حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی

Share Article

 آپ اپنے وطن کو چھوڑ کر ہندوستان تشریف لائے اور خواجہ غریب نواز کی خدمت اور صحبت کو اپنے لئے باعث برکت سمجھا۔ اس صحبت اور خدمت کا  آپ کو  یہ صلہ ملا کہ آپ کو خواجہ غریب نوازؒ کے خلیفہ ہونے کا فخر حاصل ہوا۔ خواجہ غریب نواز نے دہلی کی ولایت آپ کے سپرد فرمائی۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒسادات حسینی سے ہیں ۔ آپ سیدنا حضرت امام حسین کی اولاد امجاد میں سے ہیں۔ آپ کا نسب پدری حضرت علی کرم اللہ وجھہ سے ملتا ہے۔جب آپ شکم مادر ہی میں تھے اسی وقت سے آپ کی بزرگی اور عظمت کے آثار نمایاں  ہوگئے تھے۔ آپ کی والدہ محترمہ فرماتی ہیں کہ ’’ دوران حمل جب میں تہجد کی نماز پڑھنے کے لئے اٹھتی تو میرے  شکم میں سے ذکر (اللہ اللہ) کی آواز سننے میں آتی۔ یہ آواز ایک ساعت تک رہتی تھی‘‘۔
آدھی رات کے وقت آپ اس عالم فانی میں جلوہ گر ہوئے۔ نور نے آپ کے سارے گھر کو روشن کردیا۔ نور کی اس روشنی سے آپ کی والدہ محترمہ کو خیال ہوا کہ سورج نکل آیا ہے ۔ آپ کی والدہ محترمہ حیران تھیں۔ ۔ آپ کی والدہ محترمہ نے دیکھا کہ حضرت قطب صاحب کا سر مبارک سجدے میں ہے اور آپ زبان فیض ترجمان  سے اللہ اللہ فرمارہے ہیں۔ آپ کی تاریخ پیدائش کے متعلق کافی اختلاف ہے۔ آپ کا سنہ ولادت 569  ہجری ہے۔ آپ کے کاکی کہلانے کی چند وجوہات  ہیں جب قطب الاقطاب  حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے دہلی مٰں رہنا شروع کیا تو آپ نے ظاہری اسباب سے قطع  تعلق کرلیا۔ آپ مع متعلقین نہایت  تنگی سے گزارہ کرتے تھے۔ حضرت قطب صاحب  عالم استغراق  میں رہتے تھے۔ آپ کی اہلیہ محترمہ خوردو نوش کا انتظام فرماتی تھیَ ایک دکاندار جس کا نام  شرف الدین تھا۔وہ آپ کے پڑوس میں رہتا تھا۔حضرت قطب الدین کی اہلیہ محترمہ اس دکاندار کی بیوی سے قرض لے کر گزارہ کرتی تھیں اور کچھ آنے پر اس کا قرضہ ادا کر دیتی تھیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ایک دن اس دکاندار کی بیوی نے آپ کو طعنہ دیا اور کہا ’’ اگر وہ قرض نہ دے تو ان کا کام کیسے چلے۔ یہ بات حضرت قطب صاحب  کی اہلیہ کو ناگوار گزری۔ آپ نے اس سے قرض لینا بند کردیا۔ جب یہ بات حضرت قطب صاحب کے علم میں آئی تو آپ نے ہدایت فرمائی کہ قرض نہ لیا جائے بلکہ ضرورت کے وقت بقدر ضرورت بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر حجرہ کے طاق  سے روٹیاںاٹھالیا کریں۔آپ کی اہلیہ محترمہ ایسا ہی کرتیں۔ ایک دن آپ نے بقال کی بیوی کو اس بات سے آگاہ کردیا۔ اس دن کے بعد  کا ک (نان) نکلنا بند ہوگیا۔
آپ اپنے والدین کے سایۂ عاطفت میں پرورش پارہے تھے ۔ آپ کے والد اور والدہ آپ پر نازاں تھے۔گھر کی برکت کو اپنے شیر خوار بچے سے منسوب کرتے تھے۔ابھی حضرت قطب صاحب کی عمر مبارک ڈیڑھ سال کی تھی کہ والد کا سایہ آپ کے سر سے اٹھ گیا۔ اس کے بعد آپ کی پرورش کا پورا بار آپ کی والدہ محترمہ پر تھا۔ انہوں نے آپ کی  تعلیم و تربیت کو ایک مقدس فریضہ سمجھا ۔ آپ کی ابتدائی تعلیم والدہ کی آغوش میں ہوئی۔جب حضرت قطب صاحب کی عمر چار سال چار ماہ اور چار دن  کی ہوئی تو آپ کی والدہ کو آپ کی بسم اللہ خوانی کی فکر دامن گیر ہوئی۔ اتفاق سے ان ہی ایام میں حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ اوش میں مقیم تھے۔ آپ سیرو سیاحت  کرتے  ہوئے اوش آئے ہوئے تھے۔ آپ کی شہرت سارے  اوش میں تھی۔ حضرت کی والدہ نے اس موقع کو اپنے بچے کے لئے فال نیک سمجھا۔ آپ نے طے کی کیاکہ خواجہ غریب نواز جیسے جلیل القدر بزرگ سے وہ اپنے لڑکے کی بسم اللہ پڑھوائیں گی۔ آپ نے  قطب صاحب کو خواجہ غریب نواز  کی خدمت میں بھیجا۔خواجہ غریب  نے قطب صاحب کی تختی لکھنا چاہی۔ غیب سے آواز آئی کہ ’’ اے خواجہ! ابھی لکھنے میں توقف کرو۔ قاضی حمید الدین ناگوری آتا ہے ۔ وہ ہمارے  قطب کی تختی لکھے گا اور تعلیم دے گا‘‘۔یہ آواز سن کر خواجہ غریب نواز رک گئے۔ اتنے میںقاضی حمید الدین ناگوری آگئے ۔ خواجہ غریب نواز نے تختی ان کو دے دی۔ قاضی حمید الدین ناگوری نے حضرت قطب صاحب سے دریافت کیا کہ تختی پر کیا لکھیں۔حضرت قطب صاحب نے جواب دیا ’’ سبحان الذی اسریٰ الخ۔ قاضی حمید الدین ناگوری یہ سن کر  سخت متحیر ہوئے۔ آپ نے دریافت کیا!یہ تو پندرہویں سپارہ میںہے ۔ تم نے قرآن مجید  کس سے پڑھا۔ حضرت قطب صاحب نے جواب دیا۔ ’’ میری والدہ ماجدہ کو پندرہ سپارے یاد ہیں۔ وہ میں نے شکم مادر میں حق تعالیٰ کی تعلیم سے یاد کرلیے‘‘ جب حضرت قطب صاحب کی عمر پانچ سال کی ہوئی  تو آپ کی والدہ نے آپ کو مکتب  میں داخل کرانا چاہا۔ یہ ایک خوشی کا موقع تھا۔ اس خوشی میں آپ کی والدہ نے دعوت کی۔ کچھ مٹھائی اور کچھ روپیہ دے کر حضرت قطب  کو ایک خادم کے ہمراہ مکتب میں بھیجا۔ جب آپ  خادم کے ساتھ محلہ کے مکتب میں جارہے تھے تو راستے میں آپ کو ایک بزرگ ملے۔ ان بزرگ نے خادم سے دریافت فرمایا۔ سعید ازلی کو کہاں لے جارہے ہو۔ خادم نے جواب دیا ’’ محلہ کے معلم کے پاس لئے جارہا ہوں‘‘ یہ سن کر اس بزرگ نے زور دیتے ہوئے کہا ’’ اس کو مولانا ابو حفص کے پاس لے جانا چاہئے‘‘۔ حضرت قطب کو ابو حفص کے پاس تعلیم کے لئے لے جایا گیا۔
حضرت قطب صاحب نے تلاش حق کے جذبے سے متاثر ہوکر اپنے وطن کو چھوڑا۔ آپ ایک شہر  میں پہنچے ۔اس شہر میں کچھ دن قیام کیا۔ آبادی سے کچھ فاصلہ پر ایک مسجد تھی۔ مسجد کے صحن میں ایک اونچا مینارہ  تھا۔ حضرت قطب صاحب کو ایک ایسی دعا معلوم تھی  کہ اگر اس دعا کو  بعد ادائے دوگانہ مینارہ پر پڑھا جائے تو دعا کے لئے پڑھنے والے کو حضرت خضر ؑ  کی ملاقات نصیب ہو۔ آپ نے اس موقع کو غنیمت سمجھا، دوگانہ ادا کیا پھر وہ دعا پڑھی۔ مینارہ سے نیچے اترے اور حضرت خضر ؑ کا انتظا ر کرنے لگے۔ مسجد میں کوئی شخص نظر نہ آیا۔ آپ مسجد سے باہر آگئے۔ ایک بزرگ کو دیکھا۔ ان بزرگ نے حضرت قطب صاحب سے دریافت کیا ’’ تو اس سنسان میدان میں تن تنہا کیا کر رہا ہے‘‘
انہوں نے حضرت خضرؑ سے ملنے کے بارے میں اپنے شوق کے بارے میں بتایا۔یہ سن کر اس بزرگ نے پوچھا۔کیا تو دنیا چاہتا ہے۔حضرت قطب نے کہا  ،نہیں۔583 ہجری میں حضرت قطب نے خواجہ غریب نواز کے ساتھ مکہ معظمہ پہنچے اور زیارت کعبہ سے مشرف ہوئے۔585 ہجری  میں مدینہ منورہ سے خواجہ غریب نواز مع حضرت قطب صاحب  بغداد شریف پہنچے ۔ بغداد پہنچ کر  آپ نے وہاں کچھ دن آرام کیا۔پھر 586 ہجری میں بغداد روانہ ہوئے۔ حضرت قطب صاحب اپنے پیرو مرشد غریب نواز کے ہمراہ تھے۔ بغداد سے روانہ ہوکر ہرات پہنچے۔پھر وہاں سے لاہور ہوتے ہوئے دہلی پہنچے اور یہاں سے  اجمیر گئے۔کچھ دن اجمیر میں قیام کرنے کے بعد خواجہ غریب نواز غزنیں تشریف لے گئے۔ آپ کے مریدین و معتقدین سبھی آپ کے ہمراہ ہولئے۔ حضرت خواجہ قطب کو اپنی والدہ سے رخصت ہوئے کافی عرصہ ہوگیا تھا۔ آپ اوش تشریف لے گئے۔ جب  خواجہ غریب نواز واپس اجمیر تشریف لے آئے تو حضرت قطب بھی ہندوستان روانہ ہوئے  اور 590 میں ملتا ن میں رونق افروز ہوئے،۔ یہیں بابا گنج شکر ؒ  نے آپ سے ملاقات کی  اور آپ کے دست پر بیعت کی۔ اس وقت بابا گنج کی عمر صرف پندرہ سال بتائی جاتی ہے۔
آپ کو عبادت میں بہت لطف آتا تھا۔ آپ حافظ قرآن تھے ۔ روزانہ  ایک قرآن ختم کرتے تھے۔ لوگوں سے چھپکر عبادت کرتے تھے ۔روزانہ تین سو رکعت نفل روزانہ پڑھتے تھے۔ گوشہ نشینی پسند فرماتے تھے۔ کم  کھانا، کم بولنا اور کم  سونا آپ کا شعار تھا۔حضرت قطب کو اپنے فقرو فاقہ پر فخر تھا۔ آپ کے وابستگان کو اکثر فاقہ رہتا تھا لیکن کسی پر یہ ظاہر نہ کرتے تھے کہ گھر میں فاقہ ہے۔آپ نذرانہ قبول نہیں فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ سلطان شمس الدین التمش نے کچھ روپے اور اشرفیاں  آپ کی خدمت میں بھیجیں ،لیکن آپ نے اسے قبول نہیں کیا۔آپ کو سماع کا بے حد شوق تھا، سماع میں آپ پر کیفیت طاری ہوتی تو کئی کئی روز بے خود رہتے۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *