گجرات کے مسلمان نہایت بدحال :ترقی محض ڈھکوسلہ

Share Article

ڈاکٹر قمر تبریز 

کل تک نریندر مودی صرف گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے، لیکن اب وہ ہندوستان کا وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔ کل تک مودی سے حد درجہ نفرت کرنے والے مسلمانوں میں اب ان کے تئیں سوچ میں تھوڑی بہت تبدیلی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے، لیکن ان کے اس سوال کا اب بھی کوئی ٹھوس جواب نہیں مل پا رہا ہے کہ کیا مودی وزیر اعظم بننے کے بعد مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت کی گارنٹی دیں گے؟ مودی کی طرف سے اب تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے، جس سے مسلمانوں کو یہ لگے کہ مودی کی پارٹی بی جے پی کو ووٹ دینے سے ان کا مستقبل اس ملک میں محفوظ رہے گا۔آئیے دیکھتے ہیں کہ گجرات کے مسلمانوں کی اِس وقت کیا صورتِ حال ہے، تاکہ یہ بات صاف ہو سکے کہ مودی اگر وزیر اعظم بنتے ہیں، تو ہندوستان کے مسلمانوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ……

p-9یہ بات صحیح ہے کہ گجرات میں 2002 کے بعد کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 2012 کے گجرات اسمبلی انتخابات کے دوران ریاست کے 25 فیصد مسلمانوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا تھا اور گجرات کے 8 مسلم اکثریتی علاقوں میں سے بی جے پی کو 6 سیٹوں پر جیت ملی تھی۔ بی جے پی ان سب کا کریڈٹ وہاں کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی اور ان کی قیادت میں ہونے والی ترقی کو دیتی ہے، لیکن مسلمانوں کو اب بھی یہ گلہ ہے کہ مودی نے اپنی ریاست میں مسلمانوں کے قتل عام پر اب تک معافی نہیں مانگی۔ مسلمانوں کو یہ بھی شکایت ہے کہ نریندر مودی اپنی پارٹی کی طرف سے وزیر اعظم کا امیدوار بنائے جانے کے بعد اپنی کسی بھی تقریر میں مسلمانوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں کر رہے ہیں۔ مسلمان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مودی کے پاس اس ملک کے 20 کروڑ مسلمانوں کے تعلق سے کیا پالیسی ہے، لیکن مودی کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہیں آ رہا ہے۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ مودی کو مسلمانوں کا ووٹ نہیں چاہیے، لیکن کیا اس حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ 20 کروڑ کی آبادی کو نظر انداز کرکے ملک کبھی ترقی کر سکتا ہے؟ اس لیے یہ سوال پوچھنا لازمی ہے کہ اگر مودی نے گجرات میں ترقی کا ماڈل پیش کیا ہے، تو ملک کے مسلمانوں کی ترقی کا ماڈل ان کے پاس کیا ہے؟ کیا وہ وزیر اعظم بننے کے بعد مسلمانوں کی پس ماندگی کو دور کر دیں گے؟ کیا وہ سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ کریں گے؟ کیا وہ مسلمانوں کی تعلیمی بدحالی کو دور کر پائیں گے؟ اگر مودی کے پاس ان سب کا جواب ’ہاں‘ میں ہے، تو انہیں عام انتخابات سے پہلے مسلمانوں کے تعلق سے اپنے پروگرام کا اعلان ضرور کرنا چاہیے۔

گجرات کے مسلمانوں کی حالت پر اگر غور کریں، تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں کے مسلمان 2002 کے فسادات کے بعد جتنے خوش حال تھے، اتنے خوش حال وہ اِس وقت نہیں ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ 2002 میں گجرات میں صرف ڈیڑھ ہزار مسلمانوں کا قتل عام ہی نہیں ہوا تھا، بلکہ ان کی دکانوں اور مکانوں کو بھی آگ لگا دی گئی تھی۔ ان کے کاروبار کو پوری طرح ختم کر دیا گیا تھا۔ فسادات سے پہلے جہاں انہیں اپنے کاروبار کے لیے بینکوں وغیرہ سے قرض آسانی سے مل جایا کرتے تھے، وہ بعد میں تعصب کا شکار ہو کر رہ گئے اور سرکار کی طرف سے مالی تعاون کے تمام راستے ان کے لیے بند کر دیے گئے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بعد مرکزی حکومت کی طرف سے مسلم اقلیتوں کے لیے جو تعلیمی وظائف وغیرہ کا انتظام کیا گیا، اسے نریندر مودی کی گجرات حکومت نے لینے سے منع کر دیا۔ پولس محکمہ کو چھوڑ دیا جائے، تو ایسا کوئی بھی شعبہ نہیں ہے، جس میں مسلمانوں کو متناسب نمائندگی مل رہی ہو۔ اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ گجرات میں ایک بھی مسلم ایم ایل اے نہیں ہے، پولس محکمہ میں بھی کسی بڑے عہدہ پر کوئی مسلمان نہیں دکھائی دیتا، گجرات کی نوکر شاہی میں بھی دور دور تک کوئی مسلم چہرہ نظر نہیں آتا، دو چار بڑے مسلم کاروباری ہیں بھی، تو ان کے نام انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ ایسے میں سوال تو اٹھتا ہی ہے کہ نریندر مودی آخر کیسے ملک کے 20 کروڑ مسلمانوں کی سلامتی و ترقی کی ضمانت دیں گے؟
آئیے چند مثالیں دیکھتے ہیں۔ گجرات کے احمدآباد کے چمپن پورہ علاقے سے تعلق رکھنے والے معراج احمد 2002 سے پہلے اپنا کڑھائی کا ایک کارخانہ چلاتے تھے، جس سے ہر ماہ ان کی 15-20 ہزار روپے کی آمدنی ہو جایا کرتی تھی۔ فسادات کے دوران انہوں نے تقریباً ڈھائی لاکھ روپے میں اپنا مکان ایک ہندو پڑوسی کو بیچ دیا اور پناہ گزینوں کے لیے بنائے گئے کیمپ کے علاقہ بمبے ہوٹل کی طرف بھاگ گئے، جس سے ان کی اور ان کے اہل خانہ کی جان بچ گئی۔ اب حالت یہ ہے کہ لاکھ کوششوں کے بعد بھی وہ اپنا کاروبار ٹھیک ڈھنگ سے نہیں چلا پا رہے ہیں اور نہ ہی اتنا پیسہ کما پاتے ہیں، جس سے وہ اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ بھر پائیں۔ ریاستی حکومت نے فسادات کے بعد معاوضہ کے طور پر انہیں صرف 300 روپے دیے تھے، جس سے نہ تو وہ اپنا نیا گھر خرید سکتے تھے اور نہ ہی اپنا نیا کارخانہ کھول سکتے تھے۔ یہی حال عاشق علی کا ہے، جو پہلے آٹورکشہ چلاکر روزانہ ڈیڑھ سو روپے کما لیا کرتے تھے، لیکن اب وہ ایک سیکورٹی گارڈ کا کام کرتے ہیں، جس سے انہیں ماہانہ صرف 1800 روپے ملتے ہیں۔
نریندر مودی کی قیادت والی گجرات حکومت نے 1978 میں پیش کی گئی جسٹس بخشی کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر اعلیٰ تعلیم اور سرکاری نوکریوں میں سماجی و تعلیمی اعتبار سے پس ماندہ طبقوں (ایس ای بی سی) کے لیے ریزرویشن کا انتظام کر رکھا ہے۔ ریاست میں اس ریزرویشن کا فائدہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں کو بھی ملتا ہے۔ اس کے تحت انہی ذاتوں کو ریزرویشن ملتا ہے، جن کا اندراج ایس ای بی سی میں کیا گیا ہے۔ اتفاق سے مسلمانوں کی ’بنکر‘ برادری کو ، جو عام طور پر پولارا، مومن، انصاری وغیرہ ٹائٹل اپنے ناموں کے ساتھ لگاتے ہیں، انہیں بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس ریزرویشن کا فائدہ اٹھانے کے لیے ہندوؤں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو بھی متعلقہ حکام سے ایک سرٹیفکٹ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ ہندوؤں کو گجرات میں یہ سرٹیفکٹ تو آسانی سے مل جاتا ہے، لیکن مسلمانوں کو یہ سرٹیفکٹ حاصل کرنے میں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کسی کالج میں داخلہ کے لیے یا پھر سرکاری نوکری پانے کے لیے جب ایس ای بی سی (Socially and Educationally Backward Classes) سرٹیفکٹ کسی امیدوار کے ذریعے جمع کیا جاتا ہے، تو اسے تصدیق کے لیے ڈائرکٹر، ڈیولپنگ کاسٹ ویلفیئر ڈپارٹمنٹ، گجرات اسٹیٹ کے پاس بھیج دیا جاتا ہے۔ اتفاق سے گجرات سرکار کے اس محکمہ کے ڈائرکٹر فرضی انکاؤنٹر کے لیے گجرات کے بدنامِ زمانہ ڈی آئی جی، ڈی جی ونجارا کے بھائی کے جی ونجارا ہیں، جو مسلم امیدواروں کی طرف سے جمع کیے گئے ایس ای بی سی سرٹیفکٹ کو کئی بار ردّ کر چکے ہیں۔ اس سرٹیفکٹ کے ردّ کیے جانے کی وجہ سے ماضی میں میڈیکل یا انجینئرنگ میں داخلہ پانے والے کئی مسلم طالب علموں کا داخلہ ردّ کیا جا چکا ہے۔ گجرات حکومت کے اس رویہ پر گجرات ہائی کورٹ کئی بار لتاڑ بھی لگا چکی ہے۔ مثال کے طور پر 17 جنوری، 2004 کو گجرات کے ایک میڈیکل کالج میں ایس ای بی سی سرٹیفکٹ کی بنیاد پر داخلہ پانے والے عمران علی راجہ بھائی کے داخلہ کو ردّ کرنے کے معاملے پر سماعت کے بعد گجرات ہائی کورٹ نے گجرات حکومت کو کھری کھوٹی سنائی تھی اور ریزرویشن کی بنیاد پر عمران علی کے میڈیکل کالج میں داخلہ کو صحیح ٹھہرایا تھا۔
ان مثالوں سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ 2002 سے پہلے گجرات کے جو مسلمان خوش حالی کی زندگی بسر کر رہے تھے، اب انہیں دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے میں بھی پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔ لاکھ کوششوں کے باوجود گجرات کے یہ مسلمان غریبی اور در بدری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اگر نریندر مودی یا ان کی پارٹی بی جے پی پورے ملک میں یہ کہتی پھر رہی ہے کہ گجرات کے مسلمان ہندوستان کی باقی ریاستوں میں رہنے والے مسلمانوں کے مقابلے مالی اعتبار سے زیادہ خوش حال ہیں، تو انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ 2002 کے بعد مودی سرکار نے کتنے مسلمانوں کو اپنے کارخانے کھولنے کی اجازت دی ہے؟ انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ مسلمانوں کو کتنے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی اجازت دی گئی ہے؟ زمینی صورتِ حال یہ ہے کہ گجرات کے جو مسلمان 2002 کے بعد ترقی کی راہ پر گامزن تھے، بعد کے سالوں میں ان کی ترقی کی تمام راہیں محدود ہوگئیں۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ گجرات کے ترقیاتی ماڈل کا سچ کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مودی حکومت نے گجرات کے 90 فیصد گاؤں میں پکی سڑکیں بنوائی ہیں، 98 فیصد گاؤں میں بجلی پہنچانے کا کام کیا ہے، جہاں پر ہر روز 18 گھنٹے تک بجلی کی سپلائی ہوتی ہے، پائپ کے ذریعے پانی کی سپلائی 86 فیصد گاؤں تک میں ہے، دوسری ریاستوں کے مقابلے فون کنکشن بہتر ہے، ڈاکخانوں کی حالت بہتر ہے، بسیں وقت پر چل رہی ہیں۔ لیکن ان سب کے برعکس یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دوسری ریاستوں کے مقابلے گجرات میں غریبی اور بھوک مری تو زیادہ ہے ہی، لوگوں میں سیکورٹی کے تئیں خوف کا ماحول بھی بہت زیادہ ہے۔
ایک سال پہلے سچر کمیٹی کے ایک رکن رہ چکے اور واشنگٹن میں واقع یو ایس – انڈیا پالیسی انسٹیٹیوٹ سے وابستہ مشہور ماہر اقتصادیات، ابوصالح شریف کی گجرات کی ترقی سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ آنکھ کھولنے والی ہے۔ یہ رپورٹ مودی کے ڈیولپمنٹ ماڈل کی نفی کرتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی دوسری ریاستوں کے مقابلے گجرات میں فی کس آمدنی تو زیادہ ہے، لیکن اڑیسہ اور بہار کی طرح (جہاں پر لوگوں کی فی کس آمدنی بہت کم ہے) گجرات میں بھی بھوک مری بڑے پیمانے پر ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آمدنی بڑھنے سے لوگوں کی عمر میں اضافہ ہوتا، جنسی شرح بہتر ہوتی، ساتویں کلاس کے بعد اسکولوں میں ڈراپ آؤٹ کی تعداد کم ہوتی، شرحِ خواندگی میں اضافہ ہوتا، لیکن گجرات میں آمدنی بڑھنے سے یہ سب کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ اس لیے مودی کے ذریعے صرف اس بات کی تشہیر کرنا کہ گجرات میں لوگوں کی آمدنی بڑھ رہی ہے، کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس کا اثر زندگی کے دوسرے شعبوں پر بھی نظر آنا چاہیے۔
اسی طرح مودی پورے ملک میں یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ گجرات میں ان کی حکومت ملک کے باقی حصوں کے مقابلے سب سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو لانے اور اسے فروغ دینے میں سب سے آگے ہے۔ بقول ابو صالح شریف، یہ بھی ایک بڑا جھوٹ ہے۔ ان کی تحقیقات یہ کہتی ہے کہ ایف ڈی آئی (براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری) کے بارے میں مودی سراسر جھوٹ بول رہے ہیں، کیوں کہ ڈپارٹمنٹ آف انڈسٹریل پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ کے ذریعے مہیا کرائے گئے اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ جنوری 2000 سے مارچ 2010 کے درمیان غیر ملکی سرمایہ سب سے زیادہ مہاراشٹر میں آیا، جو کہ 1.75 لاکھ کروڑ روپے تھا۔ دوسرے نمبر پر دہلی ہے، جہاں یہ سرمایہ 1.02 لاکھ کروڑ روپے کا رہا اور 31 ہزار کروڑ روپے کی غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ کرناٹک چوتھے نمبر پر ہے۔ گجرات تو بس پانچویں نمبر پر ہے، جہاں اس مدت کے دوران صرف 28 ہزار کروڑ کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اس طرح یہ بات جھوٹی ثابت ہو جاتی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ہندوستان میں سب سے پسندیدہ جگہ گجرات ہے۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ گجرات میں مسلمانوں کی موجودہ حالت کے بارے میں ابو صالح شریف کیا کہتے ہیں۔ ان کی رپورٹ کہتی ہے کہ گجراتی مسلمانوں میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے مقابلے غریبی 8 گنا (800%) زیادہ ہے، جب کہ ہندو او بی سی اور ایس سی ؍ ایس ٹی کے مقابلے یہ غریبی 50 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گجرات کے شہری علاقوں میں رہنے والی کل مسلم آبادی کا 60 فیصد حصہ سماجی اعتبار سے گجرات میں سب سے زیادہ پچھڑا ہوا ہے۔ دوسری طرف گجرات کے دیہی علاقوں میں رہنے والے مسلمان اعلیٰ ذات کے ہندوؤں سے دو گنا (200%) زیادہ غریب ہیں۔ اس کے علاوہ گجرات کے مسلمانوں کا ان کی آبادی کے تناسب سے بینکوں میں کھاتہ ہے، لیکن بینکوں سے انہیں صرف 2.6 فیصد قرض (Loan) ہی مل پاتا ہے۔ اسی طرح دیگر برادریوں کے مقابلے مسلمانوں کے یہاں زیادہ چوری ہوتی ہے، ان کی لڑکیوں سے زیادہ چھیڑ چھاڑ ہوتی ہے۔
تعلیم کی بات کریں، تو گجرات میں دوسری برادریوں کی طرح ہی مسلمانوں کے ذریعے اسکولوں میں داخلہ لینے کی شرح تقریباً 75 فیصد ہے، لیکن ہائی اسکول یا اس سے اوپر کی سطح پر مسلمانوں کے داخلہ لینے کی شروع کافی کم ہے۔ صرف 26 فیصد مسلم بچے ہی ہائی اسکول تک پہنچ پاتے ہیں، جب کہ ایس سی ؍ ایس ٹی میں یہ شرح 41 فیصد ہے۔ پانچویں کلاس کے بعد مسلمانوں میں اسکول چھوڑنے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ اعلیٰ تعلیم کی شرح تو مسلمانوں میں تشویش ناک حالت تک کم ہے۔ تعلیم کے مختلف مراحل میں مسلمانوں کی پس ماندگی کو دور کرنے کے لیے سچر کمیٹی کی سفارشات پر مرکزی حکومت نے یکم اپریل 2008 سے پورے ملک میں اقلیتوں کے لیے اسکالرشپ اسکیم شروع کی تھی۔ مرکزی حکومت نے گجرات کے لیے 55,000 اسکالرشپ مختص کیے تھے، جن میں سے 53,000 مسلم بچوں کو دیے جانے تھے، لیکن مودی کی گجرات سرکار نے اسے لینے سے منع کردیا۔ ظاہر ہے، اس کا سب سے بڑا نقصان گجرات کے مسلم بچوں کو ہی ہوا، جو تعلیمی لحاظ سے کافی پچھڑے ہوئے ہیں۔
روزگار کے معاملے میں بھی گجرات کے مسلمان ہندوؤں کے مقابلے کافی پیچھے ہیں۔ گجرات کے 71 فیصد ہندوؤں میں سے 61 فیصد با روزگار ہیں، جب کہ مسلمانوں میں روزگار صرف 10 فیصد ہی ہے، اس طرح بے روزگاری کے معاملے میں گجرات کے مسلمان سب سے آگے ہیں، یہاں تک کہ مغربی بنگال سے بھی بدتر حالت ان کی گجرات میں ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں ہندوستان میں عام طور پر یہ بات دیکھی گئی ہے کہ کام کے معاملے میں وہ بنیادی طور سے ہنرمند اور دست کاری کے ماہر ہوتے ہیں اور دوسری برادریوں کے مقابلے انہیں میکینکل اور ٹول ورک زیادہ آتا ہے، اسی لیے مینوفیکچرنگ اور آرگنائزڈ انڈسٹری میں بطور مزدور پورے ملک میں وہ نوکریوں میں زیادہ ہیں۔ لیکن گجرات کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے، جہاں پر مینوفیکچرنگ اور آرگنائزڈ سیکٹر میں ہندو کامگاروں کی تعداد زیادہ ہے۔ گجرات میں بھی کسی زمانے میں پاور لوموں، ٹیکسٹائل ملوں اور ہینڈلوم ملوں، ہیرے کی کٹائی اور پالشنگ انڈسٹری میں مسلمانوں کا غلبہ ہوا کرتا تھا، لیکن اب زمانہ بدل چکا ہے۔ پورے ہندوستان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری میں مسلمانوں کی نمائندگی 21 فیصد ہے، لیکن گجرات میں یہ صرف 13 فیصد ہے، جب کہ مہاراشٹر میں اس سے کہیں زیادہ 25 فیصد اور مغربی بنگال میں 21 فیصد ہے۔ گجرات میں پبلک سیکٹر میں بھی مسلمانوں کو پوری طرح نظرانداز کیا جا چکا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *