سنتوش بھارتیہ
ہندوستان میں ایک عجیب چیز ہے۔ مہنگائی بڑھانے میں حکومت کو بہت مزہ آتا ہے۔ حکومت جان بوجھ کر مہنگائی بڑھاتی ہے یا ایسا کرنا حکومت کی مجبوری ہے، یہ حکومت جانے، وہ ماہر معاشیات جانیں جو جھوٹے اعداد و شمار تیار کرتے ہیں، لیکن ہندوستان کے لوگوں کی زندگی کتنی مشکل ہو رہی ہے، یہ بات نہ سیاسی جماعتیں سمجھ رہی ہیں اور نہ حکومت سمجھ رہی ہے۔ حالات بے قابو ہوں گے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے، کیونکہ حکومت کے پاس یا ماہر معاشیات کے پاس، خاص کر ان ماہر معاشیات کے پاس جو حکومت سے جڑے ہوئے ہیں، کوئی ایسا منصوبہ نہیں ہے جو بتائے کہ اس ملک کا غریب، اس ملک کا محروم، اس ملک کا اقلیتی طبقہ، اس ملک کا کسان، اس ملک کا محنت کش آخر جیے تو جیے کیسے۔ویسے ہی جن کی تھالی میں تین چیزیں رہتی تھیں، اب دو چیزیں رہنے لگی ہیں۔ بہتوں کی تھالی میں تو ایک وقت کچھ نہیں رہتا۔
اڑیسہ میں کالا ہانڈی جیسے علاقہ میں آج بھی لوگ فاقہ کشی سے مرتے ہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ اس ملک میں کہاں کہاں فاقہ کشی سے لوگ پریشان ہیں، کہاں فاقہ کشی سے موتیں ہو رہی ہیں اور کہاں فاقہ کشی سے ہونے والی موتوں کو بیماری سے ہونے والی موتیں بتایا جا رہا ہے، وہ خبریں اب میڈیا میں جگہ نہیں پاتیں۔ اگر ماہر معاشیات راستہ نہیں نکال سکتا تو راستہ کون نکالے گا، مہنگائی کے خلاف اٹھنے والی یہ آواز اگر حکومت نہیں سنے گی تو کون سنے گا؟ سیاسی جماعتیں مہنگائی کو یا قیمتوں میں اضافہ کو اپنی تحریک کا موضوع نہیں بناتیں۔ ابھی ابھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈیژل، رسوئی گیس اور زندگی جینے کے لیے ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ہمارے یہاں یہ جھوٹ چل رہا ہے کہ جب بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کی قیمت بڑھتی ہے، تبھی ملک میں پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے، جبکہ دونوں باتوں کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں ہے۔ جب بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت گھٹتی ہے تو ہمارے یہاں تیل کی قیمت نہیں گھٹتی اور تناسب تو کبھی بھی یکساں نہیں رہتا۔ جس تناسب میں وہاں قیمتیں بڑھتی ہیں، اس کے تین گنا یا چار گنا تناسب میں ہمارے یہاں قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں اور جب وہاں قیمتیں گھٹتی ہیں تو ہمارے یہاں قیمتیں گھٹائی نہیں جاتیں۔ ماہر معاشیات اس بھرم کو ہمیشہ بنائے رکھتے ہیں اور حکومت کچھ چنے ہوئے ایسے ماہر معاشیات کی بات مانتی ہے، جو دھیرے دھیرے حکومت کو لاتعلق کرنے میں اپنے ہنر کا استعمال کر رہے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ ایک یا دو فیصد لوگ شوق سے ہتھیار پکڑتے ہوں ، لیکن نوے فیصد لوگ شوق کے لیے ہاتھ میں ہتھیار نہیں پکڑتے۔ وہ لوگ ہتھیار پکڑتے ہیں ، کیونکہ انہیں روٹی نہیں ملتی۔ وہ ہتھیار پکڑتے ہیں، کیونکہ وہ مہنگائی اور بدعنوانی سے پریشان ہیں۔ وہ ہتھیار پکڑتے ہیں، کیونکہ ان کے یہاں ترقی نہیں ہوتی۔ اس صورتحال کو حکومت کیوں بڑھانا چاہتی ہے، یہ میں سمجھ نہیں پاتا۔ ہماری حکومت کیوں مائونوازوں کو ایک دلیل دے رہی ہے، جس کے سہارے وہ لوگوں سے کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو یہ تمہاری حکومت ہے، جو تمہارے بارے میں کچھ نہیں سوچتی۔ شاید اسی لیے وزیراعظم منموہن سنگھ جب پہلی بار اقتدار میں آئے تھے، تو ملک کے 60اضلاع ایسے تھے، جہاں نکسل ازم کا اثر تھا اور آج  270 اضلاع میں نکسل ازم کا اثر ہے۔2004سے لے کر آج تک ایسی صورتحال پیدا ہو گئی کہ ملک کے وزیر داخلہ کو گاہے بگاہے نکسل ازم کے خلاف بیان دیتے ہوئے سنا جاتا ہے۔ ایسے بیان، جو نکسل ازم کو ختم کرنے میں کوئی رول نہیں ادا کرتے، بلکہ وہ نکسل ازم کو نمایاں کرنے لگتے ہیں۔ اس فرق کو وزیر داخلہ کیوں نہیں سمجھتے؟ آپ مائونوازوں کو فروغ دے رہے ہیں یا ان سے مقابلہ کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔
حکومت اگر بیدار نہیں ہوتی تو اس ملک میں آئندہ کچھ سالوںمیں اناج کے لیے فساد شروع ہو جائیں گے۔ اگر حکومت اپنی پالیسیاں نہیں بدلتی ہے اور سیاسی جماعتیں بیدار نہیں ہوتی ہیں تو مجھے ڈر ہے کہ کوئی بھی شخص، جو لمبی گاڑیوں میں چلتا ہے یا بڑے مکانوں میں رہتاہے، وہ جب گھر سے نکلے گا یا اس کا بچہ اسکول جائے گا اور وہ محفوظ بھی رہے گا، اس میں شک ہے۔لوگ یہ مان کر چلیں گے کہ اگر آپ دس کلو چینی خریدتے ہیں تو آپ لگژری کررہے ہیں۔ ملک کے بہت سارے حصوں میں یہ صورتحال پیداہو گئی ہے۔ ہمارے میڈیا میں اسے جگہ اس لیے نہیں ملتی کہ یہ ابھی بڑے شہروں میں نہیں آئی ہے۔ دہلی، ممبئی ، کولکاتہ، چنئی، بنگلور جیسے شہر ابھی اس آگ سے محفوظ ہیں، لیکن ان شہروں کے ارد گرد یہ آگ پہنچ رہی ہے۔ حکومت کو اپنا فلاحی رول ادا کرنا چاہیے اور غریب کو کیسے راحت ملے، اس کا منصوبہ ہر حالت میں بنانا چاہیے۔ ہمارے ملک میں غریب بہت زیادہ ہیں، محروم بہت زیادہ ہیں۔ ان کی قوت خرید ختم ہو رہی ہے۔تمام بازار ملک کے دس فیصد عوام کے لیے بھرے پڑے ہیں۔یہ بازار لٹنے سے بچیں، ان بازاروں میں روشنی جلتی رہے،اس کے لیے ضروری ہے کہ غریب کے گھر میں بھی مٹی کے تیل کا دیا جلتا رہے۔ مٹی کے تیل کا دیا غریب کے گھر میں بجھے گا تو بڑے بڑے بازاروں کے بڑے بڑے نیون لائٹس کے اوپر پتھر چلیں گے۔ اس بات کو حکومت، حکومت کو چلانے والے سرمایہ کار اور سیاسی جماعتیں جتنی جلدی سمجھ لیں، اتنا ہی اچھا ہے۔ ورنہ آئندہ پانچ سالوں میں کیا ہوگا، پتہ نہیں؟ لیکن ایک چیز تو دکھائی دیتی ہے کہ پیٹرول کی قیمتیں جس رفتار سے موجودہ حکومت بڑھا رہی ہے، جب یہ حکومت جائے گی تو اس وقت پیٹرول کی قیمت سو روپے لیٹر ضرور ہوگی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بہت برا ہوگا۔ ہم حکومت کو شائستگی سے انتباہ کر سکتے ہیں اور وہ انتباہ دے رہے ہیں کہ برائے مہربانی جمہوریت کا مطلب لوگوں کے دل میں قائم رکھئے۔ اتنا اقتصادی ظلم مت کیجئے کہ لوگوں کو جمہوریت کے نام سے نفرت ہونے لگے۔ سیاسی جماعتیں اور حکومتیں، جو لوگوں کے ذریعہ چنی ہوئی ہیں، ان کا فرض ہے کہ وہ ایسے راستے نکالیں، جن سے مہنگائی گھٹے، زندگی جینے کے ضروری وسائل لوگوں کو آسانی سے مہیا ہوں اور بدعنوانی ، بے روزگاری کے اوپر لگام لگے۔ اگر یہ نہیں ہوگا تو بہت کچھ ایسا ہوگا، جو مہذب سماج میں نہیں ہونا چاہیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here