں کے بغیر انسان سُر خرو نہیں ہوسکتا ہے۔ اور نہ انسانی معاشرہ پر امن بن کر ترقی کرسکتا ہے۔ فی زمانہ خواندگی اور تعلیم کا چرچا ضرور بڑھ رہا ہے لیکن معاشرہ کی عمومی ضرورت معیاری تعلیم کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ صحافتی اور عدلیہ کی ملامتیں اور ہدایتیں تعلیمی سدھار کے لیے آٹے میں نمک کی مصداق بھی نہ ہوں تو اصلاح ہوگی نہ انقلاب آئے گا سب پر حالت جنگ طاری رہے گی۔ معیاری تعلیم کے لیے صرف کچھ دن یا ہفتہ، عشرہ مختص کرنے سے یہ کام معیاری ہرگز نہ ہوجائے گا۔ بلکہ اس رواں صدی کو معیاری تعلیم کے لیے بھر پور تیاری کے ساتھ وقف کردیں۔ دیرینہ منصوبہ بندی قریہ، قریہ، دیہات، دیہات، فکری اور عملی اقدامات سے شہروں چھوٹے بڑے تعلیمی اداروں سرکاری ، نیم سرکاری اور خانگی ہر جگہ سے با کردار طلبہ اور نوجوان معاشرتی زندگی کے سارے شعبہ جات میں امن ترقی اور نجات کے علمبرداروں کو مکمل تربیت و تعلیم سے عملی میدان میں لائیں۔ تعلیمی نظام ، نصابات اور اساتذہ بھی مقصد کے اعتبار سے معیاری ہوں۔یہاں موجود طلبا، اساتذہ، سرپرست حضرات اور سلام ایجوکیشن سوسائٹی کے ذمہ داران ، ان سب کا آپس میں تعاون احسان و سلوک، صبر و برداشت، اکرام و تکریم سے اللہ کی مدد و نصرت شامل حال ہوئی اور آج کی یہ تقریب مثالی معلم، تقسیم انعامات اور ثقافتی تقریب کامیابی سے منعقد ہورہا ہے۔
محمد اسلم انوری سیکریٹری سلام ایجوکیشن سوسائٹی نے دوران خطاب قرآن کی اہمیت اور تعلیم کو واضح انداز میں پیش کیا۔ قرآن فرقان کا پہلا لفظ اقراء صرف اسکول یا مدارس کی تعلیم کے لیے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ حکم عام ہے اور خاص و عام، عاقل و بالغ پر زندگی کے ہر مرحلے پر پڑھائی جاری رکھنے کے لیے ہے۔ انھوں نے حاضرین بالخصوص طلبا و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی قریب کے متعد انقلابات انسانی رہنمائی کے لیے کافی ہیں۔مہمان خصوصی پروفیسر سید فرید احمد نہری نے اپنے خطاب میں تعلیم کی اہمیت اور آج کے حالات پر تبصرہ کیا۔پروفیسرسید فرّہ فاطمہ نہری نے اپنے خطاب میں موجود ہ تعلیمی نصاب کی کمزوری کو اجاگر کرتے ہوئے سامعین کے سامنے کچھ تجاویزات پیش کی۔ موجودہ تعلیمی نصاب میں کمزوری کو دور کرنے پر زور دیا۔ انعامات کے نہ ملنے پر ناکامی سے بددل نہ ہو کر جہد مسلسل سے کام کرتے ہوئے کامیابی کا پرچم لہرانا ہوگا۔ اگر انسانی معاشرے ک مجروح پہلوؤں پر باریک بینی سے نگاہ ڈالی جائے تو تعلیمی بچپن ، لڑکپن کی کوتاہیاں، جھوٹ، چوری، ماں باپ کی نافرمانی علتوں میں گھری بے حیائی میں ملوث ابتدائی زندگی سے ایک ذمہ دارانسانیت دوست عدل و انصاف کی خوگرمردانہ یا زنانہ زندگی کا پیکر کیسے ڈھالا جائے۔ جس کے حصول کے لیے ایک مستحکم دستور حیات اور تعمیری عملی Role Model کی پیروی لازمی ہے۔ موجودہ تعلیمی نظام کے نصاب، اساتذہ، طریقہ، امتحان اور ظالمانہ مسابقت کو یکسر بدلنا ہوگا۔اس تقریب کاآغازمسکان محمد چاؤش اور سعدیہ عبد الاحدسے ہوا۔ حمدعائشہ رشید باغبان نے سنائی اور نعت پاک کا نذرانہ بشریٰ احمد باغبان نے پیش کیا۔حضرت منصور شاہ اسکول کی سابقہ طالبہ اُم کلثوم شیخ خلیل نے اسکول کا ترانہ پیش کیا۔ سید سجاد سر مدر س حضرت منصور شاہ ہائی اسکول کے فرزند سید عمید نے بہت ہی دلنشیں آواز میں سورۃ الرحمن کی تلاوت سے سامعین کو محصور کیا۔ تعلیمی میدا ن میں قابل قدر خدمت انجام دینے پر ملیہ سینئر کالج کے لکچرارپروفیسرسید فرید احمد نہری، پروفیسرسیدہ فرّہ فاطمہ نہری، ڈاکٹر شیخ اعجاز پروین، ڈاکٹر شیخ رفیق اسحاق، ڈاکٹر سیدہ تنویر بدرالدین اور ڈاکٹر شیخ امام حسین ، اعجاز سر گیورائی اور مومن سمیہ فاطمہ کو مثالی معلم کے اعزاز سے نوازا گیا۔
اسی طرح سال رواں میں حضرت منصور شاہ ہائی اسکول کے مدرسین کو الگ الگ تنظیموں اور خدمت گاروں کی جانب سے اعزازات اور انعامات ملے ہیں۔ ان کا اس تقریب میں استقبال کیا گیا۔ جن میں محمد صفی انوری صدر مدرس حضرت منصور شاہ ہائی اسکول،کو خادمین امت کی جانب سے لیکچر سیریز میں مہاراشٹرا میں دوسرا مقام حاصل ہوا۔ آل انڈیا تعلیمی کارواں میں مہاراشٹرا کی نمائندگی حاصل کرنے کا موقع ملا۔ سید امین الدین سر کو الہلال ٹائمز اور بزم شمع ادب کی جانب اسداللہ خان یوسف زئی ایوارڈ ، منہاج احمد خان کو ہفت روزہ کشمکش اور روزنامہ دیویہ مراٹھی کی جانب سے اے پی جے عبد الکلام ایوارڈ ، شیخ رمضان پٹیل سر کو مولانا آزاد یونیورسٹی حیدارآباد میں مضمون نویسی کے مقابلے میں ملکی سطح پر دوسرا مقام حاصل ہوا۔اس کے علاوہ اسکول ہذا کی معلمہ ڈاکٹر شفیقہ انوری کو PHD کی ڈگری تفویض ہونے پر استقبال کیا گیا۔
منصور شاہ ہائی اسکول کے مدرسین میں سید سجاد سر، ڈاکٹر شفیقہ انوری، سید شاذیہ، شیخ صوفیہ ایوب، کو اعتراف خدمات کے لیے مثالی معلم کے ایوارڈ دیا گیا۔ شمیر خان اور شیخ زبیر کو ان خدمات کے پیش نظر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ثقافتی پروگرا م میں حضرت منصور شاہ پری پرائمری اسکول کے جونیئر کے جی اور سینئر کے جی، انگلش پرائمری اسکول فلک نما، اُردو پرائمری اسکول جمعہ پیٹھ اور ہائی اسکول شاہو نگر کے طلبا و طالبات نے بہت ہی دلکش اور عمدہ انداز میں ڈرامے، گیت اور قوالی پیش کیے جس کو سامعین نے بہت سراہا۔
اس تقریب میں سرپرست حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کر پر طلبا و طالبات کی حوصلہ افزائی کی۔ صدر مدرس محمد صفی انوری کے تشکراتی کلمات پر تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔ سیکریٹری محمد اسلم انوری نے کامیاب تقریب منعقد کرنے پر سلام ایجوکیشنل سوسائٹی کے زیر انضرام چلنے والے تمام اداروں کے عملے کو مبارکباد پیش کی۔اس تقریب کی نظامت منہاج احمد خان اور شیخ صوفیہ نے بہت ہی عمدہ انداز میں پیش کی۔ تقریب کو کامیاب بنانے کے لیے مسرت باجی، نسیم باجی، شبینہ باجی، قاضی غوث، شمع خالہ، عبد القوی سر، ندیم سر، ساجد سلمان سر، چودھر ی سر نے خوب محنت کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here