ہوا کا رخ نہ بھانپ پانے کی بے چینی

Share Article

اجے کمار
p-3bاتر پردیش کی 80 لوک سبھا سیٹوں کے لیے چھوٹی بڑی تمام پارٹیاں ہاتھ پیر مار رہی ہیں۔ ’تیری قمیص میری قمیص سے سفید کیسے؟‘ کی طرز پر الزام در الزام کا دور چل رہا ہے۔ شیر، بکری سبھی ایک گھاٹ پر پانی پی رہے ہیں۔ جس کے پاس 20-22سیٹیں ہیں، وہ بھی اور جس کے پاس 2-4یا اتنی بھی سیٹیں نہیں ہیں، ان کے بھی جیت کے بڑے بڑے دعوے ہیں۔ سبھی جماعتوں کے آقا اپنے کو دوسرے سے بہتر ثابت کرنے میںلگے ہیں۔ کسی کومسلم ووٹوں کا سہارا ہے، تو کوئی ہندو ووٹوں کا رہنما بن بیٹھا ہے۔ ہوا سے لے کر زمینی سطح تک، سبھی طرح کے وعدے کیے جا رہے ہیں۔ اکھلیش سرکار سنگ بنیاد رکھنے کے دم پر عوام کی توجہ مرکوز کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے، تو بی ایس پی، بی جے پی اور کانگریس کو ایس پی سرکار ناکامیوں کا پُتلا نظر آتی ہے۔ انتخابی جنگ میں کون شیر ہے اور کون گیدڑ، یہ کسی کو پتہ نہیں ہے۔ عوام نے سب کوبھرم میںرکھاہوا ہے۔ راہل آتے ہیں، تو انھیں سننے کے لیے لاکھوں کی بھیڑ پہنچ جاتی ہے۔ ایس پی سپریمو ملائم سنگھ یادو کی تو سرکار ہی ہے، اس لیے ان کے لیے بھیڑ جمع کر لینا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ مودی کے میجک میں ان کو سننے اور دیکھنے والوں کی تو بات ہی نرالی ہے۔ بی ایس پی رہنما مایا وتی تو بھیڑ جٹانے کے لیے پہچانی جاتی ہیں۔ یہی نظارہ عام آدمی پارٹی، راشٹریہ لوک دل جیسی جماعتوں کی ریلی میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ نیتاؤں اور عوام کے درمیان لبھانے کا کھیل چل رہا ہے۔ہوا کارخ بھانپ نہ پانے سے تمام جماعتوں کے قد آور لیڈر پریشان نظر آرہے ہیں۔
لوک سبھا ایجنڈا 2014پورا کرنے کے لیے سبھی جماعتیں کمر کس کر یو پی میں خود کو آگے رکھنے کے لیے تمامترکوششیں کر رہی ہیں۔ ملک کی سب سے زیادہ 80سیٹوں والی ریاست یو پی میں اہم مقابلہ بی جے پی، کانگریس، ایس پی اور بی ایس پی کے درمیان ہونا طے ہے۔ کچھ سیٹوں پر پیس پارٹی، اپنا دل، قومی ایکتا دل جیسی جماعتیں ووٹ کاٹنے والی پارٹی کے کردار میں دکھائی دے سکتی ہیں۔ یہ جماعتیں بھلے ہی خود تو نہ جیت پائیں، لیکن دوسرے کا کھیل بگاڑ سکتی ہیں۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ان جماعتوں نے ایکتا منچ بنا کر بڑی پارٹیوں کا کھیل بگاڑنے کی کوشش کی تھی، لیکن ان کو کوئی خاص کامیابی ہاتھ نہیں لگی تھی۔
یو پی میں انتخابی تیاریوں کے لحاظ سے بی جے پی اور ایس پی کے درمیان ریلیوں کی زور آزمائش ہو رہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان ریلیوں کو لے کر مقابلہ آرائی ہو رہی ہے۔ ایس پی دس ریلیاں کر کے سب سے آگے ہے، جبکہ بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے دعویدار نریندر مودی آٹھ ریلیاں کر چکے ہیں۔ ان کا کانپور سے شروع ہوا ریلیوں کا کارواں 2مارچ کو لکھنؤ میں آخری پڑاؤ پر پہنچا۔ مودی کانپور کے علاوہ جھانسی، آگرہ، بنارس، گورکھپور، میرٹھ، بہرائچ اور لکھنؤ میں بڑی ریلیاں کر کے پارٹی میں پھیلی آپس میں گروپ بندی کو جزوی طور پر کم کرنے میں تو کامیاب رہے ہیں، لیکن بی جے پی ا ب تک بوتھ لیبل پر وہ تیاری نہیں کر پائی ہے، جس کی ضرورت بی جے پی کے ریاستی انچارج امیت شاہ کئی بار بتا چکے ہیں۔کم سے کم 25 فیصد بوتھوں کی یونٹ ہی تشکیل نہیں ہو پائی ہے۔ بی جے پی کو لگ رہا ہے کہ ریاست میں تنظیم کی جو بھی صورتحال ہو، لیکن اتر پردیش میں نریندر مودی کے سہارے 35-40سیٹوں پر فتح حاصل کی جاسکتی ہے۔
ایس پی کے تعلق سے بات کی جائے ، تو سماجوادی پارٹی نے ریاست میں سب سے زیادہ ریلیاں کر کے اپنی سبھی حریف پارٹیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ریلیوں میں جمع ہوئی بھیڑ سے بھی پارٹی کا جوش بڑھا ہے۔اپنے کیے ہوئے اعلانات کو پورا کر کے ایس پی یو پی میں فرنٹ فُٹ پر ہے۔ ایس پی نے مسلم ووٹوں کو اپنے حق میں کرنے کے لیے اقلیتوں کی بہبود کی تمامتر اسکیمیں چلا رکھی ہیں۔ اعظم گڑھ، بریلی، مین پوری، جھانسی، بنارس، گورکھپور، سہارنپور، گونڈہ، بدایوں اور الہ آباد میں بڑی ریلیاں کر کے ایس پی ماحول کو اپنے حق میں سازگار بنانے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ ایس پی کی پوری کوشش ہے کہ ریاست میں لڑائی بی جے پی اور سماجوادی پارٹی کے درمیان ہوجائے،لیکن بی جے پی اپنا الگ راگ الاپ رہی ہے۔ بی جے پی کے ریاستی انتخابی انچارج امیت شاہ کا بیان غور طلب ہے ، جو انھوں نے مودی کی لکھنؤ ریلی کے بعد دیا۔ بی جے پی کے ہیڈ کوارٹر پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ یو پی میں بی جے پی کا مقابلہ بی ایس پی سے ہے، بی جے پی لوک سبھا انتخاب میں نمبرایک پارٹی ہوگی اور بی ایس پی دوسرے نمبر پر رہے گی۔ ایس پی اور کانگریس کے بیچ تیسرے اور چوتھے نمبر کے لیے مقابلہ ہوگا۔ واضح ہو کہ شاہ کے بیان کو محض بی جے پی کی حکمت عملی کا حصہ مان کر نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ سماجوادی سرکار کے تمام دعووں کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ ایس پی سرکار کے تعلق سے عوام میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ پارٹی ہائی کمان عوام کے غصے کو ذات پات کی چاشنی میں لپیٹ کر ہلکا کرنا چاہتی ہے۔ اس حکمت عملی کا فائدہ سماجوادی پارٹی کو کس حد تک ملے گا، یہ وقت بتائے گا۔ بی ایس پی کی تیاری کافی منصوبہ مندی سے چل رہی ہے،حالانکہ ریلی کے نام پر بی ایس پی ایک بارہی میدان میں کودی ہے، لیکن یہ ریلی آج بھی ایس پی کی دس اور بی جے پی کی آٹھ ریلیوں سے بیس ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ کڑاکے کی سردی کے باوجود جنوری کے مہینے میں لکھنؤ میں بڑی بھیڑ اکٹھی کر کے بی ایس پی سپریمو مایاوتی سبھی حریف پارٹیوں کو وارننگ دے چکی ہیں۔ اس ریلی کا اہتمام پارٹی سپریمو مایا وتی کے یوم پیدائش پر 15جنوری کو کیا گیا تھا۔ بی ایس پی کے امیدواروں کے ناموں کا اعلان سال بھر پہلے ہی (لوک سبھا انچارج کے طور پر) کر کے انھیں تیاری کرنے موقع دے چکی ہے۔ ایس پی کی طرح ہی بی ایس پی نے تھوک کے حساب سے امیدوار بھی نہیں بدلے۔ کچھ سیٹوں پر بدلے بھی، تو اس سے پارٹی کی صحت پر بہت زیادہ فرق نہیں پڑا ہے۔ بی ایس پی نے بوتھ لیبل پراپنے آپ کو سب سے مضبوط بنا رکھا ہے۔ جب دیگر جماعتیں ، تنظیم کی فکر چھوڑ کرریلیوں میں مصروف تھیں، تو بی ایس پی بوتھ اکائیوں کی تشکیل میں جٹی ہوئی تھی۔ بی ایس پی کو لگتا ہے کہ اس بار اس کی جھولی میں مسلم ووٹ بڑی تعداد میں پڑ سکتے ہیں۔
کانگریس کی حالت سب سے پتلی ہے۔ ریاست میں 22ارکان پارلیمنٹ والی کانگریس کو مرکزی سرکار کی ناکامیوں کی سزا ملتی دکھائی دے رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور بدعنوانی کو لے کر یو پی اے سرکار کا ٹھیکرا کانگریس کے سر پر پھوڑا جا رہا ہے۔ اس کی سبب کانگریس کے خلاف پورے ملک میں ماحول بنا ہوا ہے۔ راہل 2009کے لوک سبھا انتخاب میں تو کانگریس کی نیّا پار کرا لے گئے تھے، لیکن 2012کے اسمبلی انتخاب میں ان کا گلیمر پھیکا پڑ گیا۔ تنظیم کے اندر آپسیاختلاف سے بھی کانگریس کی حالت یو پی میں خراب ہوئی ہے۔ ریاستی صدر نرمل کھتری، بینی پرساد ورما، پی ایل پونیا وغیرہ لیڈروں کے دمیان کی رسہ کشی سے بھی کانگریس کو نقصان ہو رہا ہے۔ کانگریس تنظیمی سطح پر اور عوامی جلسے کرنے کے معاملے میں بھی پچھڑ رہی ہے۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کی محض چار ریلیاں ہو پائی ہیں۔ بھیڑ کے لحاظ سے یہ ریلیاں بری طرح ناکام رہی ہیں۔ روڈ شو کر کے راہل نے نیا پینترا چلا، لیکن اس کے نتیجے بھی کوئی خاص اچھے نہیں رہے ہیں۔ اتر پردیش کانگریس کے ریاستی صدر نرمل کھتری طویل عرصہ تک اپنی کمیٹی ہی تشکیل نہیں کر پائے، جس کے نتیجہ میں کانگریس انتخابی تیاریوں میںپچھڑ گئی ہے۔ چھوٹی پارٹیوں میں راشٹریہ لوکدل اور پیس پارٹی دو دو بڑی بڑی ریلیاں کر کے اپنی تیاریوں کا جائزہ لے چکی ہیں۔ اپنا دل نے ابھی تک کوئی ریلی نہیں کی، لیکن مؤثر علاقوں میں پارٹی کومضبوط کرنے کاکام جاری ہے۔ کجریوال کی عام آدمی پارٹی کی بات کی جائے، تو اس کا آغاز یو پی میں تو کم سے کم اچھا نہیں رہا۔ اس کا نہ تو روڈ شو کامیاب ہوا اور نہ ہی کانپور کی ریلی میں کجریوال کے نام پر بھیڑ اکٹھی ہوئی، البتہ مودی کے وارانسی سے الیکشن لڑنے کے امکان کو دیکھتے ہوئے، کجریوال خیمے نے یہ ہوا ضرور اڑادی کہ کجریوال وارانسی میں مودی کے خلاف عام آدمی پارٹی کے امیدوار ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد آر ایس ایس اور بی جے پی اعلیٰ کمان مودی کو وارانسی کے بجائے گجرات سے ہی الیکشن لڑانے کا من بنانے لگے ہیں۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *