حج سبسڈی ختم، شکر خدا کا اس سیاست سے نجات ملی

Share Article

وسیم راشد
حج  وہ مقدس فریضہ ہے جس کی ادائیگی کا شرف خوش قسمت مسلمانوں کے حصہ میں ہی آتا ہے یعنی جس کی لبیک ہو ،جس کو اللہ اپنے دربار میں بلائے۔اس فرض کی ادائیگی میں جو بھی ساتھ ہوتا ہے سبھی کو اللہ تعالیٰ اجرو ثواب عطا کرتا ہے۔ سالوں سے حکومت مسلمانوں کو حج سبسڈی دیتی آرہی تھی۔ ہندوستان وہ واحد ملک ہے جہاں مذہب کے نام پر تفریق نہیں برتی جاتی ۔چند شرپسند عناصر کچھ بھی کرتے پھریں مگر حکومت کی نظر میں سبھی برابر ہیں ۔البتہ حج سبسڈی کے نام پر جو کھیل ہورہا تھا وہ نہایت شرمناک تھا۔ اس کے تحت مسلمانوں کو حج کی ادائیگی کے لئے صرف اور صرف انڈین ایئر لائنس کا پابند ہونا پڑتا تھا اور انڈین ایئر لائنس حج کے نام پر ان کو خوب لوٹتی تھی۔ حج کمیٹی کے ذریعہ جانے والے عازمین کو سیاسی فوائد کے ذریعہ خوب بے وقوف بنایا جاتا رہا ہے۔ یہاں سے حکومت کی طے شدہ فلائٹ سے جانا اور وہاں مکہ اور مدینہ میں جانوروں کی طرح ان حاجیوں کو رکھنا،نہ ڈھنگ کا کھانانہ دیگر سہولتوں سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کو جو سبسڈی دی جاتی رہیہے دراصل اس کے پیچھے ناپاک سیاسی عزائم تھے اور وہ یہ تھے کہ ایک طرف مسلمانوں کو احسان تلے دبا کر رکھا جائے اور اس احسان کے بدلے ووٹ بینک بنایا جائے اور دوسری طرف انہیں اس احسان یعنی سبسڈی کا کوئی فائدہ بھی نہ ملے۔یہی وجہ تھی کہ جو سبسڈی حاجیوں کے نام پر مرکز سے جاری کی جاتی تھی وہ رقم براہ راست ایئر انڈیاکے کھاتے میں ڈال دی جاتی تھی اور حاجیوں کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ انڈیا ایئر لائنس سے ہی سفر کریں ۔جبکہ عازمین کے لئے اس ایئر لائنس میں کسی بھی طرح کی کوئی سہولت فراہم نہیں تھی۔اگر حکومت واقعی سبسڈی میں مخلص ہوتی تو سبسڈی کی رقم حج کمیٹی کے حوالے کردی جاتی اور عازمین کو یہ اختیار دے دیا جاتا کہ وہ جس ایئر لائنس سے چاہیں سفر کریں ،مگر دانشوران ملت کی طرف سے بارہا مطالبے ہونے کے باوجود حکومت نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔کیونکہ سبسڈی کے نام پر حکومت تو سیاسی کھیل کھیل رہی تھی ۔دوسری طرف کچھمسلم مخالف ذہنیت رکھنے والے لوگ عرصہ سے اس سبسڈی کو بند کرنے کی تاک میں لگے ہوئے تھے۔خاص طور پر بی جے پی چاہتی تھی کہ مسلمانوں کو ملنے والی یہ سرکاری امدار بند ہوجائے چنانچہ گزشتہ سال اس ایشو کو لے کر عدالت کی طرف رجوع کیا گیا تھا،بالآخر یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا اور سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ حج سبسڈی کی پالیسی ختم ہونی چاہئے اور اس سبسڈی میں ہر سال تخفیف کرتے ہوئے بتدریج دس برس میں پوری طرح ختم کردی جائے۔
سپریم کورٹ ملک کا انتہائی با وقار ادارہ ہے ۔ اس کا ہر فیصلہ قابل احترام ہے۔سپریم کورٹ نے سبسڈی ختم کرنے کے لئے دس سال کا عرصہ طے کیا ہے۔اس فیصلے سے کون خوش ہے اور کون نہیں۔ یہ ایک الگ موضوع ہے مگر اتنا طے ہے کہ اس فیصلے کے بعد حکومت کے لئے مزید دس برسوں تک سیاسی کھیل کھیلنے کا موقع مل گیا ہے اور یہ کہنے کا کہ وہ مسلمانوں کوہر سال حج سبسڈی کے نام پر خطیر رقم مدد کے طور پر دے رہی ہے۔جبکہ مسلم سماج ہمیشہ سے یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ حکومت یا تو اس سبسڈی کا مکمل فائدہ مسلمانوں کو پہنچائے یا پھر اس کو سرے سے بند کردے کیونکہ حج ایک ایسا فریضہ ہے جس کی ادائیگی کے لئے سرکاری مالی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔اگر حکومت واقعی مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے میں مخلص ہے تو اس رقم کو جو سبسڈی کے نام پر دی جاتی رہی ہے اور آئندہ دس سالوں تک دی جاتی رہے گی،اس رقم کو دوسرے میدانوں میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے تو مسلمانوں کی حالت قدرے بہتر ہوسکتی ہے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ ملک میں مسلمانوں کی تعلیمی حالت انتہائی خستہ ہے۔مسلم آبادی میں تعلیمی اداروں کی کمی ہے ۔خاص طور پر مسلم بچیوں میں تعلیم نہ کے برابر ہے ۔ایسے میں اگر سبسڈی کی مدت کو دس سالو ں تک توسیع کرنے کے بجائے یکدم بند کردی جاتی اور ان پیسوں کو ان کے ترقیاتی کاموں میں لگایا جاتا تو یہ زیادہ بہتر ہوتا۔
سپریم کورٹ نے دس برسوں تک سبسڈی جاری رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے ساتھ ہی حاجیوں کے انتظامی امور میں بے ضابطگیوں پر بھی کمینٹس کیا ہے۔ اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سبسڈی کا استعمال سیاسی مفاد کے بجائے حاجیوں کی سہولتوں کے لئے کرے۔ حج کمیٹی کو یہ اختیار دے کہ وہ عازمین کو جس ایئر لائنس سے چاہے سفرِ حج پر بھیجے اور اس رقم کو سعودی عرب میں حاجیوں کے بہترین نظم و نسق پر خرچ کرے۔ وہاں حاجیوں کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں نہ تو معیاری غذا ملتی ہے اور نہ ہی معیاری رہائش۔ خاص طور پر وہ بوڑھے حاجی جن میں دور تک چلنے کی طاقت نہیں ہے اور وہ فرسٹ کلاس رہائش کی رقم جمع کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں ایسے حاجیوں کے لئے حرم شریف کے قرب و جوار میں رہائش کا انتظام کرے۔ساتھ ہی سفر حج سے لوٹتے وقت انہیں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سفر حج سے لوٹتے وقت انہیں ایئر پورٹ پر کئی کئی گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے ۔انڈیا ایئر لائنس کی طرف سے یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ فلائٹ کی کمی ہے ظاہر ہے یہ انتظار انتہائی اذیت ناک ہوتا ہے خاص طور پر ان حاجیوں کے لئے جو انتہائی ضعیف ہیں ۔یہاںایک اہم مسئلہ ہوتا ہے زمزم کے پانی کا بھی۔زمزم کے ساتھ حاجیوں کا جذباتی لگائو ہوتا ہے۔وہ بڑی مشقتوں سے کین میں بھر کر ایئر پورٹ تک لاتے ہیں اور یہاں یہ کہہ دیا جاتاہے کہ دس لیٹر سے زیادہ پانی لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔بہت سے ایسے حاجی ہیں جنہوں نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ ان کے زمزم کی کین لگیج میں ڈال دی گئی اور ان سے کہا گیا کہ دہلی میں مل جائے گی مگر یہاں پہنچنے کے بعد انہیں وہ کین نہیںملی۔ ظاہر ہے اس وقت انہیں کیسا دلی صدمہ ہوتا ہوگا۔ غرض یہ سب ایسے مسائل ہیں جس کے حل کی طرف حکومت کو توجہ دینی چاہئے۔اگر عدالت نے دس برسوں تک سبسڈی جاری رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے تو حکومت اس فیصلے کا احترام کرے اور سیاسی فائدہ اٹھانے کے بجائے حاجیوں کے ان چھوٹے بڑے مسائل کو حل کرنے کے لئے اس رقم کو خرچ کرے۔
سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کی طرف سے بھیجے جانے والے خیر سگالی وفد کے ممبروں کو کم کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔خیر سگالی کے اس وفد پر حکومت جو خرچ کرتی ہے وہ تو حاجیوں کے سبسڈی کھاتے میں شمار کیے جاتے ہیں ساتھ ہی اس میں ایک نقصان یہ بھی ہے کہ جو خدام حاجیوں کی خدمت کے لئے جاتے ہیں وہ سب کے سب حاجیوں کی کم اور وفد میں شریک ممبران کی خدمت میں اپنا زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔ اگر وفد کے ممبران کم ہوں گے تو ظاہر ہے ان پر سرکاری پیسہ بھی کم خرچ ہوگا ساتھ ہی خدام اپنا زیادہ وقت حاجیوں کی خدمت میں لگائیں گے۔اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کو سیاسی فائدوں سے ہٹ کر مخلصانہ طور پر قبول کرے اور سبسڈی کی جو رقم دی جارہی ہے اس کو ان کی سہولتوں کی مد میں خرچ کرے۔g

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *