اچھی صحت کا راز

Share Article

 

اچھی صحت کا راز کیا ہے اور انسان تندرست رہے اس کا نسخہ کیمیا کیا ہے۔ ہمیں اس پر غور کرنا چاہئے اور تجربہ کاروں نے جو باتیں بتائی ہیں ان پر عمل پیرا ہوجانا چاہئے۔ ہر انسان کے جسم سے بیماریوں سے لڑنے کی ایک فطری طاقت ہوتی ہے جس کو قوت مدافعت کہتے ہیں اس کے ذریعہ انسانی جسم مختلف امراض سے لڑتا ہے، یہ قوت بچوں اور بوڑھوں میں کمزور ہوتی ہے لہٰذا ان کی صحت پر زیادہ توجہ دینا چاہئے۔ اسی طرح عام انسانوں میں بھی امراض سے مقابلہ کرنے کی قوت کم وبیش ہوتی رہتی ہے ، جیسا کہ مشاہدہ ہے کہ سردی کے موسم میں بعض لوگ ذرا سی بے احتیاطی سے نزلہ وزکام کا شکار ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ صحت مند رہتے ہیں۔ ایسے سبھی لوگوں کو پہلے یہ سمجھ لینا چاہئے اچھی صحت کیا ہے؟

 

Image result for good health

اچھی صحت کا راز کیا ہے اور انسان تندرست رہے اس کا نسخہ کیمیا کیا ہے۔ ہمیں اس پر غور کرنا چاہئے اور تجربہ کاروں نے جو باتیں بتائی ہیں ان پر عمل پیرا ہوجانا چاہئے۔ ہر انسان کے جسم سے بیماریوں سے لڑنے کی ایک فطری طاقت ہوتی ہے جس کو قوت مدافعت کہتے ہیں اس کے ذریعہ انسانی جسم مختلف امراض سے لڑتا ہے، یہ قوت بچوں اور بوڑھوں میں کمزور ہوتی ہے لہٰذا ان کی صحت پر زیادہ توجہ دینا چاہئے۔ اسی طرح عام انسانوں میں بھی امراض سے مقابلہ کرنے کی قوت کم وبیش ہوتی رہتی ہے ، جیسا کہ مشاہدہ ہے کہ سردی کے موسم میں بعض لوگ ذرا سی بے احتیاطی سے نزلہ وزکام کا شکار ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ صحت مند رہتے ہیں۔ ایسے سبھی لوگوں کو پہلے یہ سمجھ لینا چاہئے اچھی صحت کیا ہے؟ جو آدمی ظاہری طور پر صحت مند وتوانا نظر آئے عام طور پر اسے اچھی صحت والا سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اچھی صحت کا مطلب ہے بیماریوں سے بچے رہنا۔ اگر کوئی دیکھنے میں بظاہر بھاری تن وتوانا دکھائی دے تو ضروری نہیں کہ وہ صحت مند بھی ہو، اس کے مقابلہ میں کوئی ظاہری طور پر دبلا پتلا نظر آئے لیکن پوری طرح چاق و چوبند ہوتو ایسا شخص صحت مند قرار دیا جائے گا۔ اس لئے سمجھنے کی پہلی بات یہ ہے کہ اپنی صحت بنانے کے لئے اشتہاری دواؤں کے جال سے ہم بچیں، لوگوں کی نفسیات کو سامنے رکھ کر ٹی وی اور اخبارات کے ذریعہ مختلف کمپنیاں اپنی ادویہ کی تشہیر کرتی ہیں، لیکن ایسی دواؤں سے فائدہ نہیں ہوتا، لہٰذا بیمار کو چاہئے کہ وہ اپنے علاج کے لئے کسی قابل معالج سے رجوع کرے اور اشتہاری دواؤں کے پھیر ے میں نہ آئے، نہ اپنی مرضی سے خود کا علاج شروع کردے ، کیونکہ ایسے کسی بھی عمل سے فائدہ کے بجائے گہرا نقصان ہوسکتا ہے پھر ہر انسان کا جسمانی مزاج الگ الگ ہوتا ہے اور سب کے لئے ایک دواکارگر نہیں ہوسکتی، اخبارات میں صحت کے کالم بھی شائع ہوتے ہیں جن میں ڈاکٹر بیماری حال پڑھ کر دوا تجویز کردیتے ہیں یہ طریقہ بھی طبی نقطہ نظر سے صحیح نہیں ہے کیونکہ کوئی معقول ڈاکٹر مریض کو دیکھے بغیر یا اس کے مرض کے بارے میں جانچ کیے بغیر اور رپورٹیں دیکھے بغیر علاج تجویز نہیں کرتا، صحت مندرہنے کے لئے ایسے سبھی اخباری علاجوں سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔

 

Image result for good health

 

ایک اور بات یاد رکھیں کہ انسانی صحت اس کی سوچ سے بھی گہرا تعلق ہوتا ہے اگر انسانی سوچ وفکر مثبت رہے گی یا وہ منفی رجحان سے اپنے آپ کو بچائے رکھے گا تو اس کا مزاج بھی مستحکم رہے گا۔ وہ اخلاقی خرابیوں سے بچے گا ، غصہ ، اشتعال، جذباتیت، بغض، لالچ اور غرور سے بھی دامن بچائے گا۔ تمام انسانوں کی صحت میں سوچ وفکر کا تعلق ضرور ہے۔ بری سوچ اور عادتیں آدمی کی محفوظ توانائی کو ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ جسم میں نئی توانائی پیدا ہونے میں رکاوٹ بنتی ہیں اور ان کا براہ راست اثر آدمی کے اعصابی نظام پر مرتب ہوتا ہے۔ تندرستی کو برقرار رکھنے کے لئے جہاں ہمیں غذا وقت پر لینے کی عادت ڈالنا چاہئے، وہیں متوازن غذا لینے کی اہمیت بھی سمجھنی چاہئے ۔ کسی دانا کا قول ہے کہ ’’انسان اپنے دانتوں سے خود کی قبر کھودتا ہے‘‘۔ کھانے پینے میں احتیاط برت کر انسان اس قول کو غلط ثابت کرسکتا ہے کیونکہ اطبا ء کے بقول تمام بیماریاں معدے کی خرابی کا نتیجہ ہوتی ہیں اور معدہ ثقیل غذاؤں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ انسانی صحت کا چہل قدمی سے بھی گہرا رشتہ ہے آج مصروف ترین زندگی میں سے تھوڑا وقت نکال کر ہر انسان چہل قدمی کرکے اپنے جسم کو متناسب رکھ سکتا ہے، واکنگ یا چہل قدمی ایک ورزش بھی ہے اور یہ آسان عمل ہے جسے ہر عمر کے فرد بآسانی انجام دے سکتے ہیں۔ یوں تو ورزش کو انسانی زندگی کا ایک اہم جزو ہونا چاہئے، ایک تندرست جسم کے لئے تھوڑی بہت ورزش لازم ہے لیکن خواتین اس میں زیادہ سستی برتتی ہیں۔ لیکن ماہرین فٹنس کیلئے کی جانے والی چہل قدمی کے بارے میں دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سے تھکن کم ہوجاتی ہے او ربیش از بیش فوائد حاصل ہوتے ہیں ، بوڑھے جوان سب کو ہی اپنے جسموں کو صحت مند رکھنے کیلئے چہل قدمی ضرور کرنا چاہئے۔ یہ ذہنی دباؤ کو کم کرکے اضافی چربی کو گھلانے میں مدد دیتی ہے، تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ صحت مند انسان کا تیز چلنا اس کے دل اور پھیپھڑوں کے لئے نہایت مفید اور امراض قلب کے لئے تریاق کا درجہ رکھتا ہے۔

مضموننگار: رانا اعجاز حسین

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *