کیا آپ کے بچوں کو وظیفہ ملا؟

Share Article

سرکاری اسکولوں میں پڑھنے و الے بچوں کو وظیفہ دیا جاتا ہے تاکہ ایسے بچے جن کے کنبہ کی مالی حالت اچھی نہیں ہے، ان کی تعلیم میں دقت نہ پیش آئے۔ اس کے لیے باقاعدہ اصول و ضوابط بھی بنائے گئے ہیں کہ کون اس وظیفہ کا حق دار ہوگا یا کون نہیں ہوگا؟ ان اصول و ضوابط کے باوجود کئی مرتبہ ایسی خبریں آتی ہیں کہ ضرورت مندوں اور حق داروں کو وظیفہ نہیں دیا جاتا یا بچوں کے سرپرستوں سے دستخط کرا کر اس مد کا پیسہ ہضم کرلیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے اس کام میں اسکول انتظامیہ سے لے کر افسران تک کی ملی بھگت ہوتی ہے۔ دراصل اس مسئلہ کے پس پردہ کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً عام آدمی کا بیدار نہ ہونا، اپنے حقوق کی جانکاری نہ ہونا اور ایک وجہ بدعنوان پنچایتی نظام کا بھی اس طرح کی بدعنوانی کو بڑھانے میں بڑا ہاتھ ہے۔ گرام سبھا نام کا آئینی ادارہ جو گاؤں سے متعلق نظم و ضبط کو کنٹرول اور دیکھ بھال کرنے والا ایک اہم ادارہ ہے، اسے بھی اپاہج بنا دیا گیا ہے۔ اگر گرام سبھا میں ان مسائل پر ایمانداری سے بحث کی جائے تو ایسی سرکاری اسکیموں کا فائدہ یقینی طور پر انہیں لوگوں کو ملے گا، جو درحقیقت اس کے حق دار ہیں یا جنہیں ان کی ضرورت ہے۔ بہرحال اس شمارہ میں ہم وظیفہ کے سلسلہ میں بات کر رہے ہیں۔ یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیسے آپ اپنے بچوں کو ملنے والے وظیفے کی رقم کا غبن ہونے سے روک سکتے ہیں۔ اس شمارہ میں ایسی ہی ایک درخواست شائع کی جارہی ہے، جس کے استعمال سے آپ وظیفے کی رقم کے بارے میں صحیح اور مناسب جانکاری حاصل کرسکتے ہیں۔

قارئین کے خطوط

میں ایک سماجی و سیاسی کارکن ہوں۔ میں نے اور میرے بیٹے نے اپنے یہاں کے بلاک ڈیولپمنٹ افسر سے حق اطلاعات قانون کے تحت کچھ اطلاعات مانگی تھیں۔ اطلاع تو نہیں دی گئی، الٹے میرے اور میرے کنبہ کے ایک ممبر پر ایک سازش کے تحت مقدمہ کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں آگے کیا کرنا چاہیے؟
بھونیشور پرساد یادو، بلو، لکھی سرائے
آپ سب سے پہلے اس کی شکایت اسٹیٹ انفارمیشن کمیشن میں درج کراسکتے ہیں۔ ساتھ ہی اس واقعہ کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کو بھی مطلع کریں۔ بہار میں آر ٹی آئی قانون پر کام کرنے والے کئی ادارے ہیں۔ آپ ان سے رابطہ بھی کرسکتے ہیں تاکہ اس مسئلہ کو کار گر ڈھنگ سے اٹھایا جاسکے۔ اس سے پہلے بھی بہار میں اس قانون کا استعمال کرنے والے کئی لوگوں کو پریشان کیا گیا ہے، لیکن آخر میں جیت سچ کی ہی ہوئی ہے۔

اسکول میں وظیفہ کی تفصیل

پبلک انفارمیشن آفیسر
خدمت عالیہ میں        افسر برائے رابطہ ٔعامہ        (محکمہ کا نام)    (محکمہ کا پتہ)
عنوان: حق اطلاعات ایکٹ2005کے تحت درخواست
جناب،
براے مہربانی … اسکول میں وظیفہ کی تفصیل کے سلسلہ میں مذکورہ اطلاعات فراہم کریں:
1    مذکورہ اسکول کے درجہ … میں میرا بیٹا/بیٹی … پڑھتا/پڑھتی ہے۔ آپ کے ریکارڈ کے مطابق کیا وہ اس سال وظیفہ پانے کا حق دار ہے؟ اگر ہاں تو اسے کتنی رقم ملنی چاہیے؟
2     کیا آپ کے محکمہ کے ریکارڈ کے مطابق اسے اس سال کا وظیفہ دیا جاچکا ہے؟ اگر ہاں، تو متعلقہ دستاویزوں/رجسٹروں کے اس حصے کی مصدقہ کاپی دیں جہاں اسے وظیفہ دئے جانے کی تفصیل درج ہے۔
3    اگر اسے وظیفہ نہیں دیا گیا ہے تو اس کا کیا سبب ہے؟ متعلقہ دستاویزات کی مصدقہ کاپی دیں۔
4    مذکورہ اسکول میں کل کتنے طلبا/طالبات کو وظیفہ فراہم کیا جاتا ہے؟ ہر ایک طالب علم/طالبہ کا نام، ولدیت اور درجہ کی تفصیل دیں۔
5    سال … میں کل کتنے طلبائ/طالبات کو وظیفہ دیا گیا؟ رجسٹر جس پر طلباء و طالبات کا یا ان کے سرپرستوں کے دستخط ہوں اس کی مصدقہ کاپی دستیاب کرائیں۔
6    طلبائ/طالبات کے وظیفے کی شیڈولنگ کس بنیاد پر کی جاتی ہے؟ وظیفہ فراہم کرنے کے لیے کیا اصول و قوانین ہیں؟ اس سلسلہ میں تمام احکام/ ہدایات اور قوانین کی مصدقہ کاپیاں دستیاب کرائیں۔
7     حکومت نے مختلف درجات کے طلبائ/ طالبات کو وظیفہ دینے کے لیے کتنی رقم مقرر کی ہے؟
8     اگر کسی طالب علم کے وظیفے کی ادائیگی اب تک نہیں کی گئی ہے تو اس کا کیا سبب ہے؟ ایسے تمام طلبا کی فہرست دیں، جنہیں اب تک وظیفہ نہیں دیا گیا ہے۔ اس فہرست میں مندرجہ ذیل تفصیلات ضرور شامل ہوں۔
(الف) طالب علم کا نام        (ب) ولدیت        (ج) وظیفہ نہ دینے کا سبب
9     وظیفے کی ادائیگی بروقت نہ کیے جانے کے لیے ذمہ دار افسران کا نام اور عہدہ بتائیں؟ اپنا کام محکمہ کے اصول و قوانین کے مطابق نہ کرنے والے ان افسران کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی؟ یہ کارروائی کب تک کی جائے گی؟
میں درخواست فیس کے بطور … روپے الگ سے جمع کر رہا / رہی ہوں۔            یا
میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں، اس لیے تمام قابل ادا فیسوں سے آزاد ہوں۔ میرا بی پی ایل کارڈ نمبر … ہے۔
اگر مانگی گئی اطلاع آپ کے محکمہ/ دفتر سے متعلق نہیں ہو تو حق اطلاعات قانون 2005 کی دفعہ 6 (3) کو ذہن میں رکھتے ہوئے میری درخواست متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کی مقررہ مدت کے اندر منتقل کریں۔ساتھ ہی ضابطہ کے مطابق اطلاع دستیاب کراتے وقت فرسٹ اپیل افسر کا نام اور پتہ ضرور بتائیں۔
درخواست دہندہ
نام                پتہ                فون نمبر

منسلک اگر کچھ ہو

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *