reshma
لوک سبھا الیکشن کے اعلان کے بعد لیڈروں کا دلبدل پروگرام پوری طرح سے زور پکڑ چکاہے۔ اس درمیان اب گجرات بی جے پی کی لیڈر ریشما پٹیل نے بھی بی جے پی چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ریشما نے جمعہ کو بی جے پی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ بی جے پی ریاستی صدر جیتو واگھانی کو جمعہ کو اپنا استعفیٰ بھیجا تھا جس میں ریشما نے بی جے پی پر الزام لگایا ہے کہ پارٹی ارکان سے مزدوروں کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔اس سے پہلے بھی ریشما نے بی جے پی صدر امت شاہ پر بھی سنگین الزام لگائے ہیں۔امت شاہ پر ریشما پٹیل نے الزام لگایا تھا کہ’ بی جے پی لیڈر تاناشاہ کی طرح کام کرتے ہیں اور پارٹی کارکنوں کو مزدور سمجھتے ہیں‘۔


استعفیٰ کے ساتھ ریشما نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ماناودر اسمبلی انتخابات میں بھی وہ بی جے پی کے خلاف انتخابی میدان میں اتریں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے بی جے پی پر الزام لگاتے ہوئے کہا، ’یہ پارٹی ایک مارکیٹنگ کمپنی بن گئی ہے اور اس کے رکن سیلسپرسن بن گئے ہیں‘۔
reshma-patel
ریشما نے آئندہ لوک سبھا انتخابات پوربندر سیٹ سے لڑنے کا بھی اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ایک گھمنڈی پارٹی ہے۔پارٹی کے سب سے اوپر رہنماؤں کی طرف سے پارٹی کے چھوٹے کارکنوں کو دبایا جاتا ہے۔
ریشما نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کانگریس یا دیگر کسی پارٹی میں شامل نہیں ہو رہیں اور آزاد امیدوارکے طورپر الیکشن لڑ سکتی ہیں۔بتا دیں کہ ریشما پٹیل پہلے ہاردک پٹیل کی ریزرویشن تحریک سے منسلک کمیٹی کی اہم رکن تھی۔ اس کے بعد دسمبر 2017 میں اسمبلی انتخابات سے پہلے وہ بی جے پی میں شامل ہو گئی تھیں۔
resma-gujarat
غور طلب ہے کہ گجرات کے پاٹیدار لیڈر ہاردک پٹیل حال ہی میں کانگریس کا دامن تھام چکے ہیں اور ریشما پٹیل نے کانگریس میں شامل ہوئے پاٹیدار لیڈر ہاردک پٹیل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہاردک جہاں سے بھی لوک سبھا الیکشن لڑیں گے، وہ ان کی حمایت کریں گی اور ان کیلئے تشہیر بھی کریں گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here