حیران کن اور خوشنما لمحوں سے پُر 61واں نیشنل ایوارڈ

Share Article

p-12گزشتہ دنوں 61ویں نیشنل ایوارڈس کا اعلان کیا گیا۔ ہمیشہ کی طرح یہ کئی خوشخبریاں اور غیر متوقع سوغاتیں لے کر آیا ہے، لیکن بالی ووڈ اور علاقائی سنیما کی نمائندگی کے توازن کے باوجود کچھ فلموں کی غیر موجودگی ہونے کے سبب کئی لوگوں کو یہ راس نہیں آیا۔ آسکر میں نہ بھیج کر تنازعہ کرنے والی رتیش بترا کی ’’دی لنچ باکس‘‘ فاتح کی فہرست سے غائب تھی۔

ابھیشیک کپور کی فلم ’’کائی پوچھے‘‘ کو لے کر کچھ ایسی ہی گہما گہمی تھی۔ انڈسٹری سے وابستہ کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ ابھیشیک کپور کی فلم کو ایوارد ملنے کی توقع کی جا رہی تھی۔ اسی طرح وکرم آدتیہ موٹوانی کی فلم ’’لٹیرا‘‘ کو اس کی سنے میٹو گرافی کے لئے ایوارڈ ملنے کی توقع تھی۔
حالانکہ راکیش اوم پرکاش مہرا کی ’’بھاگ ملکھا بھاگ‘‘ کو ایوارڈ ملا لیکن وہ ’’بہترین اداکار بہترین ڈائریکٹر ‘‘ کے زمرے میں نہیں آپائی۔ امید کے مطابق ہنسل مہتا کی فلم ’’شاہد‘‘نے دو زمروں میں ایوارڈ جیت لئے۔اس موقع پرتمام ایوارڈ جیتنے والے فاتح خوشی سے جھوم رہے تھے اور وہ اپنی خوشی کو الفاظ میں بیان نہیں کر پا رہے تھے۔ آیئے جانتے ہیں کہ کیا کہنا ہے ایوارڈ ونرس کا۔
راج کمار رائو : فلم’’شاہد‘‘ کے لئے راج کمار رائو نے بہترین اداکار کے زمرے میں ایوارڈ جیتا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ میری زندگی کا سب سے خوشنما لمحہ ہے اور میں بہت زیادہ خوش ہوں۔ میں ہنسل صاحب کا ممنون ہوں کہ انھوں نے یہ موقع دیا۔ کسی اداکار کے لئے بایوپک (Biopic)میں اداکاری کرنا واقعی بڑی بات ہے میں نے جیتنے کی امید کبھی نہیں کی تھی لیکن میں حقیقت میں چاہتا تو تھا۔ اس اعزاز نے میرا مستقبل روشن کر دیا۔ اب خوشیاں منانے کا وقت ہے کیونکہ ’’شاہد ‘‘ نے دو ایوارڈس جیتے ہیں۔
ہنسل مہتا : ڈئریکٹر ہنسل مہتا نے فلم ’’شاہد ‘‘ کے لئے ’’بہترین ڈائریکٹر ‘‘ کا ایوارڈ جیتا۔ یہ فلم مشہور وکیل شاہد اعظمی کی زندگی پر مبنی ہے ،جن کا 2010میں قتل کر دیا گیا تھا۔ مہتا نے کہا کہ اس سے شاہد اعظمی کے جذبات کا احترام ہوا ہے۔ میں یہ اعزاز اپنی ٹیم کو وقف کرتا ہوں جو میرے ساتھ بنا کسی محنتانہ کی امیدوں کے ساتھ کھڑے رہے۔ میں فلم انڈسٹری میں 15سالوں سے ہوں لیکن میں بنا کسی گاڈ فادر کے کام کیا ہے۔
گنیش آچاریہ : فلم ’’بھاگ ملکھا بھاگ‘‘ کے نغمے ’’مستوں کا جھنڈ‘‘ کی کوریوگرافی کے لئے گنیش آچاریہ کو ’’بیسٹ کوریوگرافی ‘‘کا ایوارڈ ملا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے 23سالہ کریئر میں یہ پہلا نیشنل ایوارڈ ہے۔ یہ میرے لئے واقعی بڑی بات ہے، جس نے اسلمس سے شروعات کی تھی۔ میری والدہ کے لئے ایک فخر کا لمحہ ہے۔ مجھے لگتا ہے نیشنل ایوارڈ میری قسمت میں تھا۔ مجھے ’’رنگ دے بسنتی کے‘‘ کے گانے ’’پاٹھ شالہ‘‘ اور ’’چائنا گیٹ‘‘ کے چھما چھما کے لئے جیتنے کی بھی امید تھی۔ ایوارڈ نے میرا اعتماد بڑھایا ہے اور مجھے اور اچھا کام کرنے کے لئے حوصلہ دیا ہے۔ مجھے ٹاپ آف دی ورلڈس محسوس ہو رہا ہے۔
سبھاش کپور : ڈائریکٹر سبھاش کپور کی فلم ’’جالی ایل ایل بی ‘‘ کو ’’بہترین ہندی فلم ‘‘ کا ایوارڈ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے میں پوری ٹیم کے لئے بہت خوش ہوں ، جس میں ارشد وارثی اور بومن ایرانی شامل ہیں۔ میں فاکس اسٹار اسٹوڈیو کا منمون ہوں کہ اس پروجیکٹ کے لئے وہ ساتھ آئے اور یہ ہندوستان میں ان کا پہلا پروڈکشن تھا۔
گریش ملک: فلم ’جل‘ کے لئے گریش ملک نے ’بیسٹ اسپیشل افیکٹس‘‘ کا نیشنل ایوارڈ جیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں فلم کو لے کر بے حد تذبذب میں تھا کیونکہ یہ نہ تو آرٹ ہائوس تھی اور نہ ہی روایتی مسالہ فلم لیکن یہ تو کچھ توقع سے زیادہ ہی ہے۔
اسیم اہلووالیہ : ان کی فلم ’’مس لولی ‘‘ نے بیسٹ پروڈکشن ڈیزائن اور اسپیشل جوری ایوارڈ جیتا ہے۔ فلم میں نواز الدین صدیقی، نہاریکا سنگھ اور انل جارج ہیں اور 2012میں فلم کا پریمیئر کان فلم فیسٹیول میں ہوا تھا۔
شبھاشنی بھوتیانی: ان کی فلم ’’کُش‘‘ نے بیسٹ پروموشنل فلم کا نیشنل ایوارڈ جیتا ہے۔ فلم کے ڈائریکٹر کہنا ہے کہ میں یقین نہیں کر سکتا کہ میں نے یہ ایوارڈ جیت لیا ہے۔ میں نے بیرون ممالک میں کچھ ایوارڈس جیتے لیکن خود کے ملک میں یہ پہچان ملنا واقعی کچھ الگ ہے۔
سوربھ شکلا: ’جالی ایل ایل بی‘ کے لئے بیسٹ سپورٹنگ ایکٹر کا نیشنل ایوارڈ سوربھ شکلا نے جیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ میرا پہلا نیشنل ایوارڈ ہے ۔ ایک فنکار کے لئے نیشنل ایوارڈ بے حد اعزاز کی بات ہے ۔ میں یہی کہوں گا میں جج کا رول اس طرح فلم میں ادا نہیں کر سکتا تھا، اگر سبھاش کپور کی ریسرچ اتنی بہترین نہیں ہوتی۔
سوہم شاہ: ’بیسٹ فیچر فلم ‘ کا ایوارڈ جیتنے والی فلم ’’شپ آف تھیسیس‘‘ میں اداکاری کرنے والے سوہم شاہ ’’گلابی گینگ‘‘ کے ڈسٹری بیوٹر بھی تھے، جس نے بیسٹ سوشل ایشوز فلم ایوارڈ جیتا۔ وہ کہتے ہیں ’’میں بہت خوش ہوں کہ مجھ سے جڑی دونوں فلموں کو ایوارڈ ملے۔ میرے والد چاہتے تھے کہ میں نیشنل ایوارڈ جیتوں، لیکن وہ ایک ہفتے قبل ہی انتقال کر گئے۔ کاش !وہ اس لمحہ کو دیکھنے کے لئے یہاں موجود ہوتے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *