گجرات کے وزیر نے ہائی کورٹ سے مانگی معافی

Share Article

گجرات کے وزیر قانون اور بی جے پی کے سینئر رہنما بھوپندر سنگھ چوڈاسما نے 9 ستمبر کو احمد آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوکر معافی مانگی ہے۔ یہ معافی بھوپندر سنگھ نے سپریم کورٹ میں داخل کی گئی اس عرضی سے متعلق مانگی ہے جس میں انھوں نے عدالتی کام کاج پر سوال اٹھایا تھا۔ دراصل بی جے پی لیڈر کے انتخاب کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی ہائی کورٹ میں داخل کی گئی تھی جسے انھوں نے چیلنج کیا تھا۔ لیکن عدالت نے اس چیلنج کو مسترد کر دیا۔

قابل غور ہے کہ بھوپندر سنگھ 14 دسمبر 2017 کو گجرات اسمبلی انتخاب کے دوران دھولکا سیٹ پر ہوئے انتخاب میں صرف 327 ووٹوں کے قریبی فرق سے جیتے تھے۔ ان کے قریبی حریف کانگریس کے اشون راٹھور نے ووٹوں کی گنتی میں مبینہ دھاندلی کا حوالہ دیتے ہوئے فتح کو چیلنج کرتے ہوئے ایک عرضی داخل کی تھی۔ وزیر قانون کے ساتھ ساتھ محکمہ تعلیم اور پارلیمانی امور کے انچارج بھوپندر سنگھ نے پہلے اس عرضی کو چیلنج کیا تھا لیکن عدالت نے اسے مسترد کردیا۔ بعد میں وہ سپریم کورٹ پہنچ گئے لیکن انہیں وہاں سے بھی راحت نہیں ملی۔ اس کے بعد بھوپندر سنگھ نے اس معاملے میں ہائی کورٹ کے کام کاج کے طریقہ پر ہی سوال اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی، لیکن فروری کے مہینے میں اسے بھی واپس لے لیا گیا تھا۔بہر حال، 9 ستمبر کو جب بھوپندر سنگھ جسٹس پریش اپادھیائے کی عدالت میں حاضر ہوئے تو عرضی گزار کے وکیل نے ان سے سپریم کورٹ میں دائر اپنی سابقہ درخواست کے بارے میں پوچھا۔ اس پر بی جے پی وزیر نے اسے اپنی غلطی بتاتے ہوئے عدالت سے معافی مانگی۔ تاہم جج نے انہیں بتایا کہ معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے اور وہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جن موضوع پر ضروری نہ سمجھیں جواب نہ دیں۔

بھوپندر سنگھ نے اس درمیان یہ بھی کہا کہ وہ وزیر قانون کی حیثیت سے بھی عدالت کا بہت احترام کرتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ کانگریس لیڈر اشون راٹھور نے دعوی کیا ہے کہ ریٹرننگ افسر نے انہیں دھاندلی کر کے انہیں شکست دینے کا کام کیا ہے۔ ضابطہ کو نظر انداز کرتے ہوئے پوسٹل بیلٹ کی گنتی ابتدائی طور پر نہیں کی گئی اور ا?خر میں 429 ووٹوں کو رد کردیا گیا جو فتح کے فرق سے زیادہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *