حاکموں کی ترقی کا وبال

Share Article

ارشاد الحق
p-9bآئی اے ایس پروموشن تنازع میںبہار سرکار گھر گئی ہے ۔ عالم یہ ہے کہ اب اسے نہ اگلتے بن رہی ہے اور نہ ہی نگلتے۔ دراصل بہار سرکار نے اپنے تین آئی اے ایس افسروں چنچل کمار، دیپک کمار سنگھ اور ہرجوت کور کو سکریٹری سطح سے پروموٹ کرکے پرنسپل سکریٹری بنا دیاتھا۔ چنچل کمار وزیر اعلیٰ سکریٹریٹ میں سکریٹری کے عہدے سے ترقی پاکر اسی محکمے میں پرنسپل سکریٹری بنا دیے گئے۔ دیپک کمار سنگھ لیبر ریسورسز محکمے کے پرنسپل سکریٹری بنا دیے گئے، جبکہ ہرجوت کور کوٹورزم کے محکمے میں پرنسپل سکریٹری کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔
یہ معاملہ چار مہینے پہلے کا ہے۔ لیکن اس معاملے کا ’آفٹر افیکٹ‘ تب سامنے آیا جب ایک دیگر آئی اے ایس افسر سی کے انل نے پروموشن کے تکنیکی پہلوؤں کو چیلنج دینے کے لیے کمر کسی۔ انل 1991 بیچ کے افسر ہیں اور جن تین افسروں کو پروموشن ملا، وہ 1992 بیچ کے ہیں۔ انل کو یہ ناگوار لگا کہ آخر کس بنیاد پر ان سے جونیئر افسروں کو پرنسپل سکریٹری بنا دیا گیا، جبکہ انھیںسکریٹری سطح پر ہی رہنے دیا گیا۔ اس کے لیے انھوںنے ’حق اطلاع قانون‘ کو ہتھیار بنایا۔ اس اطلاع میںجو تحریری طورپر جانکاری ڈپارٹمنٹ آف جنرل ایڈمنسٹریشن نے دی، وہ چونکانے والی تھی۔قاعدے کے مطابق پرنسپل سکریٹری کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے ایک آئی اے ایس افسر کو کم سے کم 25 سال کا تجربہ چاہیے۔ لیکن چنچل،دیپک اور ہرجوت اس کم سے کم اہلیت کو پوری نہیںکرتے۔ جبکہ ان تینوںافسروںسے ایک سال سینئر ہونے کے سبب سی کے انل 25 سال کی شرط کو پوری کرتے ہیں۔ بس یہی شرط انل کے لیے رام بان بن گئی۔ انل نے حقائق کے ساتھ شکایتوںکا پٹارہ مرکز میں منسٹری آف پرسنل کو بھیج دیا۔ دھیان رہے کہ منسٹری آف پرسنل آئی اے ایس افسروں کی تقرری، پروموشن سمیت تمام معاملوں کے لیے ذمہ دار ہوتی ہے۔اتناہی نہیں ریاستی سرکاریںاگر کسی آئی اے ایس افسر کو پروموشن دیتی ہیں تو انھیںپرسنل منسٹری کی رضامندی لینی ہوتی ہے۔ بہار سرکار نے بھی ضابطوںکی رسم پوری کرتے ہوئے تینوں افسروں کا پروموشن سے متعلق خط پرسنل منسٹری کو بھیجا تاکہ ان پروموشنز پر اس کی رضا مندی لی جاسکے۔ لیکن سی کے انل کے ہتھیار نے اپنا اثر دکھا دیا ۔ منسٹری آف پرسنل نے گزشتہ20 جولائی کو ایک سخت خط بہار کے جنرل ایڈمنسٹریشن محکمے کے پرنسپل سکریٹری کو بھیجا، جس میں اس نے صاف الفاظ میںکہا کہ ان افسروںکا پروموشن آئی اے ایس کیڈر رول 1954 اور آئی اے ایس کے رول 2005 کی خلاف ورزی ہے۔ اس لیے ان پروموشنز کو ریاستی سرکار واپس لے اور ان افسروںکو اپنے پچھلے عہدے پرہی رکھے۔
مرکزی سرکار کے اس خط کے بعد بہار سرکار کے لیے شرمناک حالات پیدا ہوگئے۔جنرل ایڈمنسٹریشن محکمہ جو ریاست میںآئی اے ایس افسروں کے پروموشن کے لیے ذمہ دار ہے، اس پر خاموش ہے۔ محکمے کا کوئی افسر اس پر کچھ کہنے کو تیار نہیںہے۔ لیکن ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ، محکمہ منسٹری آف پرسنل کے خط پر غور کررہا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ منسٹری آف پرسنل جو ایسے معاملے میںآخری اتھارٹی ہے، اس کے خط پر غور کرنے کا کیا جواز ہے؟ اس لیے اگر منسٹری آف پرسنل اس معاملے میں سستی نہیں برتے تو ریاست کا جنرل ایڈمنسٹریشن محکمہ دیر سویر اپنی اوقات میںآہی جائے گا۔ یہاںیاد دلانامناسب ہوگا کہ کچھ ماہ قبل محکمہ داخلہ نے آئی پی ایس افسر منصور احمد کو کسی ٹھوس بنیاد کے بغیر سسپینڈ کردیا تھا۔ منصور نے اس فیصلے کو چیلنج کیا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ بہار سرکار کو ایک مہینے کے اندر ان کی معطلی ختم کرنی پڑی تھی۔آئی اے ایس سی کے انل نے اپنے ساتھ ہوئی ناانصافی کے خلاف لڑنے کا حوصلہ کیا اور دیر سویر انھیںاس لڑائی کا مثبت نتیجہ دکھائی دے سکتا ہے۔ آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسروںکے معاملے میںریاستی سرکاریں حد سے زیادہ من موجی راستے نہیںاختیار کرسکتیں کیونکہ یہ افسران سینٹرل سروسز سے آتے ہیں اور ان پر آخری فیصلہ وہیںسے ہوتا ہے۔
آئی اے ایس افسروں کے پروموشن کی جنگ میں پہلے سے تینفریق شامل ہیں۔ یہ ہیںبہار کا جنرل ایڈمنسٹریشن محکمہ ، جس نے افسروں کو ترقی دی، دوسراوہسل بلوور آئی اے ایس افسر سی کے انل اورتیسرا مرکزیمنسٹری آف پرسنل ۔ لیکن اب سی کے انل نے اس معاملے میںچوتھے فریق کو بھی شامل کر کے لڑائی کو دھارداربنا دیا ہے۔ چوتھا پہلو ہے بہار کا اکاؤنٹینٹ جنرل (اے جی) ۔ سی کے انل نے اپنی تمام دلیلوںاور حقائق کا پلندہ اے جی بہار کو بھیجتے ہوئے زور دیا ہے کہ پروموشن پانے والے افسروںکو ان کے پہلے عہدے پر واپس کرنے کی ہدایت منسٹری آف پرسنل نے دی ہے۔ ایسے میںان افسروں کو ملنے والی پرنسپل سکریٹری کی سیلری سلپ کورد کیا جائے اور انھیںسکریٹری سطح کی سیلری سلپ اے جی کے دفتر سے ہی جاری ہوتی ہے۔ ادھر اے جی کے اعلیٰ سطحی ذرائع بتاتے ہیں کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے پر غور کیا جارہا ہے۔
سرکار چلانے میں نوکرشاہی ریڑھ کی ہڈ ی کی حیثیت رکھتی ہے۔سیاسی قیادت عام طور پر حکم دینے تک محدود مانی جاتی ہے۔ لیکن سرکار کی تمام پالیسیوںکو نافذ کرنے اورانھیں زمین پر اتارنے میںصرف اور صرف نوکرشاہی کا ہی کردار ہوتا ہے۔ایسے میںسیاسی قیادت اور نوکرشاہی کے بیچ آپسی اعتماد اور سمجھ بہت اہم ہوتی ہے۔ایسیحالات میں فسروںکی قابلیت کئی بار معنی نہیںرکھتی جبکہ ان کی معتبریت یا یوں کہیں کہ ان کی وفاداری سب سے اہم ہوجاتی ہے۔ نتیش سرکارکی دس گیارہ سالوں کی مدت کار پر نظر ڈالیںتو یہ بات صاف جھلکتی ہے کہ انھوںنے کچھ خاص نوکرشاہوں کی ٹیم پر آنکھیںبند کرکے بھروسہ کیا ہے۔ ان میںچیف سکریٹری انجنی کمار سنگھ اور داخلہ سکریٹری عامر سبحانی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ عامر سبحانی داخلہ سکریٹری کی حیثیت سے نتیش کے اتنیبھروسہ مند ہیںکہ کئی سیاسی طوفان آئے اور گئے لیکن عامر سبحانی کی حیثیت جوں کی توںقائم رہی۔
2014 میں پارلیمانی انتخابات کے بعد جب نتیش کمار نے بہار کا تاج جیتن رام مانجھی کو خوشی خوشی سونپا تو ان کے ساتھ نتیش کے رشتے تب تک ہی سلامت رہے جب تک کہ مانجھی نے ان کے قابل اعتماد نوکر شاہوں کے پر نہیں کردیے۔ یہ عامر سبحانی، دیپک کمار سنگھ او رچنچل کمار جیسے آئی اے ایس افسر ہی تھے جنھیں مانجھی نے لوپروفائل محکموں میںجیسے ہی پھینکا، ویسے ہی بہار کی سیاست میںسیاسی طوفان مچ گیا۔ دراصل ان نوکرشاہوں کے ہٹائے جانے کے بعد یہ طے ہوگیا تھا کہ بہار کے اقتدار سے نتیش کی گرفت ڈھیلی کردی گئی۔ اور آخرکار ان نوکرشاہوں کے تبادلے کی قیمت مانجھی سرکار کو اپنے زوال کے روپ میں اداکرنی پڑی۔ اس پور ے معاملے میںدلچسپ یہ تھا کہ جیسے ہی نتیش کمار نے مانجھی کے زوال کے بعد اقتدار سنبھالا تو عامر سبحانی کے سر پر پھر سے داخلہ سکریٹری کا سہرا باندھ دیا گیا، جبکہ چنچل کو پھر سے طاقتور نوکرشاہ بناتے ہوئے وزیر اعلیٰ سکریٹریٹ لے آیا گیا۔ چنچل، نتیش کمار کی دوسری مدت کار میںبھی سی ایم سکریٹریٹ میںہی تھے۔ اسی طرح دیپک کمار سنگھ بھی سی ایم نتیش کمار کے خاص نوکرشاہوں میں مانے جاتے ہیں۔ حالانکہ ہرجوت کور کے بارے میںیہ نہیںکہا جا سکتا کہ وہ سیدھے طور پر نتیش کمار کی پسندیدہ افسروں میں ہیں یا نہیں،لیکن مانا یہ جاتا ہے کہ دیپک کمار سنگھ کی بیوی ہونے کا فائدہ انھیں ملا ، دیپک اور ہرجوت نے جے این یو میں ایک ہی ساتھ پڑھائی کی اور ایک ساتھ ہی آئی اے ایس بنے اور پھرشادی رچائی۔
1991 بیچ کے آئی اے ایس افسر اور اس پورے معاملے کے وہسل بلوور سی کے انل اپنے آپ میںمگن افسر مانے جاتے ہیں۔وہ فی الحال بہار اسٹاف سلیکشن کمیشن میںاو ایس ڈی کے عہدے پر ہیں۔ دس سال پہلے وہ اچانک تب سرخیوں میںآئے تھے جب وہ سیوان کے ڈی ایم بنائے گئے۔ تب راشٹریہ جنتا دل کے دبنگ لیڈر شہاب الدین کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کا حوصلہ انل نے ہی کیا تھا۔انل نے شہاب الدین کے خلاف کیسوں کی تمام فائلیںکھلوادیں۔ اتنا ہی نہیں ان پر کئی کیس بھی لاد دیے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شہاب الدین تب سے ایک عرصہ تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہے اور ابھی حال ہی میں ضمانت پر باہر آئے ہیں۔ اس کے باوجود سی کے انل پر نتیش کمار کا یا تو بھروسہ جم نہیںپایا یا پھر مخالف گروپ کے نوکرشاہوں کی چکی میں انل پسے جاتے رہے۔
نوکرشاہی کے گلیارے میںانل کے الگ تھلگ پڑنے کی وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ وہ سینئر افسروں سے بھی الجھ جانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ سی کے انل نے 2011میںپرنسپل سکریٹری افضل امان اللہ پر گاڑی اور ٹیلی فون کے غلط استعال کا الزام لگایا تھا۔ سرکار نے سی کے انل سے اس بابت ثبوت مانگا لیکن انل ثبوت نہیں دے سکے۔ اس کے بعدسرکار نے یو پی ایس سی سے صلاح مانگی۔جس کے نتیجے میں یو پی ایس سی کی صلاح پر سرکار نے انل کو ایک سال کے لیے ڈیموٹ کردیا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *