سنتوش بھارتیہ
صرف حکومت ہند ہی نہیں ، تمام حکومتوں کے بیدار ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ بیدار ہونے کا وقت اس لیے کہ اگر کوئی سرکار بہتر حکومت کرتی ہوئی نہیں دکھائی دیتی یا کوئی سرکار لوگوں کے لیے کام کرتی نہیں دکھائی دیتی تو اب لوگوں کا غصہ جلدی پھوٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ انّا ہزارے کی تحریک نے یہ دکھایا کہ لوگ سڑکوں پر آسکتے ہیں۔ کسانوں نے یہ دکھایا کہ اگر ان کے مفاد کے خلاف کوئی سرکار کام کرے گی تو وہ سڑک پر آ جائیں گے اور صرف ستیاگرہ ہی نہیں کریں گے بلکہ پرتشدد ستیاگرہ کریں گے۔ سرکار کو یا تو گولی چلانی پڑے گی یا کسانوں سے بات کرکے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔ بابا رام دیو کا ستیاگرہ بھی یہی بتاتا ہے کہ آپ اگر لوگوں کی بات نہیں سنتے ہیں، آپ سرکار چلاتے ہیں، لیکن آپ لوگوں کے مسائل سے، لوگوں کی فکرمندیوں سے خود کو دور رکھتے ہیں تو پھر آپ پریشانی میں پڑتے ہیں۔ پھر آپ کو اپنے وزیروں کو بھیجنا پڑتا ہے۔ اور جب وزیر کہیں بات چیت کرنے جائیں اور احتجاج کرنے والے وزیروں کی بات سے متفق نہ ہوں تو اس سے عزت اگر کسی کی جاتی ہے تو وہ سرکار کی جاتی ہے۔
اس سے پہلے راجستھان میں دو بار گوجروں نے دہلی- ممبئی کا راستہ بند کر دیا تھا۔ ان کی مانگ تھی کہ انھیں ریزرویشن ملے۔ پہلے وسندھرا جی کی سرکار اور بعد میں اشوک گہلوت کی سرکار نے یقین دہانی کراکے انھیں ٹالنا چاہا۔ سرکار نے یہ صاف نہیں کہا کہ وہ ریزرویشن نہیں دے سکتی۔ سرکار نے کہا کہ ریزرویشن کے مسئلہ پر غور کرے گی اور مرکز سے بات چیت کرے گی۔ دو بار گوجر سڑک پر آ چکے ہیں۔ جاٹ سماج کئی بار دہلی اور آگرہ کا راستہ بند کر چکا ہے۔ یہ وہ قصے ہیں جو دہلی کے آس پاس کے شہروں میں پیش آ رہے ہیں، جہاں کی خبریں آسانی سے اخباروں میں شائع ہو جاتی ہیں، ٹیلی ویژن پر آ جاتی ہیں۔ لیکن ملک کے بہت سارے حصے ہیں، جہاں بند ہوتا ہے، چکّا جام ہوتا ہے، لوگ سڑکوں پر آتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں، بلکہ بہت ساری جگہوں پر پر تشدد احتجاج کرتے ہیں، لیکن ان کی خبریں سامنے نہیں آ پاتیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ فکرمندی کی بات یہ ہے کہ نہ صرف سرکار ملک کے دور دراز کے حصوں میں کام کرتی نہیں دکھائی دیتی ، بلکہ جہاں سرکار کا مرکز ہے، صوبوں کی راجدھانی اور ملک کی راجدھانی، وہاں بھی وہ کام کرتی نہیں دکھائی دیتی ہے۔
تشویش کی بات یہ ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا سرکار کو کام کرنے نہ دینے کے پیچھے وزراء کا کم دماغ کام کر رہا ہے؟ وزراء کو سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ کس چیز کا فیصلہ کب لینا ہے اور کس چیز کو کس پیمانے پر لاگو کرنا ہے؟ یا پھر وزیر یہ نہیں سمجھ پاتے کہ مستقبل میں آنے والی چنوتیاں کیا کیا ہیں، جن کے بارے میں یہ ہدایات جاری کر سکیں؟ یا پھر وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے پاس وقت ہی نہیں ہے کہ اپنے وزراء سے کہہ سکیں کہ وہ لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کس قسم کی مہارت پیدا کر یں؟ یہ کہنا بیجا ہوگا یا بڑبولاپن ہوگا کہ ان دنوں جو وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم ہیں، ان میں یہ صلاحیت نہیں ہے۔ جمہوریت ہے تو ماننا چاہیے کہ صلاحیت ہے۔ لیکن وہ صلاحیت دکھائی کیوں نہیں دیتی؟ دوسرا پہلو یہ ہے کہ وزیر اگر کام کرنا چاہتے ہیں تو کیا نوکر شاہی انھیں کام کرنے سے روکتی ہے؟ کیا نوکرشاہی کا ملک میں کام نہ ہونے، ملک میں پریشانی اور دکھ بنے رہنے، لوگوں کے پاس تک ترقی یا مسائل کا حل نہ پہنچ سکنے کے پیچھے کوئی ذاتی مفاد ہے؟ اگر ذاتی مفاد ہے تو یہ بہت خطرناک ہے اور اگر یہ ذاتی مفاد نہیں ہے تو کیا آئی اے ایس، آئی پی ایس افسران کی تربیت میں کوئی کمزوری آ گئی ہے؟ وہ یہی ہنر سیکھتے ہیں کہ کس طرح مسائل کا حل نکالیں اور کس طرح بہترین مینجمنٹ کر سکیں۔ کیا اس میں کوئی کمی آئی ہے؟ اس کمی کو اچھے افسر نہ پہچانیں اور برے افسر اسے اپنی طاقت بنائیں، یہ خطرناک صورت حال ہے۔ شاید اسی لیے ملک میں جگہ جگہ پر تشدد احتجاج ہو رہے ہیں، جگہ جگہ سڑکیں روکی جا رہی ہیں، ٹرین روکی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود ہماری نوکرشاہی ہوش کے ناخن نہیں لے رہی ہے۔
نوکر شاہی یا سیاسی لیڈر، جو اقتدار میں ہیں یا وہ بھی جو اقتدار میں نہیں ہیں بلکہ حزب اختلاف میں ہیں، ان کا ہوش میں نہ آنا یا بیدار نہ ہونا جمہوریت کے لیے اچھا اشارہ نہیں ہے۔ اب لوگ اپنے مسائل کو لے کر صرف میمورنڈم دینے تک کو اپنا فریضہ نہیں مانتے۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ سرکار کو، سرکار کے کسی وزیر کو یا سرکار کے کسی بڑے اہل کار کو اپنے مسائل سے متعلق ایک میمورنڈم دے دو اور پھر اس کی کاپی لے کر اخبار کے دفتر میں دے دو اور اس کے بعد لوگ اپنے فریضہ کی تکمیل مان لیتے تھے۔ سیاسی پارٹی، جو لوگوں کے مسائل سے جڑنے میں فخر محسوس کرتی تھی، اُن مطالبات کو لے کر احتجاج کرتی تھی، ایک دور مکمل ہوتا تھا، لیکن اب نہ سیاسی پارٹیاں مہم چلاتی ہیں اور نہ مسائل سے پریشان گروپ میمورنڈم دے کر مطمئن ہوتا ہے۔ اب وہ چاہتا ہے کہ اس کے مطالبات پر فوراً کام ہو اور اس کے لیے وہ پر تشدد احتجاج کرنے سے نہیں جھجکتا۔ پورا سیاسی نظام اس وقت بیہوشی کے عالم میں ہے۔ ہندوستان کے کئی بڑے افسروں سے گذشتہ دنوں میری بات چیت ہوئی۔ ان کا ماننا ہے کہ پورا جمہوری تانا بانا تھوڑا ہل رہا ہے۔ حکومت کا ڈھانچہ مضبوط نہیں رہا۔ اب اگر حکومت ہند کے بڑے عہدیدار یہ ماننے لگیں تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں بنیادی گڑبڑی ہے، کمزوری ہے۔ اس کمزوری کو دور کرنے میں ان سبھی کو ہاتھ بنٹانا ہوگا، جو جمہوریت کو مضبوط ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے ہیں تو ہماری جمہوریت محدود جمہوریت میں بدلنے لگے گی۔ محدود جمہوریت پاکستان میں ہے، محدود جمہوریت بنگلہ دیش میں بھی ہے۔ ان ممالک میں جمہوری سرگرمیاں نہیں ہوتیں اور اگر ہوتی بھی ہیں تو وہ کہیں نہ کہیں سے طے ہوتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عام آدمی کا مسئلہ ان دونوں ممالک میں کبھی حل ہی نہیں ہو پاتا۔ خوش قسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں اگر سرکاروں نے لوگوں کے مسائل کو نہ سنا، لوگوں کی فکرمندیوں کو نہ سمجھا اور لوگوں کی پریشانیوں سے لڑتے ہوئے وہ نہیں دکھائی دیں تو شاید ہم بھی محدود جمہوریت کے راستے پر چلنے لگیں گے۔
یہ خطرہ آج کے لیڈر ، جن میں سونیا گاندھی، لال کرشن اڈوانی، خود منموہن سنگھ، وزیر خزانہ پرنب مکھرجی، پرکاش کرات، جے للتا، کروناندھی، ملائم سنگھ، لالو یادو، نتیش کمار، ممتا بنرجی سب اس میں شامل ہیں، لمبی فہرست ہے۔ وہ سارے لیڈر جو ملک کو چلاتے ہیں، اگر اس خطرے کو نہیں سمجھیں گے اور خود کو چھوٹے چھوٹے مفاد تک یا چھوٹی چھوٹی دوری کے سفر کا راہی مانیں گے تو ملک میں جمہوریت کتنے دنوں تک بچی رہے گی، کہا نہیں جاسکتا۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہم نقار خانے میں طوطی کی طرح ہیں۔ ہمیں معلوم ہے، میڈیا میں ہمارے ساتھیوں کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ملک میں جمہوریت رہے، نہ رہے اور اسی لیے وہ اپنے کو صحیح صحافت کی سمت میں نہیں چلانا چاہتے۔ ان کے لیے اس ملک کی حکومت کو، اس ملک کی انتظامیہ کو ہوش دلانا ان کا فرض ہے۔ لیکن ہم بھلے ہی نقار خانے میں طوطی ہوں، ہم ناانصافی کے خلاف اپنا ہاتھ ہمیشہ کھڑا کریں گے۔ حکومتوں کا نکما پن، انتظامیہ کا نکما پن، لیڈروں کا نکما پن اور عوام کی آواز کو، عوام کے درد کو، عوام کے خواب کو نہ سننے کی عادت کو فروغ دینا اس ملک کے لوگوں کے ساتھ اور جمہوریت کے خلاف ایک قابل جرم فراموشی ہے۔ یہ فراموشی دور ہو، اس کے لیے عوام کو اپنی آواز تھوڑی اور اونچی کرنی ہوگی۔
انّا ہزارے اور بابا رام دیو کی تحریکوں کے درمیان کم از کم چار مہینے کا فرق دکھائی دیا۔ ان چار مہینوں میں نہ حکومت ہند ہوش میں آئی، نہ ریاستوں کی حکومتیں بیدار ہوئیں۔ اب جن ایشوز کو لے کر لوگ فکرمند ہیں، جن میں کسان شامل ہیں، طالب علم شامل ہیں، مزدور شامل ہیں، سول سوسائٹی شامل ہے اور ان فکرمندیوں کو اگر حکومت فکرمندی نہیں سمجھتی تو یہ مسئلہ عوام کا نہیں ہے، یہ مسئلہ حکومتوں کا ہے۔ اور حکومتیں اگر آج بھی ہوش میں نہیں آئیں تو عوام ایک بہتر متبادل کی کمی کے سبب انارکی کی طرف بھی قدم بڑھا سکتے ہیں۔ اس کا خطرہ لگاتار ہمارے سامنے دکھائی دے رہا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ اس خطرے کو ہم دیکھ رہے ہیں، لیکن اس خطرے کو سرکار نہیں دیکھ رہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here