p-10ٹیکس ایک ایسا عمل ہے، جس میں ہر شہری ملک کو ٹیکس کی شکل میں کچھ رقم دیتا ہے اور وہی رقم ملک کوچلانے اورملک کی ترقی میں کام آتی ہے، اس لےے ہر شہری پر یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ٹیکس ادا کرے اور ملک کا ایک ذمہ داری شہری بننے کا فرض ادا کرے۔ سرکار کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صحیح ڈھنگ سے ٹیکس وصول کرے، معقول ٹیکس اس کے پاس پہنچے اور پھر اس ٹیکس کی رقم کا صحیح استعمال ہو۔
وقتاً فوقتاً سرکاریں ٹیکس سسٹم کو بہتر اور آسان بنانے کے لےے اس میں اصلاح کرتی رہتی ہیں۔ ان اصلاحات میں اس وقت کے منطقی جواز اور سرکار کی منشا کی جھلک ہوتی ہے۔ موجودہ نظام کی کمیوں کو سمجھتے ہوئے اس میںبہتری لانے کی ضرورت کو دھیان میںرکھتے ہوئے جی ایس ٹی کو تجویز کیا جارہا ہے۔ اس سے ملک میں ٹیکس ریفارمس کو لاگو کرنے کی سرکار کی منشا بھی ظاہر ہوتی ہے۔
ہندوستان میں ٹیکس سسٹم قدیم دور سے ہی منظم رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال ہمیں کوٹلیہ کی 2500 سال قبل لکھی ’ارتھ ویوستھا‘ نامی کتاب میں ملتی ہے۔ اس کتاب کے 15 ابواب میں اس وقت کی سرکار کی منشا اور منطقی جواز کو ظاہر کرتے ہوئے سبھی طرح کے ٹیکسوںکی تفصیل کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر تاجروں پر تین طرح کے ٹیکس لگائے جاتے تھے۔ جو تاجر شہر میںہی کاروبار کرتے تھے، ان کو اشیاءکی لاگت کا ایک چوتھائی ٹیکس ادا کرنا ہوتا تھا۔ دو شہروںکے بیچ تجارت کرنے والوںکواشیاءکی لاگت کے برابرٹیکس اور سمندرکے ذریعہ دوسرے ملکوںکے ساتھ تجارت کرنے والوںپر اشیاءکی لاگت کا 16 گناٹیکس لگتاتھا۔غیر ملک سے تجارت کرنے میں زیادہ منافع کمانے کی کیپیسٹی تھی، اس لےے اس پر زیادہ ٹیکس کی دلیل بھیمناسب تھی۔اس کے پیچھے ریاست کی منشا یہ تھی کہ ریاست کے اندر ہی کاروبار کرنے والا تاجر تو وہیںرہے گا اور باقاعدگی سے ریاست کو ٹیکس ادا کرتا رہے گا،لیکن جو تاجر غیرملک سے تجارت کے لےے باہر چلاگیا ، اس کے واپس لوٹنے کا کوئی یقین نہیں ہے،اس لےے اس سے ایک بار میں کافی ٹیکس کرلیا جائے۔ جب ہم جی ایس ٹی پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو صاف نظر آتا ہے کہ اس میں اتنے بڑے پیمانے پر اصلاح کو پیش کیا جارہا ہے کہ اسے اصلاح کی بجائے ہندوستان میںٹیکس سسٹم کا ایک باب کہا جائے، تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔
موجودہ ٹیکس سسٹم کی خامیاں
ہندوستان میں ٹیکس سسٹم آئین کی تین فہرستوںکے مطابق آتا ہے۔ 100 آئٹم کے ساتھ پہلی فہرست جس میں یونین ہے، 61 آئٹم کے ساتھ اسٹیٹ لسٹ اور 52 آئٹم کے ساتھ کنکرنٹ لسٹ ۔ ٹیکس کی تفصیل پہلی دو لسٹوںمیں ہے۔ تیسری کنکرنٹ لسٹ میں ٹیکس کے بارے میں ذکر نہیں ہے۔اس کی وجہ سے یہ بہت پیچیدہ ہے۔ریاست کی لسٹ الگ ہے اور الگ شرحیں لاگو ہوتی ہیں ۔ مرکز کی لسٹ مختلف ہے اور مختلف شرحیںلاگو ہوتی ہیں۔مثال کے طور پر ایکسائز ڈیوٹی،کسٹم ڈیوٹی، ایکسائز (شراب چھوڑ کر ) وغیرہ سب مرکز کی فہرست میں آتے ہیں او رانٹر ٹینمنٹ ٹیکس ، ٹول ٹیکس، اسٹامپ ڈیوٹی، لگژری ٹیکس وغیر ہ ریاست کے ذریعہ لگائے جاتے ہیں۔ ان کی وصولیابی الگ الگ ایجنسیاںکرتی ہیں اور مرکز اور ریاست کے بیچ ان کا بٹوارہ آئین کے آرٹیکل 280 کے تحت قائم فائننس کمیشن کے ذریعہ دےے گئے فارمولے سے ہوتا ہے۔ کاروباری کو الگ الگ کاغذات اور کھاتے رکھنے پڑتے ہیں۔ اس میں پیچیدگی کے ساتھ ساتھ کافی کشمکش بھی پیدا ہوتی ہے۔
مثال کے طورپر دہلی کے ایک ریسٹورینٹ میںکھانے پر آپ کچے مال پر ایکسائز ڈیوٹی، امپورٹ ڈیوٹی وغیرہ دیتے ہیںاور اس کے بنانے اور خدمت کرنے کے لےے سروس ٹیکس اور ویٹ بھی دیتے ہیں۔ کھانے کا ذائقہ تو بنانے سے آتا ہے، اس لےے سروس ٹیکس لگ جاتا ہے۔ سونے کے زیورات کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے، پہلے سونے پر ٹیکس دیا جاتا ہے اور اسے خوبصورت زیور میں بدلنے کے لےے اور پھر سروس ٹیکس دیا جاتا ہے۔ اس طرح سے کئی بار ایک ہی پروڈکٹ پر کسٹم ڈیوٹی، ایکسائز، چنگی، سرچارج، ویٹ اور سروس ٹیکس سب کچھ دینا ہوتا ہے۔سروس اور پروڈکٹس پر ٹیکس کی شرح الگ ہونابھی مسئلہ کھڑاکرتی ہے۔
ریاستوںکی ٹیکس کی شرحیںالگ الگ ہیں ، جس کے سبب ایک ہی چیز کی قیمت ریاستوںکے مطابق بدل جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے ایک ریاست کے باشندے دوسری ریاست سے اپنی ضرورت کی چیزیںخرید لیتے ہیں۔ کئی معاملوںمیںٹیکس کا تعین کافی پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ملک میںٹیکس سسٹم اور اسے وصول کرنے کے نظام میں یکسانیت نہ ہونے کے سبب کافی انتظامی پیچیدگیاںبھی پیدا ہوتی ہیں ۔ٹیکس کی محدود بنیاد اسے مو¿ثر بنانے میںرکاوٹ بنتی ہے۔
جی ایس ٹی کا عالمی منظر نامہ
دنیامیں 160 ملک جی ایس ٹی کو اپناچکے ہیں۔ سنگاپور میں1986 میں جی ایس ٹی لاگو کرنے کی کوشش شروع ہوگئی تھی اور 1994 میں اسے پوری طرح نافذ کردیا گیا۔ امریکہ میں وفاقی ڈھانچہ جی ایس ٹی جیسے وفاقی قانون کے مطابق نہ ہونے کے سبب وہاںیہ لاگو نہیں ہوپایا۔
ہندوستان میں سیاسی اور دوسرے اسباب سے ابھی تک جی ایس ٹی لاگو نہیں ہو پایا ، لیکن دیر آید درست آید کی کہاوت کو ثابت کرتے ہوئے اب اسے لاگوکرنا دنیاکے قدم سے قدم ملانے او رمعیشت کو توانائی سے بھر دینے کے لےے ایک قابل ستائش کوشش کی ہے۔
جی ایس ٹی کی راہ میں چیلنج
سب سے پہلے اسے لاگو کرنے کے لےے مختلف سیاسی پارٹیوں ، ان کی پارٹی پولیٹکس، متضاد مفاداور الگ الگ سوچ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ہندوستان میں سالوں سے بزنس کا ایک سسٹم بن گیا ہے اور جی ایس ٹی لاگو ہونے پر اس سسٹم میں بنیادی تبدیلی کرنی ہوگی۔ اس وجہ سے شروع میں کچھ مشکلیں آنا فطری ہیں، لیکن رفتہ رفتہ سسٹم آسان ہوتا جائے گا اور اس کافائدہ ملنے لگے گا۔
چھوٹے کاروباریوں کو شروع میںکچھ مسائل پیش آسکتے ہیں، کیونکہ ان کو کمپیوٹر پر ہی پورا حساب کتاب رکھنا اور پورے ملک میںلاگو سسٹم کے مطابق ہی سب کام کرنا ہوگا۔
ریاستوںکو جی ایس ٹی اپنے افسروں میںمداخلت جیسا لگ سکتا ہے۔کچھ ریاستیں اسے لاگو کرنے میں پُرجوش ہوسکتی ہیں، تو کچھ اس کے تئیں منفی ہوسکتی ہیں یا کچھ اشیاءیا پروڈکٹس کو اس سے باہر رکھنے کی منشا بھی جتا سکتی ہیں۔
جی ایس ٹی سے ہونے والے فائدے
ہندوستان کی تاریخ میں یہ بے مثال ہے کہ پورے ملک میںٹیکس کایکساںنظام لاگو ہورہا ہے۔اس سے جہاں انتظامی سطح میں یکسانیت آئے گی، وہیں پورے ملک میں ایک چیز کی قیمت برابرہوگی۔
پورے ملک میںایک چیز کی ایک ہی قیمت ہونے کے سبب پوشیدہ فروخت پربریک لگے گا اور جو شخص جس جگہ کا باشندہ ہوگا،وہیںسے سامان کی خریداری کرے گا۔
پیچیدہ قوانین اور ریاست اورمرکز کے ذریعہ وصول کےے جانے والے ٹکیسوں کے سبب کاروباریوںکو کئی قسم کے کھاتے اور کاغذات رکھنے پڑتے تھے۔ اس سے کئی طرح کی پیچیدگیاںپیدا ہوتی تھیں اور کئی بار بے ضابطگیاںبھی کی جاتی تھیں۔ اب پورے سسٹم کی آرام دہ اور آسان شکل ہوگی اور بزنس مین کو ایک ہی کھاتہ رکھنا ہوگا۔ مرکزی ٹیکس جیسے کسٹم ڈیوٹی،سروس ٹیکس،ایڈیشنل ٹیکس،سینٹرل ویٹ اور ریاستوںکے ذریعہ لگائے جانے والے ٹیکس جیسے انٹر ٹینمنٹ ٹیکس، ویٹ وغیرہ کا جی ایس ٹی میںضم ہوجائےں گے۔انٹری ٹیکس اور چنگی کو ختم کردیا جائے گا۔ اس سے ٹیکس کی ادائیگی آسانی سے ہوگی اور بے ضابطگیو ں کے امکانات بھی ختم ہوجائیں گے۔ ٹیکس کی ادائیگی مو¿ثر ہوگی اور اس کی کوانٹیٹی بھی بڑھے گی۔
ایکسپورٹ اور اشیاءکی انٹراسٹیٹ سیل پر صفر شرح رہے گی۔
کالا بازاری پر روک لگے گی۔
جی ایس ٹی میں سرچارج،ایڈیشنل ٹیکس، اسپیشل ٹیکس،ٹرن اوور ٹیکس کے لےے گنجائش نہیں ہے۔ بہت سے ٹیکس جیسے سیل ٹیکس، انٹرٹینمنٹ ٹیکس،لگژری ٹیکس وغیرہ بھی نہیں دینے ہوں گے۔ اس کی وجہ سے صارفین کو ایک ہی پروڈکٹ پر یا سروس پر بہت سارے ٹیکس نہیں دینے ہوں گے۔
کنزیومر جس ٹیکس کی ادائیگی کرے گا،وہ سیدھا سرکار کے پاس جائے گا او راس طرح کنزیومر براہ راست ملک اور سماج کی ترقی میں اپنا تعاون دے گا۔ اس طرح ہندوستان کی ہم آہنگی اور اتحاد میں چار چاند لگاتے ہوئے ملک اقتصادی طور پر بھی ایک ہوگا۔
کل ملا کر یہ واضح ہے کہ جی ایس ٹی کے لاگو ہونے سے ہندوستان میں ٹیکس سسٹم میںمثبت تبدیلی ہوگی۔ وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کرتے ہوئے ٹیکس قوانین کو بنانے کا اختیار مرکز کے پاس آجائے گا۔ ریاستوں کے پاس انٹر اسٹیٹ بزنس ٹیکس لگانے کا اختیار ہوگا۔
اس لےے وقت کی مانگ، ملک کی معیشت کی بنیادی ضرورت اور ملک کے شہریوں کے مفاد کو دیکھتے ہوئے سبھی پارٹیوں، مرکزی اور ریاستی سرکاروں کو پارٹی کی سیاست سے اورمحدود مفادسے اوپر اٹھ کر ملک اورسماج کے مفادمیںکام کرتے ہوئے جی ایس ٹی کو صحیح ڈھنگ سے اور جلدی سے جلدی لاگو کرنے کے لےے ایمانداری سے کوشش کرنی ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here