کیا گل کھلائے گا حکومت اور راج بھون کا ٹکرائو؟

Share Article

اشرف استھانوی
حکومت اور راج بھون کے درمیان چھڑی اختیارات کی جنگ نے بہار کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو ایک بار پھر بد حالی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ کیوں کہ اس جنگ میں سیاست حاوی ہو گئی ہے اور اعلیٰ تعلیم کے بنیادی مسائل دب کر رہ گئے ہیں۔ ایسے میں اعلیٰ تعلیم سے دلچسپی رکھنے والوں کی زبان پر ایک ہی سوال ہے کہ آخر کیا گل کھلائے گا حکومت اور راج بھون کا ٹکرائو؟
اس ٹکرائو اور فساد کی جڑ بہار یونیورسٹی ایکٹ 1976 کو مانا جا رہا ہے، جس کی رو سے ریاست کی یونیورسٹیوں کے اخراجات تو حکومت بہار برداشت کرتی ہے جب کہ تعلیمی اور انتظامی کنٹرول چانسلر یعنی ریاستی گورنر کے ہاتھوں میں ہوتا ہے،لیکن دو نوں ہی فریق اس معاملے میں اپنی بالا دستی قائم رکھنے کی کوشش میں اکثر ٹکراتے رہتے ہیں۔ یہ ٹکرائو اس صورت میں زیادہ شدت اختیار کر جاتا ہے جب مرکز اور ریاست میں الگ الگ سیاسی جماعتوں کی حکومت ہوتی ہے۔بہار میں اس وقت یہی صورت حال ہے۔
بہار کے موجودہ گورنر دیوا نند کنور کا ریاست کی نتیش حکومت کے ساتھ ٹکرائو کا سلسلہ 2009 میں اس وقت شروع ہوا جب محکمہ اعلیٰ تعلیم کے اس وقت کے سکریٹری کے کے پاٹھک نے محکمہ میں عام مبینہ لا قانونیت کے خلاف مہم چھیڑنے کا اعلان کیااور اس کے تحت مگدھ یونیورسٹی بودھ گیا کے اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر بی این پانڈے کے خلاف مقدمہ درج کرنے، یونیورسٹیوں سے حاضری کی تفصیل روزانہ طلب کرنے اور درس و تدریس کے معاملوں کی جانچ کے لئے محکمہ کے افسران کو مقرر کرنے ، وائس چانسلر وں کی میٹنگ طلب کرنے اور یونیورسٹیوں کو براہ راست ہدایات جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کاروائی سے اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں ہنگامہ مچ گیااور اسے یونیورسٹیوں کی خودمختاری پر حملہ اور اعلیٰ تعلیم کو نوکر شاہوں کے کنٹرول میں دینے کی سازش کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد گورنر دیوا نند کنور نے ایک فرمان جاری کرکے کہا کہ یونیورسٹیوںکو تعلیمی اور انتظامی معاملے میں ہدایات جاری کرنے کااختیار صرف چانسلر کو ہے۔ اس پر محکمہ کے سکریٹری کے کے پاٹھک نے راج بھون کو جو تلخ جوابی خط بھیجا اس نے تو آئینی بحران کی کیفیت پیدا کردی۔ اس کے بعد گورنر نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ریاستی حکومت کے پینل کو نظر انداز کر دیا اور اپنی صوابدیدسے یونیورسٹیوں میں وائس چانسلروں کا تقرر کر دیا۔ جس سے حکومت اور راج بھون کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔ اس مرحلے میں حکومت کو راج بھون کے سامنے جھکنا پڑا۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار گورنر سے ملے تب جا کر یہ معاملہ رفع دفع ہوا۔
2011 کے آغاز میں ایک بار پھر وائس چانسلروں کی تقرری کے ہی معاملے میں حکومت اور راج بھون کے درمیان اس وقت ٹکرائو کی صورت پیدا ہو گئی جب گورنر دیوا نند کنور نے یونیورسٹیوں کے چانسلر کی حیثیت سے پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ ، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر یونیورسٹی، مظفر پور ، جئے پرکاش یونیورسٹی چھپرہ،  بی این منڈل یونیورسٹی مدھے پورہ اور مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی پٹنہ کے لئے عارضی وائس چانسلروں کا تقرر اپنے طور پر کر دیا۔ دراصل ان یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کی مدت کار جنوری 2011 میں ختم ہو رہی تھی ۔اس کے پیش نظر حکومت بہار کے محکمہ فروغ انسانی وسائل نے 5 جنوری 2011 کو وائس چانسلر وں کے تقرر کے لئے 10 ناموں کا پینل راج بھون کو بھیجا تھا۔ بہار یونیورسٹی ایکٹ 1976 کی دفعہ (2 )10 کے تحت چانسلر کو ریاستی حکومت سے مشورہ لینا ضروری ہے، مگر اس پر عمل لازمی نہیں ہے۔ گورنر نے اسی اختیار خصوصی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاستی حکومت کے پینل کو نظر انداز کر دیا اور 23 جنوری 2011 کو مذکورہ پانچوں یونیورسٹیوں میں عارضی وائس چانسلروں کا تقرر کر دیا جس سے ایک بار پھر حکومت اور راج بھون کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی۔حکومت کو اس بات پر سخت اعتراض تھا کہ گورنر نے ریاستی حکومت کے مشورے کو نظر انداز کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ عارضی بحالی کی بلکہ حکومت کے پینل میں شامل کسی بھی نام کو قابل اعتنا نہیں سمجھا ۔ جب کہ اس معاملے میں راج بھون کے ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ پینل کو اس لئے نظر انداز کرنا پڑا، کیوں کہ پینل میں زیادہ ترسیاسی پس منظر رکھنے والے اعلیٰ ذات کے لوگوں کو ہی شامل کیا گیا تھا۔ درج فہرست ذات پسماندہ طبقہ یا خواتین کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اقلیتی فرقہ سے بھی صرف ایک نام دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ذرائع کا یہ بھی ماننا ہے کہ یو جی سی کے ضابطہ کے مطابق وائس چانسلر وں کی تقرری سے پہلے درخواستوں کی جانچ کے لئے سرچ کمیٹی کی تشکیل ضروری ہے جس میں ریاستی حکومت، یو جی سی اور چانسلر کے نمائندوں کو شامل کیا جانا چاہئے لیکن اس معاملہ میں اس ضابطے پر عمل نہیں ہوا۔
اس کے علاوہ ناموں کو راج بھون پہنچنے سے پہلے ہی عام کر دیا گیا، لیکن حکومت، راج بھون کے اس استدلال سے متفق نہیں ہے۔ وہ عارضی تقرر ی کو بھی غیر ضروری مانتی ہے۔ اس لئے محکمہ کی طرف سے ان وائس چانسلروں سے مالی اختیارات سلب کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ایسے ہی حالات اپریل 2010 میں اس وقت پیدا ہو گئے تھے جب چانسلر نے حکومت کے مشورہ کے بغیر ڈاکٹر اروند کمار کو مگدھ یونیورسٹی بودھ گیا اور ڈاکٹر سبھاش پرساد سنگھ کو ویر کنور سنگھ یونیورسٹی آرہ کا وائس چانسلر مقرر کر دیا تھا جس سے ناراض ہو کر حکومت نے ان دونوں کے مالی اختیارات سلب کر لئے تھے۔ یہ معاملہ پٹنہ ہائی کورٹ بھی پہنچا تھا جہاں سنگل بنچ نے حکومت کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا مگر بعد میں چیف جسٹس کی سربراہی والی ڈویزن بنچ نے یہ کہتے ہوئے مذکورہ وائس چانسلروں پر لگائی گئی روک ہٹالی تھی کہ وائس چانسلر کا عہدہ ایسا نہیں ہے کہ اس کے کام کرنے پر روک لگائی جائے۔ اس معاملے میں بھی وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی دو راندیشی اور مصلحت کوشی کام آئی تھی اور معاملہ کسی طرح رفع دفع ہو گیا تھا۔
لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس ٹکڑائو کی صورت کو حتمی طور پر ختم کرنا چاہتی ہے۔ اس کے لئے اس نے قانون سازی کا سہارا لیا ہے۔ حکومت نے گورنر اور چانسلر کے اختیارات کو محدود کرنے کی غرض سے نیا یونیورسٹی ایکٹ لانے کا فیصلہ کیا ہے جو 1976 کے بہار یونیورسٹی ایکٹ کی جگہ لے گا۔ حکومت نے بہار یونیورسٹی ترمیمی بل 2010 اور پٹنہ یونیورسٹی ترمیمی بل 2010 کو ریاستی قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں سے منظور کر الیا اور اسے منظوری کے لئے گورنر کو بھیج بھی دیا مگر ظاہر ہے کہ اسے گورنر کی منظوری نہیں مل سکتی تھی۔ چنانچہ راج بھون نے اسے اپنے تبصرہ کے ساتھ لوٹا دیا تو قانون سازیہ کے رواں بجٹ اجلاس کے دوران یہ معاملہ پھر قانون سازیہ کے زیر غور آیا تو اس پر زبردست ہنگامہ ہوا۔ حکومت نے اسے ہر حال میں نافذ کرنے کا قانون سازیہ میں عزم ظاہر کیا  تو اسپیکر نے قانون ساز اسمبلی میں یہ رولنگ دے دی کہ غیر مالی بل  گورنر کی منظوری کا محتاج نہیں۔
یعنی اس بل کو غیر مالی قرار دے کر اس کی منظوری کے مسئلہ کو آسان بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ویسے بھی گورنر کسی بھی بل کو بار بار نہیں لوٹا سکتے ہیں۔ اس لئے حکومت کے حوصلے بلند ہیں اور وہ متعلقہ قوانین میں ترمیم کرکے چانسلر کے اختیارات کو محدود کرنے کی پوری تیاری کر چکی ہے۔
اس سلسلے میں جب چوتھی دنیا نے گورنر دیوا نند کنور سے سیدھی بات چیت کی تو انہوں نے حکومت اور راج بھون کے درمیان ٹکرائو کی کسی بھی صورت سے صاف انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور راج بھون کے تعلقات مناسب سطح پر ہیں۔ دونوں کا اپنا اپنا دائرہ کار ہے، جس کے اندر رہتے ہوئے دونوں کام کرتے ہیں ۔ وزیر تعلیم اُن سے ملتے رہتے ہیں اور مشورے کرتے رہتے ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ ہر مشورہ کو ماننا میرے لئے ضروری نہیں ہے۔ جہاں تک عارضی وائس چانسلر وں کی تقرری کا سوال ہے تو ضرورت کے تحت مجھے یہ عارضی نظم کرنا پڑا، کیوں کہ ضابطہ کی کارروائی پوری نہیں ہوئی تھی اور اس کے انتظار میں وائس چانسلروں کے عہدے خالی نہیں رکھے جا سکتے تھے۔ نتیش حکومت میں مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی کے علاوہ جنرل یونیورسٹیوں میں کسی مسلمان کو وائس چانسلر بنانے کی روایت ختم کئے جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں گورنر کا کہنا تھاکہ وہ اس معاملے کودیکھیں گے اور کوشش کریں گے کہ جنرل یونیورسٹیوں میں بھی مسلم نمائندگی کی سابقہ روایت پھر بحال ہو سکے۔
خلاصہ یہ کہ حکومت اور راج بھون کا ٹکرائو لگاتار بڑھتا جا رہا ہے اور ریاست کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں ایک ایسا ناسور پیدا ہو گیا ہے جس کا علاج کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس ٹکرائو کا انجام کیا ہوتا ہے اور بہار کے اعلیٰ تعلیمی نظام پر لگا سوالیہ نشان کیسے ہٹتا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *