لائن میں کھڑا کیا گولی ماری اور لاشیں بہادیں

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار
اگر  انصاف میں تاخیر کا مطلب انصاف سے محروم ہونا ہے تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ میرٹھ کے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ مئی 1987 میں میرٹھ میں ہونے والے فساد کو اب 25 سال پورے ہونے والے ہیں۔ اس فساد کی سب سے دردناک داستان ملیانہ گاؤں اور ہاشم پورہ میں لکھی گئی۔ خاکی وردی والوں کا جرم ہٹلر کی نازی فوج کی یاد دلاتا ہے۔ ملیانہ اور ہاشم پورہ کی سچائی سن کر روح کانپ جاتی ہے۔ ملک کے نظامِ قانون پر یہ ایک ایسا سیاہ دھبّہ ہے جس پر یقین نہیں ہوتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ نہتے اور معصوموں پر گولی چلانے والے گنہگار آزاد گھوم رہے ہیں، اور جنھوں نے اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو کھو دیا وہ در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ ملیانہ کے گنہگاروں کو سزا ملنا تو دور، ڈھنگ سے عدالتی کارروائی شروع بھی نہیں ہوئی ہے۔ ملیانہ گاؤں کے لوگ بات کرتے ہی ہچکیاں لے کر رونا شروع کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ صاحب، بہت دیر ہوگئی۔ اب تک تو صرف دو تین گواہوں کو ہی سنا گیا ہے۔ اس کیس میں تقریباً 73 گواہ ہیں۔ سبھی گواہوں کی بات پوری ہوتے ہوتے تو سب لوگ مر جائیں گے۔ کیا انصاف ہماری قبر پر ڈالیں گے۔ میرٹھ کے ملیانہ گاؤں جائیے یا پھر ہاشم پورہ جاکر دیکھئے۔ ان دونوں گاؤں میں شاید ہی ایسا کوئی خاندان ہے جن پر 1987 کے فسادات کا زخم نہیں ہے۔ دکان پر بیٹھا شخص کہے گا کہ میرے ابو کو فسادیوں نے مار دیا۔ چائے والا اپنے بھائی کی موت کا درد بتائے گا۔ کوئی اپنا زخم دکھانے لگ جائے گا۔ راہ سے گزرتے کسی سے بھی ملئے، سب کے دلوں میں فساد کی یاد تازہ ہے۔ اپنے کھوئے ہوئے اہل خانہ کا چہرہ یاد ہے۔ بیوہ ہوچکی عورتیں، جوان سے بوڑھی ہوگئیں۔ آنکھوں سے بہتے آنسو اور تھرتھراتے ہونٹوں سے جب الفاظ نکلتے ہیں تو کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔
1987 کا میرٹھ فساد خاکی وردی کی بربریت کا سب سے سیاہ باب ہے۔ ہاشم پورہ اور ملیانہ کے ملزم پروونشیل آرمڈ کانسٹیبولری یعنی پی اے سی کے جوان ہیں۔ پی اے سی پر ہاشم پورہ کے چالیس سے زائد نہتے مسلم نوجوانوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ یہ ملیانہ میں تلاشی کے بہانے گاؤں میں گھس کر لوگوں پر گولی چلانے کی ملزم ہے۔ کسی بھی مہذب سماج کے لیے یہ شرم ناک بات ہے کہ 22-23 مئی 1987 کے واقعہ پر عدالت کا اب تک کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے۔ گنہگاروں کو سزا نہیں ملی ہے۔ یہ صرف انصاف میں دیر ہونے والی بات نہیں ہے بلکہ یہ عدالتی شرارت کی ایسی مثال ہے جو یہ بتاتی ہے کہ ہمارے ملک کا سرکاری نظام خاکی وردی والوں کی بربریت کو لے کر کتنا سنجیدہ ہے۔
سچائی یہ ہے کہ آزادی کے بعد جتنے بھی فسادات ہوئے اُن میں سے ملیانہ اور ہاشم پورہ کے واقعہ نے مسلمانوں کے حواس کو سب سے زیادہ جھنجوڑا ہے۔ مسلمانوں کو لگنے لگا کہ سرکاری نظام ہی ان کا دشمن ہے۔ اُن پر حملہ کرتا ہے۔ پہلی بار مسلمان بے سہارا محسوس کرنے لگے۔ قانون و انتظامیہ پر سے ان کا اعتماد اٹھ گیا۔ میرٹھ فساد سے یہ پہلی بار سمجھ میں آیا کہ اسٹیٹ اسپانسرڈ فساد کسے کہتے ہیں۔ کسی بھی فساد میں پولس کا کیا رول ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ فسادات میں پولس کا ایسا رول پہلی بار دیکھا گیا، لیکن ایسا پہلی بار ننگی شکل میں دنیا کے سامنے آیا۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اس بٹالین پر پابندی لگانے ، اس کے عہدیداروں اور جوانوں کو سزا دینے کے نام پر کسی بھی سرکار نے کچھ بھی نہیں کیا۔ جب یہ فساد ہوا تب اتر پردیش میں کانگریس کی حکومت تھی اور مرکز میں راجیو گاندھی وزیر اعظم تھے۔ جسٹس راجندر سچر کی قیادت میں ایک تحقیقی کمیٹی نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ویر بہادر سنگھ اور راجیو گاندھی کو تفتیشی رپورٹ کے ساتھ خط بھی لکھا۔ لیکن دونوں نے ان کے مکتوب کو نظر انداز کر دیا۔ راجیو گاندھی کے بعد کئی وزیر اعظم آئے۔ ایسے بھی وزیر اعظم جنہوں نے میرٹھ کا دورہ کیا، ملیانہ گئے، ہاشم پورہ گئے لیکن یہاں کے لوگوں کو انصاف نہیں مل سکا۔ سرکار کی یہ لاپروائی قابل جرم ہے۔ یہ واقعہ کے تئیں سول سوسائٹی اورہیومن رائٹ گروپس کی عدم دلچسپی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ کیا سرکار کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ متاثرین کو انصاف دلائے اور گنہگاروں کو سزا دے۔ پچیس سال کا وقت کم نہیں ہوتا۔ انتظار کی بھی حد ہوتی ہے۔ کون کتنا انتظار کرے، اور کیوں کرے۔ اب تو یہی کہنا پڑے گا کہ اس فساد کے گنہگاروں کی فہرست میں سرکار بھی شامل ہوگئی۔
ہاشم پورہ ملک کا واحد مسلم محلہ ہے جس کے ہر گھر سے کسی نہ کسی کو پی اے سی کی وحشیانہ کارروائی کی بھینٹ چڑھنا پڑا۔ تقریباً چار سو نوجوان مردوں کو جسم کی ایک نہ ایک ہڈی تڑوانی پڑی۔ چار درجن کے قریب لوگ معذوروں میں تبدیل ہوگئے۔ بیواؤں کی آنکھوں میں آنسو اور مردوں کے جسم پر گہرے زخم ہاشم پورہ کی میراث ہیں۔ جب بھی کوئی اجنبی اس محلہ میں داخل ہوتا ہے تو مجمع لگ جاتا ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ فساد کے بارے میں پوچھنے آئے ہو۔ ہم نے کہا، ہاں۔ پوچھا، کہاں سے آئے ہو۔ ہم نے کہا کہ چوتھی دنیا سے۔ ایک بوڑھے نے کہا، کافی دنوں کے بعد آئے ہو۔ سب سے پہلے تو چوتھی دنیا ہی ہماری آپ بیتی کو دنیا کے سامنے لایا تھا ورنہ کس کی ہمت تھی کہ کوئی سرکار اور پی اے سی کے خلاف خبر چھاپ دے۔
میرٹھ کے درمیان میں ہاشم پورہ کوئی بڑا محلہ نہیں ہے۔ صرف دو گلیاں ہیں۔ پی اے سی نے جن لوگوں کا قتل کیا اُن میں زیادہ تر مزدور تھے، غریب تھے۔ آج بھی اس محلہ میں بے روزگاری ہے۔ کوئی ٹھیلہ چلاتا ہے، کوئی مزدوری کرتا ہے۔ فساد کی وجہ سے ہاشم پورہ زمانہ سے کئی سال پیچھے چھوٹ گیا۔ ایک تو یہاں کے لوگ پی اے سی کے ظلم کے شکار ہوئے، پھر سرکار نے اسے حساس علاقہ قرار دے دیا۔ جب بھی شہر میں ماحول خراب ہوتا ہے تو سب سے پہلے پولس ہاشم پورہ کی ناکہ بندی کر دیتی ہے۔ بابری مسجد کا فیصلہ آنا تھا، تو پولس نے ہاشم پورہ کو گھیر لیا۔ پتہ نہیں اہل کاروں کے دماغ میں یہ کون سی بیماری ہے کہ مسلمانوں کو ہی فساد کی وجہ مانتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ جو لوگ متاثر ہوئے ہیں سرکار نے انھیں ہی گنہگار بنا دیا۔ اس سے ہوا یہ کہ اس محلہ میں مکان تو ہیں لیکن کوئی کرایہ دار نہیں آتا۔ جب سے فساد ہوا ہے یہاں کی زمین اور گھروں کی قیمت نہ کے برابر ہے۔ یہاں کے لوگ کہتے ہیں ہاشم پورہ کے چاروں طرف پراپرٹی کی قیمت آسمان چھو رہی ہے لیکن اس محلہ میں کوئی خریدار نہیں آتا۔ محلہ کے لڑکے میرٹھ شہر میں کہیںنوکری مانگنے جاتے ہیں تو محلہ کا نام بتاتے ہی اسے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ شہر کے لوگ بھی ہاشم پورہ کے لوگوں کو شک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔
ہاشم پورہ میں ہماری ملاقات ذوالفقار ناصر اور نعیم سے ہوئی۔ نعیم اُس وقت آٹھویں کلاس میں پڑھتے تھے جب پی اے سی انھیں اٹھا کر لے گئی تھی۔ صحت مند و تندرست تھا تو پی اے سی والے اسی بھی پکڑ کر لے گئے۔ لیکن جب ٹرک میں گولیاں چلیں تو اس کے آگے جو شخص تھا اس کا خون اور آنتیں اس کے جسم پر چپک گئیں۔ وہ چپ چاپ لیٹ گیا۔ پی اے سی والوں کو لگا کہ یہ مر چکا ہے۔ اٹھا کر نہر میں پھینک دیا۔ جب ٹرک چلا گیا تو ناصر اور نعیم وہاں سے ایک ساتھ واپس نکلے تھے۔ ذوالفقار ناصر نے راجیو گاندھی سے ملاقات بھی کی۔ ناصر نے بتایا کہ ملاقات کے دوران اس نے پورا واقعہ بتایا تھا، لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔ جب سرکار پر دباؤ بڑھنے لگا تب وزیر اعلیٰ ویر بہادر سنگھ نے سی بی سی آئی ڈی سے جانچ کرائی۔ اس نے رپورٹ جمع کرانے میں 7 سال لگا دیے۔ تب تک لوگوں نے اس واقعہ کو بھلا دیا۔ پیپلز یونین فار ڈیموکریٹک رائٹ نے 1987 میں سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تھی، جس پر سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو ہاشم پورہ کے متاثرین کو 40000 روپے دینے کا حکم جاری کیا۔ لیکن گنہگاروں کو سزا کیسے ملے۔ اس پر کوئی بات نہیں بنی۔ جب سی بی سی آئی ڈی کی رپورٹ آئی تو اسے عام نہیں کیا گیا۔ ہاشم پورہ کے لوگوں نے سپریم کورٹ میں اپیل کی۔ ان لوگوں نے عدالت سے یہ اپیل کی کہ رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے اور گنہگاروں کو سزا دی جائے، لیکن سپریم کورٹ نے اس معاملہ کی سماعت نہیں کی۔ عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ دفعہ 32 کے تحت نہیں آتا ہے اور اس معاملہ کی سماعت ہائی کورٹ میں ہو۔ آخرکار ہاشم پورہ کے لوگوں نے 15 فروری 1995 کو لکھنؤ بنچ میں رِٹ پٹیشن دائر کی۔ سی بی سی آئی ڈی کی رپورٹ میں پی اے سی اور پولس کے 60 لوگوں کو ملزم بنایا گیا، لیکن اترپردیش کی سرکار نے صرف 19 لوگوں پر ہی مقدمہ چلانے کی اجازت دی۔ 19 میں سے اب صرف 16 زندہ ہیں۔ سبھی نچلے رینک کے ہیں۔ ویسے سرکار نے ان اہل کاروں پر کیا کارروائی کی یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ 2002 سے تیس ہزاری کورٹ میں اس معاملہ کی سنوائی چل رہی ہے۔ چل ہی رہی ہے، 25 ویں سال میں بھی فیصلہ نہیں آیا ہے۔ ہاشم پورہ کے لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ اب عذاب بن چکے ہیں۔ ان کی مدد کے لیے سرکار نے تو کچھ نہیں کیا، مسلم تنظیموں نے بھی کوئی مدد نہیں کی۔ ہاشم پورہ کے لوگ غریب ضرور ہیں لیکن جذبہ غریب نہیں ہے۔ چندہ کرکے یہ لوگ انصاف کے لیے لڑ رہے ہیں۔
1983 کے میرٹھ فساد کے دوران ملیانہ پرامن رہا۔ یہاں ہندو مسلمان ہمیشہ سے ساتھ ساتھ رہے ہیں۔ لیکن 1987 میں ملیانہ کو کسی کی نظر لگ گئی۔ اُس دن عجیب سا ماحول تھا۔ افواہ کا بازار گرم تھا۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ یہاں گرفتاریاں ہوں گی۔ شک سچ ثابت ہوگیا جب پولس نے گیارہ بجے کے قریب پورے گاؤں کو گھیر لیا۔ تلاشی کے نام پر لوگوں کو گھر سے باہر نکالنا شروع کیا۔ پی اے سی کے لوگ گولیاں چلانے لگے۔ سر پر گولی، گلے میں گولی، سینے پر گولی۔ جسے بھی گولی لگی وہاں لگی جہاں لگنے سے بچنا ناممکن ہے۔ تین گھنٹے تک گولیاں چلتی رہیں۔ سب سے پہلے ستار ولد محمد علی کے گھر کو لوٹا گیا۔  اس کنبہ کے تقریباً 11لوگ مارے گئے۔ ان لاشوں کو کنویں میں ڈال کر اس پر نمک ڈال دیا گیا۔ اس کے بعد فساد کی آگ پورے گائوں میں پھیل گئی۔ یہاں پولس نے گائوں میں دہشت پھیلانے کے لیے ایک گھر کو جلایا۔ مکان کے ساتھ ساتھ اس کنبہ کے چھ لوگ جل کر راکھ ہو گئے۔ اس گھر میں چار بچے تھے۔ جب لاشیں نکالی گئیں تو سب سے چھوٹا بچہ ماں کی گود میں ملا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ملیانہ گائوں کے تقریباً125مکانوں میں آگ لگا دی گئی جس میں تقریباً73لوگوں کی موت ہوئی جبکہ سرکاری اعداد و شمار انہیں کم ہی بتاتے ہیں۔ فسادیوں میں آس پاس کے لوگوں کے علاوہ باہر کے بھی کئی لوگ تھے۔
واقعہ کے فوراً بعد جب محمد یعقوب نے تھانہ میں یہ سوچ کر ایف آئی آر درج کرائی کہ کم سے کم فسادیوں کو قانون سے سزا مل جائے اور جن پولس والوں نے بے گناہوں کی جانیں لی ہیں انہیں سزا مل جائے، لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ اس فساد سے زیادہ گہرا زخم انصاف دلانے والی جدوجہد سے ملنے والا ہے۔ محمد یعقوب نے بتایا کہ ہم نے 93لوگوں کے خلاف ایف آئی آر کی تھی، 75 گواہ ہیں۔ بیس سال گزر گئے۔ بیس سال تک یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ کیس کاکیا ہوااور ہماری ایف آئی آر کہاں گئی۔ ان پی اے سی کے جوانوں پر کیا کارروائی ہوئی۔ اتنے لوگ مارے گئے لیکن کسی نے یہ بھی نہیں سوچا کہ ان متاثرہ کنبوں کو انصاف دلایا جائے یا نہیں۔ بیس سال کے بعد ہمیں کورٹ سے سمن آیا کہ آپ کے کیس کی سماعت ہونے والی ہے۔ ہم پھر عدالت پہنچے، اپنا وکیل کیا، جو کچھ کر سکے، وہ کیا۔ پہلے ہی دن استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ اس میں ایف آئی آر نہیں ہے۔ جب تک ایف آئی آر کی مصدقہ کاپی نہیں ہوگی تب تک مقدمہ نہیں چلے گا، تو اس کے بعد جج نے پوچھ گچھ کی اور معلوم کرنے کی کوشش کی کہ ایف آئی آر کس نے غائب کی، کہاں سے کھو گئی ۔ پھر ہم تھانے گئے اور پوچھا کہ 23مئی 1987کو ہم نے ایک ایف آئی آردرج کرائی تھی اس کی کاپی چاہیے۔ تھانیدار نے کہا کہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم صرف پانچ سال کا ہی ریکارڈ رکھتے ہیں۔ ہم تمام کاغذات عدالت میں جمع کرا کے سائن کروا لیتے ہیں۔اب تو ہمارے پاس نہ ریکارڈ ہے اور نہ ہی ہم کچھ بتا سکتے ہیں۔ ہم نے ہر جگہ خط لکھا لیکن اب تک ایف آئی آر کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔اس کے بعد جج نے کہا کہ جو گواہ ہیں انہیں پیش کرو، تو ہم نے وکیل صاحب کو پیش کیا۔ ان کی گواہی چلی۔ وہ فاسٹ ٹریک کورٹ تھا۔ ہر ہفتہ تاریخیں لگتی تھیں، تو ایک سال تک ایک ہی آدمی کی گواہی ہوئی۔ پھر ایک سال بعد دوسری گواہی پیش کی۔ ایسے تو 75سال لگ جائیں گے۔ پچیس سال ویسے بھی ہو گئے ہیں۔ آنے والے 75سالوں میں نہ تو کوئی مجرم رہے گا اور نہ کوئی گواہ بچے گا۔ اتنی عمر تو کسی کی ہے نہیں۔ ایک بات اور کہ اس کیس کو پھر فاسٹ ٹریک سے دوسری عدالت میں منتقل کر دیا گیا، وہ فاسٹ ٹریک نہیں ہے۔ اس کورٹ میں جب پہنچے تو جج نے پوچھا کہ تمہاری ایف آئی آر کہاں ہے، میں یہ مقدمہ نہیں چلائوں گا۔پہلے ایف آئی آر کی مصدقہ کاپی لائو۔ اب میں کہاں سے لائوں، یہ تو آپ کا کا م ہے۔ آپ اسے تلاش کرو، تو اس کیس کو پینڈنگ میں ڈال دیاگیا۔ اب چار مہینے ہو گئے ہیں، نہ تو نقل ملی ہے اور نہ ہی مقدمہ کی کارروائی ہو رہی ہے۔ اس طرح کہاں سے کیسے انصاف ملے گا۔ اس کیس کے پہلے گواہ سے جب ہم نے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ ہم نے جو دیکھا وہ کورٹ میںبتایا۔ سب کچھ اتنا سست چل رہا ہے کہ کیا انصاف ہوگا۔ 25سال میں آج تک اتنا بھی نہیں ہو ا کہ ہمارے زخم کو ذرا سا مرہم مل جاتا اور ہم یہ کہہ سکتے کہ ہاں ہمارے ساتھ ظلم ہوا اور گناہگاروںکو سزا ملی۔ اور اگر مل بھی گئی تو کیا اب ہماری قبر پر انصاف رکھیں گے، نہ جانے کتنی آنکھیں بند ہو گئیں اس انتظار میں ۔ اس کیس کے پہلے گواہ نعیم صاحب کا کہنا ہے کہ 23مئی کو 9بجے تک کا ماحول بالکل پر امن تھا۔ پھر گیارہ بجے پی اے سی نے شراب کا ٹھیکہ لٹوایا۔ پولس نے تالا توڑا اور فسادی شراب لوٹ کر لے گئے۔ اس کے بعد ملیانہ میں پولس اور فسادیوں کا قہر برپاہوگیا۔ فسادیوں کے ساتھ پولس مسلم اکثریتی علاقہ میں گھس گئی۔ پہلے پتھرائو ہوا، پتھرائو میں ریلوے لائن کے پتھروں کا استعمال ہوا۔ ریلوے لائن ملیانہ سے کافی دور ہے۔ مطلب یہ کہ فسادیوں نے پہلے سے ہی پتھروں کا انتظام کر رکھا تھا۔ فساد کا منصوبہ پہلے ہی تیار ہو گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت اپنے گھر کی چھت پر تھا۔ ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ کہاں کیا ہو رہا ہے۔ گوکل لالا کی چھت پرپی اے سی کے جوان تعینات تھے۔ وہ گولی چلا رہے تھے۔ مجھے یہ نہیں لگا کہ اتنی دور سے مجھے گولی لگ سکتی ہے۔ مجھے دو گولیاں لگیں، ایک پیٹ میں اور دوسری ہاتھ میں۔ ماحول اتنا خراب اور بدحواسی کا تھا کہ کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ بیٹی کہاںہے، شوہر کہاں ہے، ماں کہاں ہے اور بیٹا کہاں ہے۔ انتہاتب ہو گئی جب لوگ جان بچا کر بھاگ رہے تھے اور ان پر پی اے سی ڈنڈے برسا رہی تھی۔ بہت برا حال تھا، کوئی فریاد بھی کر رہا تھا تو اس کی فریاد سننے والا کوئی نہیں تھا۔
نوشاد علی اس وقت اسکول میں پڑھتے تھے ۔ ماحول خراب تھا تو گھر میں بند کر دیا گیا۔ ان کے گھر کے سامنے والے گھر میں دو لوگوں کی گولیوں سے موت ہو گئی۔ نوشا د علی کہتے ہیں کہ فسادی پہلے گھر لوٹ رہے تھے پھر آگ لگا رہے تھے۔ چار بجنے کے بعد گولیوں کی آواز تھم گئی۔ لوگوں نے گھر سے نکلنا شروع کیا۔ انہیں یاد ہے کہ وہ اپنے گھر سے باہر نکل کر میدان کی جانب جا رہے تھے۔ ان کے دس قدم آگے ایک لڑکی جا رہی تھی۔ اچانک ایک گولی چلی اور اس کی موت ہو گئی۔ گولی پی اے سی کے ایک جوان نے چلائی تھی۔ جب پی اے سی والوں نے دیکھا کہ زیادہ لوگ گھر سے باہر نکل رہے ہیں تب انھوں نے گولیاں چلانی بند کر دیں۔
گائوں والے کہتے ہیں کہ پی اے سی اور پولس والوں نے تین گھنٹے کی چھوٹ دے رکھی تھی۔ ایک گائوں والے نے یہ بھی بتایا کہ یہاں بھی ہاشم پورہ کی طرح واقعہ ہوتے ہوتے بچ گیا۔ یہاں بھی پی اے سی والوں نے لائن میں کھڑا کر دیا تھا۔ انصارکہتے ہیں کہ ہم سات آٹھ تھے۔ ہماری شرٹ اتروا کر پیچھے ہاتھ باندھ کے لائن میں کھڑا کر وا دیا۔ پی اے سی ایک افسر یہ کہہ رہا تھا کہ انہیں لائن میں لگا کر گولی مار دو اور نہر میں پھینک دو۔ لیکن لوگ گھروں سے نکل رہے تھے۔ کئی لوگ وہاں آ گئے۔ ان لوگوں نے چھوڑ دیا۔ اگر دیر ہو گئی ہوتی تو ہمیں بھی مار کر نہر میں پھینک دیتے۔
تقریباً چار بجے گولیوں کی آوازیں تھم گئیں۔ ہر طرف سے رونے اور چیخنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ لوگ بیچ گائوں میں ایک تالاب کے پاس کھڑے ہو گئے۔ ان میں زخمی بھی تھے، وہاں پولس اور افسر بھی کھڑے تھے۔ ڈی ایم اور ایس پی سب آ چکے تھے۔ جب ان سے کہا گیا کہ جو لوگ زخمی ہیں انہیں تو کم سے کم اسپتال پہنچا دو، تو ان کا جواب تھا کہ ہمارے پاس کوئی انتظام نہیں ہے۔ اس فساد میں زخمی ہوئے لوگوں کو ابھی بھی یاد ہے کہ وہ تقریباً ساڑھے چھ بجے اسپتال پہنچے تھے۔ وہاں بھی ان کے ساتھ بدسلوکی ہوئی۔ بڑے بڑے لیڈران آئے، ان لوگوں نے یقین دہانی کرائی لیکن کسی نے کچھ نہیں کیا ۔ کچھ مسلم لیڈر تو اب یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ کیوں ملیانہ کے پیچھے پڑے ہو۔ ملیانہ کے فسادوں سے جڑی کئی باتیں انوکھی اور شرمناک ہیں۔ اس فساد کی کوئی بھی تصویر نہیں ہے۔ ایک فوٹو گرافر نے چھپ کر ملیانہ کے مارے گئے لوگوں کی تصویریں لی تھیں، لیکن ایک پی اے سی والے کی نظر اس پر پڑ ی اور اس نے کیمرہ چھین کر اس کی ریل نکال کر پھینک دی ۔
یہ سچ مچ انوکھی بات ہے۔ پی اے سی کے جوانوں نے ملیانہ اور ہاشم پورہ میں موت کا جو رقص کیا، کیوں کیا، کس کے کہنے پر کیا، کس افسر یا لیڈر نے اس کی منظوری دی تھی، کانگریس کی ریاستی حکومت کیا کررہی تھی، وزیراعلیٰ سے استعفیٰ کیوں نہیں لیا گیا، افسران کو جیل کیوں نہیں بھیجا گیا، مرکز میں راجیوگاندھی کے وزیراعظم رہتے ہوئے یہ سب کیسے ہوگیا، کیا یہ ممکن ہے کہ کسی ریاست میں اتنی بڑا واقعہ ہو جائے اور حکومت کو پتہ نہ رہے۔ جب کہ ملیانہ اور ہاشم پورہ کا واقعہ اور چشم دید گواہوں کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سب کچھ منصوبہ بند تھا۔ کافی دنوں پہلے پلاننگ ہو چکی تھی۔ نازیوں سے بھی خطرناک واقعہ کو انجام دینے والی پی اے سی اور پولس کے کسی بھی افسر کو سزا نہیں ملی، بلکہ کچھ کو تو باقاعدہ پروموشن ملا اور وہ آج بھی نوکری کر رہے ہیں۔ کیا یہی ہے سیکولر ملک کی سرکاری مشینری اور انصاف؟ کسی بھی فساد کا 25 سال بعد تجزیہ کرنا بڑا مشکل کام ہے اور یہ کام اور بھی مشکل تب ہوجاتا ہے جب فساد کے گنہگار آزاد گھوم رہے ہوں۔ فسادات کی مار سب سے زیادہ پیٹ پر پڑتی ہے۔ فسادات کے بعد ملیانہ اور ہاشم پورہ میں روزی روٹی کا سلسلہ بگڑ گیا۔ فسادات کے دوران آگ زنی اور لوٹ پاٹ کے نقصان کا اندازہ لگانا تو ویسے بھی بے حد مشکل کام ہے۔ جلی اور لوٹی ہوئی اشیاء کی قیمت تو شمار کی جاسکتی ہے، لیکن 25 سال سے بہتے ہوئے آنسوؤں کی قیمت لگانے کی ہمت کس کی ہے؟ عید اور رمضان میں خوشیوں کی جگہ گھر کے چراغ کے گم ہونے کے درد کی قیمت کون لگائے گا؟ حکومت نے تو حد ہی کر دی۔ 40 ہزار میں سب کچھ برابر کردیا اور اسے ہی انصاف سمجھ لیا۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *