گجرات الیکشن سے کانگریس اور مسلم تنظیموں کو سبق لینا چاہئے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
گجرات کا الیکشن بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے ایک الگ طرح کا سبق ہے اور کانگریس کے لیے دوسری طرح کا سبق ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نہ اپنی جیت سے کچھ سیکھتی ہے، نہ کانگریس اپنی ہار سے۔ ایک اور طبقہ ہے، جو سبق نہیں سیکھتا اور وہ ہے ہمارے ملک کا مسلم سماج۔ میں شاید غلط لفظ استعمال کر رہا ہوں۔ مجھے مسلم سماج نہیں، مسلم تنظیم یا مسلم لیڈر لفظ کا استعمال کرنا چاہیے۔ گجرات کے الیکشن میں مسلمانوں نے بڑی تعداد میں نریندر مودی کو ووٹ دیا۔ ان انتخابی حلقوں میں بھی نریندر مودی کا امیدوار جیتا، جہاں مسلمانوں کی آبادی 60 فیصد، 50 فیصد اور 40 فیصد ہے۔ گجرات کے مسلمانوں کو دہلی سے گئے مسلم لیڈروں نے صرف ایک بات بار بار یاد دلائی کہ گجرات کے فساد کو مت بھولو اور اس فساد کے ذمہ دار نریندر مودی کو ووٹ مت دو۔ گجرات کے مسلمانوں نے باتیں سنیں ضرور، لیکن ایک کان سے سنیں اور دوسرے سے نکال دیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ گجرات میں نریندر مودی کی مخالفت میں کسی بھی گجراتی کی شخصیت کا ابھر نہ پانا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقابلے وہاں کانگریس اقتدار میں آنا چاہتی ہے، لیکن کانگریس نے گزشتہ دس سالوں میں گجرات میں کچھ بھی ایسا نہیں کیا، جس پر گجرات کے لوگ بھروسہ کرتے۔ کانگریس نے گجرات کے بنیادی سوالوں پر گزشتہ دس سالوں میں نہ کبھی جلسے جلوس کیے، نہ لوگوں کو شامل کیا اور نہ اپنے درمیان قیادت کی قطار ہی کھڑی کی۔ گجرات کے عام آدمی کو لگا کہ کانگریس گجرات میں الیکشن جیتنے کے لیے سنجیدہ ہے ہی نہیں اور جب کوئی طبقہ کانگریس پر بھروسہ نہیں کر رہا ہے تو مسلمان ہی کیوں کریں۔
قیادت کی قطار کا مطلب ہے کہ جو ستائے ہوئے لوگ ہیں، ان کے ساتھ کھڑے ہونے والے لوگوں کی قطار، انہیں مدد کرنے والے ہاتھ اور جدوجہد میں ان کا ساتھ دینے والے لوگ۔ فساد سے متاثر مسلمانوں کے گھروں کو کسی بھی طرح کا مرہم یا مدد کانگریسی قیادت سے گزشتہ 10 سالوں میں ملا؟ نریندر مودی راج کے پہلے الیکشن میں، جو پانچ سال پہلے ہوئے، دہلی سے گئے مسلم لیڈروں نے مسلمانوں کو زور شور سے سمجھایا، لیکن وہاں کے مسلمانوں کو لگا کہ یہ انہیں بھڑ کا کر مرنے کے لیے اکیلا چھوڑ دینے کی بات کر رہے ہیں۔ اسی طرح اس دوسرے الیکشن میں بھی مسلم تنظیموں کے لیڈروں نے مسلمانوں کو وہی سبق پڑھانے کی کوشش کی اور پھر گجرات کے مسلمانوں کو لگا کہ یہ انہیں مرنے کے لیے اکسانے اور پھر اکیلا چھوڑ دینے کے لیے آئے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں نے نہ کانگریس کی بات سنی اور نہ اپنے لیڈروں کی بات سنی۔
کانگریسی قیادت یہ بات سمجھنا ہی نہیں چاہتی کہ پانچ سال خاموش رہنے کے بعد کا نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے، جیسا اس بار گجرات میں پھر دہرایا گیا اور مسلم لیڈروں کو یہ کبھی سمجھ میں نہیں آتا کہ گجرات جیسے صوبہ میں مسلم لیڈروں کو صرف الیکشن کے وقت اپنا چہرہ دکھانا کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ مسلم لیڈروں کی بات مسلمانوں نے نہیں سنی۔ یہ الگ بات ہے کہ الیکشن میں کئی سو کروڑ روپے خرچ ہوئے، جس کا ایک حصہ مسلم لیڈروں کے پاس بھی ضرور گیا ہوگا۔ تبھی تو جو بات ہمارے جیسے عام صحافیوں کو گجرات میں شروع سے نظر آتی تھی، وہ بات سمجھدار، عظیم، دانشور مسلم لیڈروں کو یا مسلم علماء کو کیوں سمجھ میں نہیں آئی۔ الٹے مسلم تنظیموں کے لیڈروں نے یہ ہوا بنانے کی کوشش کی کہ کسی بھی قیمت پر بی جے پی کو ہرانا ہے اور کانگریس وہاں جیتنے کی لڑائی لڑ رہی ہے۔ شاید یہ ہوا الیکشن کے لیے ملے حصے کا نتیجہ تھی، پر گجرات کا مسلمان دیکھ رہا تھا کہ گجرات میں کیا ہونے والا ہے۔ اس لیے اس نے اپنا فیصلہ لیڈروں کے مشورے سے الگ لیا۔ اس ساری قواعد میں مسلم تنظیموں نے اگر کسی کا نقصان کیا تو وہ صرف اور صرف مسلمانوں کا کیا، کیوں کہ اب شمالی ہند سے گئے کسی لیڈر پر گجرات کے مسلمان جلدی بھروسہ نہیں کر پائیں گے۔
مسلمان اس ملک میں بیچارہ بن کر رہ گیا ہے۔ اسے تمام سیاسی پارٹیوں نے وقت وقت پر حد سے زیادہ بیوقوف بنایا ہے اور اسی کھیل میں مسلم تنظیمیں بھی شامل ہو گئیں۔ مسلمانوں کی چاہے مذہبی تنظیمیں ہوں، سماجی تنظیمیں ہوں یا پھر سیاسی تنظیمیں، کسی نے یہ سوال اثر دار ڈھنگ سے نہیں اٹھایا کہ کیوں کانگریس نے اسمبلی کے لیے مسلمانوں کو ٹکٹ نہیں دیے۔ کیا ان تنظیموں کے پاس بھی گجرات میں اچھے امیدواروں کے نام نہیں تھے، جنہیں وہ کانگریس کے پاس مشورے کے طور پر بھیجتیں اور یہ کانگریس کا سب سے بڑا دیوالیہ پن تھا کہ وہ مسلمانوں کے ووٹ تو لینا چاہتی تھی، لیکن مسلمانوں کو نمائندگی نہیں دیناچاہتی تھی۔ احمد پٹیل کانگریس کے سب سے طاقتور لیڈروں میں ہیں۔ وہ خود گجرات سے آتے ہیں۔ ان کے پاس تقریباً ہر مسلم لیڈر کی پہنچ ہے، تو پھر کیوں مسلم لیڈر یا مسلم تنظیموں کے نمائندے احمد پٹیل سے لگاتار ملتے رہے۔ اگر احمد پٹیل نے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ نہ دینے کی بات ان سے کہی ہوگی تو بھی یہ کس لالچ میں احمد پٹیل کے پاس گئے اور کیوں احمد پٹیل کی مخالفت نہیں کی۔ شاید اسی لیے یہ لیڈر نریندر مودی کی بھی مخالفت نہیں کر پائے، جس نے ایک بھی مسلم امیدوار الیکشن میں نہیں اتارا۔ ایک بھی ٹکٹ نہ دینا اور صرف چار ٹکٹ دینے میں کوئی فرق نہیں ہے۔
گجرات کے مسلمانوں کو یہ بھی پتہ چل گیا کہ کانگریس نریندر مودی کا ڈر دکھا کر ان سے صرف ووٹ لینا چاہتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت اتر پردیش کے انتخاب میں مسلمانوں کو 9 فیصد ریزرویشن کی بات اٹھانے والے وزیر اور اس کی حمایت کرنے والی کانگریس گجرات کے الیکشن میں بالکل خاموش رہی۔ ہم نے اتر پردیش الیکشن کے وقت کہا تھا کہ اگر کانگریس واقعی مسلمانوں کو 9 فیصد ریزرویشن دینا چاہتی ہے، تو کانگریس کے زیر اقتدار صوبوں میں اسے فوراً نافذ کر دینا چاہیے۔ کانگریس نے ایسا نہیں کیا اور ہمارے اس شک کو اس نے سچ ثابت کیا کہ کانگریس صرف مسلمانوں کو بیوقوف بنانا چاہتی ہے اور اب کانگریس کو اس بات کے لیے تیار ہو جانا چاہیے کہ شاید اسے مسلم سماج آنے والے انتخابات میں بڑی تعداد میں ووٹ نہ دے۔
مسلمانوں کو بی جے پی کی طرف دھکیلنے کا ذمہ جہاں کانگریس کے اوپر ہے، جس نے مسلمانوں سے کیا ہوا کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا، ان کی روزی، روزگار، ان کی تعلیم، ان کی سیکورٹی جیسے مسائل کسی نے حل نہیں کیے، وہیں مسلم تنظیموں نے بھی انہیں حل کروانے میں فیصلہ کن رول کبھی ادا ہی نہیں کیا۔
تو مانیں کیا؟ کیا اس کا یہ مطلب نکالا جائے کہ مسلمان بدلے ہوئے حالات میں اپنے فیصلے نئے سرے سے لینے کی شروعات کرنے والا ہے یا پھر مسلمان گجرات کے الیکشن کو ایک بڑی چوک مان کر ملک گیر پیمانے پر نئے سرے سے سوچنے کی شروعات کر سکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر مسلم تنظیمیں بھلے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کی اندھی مخالفت کریں، لیکن اگر وہ کارگر ڈھنگ سے مسلمانوں کی زندگی کے سوال کو کانگریس کے سامنے نہیں اٹھاتیں یا کانگریس کو مسلمانوں کے سوالوں پر مسلمانوں کے حق میں فیصلہ لینے پر مجبور نہیں کر پاتی ہیں، تو مسلم تنظیموں کو سیاسی طور پر بے اثر ہونے کا خطرہ اٹھانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ مسلمان ان کی اس اندیکھی اور چوک کا جواب گجرات جیسے فیصلے لے کر نئی سیاست شروع کرے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ باقی جگہوں پر بھی بی جے پی کو ووٹ دے گا، بلکہ اس کا مطلب یہ نکالنا چاہیے کہ وہ ان پارٹیوں کو ووٹ دے گا، جن کا رشتہ کانگریس سے نہیں ہے۔ مودی کے حق میں ایک اور بات گئی ہے کہ گجرات میں ہوئے 2002 کے فساد کے بعد کوئی بھی فرقہ وارانہ فساد اب تک نہیں ہوا۔ شاید اس نے مسلمانوں کو ڈرایا بھی ہو یا مطمئن بھی کیا ہو، پر نتیجہ ایک ہی نکلا کہ مسلمانوں نے نریندر مودی کے ساتھ اور نریندر مودی کے ذریعے چلائے گئے ترقی کے مودی ماڈل کو قبول کرنے کی طرف ایک قدم بڑھا دیا ہے۔ کاش! گجرات کے انتخاب سے کانگریس اور مسلم تنظیمیں سبق سیکھ پاتیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *