گجرات الیکشن پورے ملک کاامتحان ہے

Share Article

سنتو ش بھارتیہ 
گجرات اسمبلی انتخاب کس کے لیے فائدہ مند ہو گا اور کس کے لیے نہیں، یہ تو دسمبر کے آخری ہفتہ میں معلوم ہو گا، جب نتیجے آ جائیں گے۔ لیکن امتحان کس کس کا ہے اس کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔ گجرات اسمبلی انتخاب میں پہلا امتحان شریمتی سونیا گاندھی کا ہے۔ کانگریس پارٹی میں سونیا گاندھی کے علاوہ کوئی ایسا لیڈر نہیں ہے، جس کے جانے سے بھیڑ اکٹھی ہو سکے۔ یہاں تک کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کی ریلی میں بھی سارے خرچوں اور ساری کوششوں کے باوجود لوگوں کی تعداد کچھ ہزار تک ہی محدود رہتی ہے۔

گجرات میں اروِند کجریوال اور انّا ہزارے کے ساتھ رام دیو کا بھی امتحان ہے کہ کیا یہ تینوں گجرات کے الیکشن میں بالواسطہ یا بلا واسطہ امیدوار کھڑا کریں گے یا امیدواروں کو حمایت دیں گے۔ رام دیو کس طرح کے امیدواروں کے حق میں بولیں گے اور انّا ہزارے کس طرح کے امیدواروں کے حق میں بولیں گے، یہ بات دیکھنے لائق ہوگی۔ اروِند کجریوال دہلی کے الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں، لیکن گجرات کے الیکشن میں ان کا رخ کیا ہوگا، یہ دیکھنے لائق ہوگا، کیوں کہ یہ سارے رخ لوگوں کو یہ بتائیں گے کہ یہ تینوں لوگ ملک کے تئیں کتنے ذمہ دار اور ایماندار ہیں۔ اس لیے گجرات کا اسمبلی انتخاب جہاں ان سارے لوگوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے، وہیں یہ انتخاب ملک کے لیے بھی اہم ہے۔

سونیا گاندھی کانگریس کو کتنا ووٹ دلا پائیں گی، کہا نہیں جاسکتا، کیوں کہ پچھلے پانچ سال میں گجرات میں کانگریس پارٹی نے کوئی سرگرمی دکھائی ہی نہیں۔ کانگریس پارٹی گجرات میں نریندر مودی کے اقتدار مخالف ووٹوں کے اوپر اپنی امید لگائے ہوئی ہے، پر وہ یہ نہیں سمجھ پا رہی ہے کہ پچھلے پانچ سال تک سرد پڑے رہنے کی وجہ سے اس نے لوگوں کے من میں اپنی جگہ بنانے کا موقع کھو دیا ہے۔ نریندر مودی کو پچھلے الیکشن میں تقریباً دو تہائی سیٹیں مل گئیں۔ اب کانگریس کی امید ہے کہ کانشی رام رانا کی وفات اور کیشو بھائی پٹیل کے بی جے پی چھوڑنے کا فائدہ اسے ہو جائے گا۔ کانگریس کا یہ سوچنا سونیا گاندھی کی ساکھ کو بڑھائے گا یا گھٹائے گا، یہ تو نہیں کہا جاسکتا، لیکن لگتا ہے کہ اس سے سونیا گاندھی کی کانگریس کو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔
کانگریس کے دوسرے لیڈر راہل گاندھی ہیں۔ راہل گاندھی گجرات میں کیا تقریر کریں گے اور ان کی تقریر سے کیا نتیجہ نکلے گا، یہ اس لیے شک کے دائرے میں ہے، کیو ںکہ وہ پچھلے دو اسمبلی الیکشن میں جہاں جہاں گئے، جن میں پہلا بہار اور دوسرا اتر پردیش تھا، وہاں وہاں کانگریس کی سیٹیں بڑھی نہیں۔ بہت شور ہوا کہ راہل گاندھی نوجوانوں کے قائد ہیں اور وہ نوجوانوں کو اپنی جانب راغب کریں گے، لیکن نوجوان ان کے جھنڈے سے نکل کر انّا ہزارے کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو گیا۔ اس لیے گجرات الیکشن میں اس بار راہل گاندھی کا امتحان ہے۔ ایک خبر یہ ہے کہ راہل گاندھی خود اب چناؤ پرچار نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی سیاست میں رہنا چاہتے ہیں، بلکہ اپنی ماں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی بہن پرینکا گاندھی سیاست میں آئیں اور کانگریس کی قیادت کریں۔ اس لیے راہل گاندھی کے بعد تیسرا امتحان پرینکا گاندھی کا ہے۔ کیا گجرات میں کانگریس کی پچھلے تین الیکشن میں، یعنی پچھلے 15 سال میں ڈوبی ہوئی یا طوفان میں غوطے کھاتی ہوئی کشتی، پرینکا گاندھی کے سہارے بھنور سے نکل پائے گی؟ اور کانگریس کے جس چوتھے لیڈر کا امتحان ہے، وہ ہیں احمد پٹیل۔ احمد پٹیل کانگریس کی صدر کے سیاسی سکریٹری ہیں اور یہ مانا جاتا ہے کہ گجرات کی ساری حکمت عملی آخری طور پر احمد پٹیل ہی طے کرتے ہیں۔ گجرات میں احمد پٹیل کے علاوہ صرف شنکر سنگھ واگھیلا ایسا نام ہے، جسے گجرات میں ہر جگہ جانا جاتا ہے اور جسے ملک کے لوگ بھی جانتے ہیں، لیکن شنکر سنگھ واگھیلا کو کانگریس وزیر اعلیٰ کے طور پر پیش نہیں کر رہی ہے۔ لوگوں کے من میں یہ اندیشہ پیدا ہو رہا ہے کہ کانگریس اسی لیے کسی کو وزیر اعلیٰ کے طور پر پیش نہیں کر رہی ہے، کیوں کہ اسے بھروسہ ہی نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسا لیڈر ہے جو الیکشن میں اس کی کشتی پار لگا سکتا ہے۔ احمد پٹیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے گجرات میں کانگریس کو ٹھیک سے کبھی منظم ہی نہیں ہونے دیا، بلکہ لوگ مانتے ہیں کہ یہ بھی احمد پٹیل کی ہی حکمت عملی ہے کہ گجرات میں نریندر مودی کو زندہ رکھو، ان کی شدت پسند ہندو وادی شبیہ ملک کے عوام کے سامنے خوفناک شکل میں رکھو اور گجرات میں کانگریس کو ہار جانے دو اور نریندر مودی کی جیت کو ملک کے لیے خطرہ بتا کر پورے ملک میں بی جے پی کو ہرا دو۔ اگر کانگریس ابھی بھی اس حکمت عملی پر چلتی ہے تو وہ ایک خطرناک کھیل کھیلے گی۔ نریندر مودی اگر گجرات میں دوبارہ اتنی ہی اکثریت سے جیت گئے، جتنی اکثریت سے پچھلی بار جیتے تھے، تو انہیں دلّی کی گدّی کی طرف بڑھنے سے پھر کوئی روک نہیں سکتا۔ ایسے میں کانگریس کی یہ حکمت عملی فیل ہو جائے گی کہ وہ نریندر مودی کا چہرہ دکھا کر ملک میں ووٹ بٹور سکتی ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی میں سب سے پہلا امتحان خود نریندر مودی کا ہے۔ نریندر مودی نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کے تقریباً ہر اُس لیڈر کو ناراض کر دیا ہے، جس کی عوام میں تھوڑی بھی پکڑ ہے۔ نریندر مودی آر ایس ایس اور روایتی بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں کی جگہ ذاتی طور پر اپنے قابل اعتماد لیڈروں کی ایک نئی جماعت تیار کر چکے ہیں۔ اس دفعہ کے الیکشن میں نریندر مودی زیادہ تر ان لوگوں کو ٹکٹ دیں گے، جن کا رشتہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے کم اور اُن سے جن کا رشتہ زیادہ ہوگا۔ نریندر مودی ترقی کے نام پر ووٹ مانگیں گے، گودھرا کے بعد کوئی بھی بڑا فساد نہ ہونے دینے کا سوال کو کھڑا کریں گے اور یہ کہیں گے کہ میری وجہ سے گجرات میں امن رہا اور فساد نہیں ہوا۔ حالانکہ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ نریندر مودی اس کی وجہ ہیں، لیکن جمہوری وجہ نہیں ہے، بلکہ تانا شاہی وجہ ہے۔ مسلمانوں کو لگتا ہے کہ اگر انہوں نے نریندر مودی کے خلاف کچھ کیا تو دوبارہ گجرات میں ان کے اوپر آفت آ سکتی ہے۔ لیکن ان سب کے بیچ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ مودی کی طرف راغب ہو گیا ہے اور اسے لگتا ہے کہ فرقہ واریت کے نام پر نریندر مودی کو ووٹ نہ دینا ان کی بھول ہے۔ انہیں نریندر مودی کو ووٹ دینا چاہیے، تاکہ وہ ان کی ترقی کے لیے اسکیم بنا سکیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی میں دوسرا سب سے بڑا امتحان شری کیشو بھائی پٹیل کا ہے۔ کیشو بھائی پٹیل زندگی بھر سنگھ اور بی جے پی کے آدمی رہے، وزیر اعلیٰ رہے اور اب انہوں نے بی جے پی چھوڑ کر گجرات میں اپنی پارٹی ’گجرات پریورتن پارٹی‘ بنائی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ گجرات کی سب سے طاقتوری برادری، پٹیل ان کا ساتھ دیں گے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ گجرات میں پٹیل برادری ایک زبردست طاقت ہے اور اگر پٹیل مودی کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں تو بی جے پی کو نقصان ہوگا۔ پر دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا سارے پٹیل کیشو بھائی کے ساتھ ہیں؟ پٹیلوں میں قیادت جگہ جگہ پیدا ہو رہی ہے۔ کیشو بھائی پٹیل ایک اِموشنل سوال کھڑا کر رہے ہیں کہ یہ میری زندگی کا آخری الیکشن ہے اور مجھے اس میں آپ کا ساتھ چاہیے۔ کیشو بھائی پٹیل کے ساتھ پٹیلوں کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ پٹیلوں کی 30 سے 35 اسمبلی سیٹوں پر جیت دلانے یا ہرانے کی طاقت ہے، پر 30 سے 35 سیٹوں کے آگے کیا ہوگا، یہ نہ تو پٹیل جانتے ہیں اور نہ کیشو بھائی۔ اس کا ایک مطلب یہ نکالا جاسکتا ہے کہ اگر کیشو بھائی پٹیل گجرات میں 25 سیٹوں کے اوپر بھی اثر ڈالتے ہیں تو بھی نریندر مودی اقتدار سے باہر نہیں ہو پائیں گے۔ ان کی جیت کم ہو جائے گی، لیکن وہ اقتدار میں بنے رہیں گے۔ بدقسمتی سے کانشی رام رانا کی وفات ہو چکی ہے۔ اگر کانشی رام رانا زندہ ہوتے تو اِس صورتِ حال میں بہت فرق پڑتا، یہ نہیں کہا جاسکتا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی میں لال کرشن اڈوانی کا بھی امتحان ہے۔ لال کرشن اڈوانی گاندھی نگر سے رکن پارلیمنٹ ہیں اور گجرات میں نریندر مودی نے ان کو احساس دلایا ہے کہ اب اُن کا قد اتنا بڑا نہیں رہا، جتنا آج سے پانچ سال پہلے ہوا کرتا تھا۔ نریندر مودی خود وزیر اعظم کے عہدہ کے دعویدار ہو گئے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ موہن بھاگوت نے بھی اس بار کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں کون وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار ہوگا، اس سے سنگھ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، لیکن وہ نریندر مودی بھی ہو سکتے ہیں اور لال کرشن اڈوانی بھی۔ بہت دنوں کے بعد لال کرشن اڈوانی کا نام سنگھ کے مکھیا کی طرف سے سامنے آیا ہے اور اس کا یہ مطلب نکالا جانا چاہیے کہ لال کرشن اڈوانی کی اہمیت کو سنگھ نے تسلیم کیا۔ لال کرشن اڈوانی جہاں جہاں چناؤ پرچار کرنے جائیں گے، وہاں کی سیٹیں اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواروں کے حق میں آئیں گی، تو لال کرشن اڈوانی کا قد بہت اونچا ہو جائے گا۔
گجرات میں اروِند کجریوال اور انّا ہزارے کے ساتھ رام دیو کا بھی امتحان ہے کہ کیا یہ تینوں گجرات کے الیکشن میں بالواسطہ یا بلا واسطہ امیدوار کھڑا کریں گے یا امیدواروں کو حمایت دیں گے۔ رام دیو کس طرح کے امیدواروں کے حق میں بولیں گے اور انّا ہزارے کس طرح کے امیدواروں کے حق میں بولیں گے، یہ بات دیکھنے لائق ہوگی۔ اروِند کجریوال دہلی کے الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں، لیکن گجرات کے الیکشن میں ان کا رخ کیا ہوگا، یہ دیکھنے لائق ہوگا، کیوں کہ یہ سارے رخ لوگوں کو یہ بتائیں گے کہ یہ تینوں لوگ ملک کے تئیں کتنے ذمہ دار اور ایماندار ہیں۔ اس لیے گجرات کا اسمبلی انتخاب جہاں ان سارے لوگوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے، وہیں یہ انتخاب ملک کے لیے بھی اہم ہے۔ گجرات کا اسمبلی الیکشن جہاں فرقہ واریت کے سوال پر ایک فیصلہ دے گا، وہیں ترقی کے اوپر بھی فیصلہ دے گا کہ عوام فرقہ واریت کو اہم سمجھتے ہیں یا ترقی کو؟ گجرات میں ترقی ہوئی ہے، لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ ترقی بہت ساری جگہوں پر نہیں بھی ہوئی ہے۔ اس کا صحیح فیصلہ تو گجرات کے لوگ کریں گے، لیکن ملک میں گجرات کا الیکشن آنے والے اسمبلی انتخابات کے تناظر میں نہ صرف اہم ہے، بلکہ وہ یہ پیمانہ بھی طے کرے گا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور سنگھ آنے والے دوسرے اسمبلی انتخابات اور ملک میں ہونے والے لوک سبھا الیکشن میں کس طرح کا راستہ اپناتے ہیں۔ سب سے بڑا امتحان تو کانگریس کا ہے، کیوں کہ اسی کو طے کرنا ہے کہ مستقبل میں وہ کس طرح کے نعرے اور کس طرح کی حکمت عملی تیار کرے۔ گجرات اسمبلی الیکشن اس کی ایک مثال بن جائے گا۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *