p-4سوال : جیسے ہی یہاں سے جموں کی طرف بڑھتے ہیں یا ہوائی جہاز اڑتا ہے، پھر سمجھ لیجئے کنفیوژن ہی کنفیوژن ہے، تو ابھی ہم لوگ بات کررہے تھے۔آپ نے یہاں ہر بات صاف صاف کہی ہے۔ ابھی آپ ہی بتا رہے تھے۔لیکن سوالوں کے اوپر اگر آپ ایک بار اجازت دیں، تو ایک بار بات چیت کریں، پلیبیسائٹ، پاکستان ،فوج وغیرہ پر۔
جواب: کشمیر کا معاملہ 1947 سے چل رہا ہے۔ 1947 سے لے کر آج تک یہاں لوگوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، ہندوستان کے فوجی قبضے کے خلاف۔ اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے،جو چھپی ہوئی ہے، جو پریس میں نہیں آئی ہے، جو کتابوں میں نہیں لکھی گئی ہے، جو ملاقاتوں کے وقت کہی نہیں گئی ہے۔کوئی ایسی بات نہیں ہے ۔آپ جو چاہتے ہیں، جو نئے سرے سے دفتر کو کھولا جائے، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔
سوال: سر، ان چیزوں کے بارے میں نہیں جیسے مثال کے طور پر۔۔۔۔۔
جواب: ہندوستان طاقت کے نشے میں مست ہے۔ جس طرح کوئی ہاتھی ہوتا ہے نا،ہاتھی کو جب شراب پلائی جاتی ہے، تو وہ مست ہو جاتا ہے۔ ہندوستان طاقت کے نشے میں مست ہے۔ وہ ریالٹیز (حقائق) کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔ وہ اپنے کئے ہوئے وعدوں کو عمل میں لانے میں، اسے پورا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ 2010 میں چدمبرم نے اعلان کیا کہ کشمیر پرابلم از بروکین پرومیسیز ( کشمیر مسئلے وعدوں کا ٹوٹنا ہے)۔ اس سے بڑھ کر اور کیا حقیقت ہو سکتی ہے کہ اس وقت کے وزیر داخلہ نے اعلاناً کہا کہ کشمیر کا مسئلہ جو ہے، وہ یہ ہے کہ ہم نے ان کے ساتھ وعدے کئے تھے، وہ وعدے ہم نے پورے نہیں کئے ہیں۔ یہی ہے مسئلہ۔ ہندوستان نے وعدے کئے ہیں۔ ہندوستان کی جو فوج یہاں آئی ہے، آنجہانی پنڈت نہرو نے یہاں لال چوک میں شیخ محمد عبد اللہ کی موجودگی میں کہا کہ ہم فوج واپس بلائیں گے اور آپ کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔ جنوری 1948 میں خود نہرو جی نے کہا، یہ قضیہ ہمارے، ان کے درمیان رہ گیا۔ ان کا کلیم (دعویٰ) یہ تھا کہ کشمیر ہمارا ہے اور اس میں جو آئے ہیں قبائلی وغیرہ ،ان کو یہاں سے نکالا جائے اور ہمیں کشمیر قبضہ تعین کیا جائے۔ جب وہاں ان کا کلیم تسلیم نہیں کیا گیا، پاکستان نے بھی اپنا اسٹینڈ بتایا ،پھر اقوام متحدہ نے فیصلہ کیا کہ جموں و کشمیر ایک ڈسپیوٹیڈ ٹیروٹری ہے، جموں و کشمیر کے لوگوں کو سیلف ڈیٹرمنیشن(خود ارادیت) کا حق ملنا چاہئے، تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔ یہ قراردادیں ہیں، ان پر ہندوستان نے دستخط کئے ہیں، تسلیم کیا ہے ان قراردادوں کو۔ پاکستان نے بھی دستخط کئے ہیں اور اقوام متحدہ میں یہ قرار دادیں موجود ہیں۔ امریکہ نے بھی اور اقوام متحدہ میں جتنے بھی ممالک ہیں، جتنے بھی سیکورٹی کائونسل میں ممبر ہیں، سب اس پر گواہ ہیں۔ اب جموں و کشمیر کے لوگ یہی کہتے ہیں کہ بھئی، آپ نے دستخط کئے ہیںان قراردادوں پر، ان کوعمل میںلانے میں آپ کو کیا عذر ہونا چاہئے۔ میں نے بار بار یہ کہا ہے، اپنی تقریروں میں بھی، کتابوں میں بھی میں نے لکھاہے کہ بھائی ریفرنڈم کے نتیجے میں اگر لوگ فیصلہ کریں گے کہ ہم ہندوستان کے ساتھ رہیں گے، تو ہمیں کوئی عذر نہیں ہوگا،ہم تسلیم کریں گے۔ہمیں کسی بھی ملک کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں ہے، کوئی ضد نہیں ہے، کوئی عداوت نہیں ہے۔ ہندوستان میں جو ایک ارب اکیس کروڑ لوگ بستے ہیں، وہ انسانی نسبت سے ہمارے رشتے میں ہیں، بھائی ہیں،وہاں کے جو بیس کروڑ مسلمان ہیں، ان کے ساتھ دو رشتے ہیں۔ ایک انسانی رشتہ ہے، ایک دینی رشتہ ہے، مذہب کا رشتہ ہے ۔تو ہم ان لوگوں کے ساتھ عداوت کیسے رکھیں، دشمنی کیسے رکھیں؟لیکن ہندوستان جو ظلم یہاں کر رہا ہے، اس ظلم کی مثال اس خطے م میں نہیں ملے گی۔ آپ خود دیکھ رہے ہیں۔ تو ہندوستان کا جو قبضہ ہے، ہم اس کے خلاف جدو جہد کررہے ہیں، اور نہتے حال میں کررہے ہیں، ہمارے پاس کوئی بندوق نہیں ہے، ہمارے پاس کوئی پیلیٹ گن نہیں ہے۔ ہاں، جب ہمارے جوانوں کو آگے بڑھنے سے پولیس روکتی ہے، فوج روکتی ہے، بی ایس ایف روکتی ہے، سی آر پی ایف روکتی ہے ،تو وہ اپنی اپنی دفاع کے لئے پتھر اٹھاتے ہیں۔ اس کے بغیر ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔ لیکن پتھر کے مقابلے میں گولیاں چلتی ہیں، پیلیٹ گن چلتے ہیں، ٹیئر گیس شیلنگ ہوتی ہے، لاٹھی چارج ہوتا ہے،جبر ہوتا ہے۔ لوگوں کا خون بہایا جارہا ہے، لوگوں کیبینائی ختم کی جارہی ہے۔ ابھی کل ہی ایک وہ کشمیر میں انشا بیٹی کی تصویر آئی تھی۔ اس کے ساتھ اس کی ماں تھی اور باپ بائیں طرف تھا، دن تھا۔ وہ بیٹی کہہ رہی تھی، مجھے بتائو، یہ دن ہے یا رات، 14سال کی بیٹی۔ اب ایسا ظلم ، چھوٹے جوانوں کو، ان کی بینائی چھیننا ، پیلیٹ گن کا استعمال کرنا، کہاں کا انصاف ہے؟کیا ہندوستان کے جو گرو گزرے ہیں، کرشن جی گزرے ہیں، دوسرے بہت سے مہاتما لوگ گزرے ہیں،کیا انہوں نے یہی تعلیم دی ہے ہندوستان کے لوگوں کو کہ وہ عام لوگوں پر ظلم کریں، جن کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ، جن کے پاس کوئی فوج نہیں ہے، جن کے پاس کوئی پولیس نہیں ہے، جن کے بارے میں عدالت بھی کوئی انصاف فراہم نہیں کرتی ہے؟میں 2010 سے ہائوس اریسٹ ہوں۔عدالت میں بھی گئے، عدالت بھی کوئی فیصلہ نہیں کرتی،کوئی انصاف نہیں دیتی، کوئی تحریر نہیں ہے، کوئی آرڈر نہیں ہے۔ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ بھئی اس کو اس کیس میں ہم نے بند رکھا ہے۔ کیا وجہ ہے؟اسی طرح دوسرے لوگ بھی ہیں۔ اب جو ہزاروں کی تعداد میں ہمارے لوگوں کو گرفتار کیا گیا، ہزاروں کی تعداد میں اور پھر ان کو جموں لے جایا جارہا ہے، کس لئے جموں لے جایا جارہا ہے؟وہاں جیلوں کی جو انتظامیہ ہیں، وہ کمیونل ہیں، وہ ان کو وہاں ایذائیں پہنچائیں گے اور پھر جو وہاں کرمنل کیس میں جو لوگ وہاں جیل میں ہیں، وہ بھی ان کے ساتھ لڑائی لڑیں گے، وہ بھی ان کو ستاتے ہیں، وہ بھی ان کو تنگ کرتے ہیں، دو سال پہلے ایک شخص کو وہاں قتل کیا گیا، جب رجنی سہگل وہاں سپرنٹنڈنٹ تھیںکوٹ بلوال میں، اس کو وہاں شہید کیا گیا ، تو اسی لئے ان کو جموں بھیجا جارہا ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ کا یہ آرڈر ہے کہ کسی کو گرفتار کیا جائے تو اس کو اپنے نزدیکی کسی جیل میں رکھنا، تاکہ اس کے رشتہ دار جو ہیں، وہ ان کے ساتھ ملاقات کرسکیں، ان کو سہولت ہولیکن اس کا بھی کوئی خیال نہیں کیا جاتا ہے ۔اب ایسے حالات میں آپ مزید کیا جاننا چاہتے ہیں۔
سوال: نہیں سر، میں معافی کے ساتھ بس یہ جاننا چاہ رہا ہوں کہ جو کنفیوژن ہے ،وہاں کہ جب آپ کشمیر کہتے ہیں،تو وہاں یہ مانا جاتاہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کی جو لیڈر شپ ہے ، خاص کر آپ اس کو پاکستان میں ملانے کی بساط بچھاتے ہیں۔تو ابھی یہاں پتہ چلا کہ اس میں آپ یہ نہیں کہتے ہیں۔ آپ یہ کہتے ہیں کہ کشمیر کا مطلب ، جو 1947 میں کشمیر تھا، سارا حصہ، آپ وہ کہتے ہیں۔ تو سر میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس میں آپ کا نظریہ کیا ہے؟
جواب: ہمارا نظریہ یہ ہے کہ جموں و کشمیر جو 1947 میں تھا۔ آنجہانی ہری سنگھ کے دور اقتدار میں جو تھا، جس میں آزاد کشمیر بھی شامل ہے، جس میں گلگت بھی شامل ہے، جس میں بلتستان بھی شامل ہے، جس میں جموں بھی شامل ہے، لداخ بھی شامل ہے، کارگل بھی شامل ہے، سارا جو جغرافیہ اس وقت جموں و کشمیر کا تھا، ہم اسی کے بارے میں بات کررہے ہیں۔ ہم صرف کشمیر ویلی کے بارے میں بات نہیں کررہے ہیں۔ ہمیں جموں کے لوگوں کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے۔ میں نے آپ سے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر، دھرم کی بنیاد پر، نسل کی بنیاد پر، زبان کی بنیاد پر ، پیشے کی بنیاد پر، وطن کی بنیاد پر ہم کسی بھی انسان کے ساتھ تعصب نہیں رکھتے ، کوئی ضد نہیں رکھتے، ہمیں یہ فرمایا گیاہے اللہ کی طرف سے، جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں جس کا ترجمہ ہے ’’ اے میرے بندوں، میں نے تم کو پیدا کیا ہے، لیکن تم میں جو یہ ذاتیں اور قبیلے ہیں، یہ ضد کے لئے نہیں یا کسی اختلاف کے لئے نہیں ہیں۔ تم سارے ایک ہی ماں باپ کے بیٹے اور بیٹیاں ہو۔ اس لحاظ سے تمہیں ایک دوسرے کے ساتھ انسانی رشتہ ہے‘‘، یہ ہم کو بتایا گیاہے۔ ہم کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک انسان کا قتل کرنا جو نہتا ہو، ساری انسانیت کے قتل کے برابر ہے، اور ایک انسان کو جان کا تحفظ دینا، ساری انسانیت کو تحفظ دینے کے برابر ہے۔ ہم اسی پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن جب میں نے آپ سے کہا کہ سارا آزادکشمیر بھی اس میں آئے گا، جب ریفرنڈم ہوگا، گلگت بھی آئے گا، بلتستان بھی آئے گا، جموں بھی آئے گا، لداخ بھی آئے گا۔ اگر اس میں ہندوستان کے ساتھ ہی رہنے کا فیصلہ ہو جائے، ہم کو کوئی عذر نہیں ہے،ہم رہ سکتے ہیں۔
سوال: لیکن سر، اس تجویز ، اس پروپوزل کے اوپر پاکستان کی طرف سے تو آج تک کوئی پازیٹیو سگنل نہیں آیا کہ وہ اپنے یہاں بھی اس ریفرنڈم کو سپورٹ کرے گا؟
جواب: نہیں، آپ کو معلوم نہیں ہے۔ دیکھئے، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں۔ میر ے سامنے مشرف نے اعلان کیا کہ جب ہندوستان مانے گا، ہم یہاں ریفرنڈم کریں گے، ہم آزاد کشمیر سے اپنی فوج ہٹائیں گے۔اعلان کیا ہے انہوں نے اور ان کے دستور میں بھی لکھا ہوا ہے کہ ہم آزاد کشمیر سے فوج ہٹائیں گے اور جو وہاں کے لوگوں کا فیصلہ ہوگا، وہ ہمیں قبول ہوگا۔ یہ کنفیوژن جو ہے، یہ اس لئے پیدا کیا جاتاہے کہ ہندوستان کی جموں و کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی نیت نہیں ہے، اسی لئے وہاں کا میڈیا جو ہے، سب جھوٹ بول رہا ہے، جموں و کشمیر کے بارے میں۔ اتنا جھوٹ بول رہا ہے جتنا ہمالیہ کا قد ہو۔ تو ایسے حالات میں وہاں کنفیوژن نہ پیدا ہو جائے اور کیا ہو جائے؟
سوال: سر، یہ جو سری نگر میں پچھلے سو دنوں سے ہو رہا ہے، ایک کمال کی چیز دیکھنے کو ملی ہے آپ لوگ ایک کیلنڈر جاری کرتے ہیں اور پبلک اس کے اوپر ہنڈریڈ پرسینٹ (سوفیصد) عمل کرتی ہے جبکہ پبلک کے پاس، آپ نے بالکل صحیح کہا کہ نہ ان کے پاس پولیس ہے، نہ کہیں دنگا کرتے ہیں،نہ ہلڑ کرتے ہیں لیکن لوگ اس کیلنڈر کو بالکل فالو کرتے ہیں۔ یہ کیسے ہوا سر؟یہ ہسٹری کا ایک نایاب دور ہے؟
جواب: دیکھئے، میری عمر اس وقت ، میں 29 نومبر کو پورے 87سال کا ہو جائوں گا۔ اب میں 88 میں داخل ہو جائوں گا۔ ساری زندگی ہم نے لوگوں کے ساتھ کام کیا ہے۔ پہلے میں 12سال ٹیچر تھا۔ پھر 1962 میں مجھے پہلی بار گرفتار کیا گیا۔ سری نگر جیل میں لے جایا گیا۔تب سے لے کر آج تک میں پالیٹیکس میں ہوں۔ میں اسمبلی میں بھی 15 سال رہا ہوں۔ وہاں بھی لوگوں نے میری بات سنی ہے، اور منگت رام شرما کہہ رہے ہیں کہ جب تک گیلانی زندہ ہے، تب تک کشمیر بھی زندہ رہے گا۔ یہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں میں نے اپنی ساری عمر جو ہے،وقف کررکھی ہے، اور لوگوں کو معلوم ہے کہ یہ شخص ہے جو کاج کے لئے مخلص ہے، اس کی کوئی ذاتی غرض نہیں ہے۔ اس لئے ہم جو بات کہتے ہیں اور ہم جو کیلنڈر دیتے ہیں، یہ ہماری کوئی ذاتی خواہش نہیں ہے، یہ جو ہماری اپنی خواہش اور لوگوںکے جو جذبات ہیں، ان کو پیش نظر رکھ کر ، ہم کہتے ہیں ان کو کہ بھارت کا جو جبری قبضہ ہے اس کے خلاف ، ہم یہ جو جدو جہد کر رہے ہیں، اس جدو جہد کا ساتھ دینا ہے۔ اس سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔ اس لئے لوگوں کا بھی یہ جذبہ ہے ۔ آپ دیکھ رہے ہیں برہان شہید ہوا، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے۔ وہ پہلا شہید نہیں تھا۔ 600 مزار یہاں شہداء کے آباد ہو چکے ہیں، 600مزار جموں سے لے کر کشمیر تک، 1947 سے لے کر آج تک 6لاکھ جانوں کی قربانیاں دی جا چکی ہیں، ہندوستان کے جبری قبضے کے خلاف۔ 6لاکھ وہ یہ ہے کہ جموں میں پانچ لاکھ مسلمانوں کو بے رحمی کے ساتھ قتل کیا گیا اکتوبر، نومبر 1947 میں ۔وہاں پٹیالہ فوج تھی، ہری سنگھ کی فوج تھی، بھارت کی فوج تھی اور کمیونل ایلی منٹس تھے، ہمیشہ مسلمانوں کے دشمن رہے۔ دشمن کا خون ،ان کو بہت پیارا لگتا ہے مسلمانوں کا خون ، تو پانچ لاکھ مسلمانوں کو شہید کیا گیا اور گزشتہ 25سالوں میں یہاں ایک لاکھ لوگوں کو شہید کیا گیا ہے، تو اس طرح کل ملا کر 6لاکھ جانیں ہیں، جنہوں نے قربانیاں دی ہیں، ہندوستان کے جبری قبضے کے خلاف۔ 10ہزار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے گزشتہ عرصے میں۔ لیکن پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں؟کوئی 7600قبریں ہیں، جن کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہے کہ ان میں کون دفنائے گئے ہیں اور 6000 سے زیادہ ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاں ہیں، جن کی عزتیں لٹی گئیں۔ تو اتنی قربانیاں دی ہیں اس قوم نے۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہوں گا کہ انگریزوںکے خلاف ، جو ہندوستان کے لوگوںنے جد و جہد کی ہے، اس میں اتنی قربانیاں نہیں دی جاسکیں۔ ایک جلیا نوالا باغ کا وہ قتل عام ہوا ہے، یہاں ہزاروں کی تعداد میں قتل عام ہوئے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں۔ لیکن اس کے بعد بھی ہندوستان اپنی ضد سے ،ہٹ دھرمی سے پیچھے نہیں ہٹ رہاہے، یہ نشۂ قوت ہے۔ اقبال مرحوم نے شاید اقبال کو آپ پڑھتے ہوں گے، کچھ شعر بھی یاد ہوں گے ان کے ، انہوں نے کہا ہے،
اسکندرو چنگیز کے ہاتھوں سے جہاں میں
سو بار ہوئیں حضرت انسان کی قبا چاک
تاریخ امم کا یہ پیام ازلی ہے،
صاحب نظراں نشا ئے قوت ہے خطرناک
دانشمند لوگ جو ہیں، ان سے کہا جارہاہے کہ نشائے قوت جو ہے، وہ بڑا خطرناک ہے۔ یہی نشائے قوت سوار ہو گیاہے بھارت کی حکومت پر بھی اور بھارت کے سیاست کاروں پر بھی۔ ہم سارے ، ایک سوا ارب لوگ جو ہیں، سب کے بارے میں ہم نہیں کہتے ہیں کہ سب یکساں ہیں۔ بہت لوگ سمجھتے بھی ہوں گے۔ بہت لوگوںکو ہمارے ساتھ ہمدردی بھی ہوگی۔بہت لوگ جو ہم پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں، انکا اثر بھی رکھتے ہوںگے، ان پر افسوس بھی کرتے ہوں گے۔لیکن ایک مفکر نے کہا ہے کہ انسانی سماج میں جو بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے ، وہ برے لوگوں کے ہاتھوں سے ہی نہیں ہوتا، وہ ان لوگوں سے بھی ہوتا ہے، جو خاموش رہتے ہیں۔ جو لوگ خاموش رہتے ہیں، ظلم دیکھ کر، انہیں کی وجہ سے یہ بگاڑ پیدا ہو جاتاہے۔ اگر وہ زبان کھولتے اور برے ہاتھوں کو پکڑ کر ان کو برائی سے باز رکھتے ، تو بگاڑ پیدا نہیں ہوتا، لیکن وہ خاموش رہتے ہیں۔ یہی حال ہندوستان کا ہے۔ ہندوستان میں انسانیت کا جذبہ رکھنے والے کروڑوں کی تعداد میں ہیں لوگ، ہم اس سے انکار نہیں کرتے، لیکن زبان نہیں کھولتے، ظلم کے خلاف۔ اللہ جو ہے اس پر اگر آپ کو یقین ہے تو ایک اللہ ہے، ساری کائنات کا مالک ہے، اس کو سب سے زیادہ ظلم سے نفرت ہے۔ ظلم نہیں کیا جانا چاہئے۔لیکن انسان ظلم کرتاہے۔ بھارت کو جموں و کشمیر میں انسانوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ انہیں یہاں کی زمین چاہئے۔ حالانکہ ہندوستان کے پاس کافی زمین ہے۔ کتنا بڑا ملک ہے۔ جموں و کشمیر جو ہے، سارا جموں و کشمیر وہ یو پی کے ایک ضلع کے برابر ہے ،اس سے زیادہ نہیں ہے۔ یو پی میں جو آبادی ہے، یو پی جو بہت بڑا صوبہ ہے، اس میں جتنی زمین ہے، ایک ضلع میں جتنی زمین ہوگی یا آبادی ہوگی، اس سے زیادہ یہاںنہیں ہے۔ لیکن بھارت کو چسکا ہے، چسکا ہے زمین کا۔ آج آپ دیکھیں گے کہ یہاں کی جو زمینیں ہیں، سب سے زیادہ فوج کے قبضے میں ہیں۔ ایک زمین کا لالچ ، دوسرا جو یہاں حسن ہے اس خطے کا، اس کی بھی چاشنی ہے اسے۔ یہاں کے جنگلات ہیں، جنگلات کو صاف کر رہے ہیں۔ ان کے جتنے بھی کیمپس ہیں، جنگلات کے قریب قریب ،وہاں انہوں نے، وہ چِرائی کی مشینیں رکھی ہیں اور وہاں کے مقامی لوگوںسے درخت کٹواتے ہیں ،اور پھر اپنے کیمپوں میں ان کی چِرائی کرتے ہیں، پھر فرنیچر بنواتے ہیں اور پھر گھروں کو بھیجتے ہیں۔ ایک مثال میں آپ کو دوں گا۔ اگر آپ خود بھی جائیں گے، دیکھ سکتے ہیں، شوپیان میں 5200 کنال، فاریسٹ لینڈ آرمی نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے، کانٹونمنٹ بنانے کے لئے، اور جنگلات کے جو ماہر لوگ ہیں، ان کا کہناہے کہ یہاں 3لاکھ سے 4لاکھ تک درخت کٹے ہیں۔ جنگلوں کا صفایا ہو رہا ہے، باہری لوگوںکے ہاتھوں ۔یہاں جو آبی وسائل ہیں، یہاں آبی وسائل پر ہائیڈرو پاورس جو بنتے ہیں، سارے بھارت کے قبضے میں ہیں۔ہمار ی زمین ، ہمارا پانی اور ان کو پاور سپلائی کرنے کے جو ہوتے ہیں، ہم سردیوں کے موسم میں خاص طور پر پریشان رہتے ہیں، بجلی کے لیے لیکن ہندوستان ان کو دے رہا ہے اور دہلی میںان کو فروخت کیا جارہا ہے پاور کو، ہریانہ میں، راجستھان میں بھی اور یہاں کے لوگ جو ہیں، وہ پریشان رہتے ہیں۔ اسی طرح پانی پر ان کا قبضہ ہے، زمین پر ان کا قبضہ ہے اور یہاںجو باقی چیزیں ہیں، ذرائع ہیں ،ان پر بھی وہ قبضہ کیے ہوئے ہیں۔ میںآپ کو یہ بات بھی بتاؤں گا ، آپ یقین کریں،بھارت کے یہاں سے جتنی بھی دوائیں آتی ہیں، خاص طور پر جو کشمیر کے لیے بنائی جاتی ہیں، جموں کے ساتھ دوسرا سلوک کیا جارہا ہے۔ کشمیر کے ساتھ اور جموں کے مسلمانوں کے ساتھ ان دواؤں میں بھی ملاوٹ کی جاتی ہے۔ میں دہلی میں ہوتا ہوں سردیوں میں، وہا ں کی دوا کا ایک اثر ہے اور یہاں جب ہم دوا لیتے ہیں،اس کا دوسرا اثر ہے۔ ابھی کل ہی میںنے سنا، باغ جوہیں، ان میں جو دوائیاں چھڑکی جاتی ہیں، ان دوائیوں میں بھی ملاوٹ کی جاتی ہے، تاکہ یہاں کے باغ جو ہیں، برباد ہوجائیں۔ کتنا سنیں گے آپ کہ کتنی مصائب ہم پر ڈالی جارہی ہیں، کتنا ظلم ہم پر ڈھایا جارہا ہے۔ غلامی کا نتیجہ ہے کہ ہم غلام ہیں، ہم انڈر- سپریشن ہیں اور ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں، جنھیں انسانیت کا کوئی احساس نہیں ہے۔ انگریزوں نے ہندوستان کو آزاد کیا۔ وہ سمجھتے تھے ، انسانیت کے ساتھ ان کو محبت تھی، انھوں نے کہا کہ جو لوگ ہمارے ساتھ نہیں رہنا چاہتے ہیں، ہم ان کو چھوڑ دیں گے، کیا فرق پڑے گا؟ لیکن ہندوستان ایسا نہیںہے۔ ہندوستان کی حکومتیں، چاہے کانگریس ہو یا پی ڈی پی یا چاہے بی جے پی ہو، آر ایس ایس ہو، سب کا ایک مقصد ہے کہ کشمیر کو ہندو راشٹر بنایا جائے۔ یہ ان کی پالیسی ہے۔ وہ یہاں مسلمانوں کی موجودگی کو برداشت نہیں کرتے۔ پارلیمنٹ میںایک خاتون ہیں، پارلیمنٹ کی ممبر ہیں، انھوں نے ایک جلسے میں کہا ہے، دیکھو رام زادے بنو، حرام زادے مت بنو۔ رام زادے مطلب رام کی نسل کے اور حرام زادے انھوں نے مسلمانوں کے لیے کہا۔
سوال۔وہ وزیر ہیں سرکار میں؟
جواب۔ہاں وزیر ہیں۔
سوال۔آپ نے 87 سے جموں وکشمیر کو دیکھا، شروع کے دس سال مان لیں بچپن میںنکل گئے، پھر تو آپ سارا دیکھ ہی رہے ہیں۔ تو آپ نے شیخ صاحب سے لے کر محبوبہ مفتی تک جو سیاسی لیڈرس ہیں، سب کودیکھا ہے یہاں پر۔ چونکہ آپ سے سینئر تو کوئی ہے ہی نہیں یہاں پر، تو ان میںآپ کو کسی میں انسانیت ، بہتری، کشمیر کے تئیں محبت نظر آئی، جتنے لیڈرس ہوئے یا نہیں نظر آئی؟
جواب۔ہماری غلامی کا جو آغاز ہوا ہے، وہ 1938 میں ہوا ہے۔ 13 جولائی 1931 میں ہری سنگھ کے خلاف ایک ریوولٹ ہوا اور اس میں 22 مسلمان شہید کیے گئے۔ ان 22 مسلمانوں کی شہادت کے بعد، اس وقت جو لیڈر تھے، ان میں شیخ عبداللہ بھی تھے، اس میں مولوی یوسف صاحب بھی تھے، انھوں نے ایک پارٹی بنائی مسلم کانفرنس۔ انھوںنے یہ عہد کیا کہ یہ 22 جو شہید ہوئے ہیں، ان کا جو مشن ہے ڈوگرا راج سے آزادی حاصل کرنا، اس مشن کو ہم آگے بڑھاتے رہیں گے۔ ٹھیک ہے بنی مسلم کانفرنس، مگر شیخ عبداللہ نے 1938 میںمسلم کانفرنس کے مقابلے میں دوسری پارـٹی بنائی نیشنل کانفرنس۔ نیشنل کانفرنس کا اسی وقت سے ، جب سے وہ وجود میں آگئی، رشتہ بنا انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ اور شیخ عبداللہ کے دوستانہ تعلقات آنجہانی نہرو جی کے ساتھ مستحکم ہوگئے۔ اس کے بعد سے ان کا نیشنل کانفرنس کے ساتھ ہی رشتہ رہا ار جب ہندوستان تقسیم ہوا، تو آپ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہندوستان کی تقسیم دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ بھلے آج کوئی مانے یا نہ مانے، لیکن دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہوئی۔ جہاں ہندو اکثریت ہے، وہ بھارت بنے گا، جہاںمسلم اکثریت ہے پاکستان میںشامل ہوجائے گا۔ 25 جولائی 1947 کو اگست میں اعلان ہوا آزادی کا، لیکن اس سے پہلے جو وہاں لارڈ ماؤنٹ بیٹن تھے، جو انگریزوں کی طرف سے گورنر جنرل تھے، انھوں نے 25 جولائی کو اعلان کیا کہ جو پونے چھ سو کے قریب رجواڑے تھے ، اسٹیٹس تھے، جو ڈائریکٹلی برٹش کنٹرول میں نہیں تھے، ان سے کہا گیا کہ تمہیںاختیار ہے، چاہے ہند کا حصہ بنو، چاہے پاکستان کا حصہ بنو، چاہے انڈیپنڈنٹ رہو، لیکن تمہیں تین چیزوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ یہ کس نے کہا لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے۔ گائڈ لائنس دیں25 جولائی 1947کو۔ گائڈلائنس کی باتیںانھوںنے کہیں، فیصلہ کرنے پہلے تم کو یہ دیکھنا ہوگا کہ تمہاری سرحدیں کس ملک کے ساتھ ملتی ہیں۔ دوسری بات یہ دیکھنی ہے کہ تمہارے جو لوگ ہیں، ان میں کن کی اکثریت ہے، مسلمانوں کی اکثریت ہے یا ہندوؤں کی۔ تیسرا پوائنٹ یہ تھا کہ تمہارے جو لوگ ہیں، ان کا مذہبی اور دینی اور تہذیبی رشتہ کن لوگوں کے ساتھ ہے۔ یہ تین باتیں تھیں۔ اب جموںو کشمیر جو تھا، جموںو کشمیر کی ساڑھے سات سو میل سرحدیں پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں، سمجھے آپ ؟ 1947 میں جموں کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی 85 فیصد تھی اور مذہبی اور دینی رشتہ جو ہے، وہ صرف اسی حصے کے ساتھ تھا جو پاکستان بنا۔ ہمارے یہاں اس وقت ہری سنگھ کے دور میں مسلمانوں کے لیے تعلیم بہت کم تھی ۔ تعلیم کے بارے میں ان کو آگے بڑھنے میں مواقع نصیب نہیں تھے۔ اکثر لوگ امرتسر یا لاہور جاتے تھے پڑھنے کے لیے۔ میں خود گیا ہوں لاہور۔ چار سال میں لاہور میں رہا۔ یہ رشتہ تھا، اس رشتے کے ساتھ جو پاکستان بنا۔ اب ان تین بنیادوں کی رو سے آپ خود فیصلہکیجئے جموں کشمیر پاکستان کے ساتھ ملنے والا تھا یا ہندوستان کے ساتھ؟ یہ تو پاکستان کا نیچرل پارٹ تھا، لیکن شیخ عبداللہ نے چونکہ ان کا آنجہانی نہرو کے ساتھ رشتہ تھا، دوستی تھی، تو انھوں نے کہا کہ ہندوستان بڑا ملک ہے اور یہاں ہمیں بڑا تعاون نصیب ہوگا۔ پاکستان غریب ملک ہے، ابھی ابھی نیا نیا بنا ہے، تو وہ کیا دیں گے ہمیں۔ تو ایک مادہ پرستی اس پر سوار ہوگئی اور اس نے ہندوستان کے ساتھ ہاتھ ملانے کا معاہدہ کیا۔ آنجہانی ہری سنگھ نے، جو فرضی دستاویز الحاق کا کہا جارہا ہے، اس کی اس نے تائید کی اور فوج بھیجنے کی جب آنجہانی ہری سنگھ نے فوج کے لیے ہندوستان سے مدد مانگی تو اس وقت شیخ عبداللہ دہلی ہی میںتھے۔ اس نے حوصلہ دیا نہرو کو، پٹیل کو اور آنجہانی گاندھی کو کہ تم میرے مشورے پر وہاں فوج بھیج دو۔ گویا شیخ عبداللہ ہماری غلامی کا سبب بنا ہے۔ پھر آپ یہ بھی یاد رکھیے کہ جب ان کو گرفتار کیا گیا، گرفتار ہو جانے کے بعد 11 سال کے بعد ان کو رہا کیا گیا۔ اس جلسے میں میں خود بھی شریک تھا، رہا ہونے کے بعد انھوںنے جلسہ کیا مجاہد منزل میں اور اس کے بعد ان کو ریاست بدر کیاگیا (یہاں نہیں رہنے دیا گیا، دہلی میں رہے وہ)۔ دہلی میں رہ کر 1971 میںمیں ان سے خود ملا ہوں۔ انھوں نے حضرت بل میں ایک تقریر میںکہا تھا کہ لوگ مجھے غلط کار کہہ سکتے ہیں، غلطیاں ہوئی ہیں مجھ سے، لیکن غدار نہیں کہیں گے، میں نے غداری نہیں کی۔ میں نے ان کو یاد دلایا اپریل 1971 میں دہلی میں کہ آپ نے جو یہ کہا ہے کہ لوگ مجھے غلط کار کہیں گے، لیکن غدار نہیں، یہ آپ کا اشارہ غلط کاری کا کس طرف ہے؟ عینک لگائی تھی انھوں نے، عینک اٹھائی اور کہا یہی کہ ہم نے لوگوںکے ساتھ الحاق کیا، جن پر ہم نے اعتماد کیا، وہ اعتماد کے لائق نہیں تھے۔ یہ میںنے کتاب میںبھی لکھا ہے اور اس کے بعد وہ 22 سال تک رائے شماری، رائے شماری کرتے رہے۔ 22 سال کے بعد انھوں نے آنجہانی اندرا گاندھی کے ساتھ اقرار کیا اور کہا کہ ہمیںالحاق کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ہمیںکچھ مراعات وغیرہ دی جائیں، لیکن وہ بھی ان کو کچھ نہیںملا۔اس کے بعد وہ سات سال تک زندہ رہے۔ اور یہ ان کی غداری تھی قوم کے ساتھ۔ تاریخ میں جو حقیقت پسند ممالک ہوں گے، وہ ان کو جموں -کشمیر کے لوگوں کا سب سے بڑا غدار قرار دیں گے۔ انھوں نے لوگوں کے ساتھ دھوکہ کیا۔ حالانکہ وہ قرآن پڑھتے تھے، لیکن لوگوںکے ساتھ انھوںنے کھلا دھوکہ کیا۔ اس کے بعد جتنے بھی ، آپ کہتے ہیںکہ کتنے لیڈروں کو دیکھا، کتنے حکمرانوں کو دیکھا، سارے حکمراں یہا ں اقتدار پرست نکلے اور کسی کو بھی قوم کے جذبات کے ساتھ نہ دلچسپی تھی اور نہ قومی مفاد کے ساتھ کوئی دلچسپی رہی۔ صرف اپنے اقتدار کو، کرسی
وں کی وہ حفاظت کرتے رہے۔
سوال۔ پبلک کیوںچنتی ہے ایسے لوگوں کو؟
جواب۔عام لوگ جو ہوتے ہیں، خام ہوتے ہیں۔ عام لوگ سارے باشعور نہیںہوتے، وہ خام ہوتے ہیں۔ خاص طور پر جہاں تعلیم زیادہ نہ ہو، خاص طور پر جہاںشعور نہ ہو، جہاں لوگوں میں دیکھنے کی سکت نہ ہو کہ صحیح کیا ہے ، غلط کیا ہے؟ ایسا ہوتا ہے ہر قوم میں۔
سوال۔ آپ نے اپنی زندگی میںایسے کون سے کام کیے، جس کا آپ کو فخر ہو کہ میں نے یہ کیا، اور کون سے وہ کام کیے جس کا آپ کو افسوس ہو کہ میں نے یہ کیوں کیا؟
جواب۔سکون کی بات یہی ہے کہ ہم نے کبھی دھوکہ دینے کی کوشش نہیں کی۔ ہم نے جو بھی بات کہی ہے، سچی بات کہی ہے۔ میں نے شیخ عبداللہ کو، جب 1975 کے بعد و ہ اسمبلی میں آئے تو میں بھی اس وقت موجود تھااسمبلی میں۔ میں 15 سال اسمبلی میں رہا۔ میںنے ان کی موجودگی میں اس سے کہا، وہ بیٹھے ہوئے تھے، میںنے کہا کہ جموںو کشمیر میں، ہندوستان میں، پاکستان میں، جوفساد ہے، جو خون بہہ رہا ہے، اس کی ساری ذمہ داری شیخ عبداللہ کی ہے۔ یہ جو باتیںمیں نے کی ہیں، یہ میرے لیے بہت بڑی سکون کی بات ہے۔ میںنے جب بھی بات کہی ہے، صحیح بات کہی ہے۔ میں نے حق بات کی ہے اور میں نے کبھی دل سے ہندوستان کے جبری قبضے کو قبول نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس کو لیجی ٹمیسی عطا کرتا ہوں، کسی بھی حیثیت سے۔
سوال۔ ویسے کن کاموں کا افسوس ہے؟
جواب۔افسوس یہی ہے کہ ہم غلام ہیں۔ ا س پر بہت افسوس ہے۔ اقبال فرماتے ہیں،
موت ہے ایک سخت ترجس کا غلامی ہے نام
مکر و فن خواجگی کاش سمجھتاغلام
اے کہ غلامی سے ہے روح تری مضمحل
سینۂ بے سوز میں ڈھونڈ خودی کا مقام
میں آپ کو بتاؤں گا کہ ہماری مثال مور کے ساتھ ملتی ہے۔ مور جب نشے میںآتا ہے، جب جوش میں آتا ہے، تو وہ ناچتا ہے اور پھر اسے بہت فخر ہوتا ہے کہ میںبہت خوبصورت ہوں، لیکن جب اپنی ٹانگوں پر نظر پڑتی ہے، تو وہ شرما جاتا ہے، وہی حال ہمارا ہے۔ ہم جب اپنے گرد حسن دیکھتے ہیں، ڈل دیکھتے ہیں، پھر جنگلات وغیرہ تو ہمیںخوشی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کتنا حسن دیا ہے ہمارے اس صوبے کو ۔ لیکن جب ہم سوچتے ہیں کہ ہم غلام ہیں، تو بس مور کی طرح ہماری گردن گر جاتی ہے۔ غلامی بہت بڑا عذاب ہے، بہت بڑا عذاب۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here