کیا گرائونڈ ریزرو پر مسجد کی تعمیر ہو پائے گی؟

Share Article

عفاف اظہر، کناڈا
نیو یارک پر گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک کے دہشت گردانہ حملوں کے مقام کے قریبی علاقے میں ایک کمیونٹی سینٹر اور مسجد کی تعمیر کا منصوبہ متنازع بن گیا ہے۔ گراؤنڈ زیرو کے قریب واقع ایک پرانے کارخانے کو آجکل مسجد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک نئے منصوبے کے تحت دہشت گردانہ حملوں میں تباہ ہونے والے علاقے کے قریب اس پرانے کارخانے کی جگہ ایک مسجد اور مسلم کمیونٹی سینٹر قائم کیا جائے گا، لیکن کئی لوگوں کو اس منصوبے پر اعتراض ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے تقریباً تین ہزار افراد کے خاندانوں کا خیال کرنا چاہیے، کیونکہ وہ لوگ یہ نہیں چاہیں گے کہ حملہ آوروں نے جس مذہب کے نام پر حملے کیے، اسی مذہب کا ایک مرکز یہاں نمایاں ہو۔
امریکہ میں دو بڑے ٹی وی نیٹ ورکس نے نیو یارک پر گیارہ ستمبر کے حملوں کے مقام کے قریب ایک مسجد تعمیر کرنے کے منصوبے کے خلاف بنائے گئے اشتہارات چلانے سے انکار کر دیا ہے۔ اشتہارات میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں اور تباہی کی فوٹیج کے ساتھ اس حملے پر اسلامی شدت پسند تنظیموں کی خوشی کے اظہار اور جشن کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔ اشتہار میں کمنٹری کے طور پر کہا جاتا ہے ’گیارہ ستمبر کو ان لوگوں نے ہمارے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا۔ اب وہ تین ہزار امریکیوں کے اس قتل پر خوشی منانے کے لیے یہ مسجد بنانا چاہتے ہیں۔ یہ ایک مقدس مقام ہے، لیکن جس پر ہمیں غم ہوتا ہے اس پر یہ لوگ خوش ہوتے ہیں۔ یہ مسجد ان کی فتح کی علامت ہوگی اور مزید ایسے حملوں کی دعوت دے گی۔‘
امریکی صدر براک اوباما نے نیو یارک میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے مقام کے قریب مسجد اور اسلامی مرکز بنانے کے متنازع منصوبے کا دفاع کیا ہے۔اس منصوبے کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملے اسلامی انتہا پسندوں نے کئے تھے۔ لہٰذا یہاں مسجد کی تعمیر کا منصوبہ انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کرتا ہے اور حملوں میں مرنے والے تین ہزار افراد کے لواحقین کے جذبات کو مجروح کرتا ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ اس منصوبے سے متعلق کئی پہلو حساس ہیں، لیکن یہ اہم ہے کہ امریکہ میں مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی وہی آزادی حاصل ہو جو دوسرے مذاہب کے لوگوں کو ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’بطور شہری اور بطور صدر میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا و ہی حق حاصل ہے جو اس ملک میں دوسروں کو حاصل ہے۔ اس میں نیو یارک کے مینھیٹن کے علاقے میں مسجد اور کمیونٹی سینٹر کا منصوبہ بھی شامل ہے ۔جو تمام مقامی قوائد اور قوانین کے تحت بنایا جا رہا ہے۔یہ امریکہ ہے اور آزادی مذہب ہمارا ایک اہم اصول ہے، جس پر ہمیں قائم رہنا چاہیے۔ یہ اصول ہماری شناخت کا بنیادی حصہ ہے کہ اس ملک میں ہم تمام مذاہب کے لوگوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور مذہب کی بنیاد پر ہم ان میں تفریق نہیں کرتے۔
مسلمانوں کو مشکور ہونا چاہیے کہ جن انسانی حقوق سے تمام تر اسلامی ممالک کی اقلیتیں آج بھی محروم ہیں مگر ان تمام انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت ایک عیسائی ملک کا عیسائی صدراپنے ملک کی اقلیت مسلم شہریوں کو دے رہا ہے اور آفرین ہے ان تمام یہودی اور عیسائی اشتہاری کمپنیوں پر کہ جن نفرت انگیز اشتہاری مہمات  کا شکار ہو کر روزانہ مسلم ممالک میں مقیم غیر مسلم اقلیتیں بھیڑ بکریوں کی طرح کٹ مر رہی ہیں وہ انھوں نے مہم چلا کر منہ مانگے معاوضہ پر اپنے ملکی قانون اور اپنی مسلم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو مقدم رکھا اور عظیم ہے یہ امریکی قوم بھی کہ جس کی ایک بڑی تعداد اب بھی ملک میں مقیم تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت ان کے مذہبی حقوق کی آزادی اور اپنے ملکی قوانین کا پاس کرنا ہر حال میں افضل سمجھتی ہے جبکہ یہی مسلمان جو امریکا میں اپنے مذہبی حقوق کے لئے ملکی قوانین کا سہارا لینا اپنا حق سمجھتے ہیں، مگر اپنے اپنے ممالک میں مقیم مذہبی اقلیتوں کے حقوق ملکی قوانین کے ذریعہ غصب کرنا اور ان پر ہونے والے اندھے مظالم پر خاموشی تان کر بڑھاوا دینا اپنا حق سمجھتے ہیں اور آفرین ہے امریکی قوانین پر کہ جو صرف کہنے کی حد تک ہی نہیں بلکہ حقیقت میں اپنی قوم کے مجروح ہوتے ہوے جذبات سے کہیں زیادہ اپنے اقلیتی شہریوں کی مذہبی آزادی کے مجروح ہوتے حقوق کی حفاظت کے ضامن ہیں اور آج یہ حقیقت ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ ہم بذات خود دوسروں کے لئے ان انسانی و مذہبی حقوق کے کس قدر پاسدار ہیں، جن کو اپنے لئے طلب کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔؟ گرائونڈ زیرو پر مسجد کی تعمیر کے مخالفین بھی بجا ہیں کہ ہم حقوق دینا نہیں صرف لینا ہی جانتے ہیں ۔مساجد تعمیر کرنا نہ تو کوئی کمال ہے اور نہ ہی مذہبی شان و شوکت کی ضمانت۔ شاندار مساجد کی یادگاریں تو مغلوں نے بھی اپنے پیچھے بہت چھوڑی تھیں ،بلکہ اصل کمال تو مساجد کا وہ تقدس ہے جو اس کو صرف مسجد نہیں بلکہ کل انسانیت کے لئے  جائے امن اور جائے پناہ ثابت کرتی ہے ۔ جی ہاں! بالکل ویسی ہی انسانی حقوق کی ضامن مساجد کہ جنہوں نے مکہ میں مقیم یہودیوں اور عیسائیوں کو بھی اپنے دامن میں پناہ دے رکھی تھی۔ وہی مذہبی حقوق کی علمبردار مساجد کہ جن کے صحن ہر غیر مسلم کی عبادت کے لئے بھی اتنے ہی کشادہ تھے جتنے کہ کسی مسلمان کے لئے ، جن کے دامن ہتھیاروں سے لیس نہیں بلکہ انسانی عشق سے سرشار تھے ، جن کی ایزان سے بارود کی بدبو نہیں بلکہ پیار و محبت کی خوشبو آتی تھی ، جن کے میناروں کی پہچان ان کی اٹھان نہیں بلکہ انکی انسانیت کی بلندی تھی، جن کے گنبد اپنی رنگ و روشنی سے مزین نہیں بلکہ امن و سلامتی کی لو سے مالامال تھے ۔
کیا فائدہ ان مساجد کا جن کے نام ہی نہیں کام سے بھی مسجد ضرار کی بو اور میناروں سے فقط نفرت کی منادی ہو ؟ کیا فائدہ ان نمازیوں کا جن کے الفاظ انسانی جذبات کی مجروحی کا سبب بنیں تو ان کے اعمال انسانی حقوق کی پامالی کا درس دیں ؟ کیا فائدہ ان عقائد کا، جن پر ان کے ماننے والے بھی کاربند نہ ہوں ؟ کیا فائدہ اس مذہب کا جو کہلائے امن کا مگر دکھائے صرف دہشت ؟
رہی بات انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی تو ہم مسلمانوں کویہاں اپنے حقوق مانگتے ہوئے کیوں یاد نہیں رہتا کہ ہماری اقلیتیں عاشقین اسلام محبان رسول  اور وارثین انبیا کی زیر قیادت جس حیوانی سلوک سے دوچار ہیں کیا وہ اسلامی تعلیم اور رسول اللہﷺ کے فرمان کے عین مطابق ہے ؟ ارے ہم تو اپنے ملک میں کسی غیر مسلم کو انسان تک نہیں سمجھتے اور یہاں غیر مسلمانوں سے خود کے لئے انسانی حقوق فخر سے طلب کرتے ہیں ۔ جب خود ہم ہی مساجد کے تقدس اور انسانیت کے احترم سے عاری ہیں تو پھر یہ ظاہری عبادات کس کام کی ؟ دل سے کیا ایک سجدہ بھی بہت ہے ان ہزار سجدوں سے جو محبت اور انسانیت کی روح سے خالی ہوں ۔ اسلئے آج ان نام و نہاد بلند و بالا شان و شوکت سے بھرپور مساجد کی تعمیر سے کہیں زیادہ ضروری مساجد کے تقدس کی دلوں میں بحالی ہے ۔ عقائد اور مذہب اگر کسی قوم کو بہتر قوم نہ بنا سکیں وہ دین اور عبادات جو ایک انسان کو صحیح انسان نہ بنا سکیں تو پھر وہ عقائد مردہ عبادت بے جان ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *