گجرات الیکشن: کانگریس کے ایجنڈے میں مسلمان ہیں ہی نہیں

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار 
اگلے لوک سبھا انتخاب کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ کانگریس پارٹی نے اگلے انتخاب کی ذمہ داری راہل گاندھی کو سونپی ہے۔ راہل گاندھی کو 2014 کے لوک سبھا انتخاب کی کوآرڈی نیشن کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ راہل گاندھی وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار بھی ہوں گے، یہ بات پہلے سے ہی طے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کوآرڈی نیشن کمیٹی میں وہی پرانے چہرے ہیں، جو اب تک کانگریس کی حکمت عملیاں وضع کرتے آئے ہیں۔اس لیے کچھ نیا ہوگا، اس کی توقع نہ کے برابر ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے اس میں کیا ہے؟ سوال یہ ہے کہ جس طرح اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی نے مسلمانوں کو دھوکہ دے کر ووٹ ہتھیانے کی کوشش کی، کیا پھر سے وہی کھیل کھیلا جائے گا۔

گجرات کا انتخاب صرف کانگریس اور بی جے پی کی لڑائی نہیں ہے۔ گجرات انتخاب پر پوری دنیا کی نظر ہے۔ گجرات انتخاب ہندوستان کے مستقبل کو طے کرے گا۔ اس سے یہ طے ہوگا کہ ہندوستان میں سیکولر ازم زندہ ہے یا پھر ہمارے ملک کے لوگوں نے کمیونلزم کو قومی زندگی کا ایک حصہ مان لیا ہے۔ نریندر مودی ایک ایسی سیاست کی رہنمائی کرتے ہیں، جو ہندوتوا کی راہ پر گامزن ہے۔ اس میں ہر فرقہ کے لوگوں کے درمیان یکسانیت کی جگہ نہیں ہے۔ لیکن ایسی طاقتوں سے لڑنے والا کون ہے؟ یہ ذمہ داری ملک کے عوام نے کانگریس کو دی ہے، لیکن کانگریس اس ذمہ داری کو نبھانے میں ناکام رہی ہے۔ اس الیکشن میں کانگریس نے گجرات فسادات کو کیوں بھلا دیا؟ اسے اہم مدعا کیوں نہیں بنایا؟

سلمان خورشید کی ترقی ہو گئی ہے اور اب وہ وزیر خارجہ بن گئے ہیں۔ سوٹ بوٹ میں ملبوس ہو کر بیرون ملک کے دورے کرتے ہیں۔ سلمان خورشید نے اقلیتی امور کا وزیر رہتے ہوئے آخر ایسا کیا کارنامہ انجام دیا کہ کانگریس پارٹی نے انہیں ترقی سے نوازا۔ گزشتہ کچھ مہینوں کو یاد کریں تو سلمان خورشید سے جڑے دو ہی واقعات ذہن میں تازہ ہوتے ہیں، ایک اتر پردیش میںمعذوروں کے نام پر پیسے کے غبن کا معاملہ تو دوسرا یہ کہ اترپردیش انتخاب کے دوران انھوں نے مسلمانوں کو 9 فیصد ریزرویشن دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ انھوں نے یہ بھروسہ دلایا تھا کہ کانگریس حکومت جلد ہی مسلمانوں کے ریزرویشن کے لیے قانون وضع کرے گی۔ اتر پردیش اسمبلی انتخابات ختم ہوئے بھی کئی مہینے گزر گئے اوراب تو گجرات میں انتخاب ہو رہے ہیں، لیکن گجرات میں انتخاب کے دوران کوئی بھی کانگریسی لیڈر 9 فیصد ریزرویشن تو دور، پانچ فیصد ریزرویشن تک کی بات نہیں کر رہا ہے۔ اس کاکیا مطلب ہے؟ مطلب صاف ہے کہ مسلم ریزرویشن کو لے کر کانگریس سنجیدہ نہیں ہے۔ کانگریس اتر پردیش میں انتخاب سے عین پہلے اس معاملہ کو اٹھا کر مسلمانوں کے ووٹ لینا چاہتی تھی۔ راہل گاندھی کی حکمت عملی یہی تھی کہ ریزرویشن کا لالی پاپ تھما کر مسلمانوں کو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے۔ کانگریس پارٹی نے اتر پردیش میں مسلمانوں کو کیسے بے وقوف بنانے کی کوشش کی ، اس پر آگے بات کریں گے، لیکن پہلے گجرات انتخاب میں کانگریس کی حکمت عملی کو سمجھتے ہیں۔
گجرات کا انتخاب صرف کانگریس اور بی جے پی کی لڑائی نہیں ہے۔ گجرات انتخاب پر پوری دنیا کی نظر ہے۔ گجرات انتخاب ہندوستان کے مستقبل کو طے کرے گا۔ اس سے یہ طے ہوگا کہ ہندوستان میں سیکولر ازم زندہ ہے یا پھر ہمارے ملک کے لوگوں نے کمیونلزم کو قومی زندگی کا ایک حصہ مان لیا ہے۔ نریندر مودی ایک ایسی سیاست کی رہنمائی کرتے ہیں، جو ہندوتوا کی راہ پر گامزن ہے۔ اس میں ہر فرقہ کے لوگوں کے درمیان یکسانیت کی جگہ نہیں ہے۔ لیکن ایسی طاقتوں سے لڑنے والا کون ہے؟ یہ ذمہ داری ملک کے عوام نے کانگریس کو دی ہے، لیکن کانگریس اس ذمہ داری کو نبھانے میں ناکام رہی ہے۔ اس الیکشن میں کانگریس نے گجرات فسادات کو کیوں بھلا دیا؟ اسے اہم مدعا کیوں نہیں بنایا؟ گجرات انتخاب میں سونیا گاندھی نے ایک بار ریلی سے خطاب کیا، جبکہ نریندر مودی پوری ریاست کا دورہ کر رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے اگلے وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار راہل گاندھی نے مودی سے سیدھے دو دو ہاتھ کیوں نہیں کیے؟ ویسے کانگریس ٹی وی پر پرچار کے لیے کروڑوں خرچ کر رہی ہے، لیکن اس پرچار میں بھی گجرات فسادات اہم نہیں ہیں۔ کیا کانگریس یہ مان بیٹھی ہے کہ جس طرح ایس آئی ٹی نے نریندر مودی کو کلین چٹ دی ہے، وہ صحیح ہے۔ کیا کانگریس نے بھی نریندر مودی کو کلین چٹ دے دی ہے؟ اگر نہیں تو پھر انتخاب کے دوران یہ مدعا کیوں غائب ہے؟
یہ واضح ہو چکا ہے کہ انتخاب میں گجرات فسادات کانگریس کے ایجنڈے کا حصہ نہیں ہیں۔ کانگریس نے انتخابی تشہیر کا اہم ایجنڈہ ترقی کو بنایا ہے۔ کانگریس سرکار کے خود کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گجرات میں ترقی ہوئی ہے۔ اس لیے ترقی کو مدعا بنانا، ایک طرح سے نریندر مودی کو انتخاب سے قبل ہی جیت دلانے جیسی بات ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ترقی کو مدعا بنا کر اور کانگریس کے بڑے بڑے لیڈروں نے پرچار نہ کر کے نریندر مودی کو واک اوور دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس درمیان ایک خبر آئی، جس نے تمام سیکولر پارٹیوں کو شرمسار کر دیا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں 17 ریاستوں اور 6 وفاقی علاقوں کا بیورہ ہے کہ ملک کی کس ریاست کے تھانوں میں سب سے زیادہ مسلم پولس اہلکار ہیں۔ اعداد و شمار حیران کرنے والے ہیں۔ گجرات اس معاملہ میں سرفہرست ہے۔ گجرات کے پولس تھانوں میں تعینات پولس اہلکاروں میں 10.6 فیصد مسلمان ہیں، جو مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کے مقابلہ زیادہ ہے۔ گجرات میں مسلم آبادی 9.1 فیصد ہے۔ گجرات کے 501 پولس تھانوں میں تعینات 47 ہزار 424 پولس اہلکاروں میں سے 5021 پولس اہلکار مسلم ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو گجرات کے ہر تھانہ میں اوسطاً 10 مسلم پولس اہلکار ہیں۔ سچر کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ اقلیتی فرقہ میں اعتماد بحالی کے لیے پولس اور نیم فوجی دستوں میں ان کی تقرری میں اضافہ کیا جائے، تاکہ مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی کے واقعات میں کمی آئے اور فسادات کے وقت پولس مناسب کردار ادا کر سکے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ کانگریس حکومت والی ریاستوں کا ریکارڈبے حد خراب ہے۔ اس معاملہ میں سب سے خراب ریکارڈ راجستھان کا ہے۔ یہاں کے 773 تھانوں میں صرف 930 پولس اہلکار ہی مسلم ہیںاور یہاں کانگریس کی حکومت ہے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ جب یہ معلومات مختلف ریاستوں سے طلب کی گئیں تو 11 ریاستوں اور ایک وفاقی ریاست نے اعداد و شمار نہیں دیے۔ اس میں صرف کرناٹک اور بہار میں بی جے پی برسر اقتدارہے، باقی سب جگہ کانگریس اور دوسری سیکولر پارٹیاں برسراقتدار ہیں۔ ان اعداد وشمار کو فراہم نہ کرانے کا مطلب یہی ہے کہ ان ریاستوں کے پولس تھانوں میں مسلمانوں کی تعداد اتنی کم ہے کہ انہیں بتانے لائق بھی نہیں سمجھا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر نریندر مودی کی حکومت یہ کام کر سکتی ہے تو کانگریس پارٹی کو اپنی ریاستوں میں اسے نافذ کرنے میں کیا پریشانی ہے۔
گزشتہ دنوں دو خبریں آئیں، جن پر لوگوں کی توجہ مرکوز ہوئی۔ دونوں ہی خبریں حیران کرنے والی تھیں۔ پہلی خبر حیدر آباد سے آئی، جس میں رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے یہ اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی مجلس اتحاد المسلمین نے کانگریس سے اپنی حمایت واپس لے لی ہے۔ آندھرا پردیش میں حکومت کو مجلس اتحاد المسلمین حمایت دے رہی تھی، لیکن اسد الدین اویسی نے جو اسباب بتائے وہ چونکانے والے ضرور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آندھرا پردیش کی کانگریس حکومت فرقہ پرست اور عوام مخالف ہے۔ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ کانگریس سنگھ پریوار، یعنی آر ایس ایس کی پٹھو بن گئی ہے۔ کانگریس کے وزیر اعلیٰ کرن ریڈی کے بارے میں اویسی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اس حد تک گر چکے ہیں کہ وہ سنگھ پریوار کے تلوے چاٹ رہے ہیں اور حیدر آباد اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں بی جے پی کو تقویت دینے کا کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ کرن ریڈی کی شکل میں کانگریس کو دوسرا نرسمہا رائو مل گیا ہے، جو ہمیں بابری مسجد کے واقعہ کی یاد دلاتا ہے۔ کانگریس پارٹی آئیڈیا لوجی اور پالیسی کو لے کر تذبذب میں ہے۔ اگر اس کے اتحادی لوگ فرقہ پرستی اور سنگھ پریوار کے ساتھ ساز باز کے الزامات لگانے لگ جائیں، تو یہ الجھن اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
لیکن اسد الدین اویسی کا الزام آدھا سچ اور آدھاجھوٹ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسد الدین اویسی صحیح کہہ رہے ہیں یا پھر انھوں نے ایک جذباتی مدعے کو اٹھا کر اپنی سیاست چمکائی ہے؟ ملک میں کون سی سیکولر پارٹی ہے، جس نے مسلمانوں کے ریزرویشن، تعلیم، روزگار اور افسران کے لیے کرسی کو چھوڑاہے؟ اب تک تو کسی نے ایسی ہمت کا مظاہرہ نہیں کیا ہے…یہی سوال اسد الدین اویسی سے بھی پوچھا جانا چاہیے۔ انھوں نے یو پی اے سے اس وقت رشتہ کیوں نہیں توڑا، جب رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کو منموہن سنگھ کی حکومت نے چھپا رکھا تھا۔ جب چوتھی دنیا نے اسے ملک کے سامنے پیش کیا اور راجیہ سبھا میں ہنگامہ شروع ہوا، تو اسد الدین اویسی نے لوک سبھا میں اس معاملہ کو کیوں نہیں اٹھایا؟ جب کانگریس پارٹی کے ذریعہ ریزرویشن کے نام پر اتر پردیش کے مسلمانوں کو ٹھگا جا رہا تھا، تب انھوں نے حمایت واپس کیوں نہیں لی؟ کیا صرف جذباتی سوالوں کو اٹھا کر ہی ملک میں اقلیتوں کی سیاست ہوگی؟ جب مسلمانوں کے اصل مدعوں پر بات ہوگی، تب کیا صرف دھوکہ دیا جائے گا؟ مسلمانوں کے ساتھ سیاسی جماعتیں کس طرح سے دھوکہ کرتی ہیں، اس کی عمدہ مثال اتر پردیش کے مسلمان ہیں، جنہیں کانگریس نے ریزرویشن کا لالی پاپ تھما کر بے وقوف بنانے کی کوشش کی۔ جب چوتھی دنیا نے رنگناتھ مشراکمیشن کی رپورٹ شائع کی ، تو ملائم سنگھ یادو نے لوک سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے مرکزی حکومت کو رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنی پڑی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کو کانگریس پارٹی کی حکومت نے پارلیمنٹ میں تو پیش کر دیا، لیکن ایکشن ٹیکن رپورٹ کے بغیر۔ دو سال گزر گئے، پھر اتر پردیش اسمبلی انتخاب سے عین پہلے سلمان خورشید نے شگوفہ چھوڑا کہ حکومت نے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تمام نیوز چینل اور اخبارات اسے مسلم ریزرویشن بتانے لگے، جبکہ حقیقت یہ تھی کہ یہ وعدہ بھی او بی سی کوٹہ کے اندر کیا گیا تھا۔ ویسے بھی مسلمانوں کی کئی ذاتیں سماجی اور اقتصادی طور پر پسماندہ ہیں، اس لیے مرکزی حکومت کی نوکریوں اور یونیورسٹیوں میں انہیں بھی ریزرویشن کا فائدہ مل رہا تھا۔ ایسی صورت میں حکومت کے فیصلہ سے مسلمانوں کو بھلا کیا فائدہ پہنچتا؟ ہمارے آئین میں صرف مذہب کے نام پر ریزرویشن دینے کا نظام نہیں ہے، اس لیے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہوگی۔ کانگریس پارٹی نے ریزرویشن کا اعلان تو کر دیا، لیکن آئین میں ترمیم کا نام کبھی نہیں لیا، اسی لیے کانگریس کی نیت پر سوال کھڑا ہوتا ہے۔ نیت پر سوال اس لیے کھڑا ہوتا ہے، کیونکہ کانگریس نے میڈیا کے ذریعہ اقلیتی ریزرویشن کو مسلم ریزرویشن کا نام دیا۔ مطلب یہ کہ جس ریزرویشن کی بات سلمان خورشید کر رہے تھے، وہ او بی سی کو ٹے کے اندر ایک کوٹہ تھا، جس میں سکھ، جین، عیسائی، پارسی اور مسلمان سبھی فرقے شامل تھے۔ دوسری غور کرنے والی بات یہ تھی کہ اتر پردیش اسمبلی الیکشن میں کانگریس نے جو انتخابی منشور جاری کیا تھا اس کی انگریزی اور اردو زبان کی کاپیوں میں ہیرا پھیری کی گئی تھی۔ ہیرا پھیری یہ کہ جہاں انگریزی میں مائنارٹی لفظ لکھا تھا، وہیں اردو میں اسے مسلم بنا کر گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ مطلب صاف ہے کہ کانگریس کی حکمت عملی مسلمانوں کو ریزرویشن دے کر ووٹ لینے کی نہیں تھی، بلکہ مسلمانوں کو بے وقوف بنا کر ووٹ لینے کی حماقت تھی۔ لیکن جب جھوٹ پکڑا گیا اور کانگریس مسلمانوں کے سامنے بے نقاب ہو گئی تو اس کی پوری حکمت عملی دھری کی دھری رہ گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اتر پردیش میں کانگریس اور راہل گاندھی کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اگر کانگریس پارٹی کو آئندہ لوک سبھا الیکشن جیتنا ہے اور راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانا ہے تو ملک کے کچھ ایسے مدعے ہیں، جن پر اس کی واضح رائے سامنے آنی چاہیے۔ فرقہ پرستی ایک ایسا مدعا ہے، جس پر کوئی کنفیوژن نہیں چل سکتا۔ گجرات میں فرقہ پرستی پر نرمی دکھانا ور اتر پردیش میں سختی سے پیش آنا موقع پرستی کی سیاست ہے۔ جن ریاستوں میں مسلمانوں کی آبادی فیصلہ کن کردار میں ہے، وہاں ریزرویشن کا جھوٹ اور جہاں مسلمان کم تعداد میں اور کمزور ہیں، وہاں ان کے حقوق کی بات نہ کرنا بے ایمانی ہے۔ کانگریس پارٹی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ 1990 نہیں ہے۔ راہل گاندھی کے ٹوپی پہننے یا پھر افطار پارٹی کو میڈیا میں دکھانے سے مسلمانوں کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ موجودہ دور کا مسلمان بیدار ہو چکا ہے۔ نئی نسل اب سوال پوچھنے لگی ہے۔ وہ مولویوں کی بات نہیں سنتی، جن سے ان کے ووٹ مینج کیے جا سکتے ہیں۔ اس لیے کانگریس کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی پارٹیوں کو اقلیتوں کے لیے اپنی سوچ، اپنے منصوبہ، اپنی پالیسی اور اپنی ذمہ داری کو ملک کے سامنے صاف طور پر پیش کرنا ہوگا اور اس پر عمل کرنا ہوگا، ورنہ ان کے پیر کے نیچے سے کب زمین کھسک جائے گی، اس کا پتہ بھی نہیں چلے گا۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *