خلیجی ممالک نے سمندری حدود میں امریکی فوج کی تعیناتی کو ہر جھنڈی دی

Share Article

 

سعودی عرب اور متعدد دوسرے خلیجی ممالک نے امریکہ کی اس درخواست کو منظور کر لیا ہے جس میں واشنگٹن نے ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی فوج خلیجی ملکوں اور ان کی سمندری حدود میں تعینات کرنے کی اجازت مانگی تھی۔پین عرب روزنامہ ‘الشرق الاوسط؛ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ خلیج تعاون کونسل، جس میں سعودی عرب بھی شامل ہے، نے امریکی فوج کی خلیجی پانیوں میں تعیناتی کی باقاعدہ اجازت دے دی ہے۔

 

ذرائع کے مطابق خلیجی ملکوں کی طرف سے یہ اجازت امریکہ کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں کی بنیاد پر دی گئی ہے جس کا مقصد خطے کو ایران کی طرف سے درپیش خطرات اور عرب ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ایرانی سازشوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات یقینی بنانا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عرب ممالک کے پانیوں اور ملکوں میں امریکی فوج کی تعیناتی کا پہلا محرک ایران کی کسی بھی فوجی جارحیت کے جواب میں خلیجی حکومتوں کے ساتھ مل کر تہران کو جواب دینا اور خطے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔’’الشرق الاوسط‘‘ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فوج کی خطے میں موجودگی ایران پر چڑھائی یا جنگ نہیں بلکہ دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ایران کی طرف سے خطرے کی صورت میں امریکہ اور اس کے خلیجی اتحاد مل کر لائحہ عمل اختیار کریں گے۔عرب سفارتی ذرائع کے مطابق ماہ صیام کے آخری ایام میں مکہ معظمہ میں عرب سربراہ کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے عرب ملکوں کی حکومتوں کے درمیان رابطے مزید تیز ہو گئے ہیں۔’’الشرق الاوسط‘‘ کے ذرائع کے مطابق مکہ معظمہ میں ہونے والی اسلامی سربراہ کانفرنس میں عرب اور مسلمان ممالک کی قیادت شرکت کرے گی۔ اس موقع پر عالمی اور علاقائی سطح پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے مسلمان ملکوں میں اتحاد اور ہم آہنگی مشترکہ ویژن اختیار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *