افغانستان میں حکومت اور طالبان جھڑپوں کے فریق ہیں: اشرف غنی

Share Article

افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ طالبان سے مذاکرات ملک میں سیاسی حل کی کنجی ثابت ہو ں گے۔ غنی نے استنبول میں صدر کے دولما باہچے دفتر میں منعقدہ ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسیس کی وزارتی سطح پر کانفرس میں شرکت کی۔صدر غنی نے اس موقع پر اپنے خطاب میں سیکورٹی و اقتصادی شعبوں میں افغانستان میں اہم سطح کی خدمات فراہم کرنے والے ترکی کا شکریہ ادا کیا۔

افغانستان کے سلسلہ امن کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے قیامِ امن اور جھڑپوں کے خاتمے کے لیے متحدہ امریکہ، یورپی یونین اور خطے کے ممالک سمیت عالمی برادری سے تعاون کا مطالبہ کیا۔انہوں نے افغان حکومت اور طالبان کے ملک میں تصادم کے مرکزی فریقین ہونے کی توضیح کرتے ہوئے بتایا کہ ’طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ ِ راست مذاکرات افغانستان میں سیاسی حل کی کنجی ثابت ہوں گے۔افغانستان میں وسیع پیمانے کی فائر بندی کی اہمیت کی جانب اشارہ دینے والے صدر اشرف غنی نے اس امر پر زور دیا کہ ملک میں جھڑپوں کا سد ِ باب کرنے کے لیے ایک میکانزم کا قیام لازمی ہے۔انہوں نے ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسیس کے فریق ممالک کے نمائندوں پرمشتمل ایک اموری گروپ اورقومی سیکورٹی مشرا سمیت بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشاورتی گروپ کے قیام اور اس گروپ کے سلسلہ امن پر کام کرنے کے لیے کابل میں یکجا ہونے کی تجویز پیش کی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *