ملک میں اب بھی زندہ ہیں گوڈسے کی اولادیں، مجھے مار سکتے ہیں گولی: اسد الدین اویسی

Share Article

 

AIMIM سربراہ اور حیدرآباد سے ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بدھ کو مرکزی حکومت پر حملہ بولا اور جموں و کشمیر میں کرفیو لگانے کا الزام لگایا۔

 

جموں و کشمیر کے مسئلے پر اپوزیشن لیڈر مودی حکومت پر حملہ آور ہیں۔ AIMIM سربراہ اور حیدرآباد سے ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بدھ کو مرکزی حکومت پر حملہ بولا اور جموں و کشمیر میں کرفیو لگانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن مجھے بھی کوئی گولی مار دے گا، جو گوڈسے کی اولادیں ہیں، وہ ایسا کر سکتی ہیں۔

asad_081419021551.jpg

اسد الدین اویسی جموں و کشمیر کے مسئلے پر بھارت سرکار پر حملہ آور ہیں۔ بدھ کو جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ ان پر اس طرح کے الزامات لگ رہے ہیں کہ ان کی تقریر سے پاکستان کو مدد مل رہی ہے۔ اس پر اویسی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ایک دن مجھے کوئی گولی بھی مار دے گا۔ مجھے یقین ہے کہ جو گوڈسے کی اولاد ہیں، وہ ایسا کر سکتے ہیں۔

اسد الدین اویسی نے کہا کہ ملک میں اب بھی گوڈسے کی اولاد زندہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں ایک رہنما ہوں لیکن اروناچل پردیش یا لکش دیپ جانے کے لئے مجھے اجازت لینی پڑتی ہے۔ کیا میں آسام میں زمین خرید سکتا ہوں؟

انہوں نے کہا کہ میں ناگالینڈ، میزورم، منی پور، آسام اور ہماچل پردیش کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے، جو کشمیر کے ساتھ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اس وقت ایمرجنسی جیسے حالات ہیں، وہاں نہ تو فون موجودہ ہیں اور نہ ہی لوگوں کو باہر نکلنے کی آزادی دی جا رہی ہے۔ اپنے مخالفین پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ لوگ خود ملک مخالف ہیں، جو مجھے اینٹی نیشنل کہتے ہیں۔ حیدرآباد ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ نریندر مودی کے خلاف بولنا غداری نہیں ہے، کشمیر میں فورا دفعہ 144 ہٹائی جانی چاہئے۔

آپ کو بتا دیں کہ جموں و کشمیر میں اب بھی دفعہ 144 نافذ ہے، یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کے کئی لیڈر مسلسل مودی حکومت پر الزام لگا رہے ہیں۔ کانگریس ممبر پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بھی مرکزی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کشمیر کی صورتحال صاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *