BIG STORY:رافیل پرایک اوربڑاانکشاف

Share Article
Rafale
رافیل کولیکر ایک انگریزی اخبارنے ایک بارپھربڑا انکشاف کرنے کا دعویٰ کیاہے۔اخبارمیں چھپی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیاگیاہے کہ سرکارکی طرف سے اس سودے میں کئی طرح ڈھیل دی گئی۔انگریزی اخبار’دی ہندو‘میں چھپی رپورٹ کے مطابق، مرکزی سرکار اس سودے کولیکراتنی ہڑبڑی میں تھی کہ اینٹی کرپشن کلازجیسی اہم شرط کوہٹادیا۔ اس خبرکے چھپتے ہی کانگریس کے کئی لیڈروں نے ٹویٹ کرکے مودی سرکارپرطنزکساہے۔
انگریزی اخباررپورٹ کے مطابق، ’حکومت نے ایک یسکرو اکاؤنٹ رکھنے کے مالیاتی مشیروں کی بات کو بھی مسترد کر دیا، کیونکہ پی ایم او نے ساورین یابینک گارنٹی کی شرط کوختم کرنے کا دباؤ بنایاتھا‘۔
دی ہندو کی نئی رپورٹ میں دعویٰ کیاگیاہے کہ قریب 7187یوروکے رافیل سودے میں بھارت سرکار نے کئی طرح کی بے جوڑرعایتیں دی۔انٹرگورنمنٹل ایگریمنٹ(آئی جی اے) پردستخط کے کچھ دنوں پہلے ہی بدعنوانی مخالف جرمانہ اور یسکرو اکاؤنٹ کے ذریعے ادائیگی جیسے اہم تجاویز کو ہٹا دی گئی۔
وہیں اس نئی رپورٹ کے سامنے آتے ہی کانگریس ایک بارپھر حملہ آورہوگئی ہے۔کانگریس اس خبرکے چھپنے کے بعدٹویٹ کرکے کہاکہ ’’پی ایم اوکے ذریعے ساورین گارنٹی کوختم کرنے کے دباؤ کے بعد اب پتہ چلاہے کہ پی ایم اونے اسٹینڈرڈ اینٹی کرپشن کلازہٹانے کیلئے بھی کہا۔پی ایم اوآخرکسے بچانا چاہتاتھا؟
اخبارمیں رپورٹ میں کہاگیاہے کہ ’غیرواجب اثر، ایجنٹ یا ایجنسی کوکمیشن دینا، دسالٹ ایویشن اورایم بی ڈی اے فرانس کمپنی کے کھاتوں تک پہنچ وغیرہ پرجرمانہ کی جوڈیفنس حصول ضابطہ (ڈی پی پی) اپنائی جاتی تھی، اعلیٰ سطحی سیاسی مداخلت کی وجہ سے اسے بھارت سرکار نے سپلائی پروٹوکول سے ہٹادیا‘۔کانگریس لیڈرپی چدمبرم نے اس پرٹویٹ کرکے کہاکہ ’کوئی ساورین گارنٹی نہیں، بینک گارنٹی نہیں، کوئی ایسکرو اکاؤنٹ نہیں، پھربھی بڑی رقم ایڈوانس میں دی گئی…‘‘۔
غورطلب ہے کہ 23ستمبر2016کوہندوستان اورفرانس کے بیچ آئی جی اے پردستخط ہواتھا اس کے مطابق رافیل کواےئرکرافٹ پیکیج ایم بی ڈی اے فرانس کوہتھیاروں کے پیکیج کی فراہمی ہندوستانی فضائیہ کوکرنی ہے۔وہیں دی ہندو کا دعوی ہے کہ اس کے پاس جو بنیادی دستاویزہیں، ان کے مطابق اس وقت کے وزیردفاع منوہرپاریکر کی صدارت والی ڈی اے سی کی ستمبر2016میں میٹنگ ہوئی اوراس کے ذریعے آئی جی اے ،سپلائی پروٹوکول، آفسیٹ کانٹیکٹ اورآفسیٹ شیڈیول میں آٹھ بدلاؤ کئے گئے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *