اب اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں رہا کہ اگر سرکار یا انتظامیہ نہ چاہے تو انصاف ملنے کا امکان بھی ختم ہو جاتا ہے۔ ہاشم پورہ اور ملیانہ میں سالوں پہلے قتل کا واقعہ ہوا،28 کے آس پاس لوگ مارے گئے۔ غازی آباد کے اس وقت کے ایس ایس پی، وی این رائے نے ایک کتاب لکھی ہے، جس میں اس قتل واقعہ ، اس کے طریقے اور اس میں ملوث افسروں کی تفصیلی وضاحت دی گئی ہے۔ قتل کی جائے واردات غازی آباد ضلع کی ایک نہر تھی اور اس وقت غازی آباد کے کلکٹر نسیم زیدی تھے، جو اس وقت ملک کے چیف الیکشن کمشنر ہیں۔ اس واقعہ کی جانچ ہوئی، سرکاروں نے انصاف دلانے کے وعدے کئے۔ تقریباً ہر پارٹی کی سرکار اتر پردیش میں آئی، ، متاثرہ خاندانوں کے ممبر انصاف کی دہلیز پر اور سرکار کی دہلیز پر اپنا سر پٹختے رہے، لیکن بالآخر انہیں انصاف نہیں ملا۔ اب میرٹھ کے موجودہ ایس ایس پی نے کہا ہے کہ ہاشم پورہ اور ملیانہ حادثے کے تمام ثبوت ختم ہو گئے ہیں۔ کس نے ختم کئے، کیسے ختم کئے ، کچھ پتہ نہیں ۔لیکن ایک نتیجہ کہ ہاشم پورا اور ملیانہ واقعہ کے ثبوت ختم ہو گئے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جمہوری ملک میں رہ ضرور رہے ہیں، جمہوریت کا ہم ڈھول پیٹتے ہیں،جمہوریت کی قسمیں کھاتے ہیں اور ہمارا آئین بھی جمہوریت کی بات کرتا ہے،لیکن جب کمزور طبقہ کے لئے کچھ ملنے کی بات ہو، تو معاملہ دوج کا چاند بن جاتا ہے، وہ چاہے ترقی میں حصہ داری کا ایشو ہو یا انصاف ملنے کی معمولی سی امید۔ہمارا عدلیہ بھی عجیب ہے، انصاف صرف ان کے لئے ہے جو پیسے والے ہیں۔ تیس سال تک چلے مقدمے کی ایف آئی آر غائب ہو گئی اور عدالت میں جج صاحب کہتے ہیں کہ ایف آئی آر لانے کی ذمہ داری ان کی ہے، جنہوں نے شکایت درج کرائی۔ یعنی ہاشم پورہ اور ملیانہ قتل واقعہ کے ثبوت اکٹھا کرنے کی ذمہ داری ان کی ہے، جو مارے گئے لوگوں کے رشتہ دار ہیں۔ اگر یہ انصاف ہے تو پھر ناانصافی کیا ہے؟
اتنے سالوں میں ملک کے بڑے بڑے وکیلوں نے اس واقعہ کو دیکھا، ملک کے سپریم کورٹ نے اس ساری سنوائی کو اخباروں میں پڑھا ہوگا۔ اس منحوس رات کے اندھیرے میں اتر پردیش کی پی اے سی کی بندوقیں گرجیں، مرنے والوں کی چیخیں فضا میں گونجی، لیکن بندوقوں کا گرجنا اور مرنے والوں کے چیخنے کی آواز واقعہ کے کئی دنوں تک لوگوں کے کانوں تک نہیں پہنچی، کیونکہ ان دنوں میڈیا کے کچھ عظیم اور طاقتور لوگوں نے اس آواز کو سننے سے انکار کردیا تھا اور اپنے اخباروں میں اس کی رپورٹ تک نہیں چھاپی۔ جب پہلی بار ہاشم پورہ، ملیانہ قتل واقعہ کی رپورٹ ’’ چوتھی دنیا‘‘ میں چھپی، تب دنیا کو پتہ چلا کہ پولیس کیسے وحشیانہ قتل کر سکتی ہے، اور اس کے ثبوت کے طور پر غازی آباد کے اس وقت کے ایس ایس پی، وی این رائے نے اپنی کتاب میں تفصیل سے یہ ساری باتیں بتائی ہیں جو ان دنوں گم ہوئی کڑی کی شکل میں لوگوں کے سامنے تھیں۔
لیکن اس قتل واقعہ میں مارے گئے لوگوں کا درد نہ ان دنوں کسی کو پریشان کر پایا اور نہ آج، جب انتظامیہ کہہ رہا ہے کہ کوئی ثبوت ہی نہیں بچا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ملک میں طاقتور طبقہ جو چاہے، وہی ہوتا ہے۔ اس ملک میں جس کے پاس پیسہ ہو، اسے ہی انصاف ملتا ہے اور اس ملک میں وہی چین کی سانس لے سکتا ہے جو طاقت میں ہو۔
کیا اس کا مطلب یہ نکالا جائے کہ لوگ عدلیہ کے لئے بے چین ہوکر ، خود کو بے سہارا مان کر آنسو بہاتے رہیں یا اس ملک میں ابھی بھی ایسے لوگ بچے ہیں، جو عدلیہ کا مکمل مفہوم ، عدلیہ کی مکمل سرگرمی اور عدلیہ کے مکمل اصول کو ایک بار پھر چرچا میں لے کر آئیں اور عدلیہ کو جمہوریت کی کسوٹی کے اوپر کستے ہوئے ایک نئی بحث شروع کریں۔ یہ اس لئے ضروری ہے ،کیونکہ ہم کوئی تانا شاہ ملک نہیں ہیں،ہم ہٹلر کی جرمنی نہیں ہیں اور ہم افریقی ملک بھی نہیں ہیں،بلکہ ہم ہندوستان ہیں، جس میں رہنے والے لوگ بہت فخر سے پانچ ہزار سالوں کی عدلیہ، سسٹم، پیار ،محبت اور بھائی چارے کی مثال دیتے ہیں۔ عدلیہ کی ہماری روایت کافی قابل فخر رہی ہے۔ شاید آج کی عدلیہ روایت اور پہلے کی عدلیہ روایت میں زمین و آسمان کا فرق آگیا ہے۔ کیا ملک کے سینئر جیورسٹ، ملک کے سینئر آئینی ماہرین اس کے اوپر دھیان دیں گے؟مجھے لگتا ہے کہ شاید نہیں دیں گے،کیونکہ اتنے بڑے قتل واقعہ ، جس سے ملک کا ایک بڑا طبقہ متاثر ہوا، کے اوپر چرچا نہ کبھی سنجیدگی سے لوک سبھا میں ہوئی نہ کبھی راجیہ سبھا میں ہوئی، نہ کبھی اتر پردیش اسمبلی میں ہوئی اور لوگوں کے بیچ تو ہوئی ہی نہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ میرٹھ کے موجودہ ایس ایس پی کے اس جواب نے کہ ہاشم پورہ اور ملیانہ واقعہ کے سارے ثبوت ختم کئے جاچکے ہیں یا ختم ہو چکے ہیں ، یہ بتا دیا ہے کہ ہاشم پورہ اور ملیانہ قتل واقعہ قبر میں دفن ہو چکا ہے اور جب انتظامیہ ہی کسی چیز کو قبر میں دفن کرے، تو اس کی سنوائی کہیں نہیں ہو سکتی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here