ہماری برادری کی جے ہو

Share Article

سنتوش بھارتیہ
کیاہماری دنیا سچ مچ اندھیری اور اندھی ہوتی جارہی ہے؟ ہماری دنیا سے مطلب ہم صحافیوں کی دنیا سے ہے۔ ہم اس لئے یہ بات اٹھارہے ہیں ،کیونکہ صحافیوں کو غیر تحریری اختیارات ملے ہیں،جن کی سبھی عزت کرتے ہیں۔ اس بات پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے کہ مقننہ، عدلیہ اور عاملہ کی طرح میڈیا بھی مساوی طور پردستور کاستون ہے اور اسے تینوں پر تبصرہ اور تنقید کرنے کا پورا اختیار ہے۔ کسی کو بھی کہیں بھی روک کر سوال پوچھنے کا حق صرف صحافیوں کا دیا گیا ہے اور لوگ بھی اس حق کی عزت کرتے ہیں۔ عام لوگوں کے درمیان اب تک یہ خیال عام ہے کہ جب کہیں بھی ان کی سنوائی نہ ہو، کوئی بھی بات نہ سنے تو صحافیوں کے پاس چلے جاؤ۔ وہ ضرور بات سنیں گے اور جب چھاپیں گے یا دکھائیںگے ، تو حکومت کا وہ شخص جو ان کے دکھ کا ذمہ دار ہے جواب دینے کے لیے مجبور ہوجائے گا۔ ہم ان کسوٹیوں سے وابستہ اختیارات کا توجم کر استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کی ذمہ داریاں نہیں اٹھاتے۔ ان ذمہ داریوں کو نہ اٹھانے کا نتیجہ اپنی سب سے بری شکل میں ہمارے سامنے آرہا ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ تھوڑی شراب پلادو اور جو چاہو لکھوالو۔ آہستہ آہستہ بات کام کرانے کی ، ٹھیکیداری تک پہنچ گئی اور آج ہمارے ہی پیشے کے کئی بڑے اور چھوٹے ساتھی کام کرانے کا ٹھیکہ لینے لگے ہیں۔ چاہے لفظوں کی دنیا ہو یا تصویروں کی دنیا، گندی مچھلیاں ہر جگہ دکھائی دے رہی ہیں۔ پی آر جرنلزم کا ایک نیا طبقہ پیدا ہوگیا ہے جو سیاسی جماعتوں یا بڑے گھرانوں کو صلاح دیتا ہے کہ کیسے انہیں اپنی طاقت اور رسوخ بڑھانا چاہئے۔ جب انتخابات آتے ہیں تو چاہے بڑے صحافی ہوں یا چھوٹے وہ اپنی جماعتوں کی پالیسیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنی ٹولی بناتے ہیں اور پرچار کا حصہ بن جاتے ہیں۔ سب سے بری حالت تو اب ہوگئی ہے۔ گزشتہ عام انتخابات سے یہ بیماری کھلے عام سامنے آگئی اور کوئی اسے چھپانا نہیں چاہتا۔ اخباروں اور ٹیلی ویزن چینلوں نے اپنے صحافیوں سے کہا کہ آپ امیدواروں سے پیسے لیجئے اور ان کی رپورٹ چھاپئے یا دکھایئے۔ ایک ایڈیٹر جو مالک ہے، انہوں نے اپنے صحافیوں سے بھری میٹنگ میں کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ لوگ الیکشن میں لکھنے کا پیسہ لیتے ہیں۔ اب آپ ہمارے بتائے ہوئے ریٹ پر پیسہ لیجئے اور اپنا کمیشن اس میں سے لیجئے۔ میٹنگ میں موجود ایک بھی صحافی نیتردید نہیں کی کہ وہ ایسا نہیں کرتے۔ بڑی سیاسی جماعتیں ٹیلی ویزن کے بڑے صحافیوں کو شخصی طور پر اور چینلوں کو اجتماعی طور پر موٹی رقم دیتی ہیں تاکہ وہ ان کے بارے میں تشہیر نہ کریں تو کوئی بات نہیں، لیکن نقصان پہنچانے والی رپورٹ تو نہ ہی چھاپیں اور نہ ہی دکھائیں۔ اگر کوئی اخبار یا چینل اس سے انکار کرتا ہے تو ہم اسے بری بات مان کر اپنی غلطی کی معافی مانگ لیںگے، لیکن اگر سبھی ایسا کرتے ہیں تو ہمیں اس کہانی کی حقیقی شکل کو سامنے لانے کا حق حاصل ہوگا۔ان سبھی معاملات میں عام آدمی کی تکلیفیں ہمارے سامنے ایجنڈے سے غائب ہوگئی ہیں اور نتائج سامنے آرہے ہیں کہ وہ ہم پر اعتماد کھوتا جارہا ہے۔ یہ عجیب سا ماحول ہے کہ جس کے لئے میڈیا کی بنیادی ذمہ داری ہے ، وہی میڈیا پر بھروسہ نہیں کرتا یاکم بھروسہ کرنے لگا ہے۔ کیوں خبر سے خبر تلاش کرنے کی محنت سے، قاری کو صحیح بات بتانے سے اور قاری کے حق میں کھڑے ہونے سے ہم گھبرا رہے ہیں۔ کس کا دباؤ صحافت کے پیشے پر ہے۔کیا بازار ہم سے یہ کہتا ہے کہ خبر یا جو ہو رہا ہے، اسے نہ دکھائیں یا شائع نہ کریں۔کیا مالک مدیران کو اس کے لئے مجبور کر رہے ہیں یا مدیران ہی صحافیوں کو خبروں کے علاوہ سب کچھ لکھنے اور دکھانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ میرا ماننایہ ہے کہ جتنا ہم اپنے فرض سے دور جائیں گے، اتنا ہم ملک کو خطرہ میں ڈالیں گے ۔ جتنا زیادہ خبروں کی یا معلومات کی مواصلات محدود ہوگی، اتنا ہی ملک میں غیر یقینی میں اضافہ ہوگا۔ یہ غیر یقینی طبقات کے درمیان ہو سکتی ہے، مذاہب کے درمیان ہو سکتی ہے، ذات برادری کے درمیان ہو سکتی ہے ، عوام اور حکومت کے درمیان ہو سکتی ہے اور یہیں میڈیا کا فرض بنتا ہے کہ وہ یہ سب نہ ہونے دے۔اگر میڈیا کی بھول چوک یا جان بوجھ کر کی گئی غلطی کے سبب غیر یقینی بڑھتی ہے اور ہم افرا تفری کی جانب بڑھتے ہیں تو اس کا سب سے پہلا اثر ہم پر یعنی میڈیا پر ہی پڑنے والا ہے۔ اگر اقتدار کو ہم نے یہ احساس کرا دیا کہ ہم مینج ہو سکتے ہیں تو ہمیں آگے سینسر شپ کے لئے تیار رہنا چاہئے اور اگر اپوزیشن کو ہم نے یہ اشارہ دیا کہ ہم آسانی سے متاثر کئے جا سکتے ہیںتو ہمیں گولی اور لاٹھی سے بچنے کی دماغی تیاری رکھنی چاہئے۔مدیران، صحافیوں اور الیکٹرانک میڈیا کے لوگوں کو اگر اب بھی سنبھلنا نہیں آیا یا انھوں نے سنبھلنا نہیں چاہا تو آئندہ پانچ سال یعنی پندرہویں لوک سبھا کی مدت کے بعد انہیں سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملے گا۔ جمہوریت کے نام پر ایسی طاقتیں سامنے آ رہی ہیں، جن کا جمہوریت میں بھروسہ ہی نہیں ہے۔ اسی طرح صحافت کے شعبہ میں ان کا اثر بڑھ رہا ہے اور وہ صحافت کے اصولوں کو توڑنے میں اپنی شان سمجھتے ہیں۔ اگر گاندھی جی اور سبھاش چندر بوس کے یوم پیدائش پر ان کی یاد میڈیا کو نہ آئے تو ماننا چاہئے کہ ہماری یعنی میڈیا کی قیادت للی پوٹینس یا بونے صحافیوں کے ہاتھ میں ہے مگر ایسے صحافیوں کی بھی کمی نہیں ہے جو خاموش تو ہیں، مگر وہ ایسی صورتحال کو تسلیم نہیں کر پا رہے ہیں۔ ان سب کو ملا کر اپنے اپنے اداروں میں آواز بلند کرنی ہوگی اور بونے صحافیوں کو ان کا مذہب یاد کرانا ہوگا۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جب بولنا اہم فرض بن جاتا ہے اور صحافت کے شعبہ میں چل رہی افرا تفری جیسی صورتحال، جھوٹی تعریف اور صحافت کی بنیاد کو ہلانے والی سرگرمیوں کے خلاف ہاتھ اٹھانا تاریخی فرض بن جاتا ہے۔ہمیں ایسی ہی توپوں کا مقابلہ کرنا ہے اور ایسے دوستوں کی تلاش بھی کرنی ہوگی جو توپ کا مقابلہ کرنے میں نہ صرف ساتھ دیں بلکہ قیادت بھی کریں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *