مبارک عید کی خوشیاں

Share Article

 

اسامہ عاقل حافظ عصمت اللہ

 

مہنے بھر کے بیدارومبارک عید کی خوشیاں
مہہ رمضان کے پیارومبارک عید کی خوشیاں
پورے عالم اسلام کو عید سعید کی ڈھیر ساری خوشیاں مبارک ہو ،عید عربی لفظ ہے ،عید کا لفظ اپنے مفہوم کے اعتبار سے اجتماعی مسرتوں کا پیغام ہے ان تہوار میں امن و سلامتی ہے، بھائی چارہ ہے،فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور یکجھتی ہے مساوات اور اتحاد کا بہترین مظاہرہ ہے ،خاص کر ان تہواروں میں تین خصوصیات نمایا ہوتی ہے – ایک یہ کہ وہ بیک وقت قومی بھی ہے اور اجتماعی بھی ،جن کی بنیاد انسانیت کے لئے مشترک اہمیت رکھنے والے جذبات وروایات پر ہیں دوسرے یہ کہ اسلام چونکہ ایک عالم گیر ایمانی اصلاحی اور اخلاقی دعوت ہے – اس لئے اس نے اپنے تہواروں اور عیدین میں صرف خدو پرستی کو ملحوظ رکھا ہے – جو انسانیت کی اصل جڑ ہے عید واقعی مسرت کے ترانے لے کر آتے ہیں –

 

عید آتی ہے مسرت کے ترانے لے کر
گنگناتے ہوئے موسم کے خزانے لے کر

 

عید الفطر رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے بعد روزہ داروں کے لئے اللہ کی جانب سے خوبصورت انعام ہے – مذھب اسلام باہمی یگانگت اور رواداری کے فروغ کو بہت اہم قرار دیتا ہے – عید ایسا تہوار ہے جس میں اپنوں کے ساتھ محبت اور خلوص کے ساتھ وقت گزارنے اور خوشیاں بانٹنے کا خوب موقع ملتا ہے – عید کے تہواروں کو ہر چھوٹا ،بڑا ،بوڑھا ،جوان ،عورت ،مرد،امیر اور غریب سب اپنے اپنے طور پر خوشی مناتے ہیں – اس روز ہر چہرے پر خوشی کی چمک ہوتی ہے – ہر چشم میں عید سعید کی تمام رونقیں سمیٹنے کی تمنا ہوتی ہے – عید کا اصل مزہ تب ہی ہے جب آپ اس خوشی کے موقع پر اپنوں کو یاد رکھیں اور خصوصا ان لوگوں کو فراموش نہ کریں جو کسی وجہ سے عید منانے سے قاصر ہوں – اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو تلاش کریں ،جو دل میں عید کی خوشی منانے سے کا جذبہ رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس اتنے وسائل نھیں کہ وہ اپنی خوشی کی عملی تعبیر پاسکیں – ایسے لوگوں کی مدد کرکے آپ عید کی اصل اور سچی خوشی پا سکتے ہیں – عید کے موقع پر مختلف طریقوں سے مسرت بھرے جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے آپ چاہیں اس کے لئے کوئی بھی طریقہ استعمال کریں ،لیکن اس بات کا خیال ضرور رکھیں کہ اس موقع پر کسی کو نظر انداز نہ کریں ایک ایک عزیز اوردوست کو مبارکباد دیں اور نیک تمناؤں سے نوازیں – عید کے موقع پر خوشیاں بانٹنے کا ایک اہم اور دل فریب طریقہ تحائف کا تبادلہ آپ اس خوبصورت ذریعے کو استعمال کرکے کسی کے دل میں چھپی خواہش کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں – اس سے اتحاد پیدا ہوتے ہیں – عید صرف تیار ہوکر گھومنے یا ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر وقت گزارنے ،آرام کرنے یا پکنک منانے کا دن نھیں – یہ دن ہے رنجش بھلا کر گلے ملنے کا ،دوستی اور میل ملاپ کے ذریعے نئی جلا بخشنے کا،دل سے تمام کدورتیں نکال کر ایک دوسرے کو دل سے معاف کردینے کا ، اگر آپ کا کوئی اپنا آپ سے ناراض ہے یا آپ کے دل میں کسی کے لئے تھوری سی بھی رنجش موجود ہیں تو تمام رنجشیں بھلاکر آگے بڑھئے اور دل سے تمام کدورتیں نکال دیجئے –

 

بڑھتی ہے جس سے باہمی الفت وہ عید ہے
کردے جو دل سے دور کدورت وہ عید ہے
اس سے بھائی چارگی اور ایکتا کی شان ہے
ملتا ہے جس سے درس اخوب وہ عید ہے

 

عید منانے کی اس حقیقت کو سامنے رکھئے تو اس بات کو دہرانے کی ضرورت نہیں محسوس ہوتی کہ عید کی خوشی میں اس بد نصیب کا کوئی حصہ نھیں ،جو رمضان کی برکتوں سے محروم رہا ،اور رمضان کے بابر کت شب وروز پانے کے باوجود اس نے اپنی مغفرت کا سامان نھیں کیا – لیل ونہار کی گردش جب تک باقی ہے یکم شوال کی تاریخ آتی رہے گی مگر محض اس صبح کا طلوع ہونا ہی پیغام مسرت نھیں ہے – یہ صبح تو ہر ایک پر طلوع ہوتی ہے لیکن اس جشن میں حقیقی مسرت صرف اسی کا حصہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہوکر یہ کہہ سکے کہ پروردگار نے جو مبارک مہینہ مجھے عطا فرمایا تھا میں نے اسے ضائع نھیں کیا میں نے دن میں بھی خوشی کا کام کرتا رہا اور شب میں بھی تیری عبادت میں لگارہا – عیدالفطر یقینا مسلمانوں کے لئے اظہار مسرت کا دن ہے – یہ اللہ کا دیا ہوا تہوار ہے – عید کی سچی خوشیاں ،دوسروں میں پیار ومحبت اور خوشی بانٹنے سے ملتی ہیں –

 

کچھ اس طرح عید کی تعظیم کیجئے
تزئین بزم شوق کی تنظیم کیجئے
لیکن نہ امتیاز من وتو ہو درمیاں
خوشیاں ہر ایک شخص کو تقسیم کیجئے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *