حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے

Share Article

عفاف اظہر
مسلم لیگ نے اپنی جماعت کے ایک اہم اجلاس کے بعد ایبٹ آباد کے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرانے اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نواز لیگ کی مجلس عاملہ کے اس اہم مطالبہ کا اعلان پارٹی کے رہبر نواز شریف نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ نواز لیگ کی مجلس عاملہ نے اس تجویز کو بھی رد کر دیا کہ اس واقعے کی تحقیقات ایک ایسے کمیشن سے کرائی جائے جس کے سربراہ فوج کا کوئی لیفٹنٹ جنرل ہو۔ مسلم لیگ کی مجلس عاملہ نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن اکیس دن کے اندر اپنے کام مکمل کرکے رپورٹ قوم کے سامنے پیش کرے۔ ایک طرف ہمارے ان بد طینت سیاستدانوں کا یہ چوہے بلی کا کھیل تو دوسری طرف امریکی حکمرانوں کے پاکستان کے نام انتہائی ڈھٹائی پر منحصر آئے دن دھواں دھار بیانات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ پاکستان برائے فروخت کا اعلان کر رہا ہے کہ ہماری یہ کوئلوں کی دلالی نما پاکستانی سیاست آج سیاست کی ہیرا منڈی بن چکی ہے، جہاں پر خریدار چاہے امریکی ہوں یا اسرائیلی ، سعو د ی شیخ ہوں یا پھر ہندوستانی ۔
شریف برادران کی آپریشن ایبٹ آباد پر پریشانی سمجھ میں آتی ہے کہ آخر ایک یہی تو ہیں القاعدہ کے واحد ہمدرد و غمخوار، انہیں دکھ نہیں ہوگا تو اور کس کو ہو گا؟ نواز شریف ہر اہم موقع پر ملک سے با ہر ہوتے ہیں اور آنے کے بعد واویلا ڈال دیتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا ویسا کیوں ہوا؟ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر موجودہ حکمرانوں کی جگہ خود نوازشریف ہوتے تو ان کا ردِعمل کیا ہوتا؟ جب انیس سو اٹھانوے میں اسی امریکہ نے تمام تر بین الاقوامی قوانین، سفارتی اخلاقیات کو روند کر، پاکستان کی فضائی حدود کی شرمناک خلاف ورزی کرتے ہوئے اسی اسامہ کے نام پر افغانستان پر کروز میزائلوں کی بارش کی تھی تو بھاری مینڈیٹ والے وزیراعظم نے کیا کر لیا تھا؟ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر اس وقت نواز شریف جرأت مندانہ مؤقف اختیار کرتے تو نہ پرویز مشرف کو سر اٹھانے کی ہمت ہوتی اور نہ زرداری،گیلانی کوکوئی پوچھتا۔ یہ سب ایک ہی کھیت کی مولی ہیں، ان لوگوں نے باریاں لگائی ہوئی ہیں، بس۔ نواز شریف سے پوچھا جائے کہ انہوں نے اکبر بگٹی جیسے بندے سے مفاہمت کیوں کی؟ کارگل میں اپنے فوجی شہید کروانے کہ بعد ہتھیار کیوں ڈلوائے؟ ایمل کانسی کو امریکہ کے حوالے کیوں کیا؟ اپنا سارا پیسہ سعودی عرب میں کیوں لگایا؟ اگر پاکستان سے اتنی محبّت تھی تو پاکستان سے پیسہ باہر کیوں بھجوایا؟ نواز شریف نے یہ بے وقت کی راگنی ایسے ہی نہیں چھیڑی بلکہ اس کے پیچھے نادیدہ اشارے یا بادشاہ گر کو خوش کرنے کی رضا کارانہ خواہش کار فرما ہو سکتی ہے کہ اب سوال یہ نہیں رہا کہ ایبٹ آباد آپریشن ایک نمبر تھا یا دو نمبر؟ ریڈار جام ہوئے تھے یا نہیں؟ حکومت اور خفیہ اداروں کو کارروائی کی پیشگی اطلاع تھی یا نہیں؟ اسامہ اس آپریشن میں ہلاک ہوا یا وہ پہلے ہی سے بیماری کی وجہ سے مر چکا تھا ؟ فوری طور پر اسامہ کو تہہ آب دفنانے کا کیا ٹھوس جواز و وجوہات تھیں؟ ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کی وجہ سے گرا یا ڈرامہ میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے جان بوجھ کر گرایا گیا؟ پاکستان نے اسامہ کو پناہ دی تھی یا پاکستانی حکومت اور خفیہ ادارے اسامہ کی موجودگی سے لاعلم تھے؟ بن لادن نے خود ایبٹ آباد میں ملٹری اکیڈمی کے علاقے کا انتخاب کیا یا ’’کوئی‘‘ انہیں خود یہاں چھوڑ گیا تاکہ پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی فوج کو بھی دھرا جا سکے؟ بن لادن کی ویڈیو ایک نمبر تھی یا اسے ایڈٹ کر کے ایک نمبر بنانے کی سر توڑ کوشش کی گئی؟ ویڈیو میں اسامہ بولنے کی بجائے صرف ہونٹ ہلا رہے ہیں یا آواز بند کی گئی ہے؟ اگر آواز بند کی گئی ہے تو کیوں؟ ایبٹ آباد کے تناظر میں وزیراعظم کا خطاب قوم کی آواز کی ترجمانی کرتا ہے یا نہیں؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے جوابات کے حصول کے لیے بچہ، بوڑھا، ملکی، غیرملکی، مہاجر، حکومتی و غیر حکومتی اہلکار، کالم نگار، صحافی، اور رپورٹر حضرات بے چین مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن جواب ندارد۔ امریکہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا باضابطہ اعلان کر چکا ہے۔ اب یہ سوالات بے وزن اور اہمیت سے خالی ہو چکے ہیں لہٰذا ان سوالات کو ماضی کا قصہ بنا دینا بہتر ہے۔حالات کی نزاکت و حساسیت کو سمجھے بنا ایسے وقت میں جب ملک حقیقتاً حالت جنگ میں ہے اور ساری دنیا پاکستانی افواج پر دباؤ بڑھا رہی ہے تو اس نازک مسئلے پر قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے لیکن ن لیگ اب بھی حالات کی سنگینی کا ادراک کرنے کی بجائے سیاست چمکانے کے چکر میں ہے۔ اصول پسندی کی آڑ میں قومی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دینے کی عادت نے ن لیگ کو سیاسی میدان میں تنہا کر دیا ہے۔ دو مئی کے واقعہ کی تحقیقات عدالتی کمیشن سے کروانے کا نواز شریف کا مطالبہ درست بھی مان لیا جائے تو کیا فوج کو بری الذمہ قرار دیا جائے؟ اگر نہیں تو فوج سے کون سا کمیشن جواب طلبی کرے گا؟ کمیشن کی تحقیقات کے لیے کون کون سے جنرل پیش ہوں گے؟ فوجی جنرلوں سے کون جواب طلب کرسکتا ہے؟ جی اگر تحقیقات کروانی ہیں تو امریکہ یا اقوام متحدہ سے کروا لیں کہ ان کو کم سے کم ڈالروں کا لالچ تو نہیں ہوگا۔
1965 کی جنگ میں ہندوستان کے امر تسر سے اڑنے والے جہاز کو پاک فضائیہ تیس میل کا فاصلہ طے کرنے سے پہلے دبوچ سکتی تھی، مگر یہاں ایک سو پچاس کلو میٹر سرحدوں کے اندر آ کر آپریشن ہو ا، مگر حکمران و فوج سب ہی بے خبر کہ اب یہاں تحقیقات کس کس کی کریں گے؟ ایک طرف ڈرون حملوں کی خود اجازت دے دی ہے تو کیا ہوا کہ وہ تھوڑے سے مزید کلومیٹر آگے آگئے۔ ہمارے ہاں تو ہر کوئی وہی کام کرتا ہے جو اس کا نہیں ہوتا۔ فوج اور آئی ایس آئی دفاع کے علاوہ ہر کام کرتی ہے۔ سیاست میں جوڑ توڑ، اپنے لوگوں کو اٹھا کر غائب کرنا، منتخب لیکن ’’نااہل‘‘ حکومتوں کا تختہ الٹنا۔ سیاستدانوں کو دیکھ لیں، سیاست کے علاوہ ہر کام کرنا۔ مذہبی جماعتوں کو دیکھ لیں، دہشت گردی پھیلانا، اسامہ کو ہیرو بنا کر پیش کرنا۔ پولیس کو دیکھ لیں، چوروں اور ڈاکوؤں کے ساتھ مل کر معصوم شہریوں کو لوٹنا۔ اس ملک کے لوگوں کو دیکھ لیں، انتخابات کے وقت نااہل لوگوں کو ووٹ دینا، ووٹ بیچنا اور پھر بعد میں اپنے ہی منتخب رہنماؤں کو برا بھلا کہنا۔ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ یہ درست ہے کہ کسی ملک کو دوسرے ملک میں جاکر اس طرح کی کارروائی کرنے کا کوئی حق نہیں۔ لیکن دہشت گردوں کو پناہ دینا، ان کے تربیتی کیمپ بننے دینا اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ نہ کرنے کا مطلب یہی ہے کہ یا تو آپ دہشت گردوں سے خوفزدہ ہیں یا ان سے ملے ہوئے ہیں۔ دونوں صورتوں میں، یہ دہشت گرد جن ممالک میں جا کر کارروائیاں کرتے ہیں، ان کا حق ہی نہیں، بلکہ فرض ہے کہ وہ انہیں سرحدوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تباہ و برباد کردیں۔  پاکستانیوں کے لیے اب  امریکی کارروائی پر ماتم کرنے سے کہیں زیادہ ضروری تو یہ ہے کہ اب ان غیرت و حمیت کے نعروں سے دل بہلانے کی بجائے حقیقت سے نظر ملانا سیکھ لیں کہ ہم وہ قوم ہیں، جن کی زبان پر یہ غیرت کا لفظ آتے ہی سب سے بڑی بے غیرتی بن جاتا ہے، جس قوم کی آئندہ آنے والی کئی نسلیں بھی لاکھوں ڈالرز کی مقروض ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ایک قرضدار کا جنازہ تک جائز نہیں، مقروض ہونے کے ناطے حرام کی موت تو ہم خرید ہی چکے ہیں اب چاہے طالبان کے ہاتھوں مریں یا پھر امریکہ کے ؟ مگر واہ رے یہ خوش فہمیوں کی جنت حرام کی موت منظور ہے، مگر غیرت و حمیت کی بھیک کے ساتھ ۔ سیاستدان خواہ کچھ بھی کہیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارا امریکہ سے دوستی کا رشتہ ہرگز نہیں بلکہ بھیک دینے والے اور لینے والے کا رشتہ ہے۔ اور ایک بھکاری کے لبوں پر یہ عزت غیرت حمیت کے نعرے ،ملکی  سرحدوں کی پاسبانی کے دعوے کچھ زیب نہیں دیتے کہ اب دنیا بھی جان چکی ہے کہ:
مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر
حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *