ہمارے پاس کوئی قیادت تو ہے نہیں ، کیوں نہ ہم خود ہی مل کر لڑیں

Share Article

وسیم راشد
ملک کا مسلمان انتہائی بے اعتمادی کی کیفیت سے دوچار ہے۔ بے اعتمادی کی یہ کیفیت نئی نہیںہے۔کچھ برسوںسے پولیس اور حکومت کے رویے نے انہیں بہت مایوس کیا ہے۔ انہیں اپنی سالمیت کے تئیں تشویش ہے۔دہشت گردی کے نام پر مسلم نوجوانوں کی دھر پکڑ کے رجحان اور اب انہیں جیلوں میں مار دیے جانے کے نئے ٹرینڈ نے ملک کے مسلمانوں میں بے چینی و بے اعتمادی پیدا کردی ہے۔کچھ دنوں پہلے جیل میں قتیل کی ہلاکت اور اس کے کچھ ماہ بعد ہی پولیس حراست میں خالد مجاہد کی پر اسرار موت۔مالیگائوں بم دھماکے کے ملزم کرنل پروہت اور اسیما نند کو چارج شیٹ سے خارج کردیے جانے کی خبر نے ان کی بے چینی کومزید بڑھا دیاہے۔ ہر مسلمان اپنی خاموش زبان سے پوچھ رہا ہے کہ وہ اس ملک میں کتنا محفوظ ہے۔مسلمانوں کی آبادی 20کروڑ سے زیادہ ہے،مگر قیادت کے فقدان نے ان کی تعداد کی اہمیت کو ختم کردیا ہے۔جب کبھی کوئی حادثہ پیش آتا ہے،پولیس کی طرف سے نوجوانوں کی دھرپکڑ شروع ہوتی ہے،مسلم نوجوانوں پر جبری الزام طے کیے جاتے ہیں، تو تنظیمیں آواز اٹھاتی ہیں،اخباروں میں بیان دیتی ہیں،کچھ دنوں تک وا ویلا مچاتی ہیں اور پھر خاموش ہوجاتی ہیں۔ان کے مطالبے کو نہ تو حکومت سنجیدگی سے لیتی ہے اور نہ ہی پولیس اور انتظامیہ ان کے نعروں کو سن کر نیند سے بیدار ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ جانتی ہے کہ جس قوم میں قیادت کا فقدان ہوتا ہے، اس قوم کی آواز جلد ہی دم توڑ دیتی ہے۔مضبوط قیادت نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کی نظر میں مسلمانوں کی حیثیت صرف ووٹ بینک کی ہو کر رہ گئی ہے۔چنانچہ الیکشن کے زمانے میں ہر سیاسی پارٹی ان سے قربت چاہتی ہے،مگر الیکشن کے بعد ایسے منہ پھیر لیتی ہے جیسے اس ملک میں مسلمانوں کی کوئی حیثیت ہی نہ ہو۔اگر مسلمانوں کے پاس مضبوط قیادت ہوتی توملک میںکہیں بھی انہیں نظر انداز کرنا آسان نہ ہوتا۔اتر پردیش جیسی ریاست میں جہاں مسلمانوں کا ووٹ فیصلہ کن ہوتاہے، خالد مجاہد کی دردناک موت نہ ہوتی ، نوجوانوں کو تحفظ ملتار اور بے گناہوں کو جیل میں بند نہیں کیا جاتا ، مرکز میں حکومت ان سے ریزرویشن کا جھوٹا وعدہ نہیں کرتی ،بی جے پی ان سے منہ موڑنے کی ہمت نہیں کرتی ،کیونکہ مسلمان ملک میں دوسری سب سے بڑی اکثریت ہے اور اس کو نظر انداز کرنا کسی بھی پارٹی کے لئے مہنگا ثابت ہوسکتا تھا،مگر قیادت نہ ہونے کی وجہ سے ان کا ووٹ بکھرا ہوا ہے اور یہ شر پسند عناصر کے لئے لقمہ تر بنے ہوئے ہیں۔
ایک وقت تھا جب آزادی کی پوری لڑائی مسلم قیادت میں لڑی گئی تھی ۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ آزادی کے نام پر شہید ہونے والوں میں 90 فیصد مسلمان تھے،لیکن دھیرے دھیرے اس میں کمی آتی چلی گئی۔اگرچہ مسلم قیادت میں آج بھی بہت سے نام ہیں، لیکن ان میں وہ خلوص و جذبہ نہیں ہے، جس کی ضرورت اس وقت مسلمانوں کو ہے۔وہ ایک خاص ذہنیت اور خاص مقصد کے تحت کسی نہ کسی پارٹی کے لئے کام کر تے ہیں،جس سے قوم کا بھلا نہیں ہورہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ 65 سال کے اندر مسلمان اتنے کمزور ہوگئے کہ ان کی اقتصادی حالت دلتوں سے بد تر ہوگئی۔تعلیمی میدان میں پچھڑ گئے۔چنانچہ ایک سروے کے مطابق پورے ملک میں 30 لاکھ بچے ایسے ہیں جنہوں نے اسکول تو کیا مدرسے تک کا منہ نہیں دیکھا ہے۔ حکومت میں ان کی نمائندگی تیزی سے گھٹ گئی، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ملک میں کل 8827آئی اے ایس افسروں میں سے صرف200 مسلم آفیسر ہیں۔828آئی ایف ایس میں صرف 18 مسلمان ہیں، جبکہ آبادی کا تناسب دیکھا جائے تو بنگال میں 28 فیصد،آسام میں 35فیصد،کیرالہ میں 24 فیصد،بہار میں 16 فیصد اور اتر پردیش میں18 فیصد ہے۔اگر آبادی کے تناسب کا لحاظ رکھا جاتا تو مسلمانوں کی نمائندگی اتنی کم نہ ہوتی، مگر اس پر آوازاٹھانے والا کوئی بھی نہیں۔ملک ترقی کررہاہے ، سپر پاور بننے کی دوڑ میں شامل ہے، مگر مسلمان آج بھی جس ہندوستان میں رہ رہا ہے وہ ایک غریب ہندوستان ہے، جہاں تعلیم ،روزگار اور روٹی بنیادی مسئلے بنے ہوئے ہیں،مگر ان کی طرف کوئی دھیان دینے والا نہیں۔جو لوگ یا جو تنظیمیں مسلم نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہیں، وہ مسلمانوں کی بنیادی ضرورت کے بجائے جذباتی ایشوز پر اپنی توجہ زیادہ صرف کررہی ہیں۔یہ تنظیمیں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک، ریزرویشن،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار، مسلم پرسنل لاء بورڈ،اردو زبان پر تو خوب سمینار اور کانفرنسیں کرتی ہیں۔اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، مگر جو بنیادی چیز ہے یعنی ایجوکیشن اور ایکونومک ڈیولپمنٹ اس طرف توجہ کم دے رہی ہیں ، جبکہ کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے یہی دو چیزیں بنیادی ہوتی ہیں۔ ہاں دلتوں کے لیڈروں نے اس طرف توجہ دی، ان کی تعلیم اور روزگار کے لئے حکومت سے مواقع پیدا کروائے ،جس کا نتیجہ ہے کہ آج وہ مسلمانوں سے بہتر حالت میں ہیں۔
آج مضبوط قیادت نہ ہونے کی وجہ سے پورا مسلم طبقہ بے زبان بنا دیا گیا ہے۔اگر کسی نے حق بات کہی تو اس پر تشدد کیا جاتا ہے۔فیض آباد کورٹ کے احاطے میں وکیل محمد سلیم کو اس لئے زخمی کردیا جاتا ہے کہ اس نے عدالت میں حق بات کہنے کا عزم کیا تھا۔وکلاء کے بار ایسوسی ایشن سے جمال ،سلیم ،ندیم اور سلیع الرحمن کا صرف اس لئے اخراج کر دیاجاتا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے ایک پر امن احتجاج میں شرکت کرلی تھی۔اس سے پہلے وکیل محمد شعیب پر بھی حملہ ہوا تھا اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ انہوں نے خالد مجاہد کی کونسلنگ کی تھی۔غرض اس قوم سے دھیرے دھیرے وہ تمام حقوق چھینے جارہے ہیں جو ملک میں کسی بھی شہری کو حاصل ہوتے ہیں۔اور اس کی وجہ صرف ایک ہے کہ ان کے پاس قومی سطح کا کوئی لیڈر نہیں ہے،کوئی ایسی تنظیم نہیں ہے جو پورے ملک میں مسلمانوں کی نمائندگی کرسکے۔مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس طبقے کے پاس 90فیصد قیادت تھی، وہ دھیرے دھیرے 6فیصد پر کیسے آگئی؟اس کی ایک وجہ تو صاف ہے کہ مسلمان الگ الگ پلیٹ فارم سے سیاست کر رہے ہیں ۔اگر تمام تنظیمیں ،ادارے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں تو ایک مضبوط قیادت ابھر کر سامنے آسکتی ہے۔دوسرے سرکاری طور پر بھی ان کی قیادت کو کمزور کرنے کے لئے کچھ ایسی پالیساں بنائی گئی ہیں، جن کی وجہ سے حکومت میں مسلمانوں کی نمائندگی کم ہوتی چلی گئی۔وہ اس طرح کہ کئی ایسے پارلیمانی اور اسمبلی حلقے ہیں، جہاں مسلم ووٹر کی اکثریت ہے یا ان کا ووٹ فیصلہ کن ہے ،ایسے حلقوں کو ایس سی اور ایس ٹی کے لئے ریزرو کردیا گیا ہے۔ظاہر ہے ایسے حلقوں سے مسلم نمائندوں کے چنے جانے کا امکان ہوتا ہے، مگر سیٹ ریزروڈ ہوجانے کے بعد یہ امکان ختم کردیا گیا۔جبکہ کئی ایسے ایس ٹی اور ایس سی کثیر آبادی والے علاقے ہیں ،جہاں سے درج فہرست ذات و قبائل کے لوگ ہی چن کر آسکتے ہیں، مگر اس حلقے کو ریزروڈ نہیں کیا گیا ہے،جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم نمائندگی کو کم کرنے کے لئے اس طرح کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔اسی طرح پارلیمانی حلقوں میں سے33فیصد سیٹوں کو خواتین کے لئے ریزرو کردیا گیا ہے۔اس سے نقصان یہ ہوا کہ ایک تو مسلم خواتین پبلک نمائندگی میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتی ہیں۔اگر کوئی دلچسپی لیتی بھی ہیں تو ایسے علاقے سے کھڑی ہونا پسند کرتی ہیں جو مسلم اکثریتی علاقہ ہے، مگر جہاں اکثریت نہیں ہے وہاں سے یہ یا توکھڑی نہیں ہوتی ہیں اور اگر کھڑی ہوتی بھی ہیں تو ذات برادری کی وجہ سے کوئی اووٹ نہیں دیتا ہے۔بہر کیف وجہ جو بھی ہو ، لیکن یہ ایک سچائی ہے کہ مسلم قیادت کے فقدان کی وجہ سے مسلمانوں کے سامنے نئے نئے مسائل پیدا ہورہے ہیں اور سیاسی جماعتیں انہیں ووٹ بینک کے سوا کچھ نہیں سمجھ رہی ہیں۔پولیس اور انتظامیہ بھی ان کے ساتھ غیروں جیسا سلوک کرتی ہیں۔ یہ صورت حال اس وقت تک نہیں بدل سکتی جب تک کہ مسلمانوں کے پاس مضبوط قیادت نہ ہو۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *