گودھرا میں حمایت تو دہلی میں مخالفت کیوں؟

Share Article

اشرف استھانوی

بی جے پی اور جنتا دل یو کے درمیان مودی کے سوال پر کھینچ تان چند سال قبل اس وقت شروع ہو ئی تھی، جب بی جے پی مجلس عاملہ کا اجلاس پٹنہ میں ہو رہا تھا اور اتحاد کا حصہ ہونے کے ناطے، بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے شریک اجلاس ہونے والے پارٹی رہنمائوں کو کھانے پر مدعوکیا تھا، مگر اچانک مقامی اخبارات میں نریندر مودی کے ساتھ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی ایک پرانی تصویر کی اشاعت سے نتیش اس قدر ناراض ہوئے کہ انہوں نے مہمان نوازی کے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی دعوت منسوخ کر دی۔ اس کے بعد سے تھوڑ ے تھوڑے وقفہ پر ان دونوں پارٹیوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوتے رہے اور ہر بار کشیدگی کی اہم وجہ کسی نہ کسی حیثیت سے مودی ہی رہے۔

آئندہ لوک سبھا انتخاب میں گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو وزیراعظم کا امید وار بنا کر پیش کرنے کی بی جے پی کے مودی نواز p-5گروپ کی ضد اور اس کی ہر قیمت پر مخالفت کرنے کی اس کی حلیف جنتا دل یو کی جوابی ضد نے بہار میں حکمراں جنتا دل یو، بی جے پی اتحاد کو ٹوٹ کے دہانے پر پہنچا دیا اور ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ بہار کی نتیش حکومت کی سانس کی ڈور کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے۔ جنتا دل یو نے صاف کر دیا ہے کہ وہ اقتدار کے لیے اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کرے گا اور نریندر مودی کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیںکرے گا، جب کہ بی جے پی نے بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ مودی کے خلاف اپنے دیرینہ حلیف کی کوئی بھی تنقید برداشت نہیں کر ے گی اور وزیر اعظم کا ہر امید وار بہر حال اس کی اپنی پسند کا ہی ہوگا۔ امید وار ہمارا ہو اور فیصلہ کسی اور کا، یہ ممکن نہیں۔ نتیش کمار مودی کی مخالفت اس لیے کر رہے ہیں، کیوں کہ مودی کا دامن گجرات فساد کے چھینٹوں سے داغدار ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہونا لازمی ہے کہ نتیش کمار نے گودھرا معاملے میں بطور وزیر ریل جس مودی کی اتنی خفیہ مدد کی تھی، ایسا کیا ہو گیا کہ اسی مودی کی مخالفت میں آج کے نتیش اتحاد کو توڑنے اور حکومت کو لات مارنے کے لیے بھی تیار ہو گئے ہیں۔
بی جے پی اور جنتا دل یو کے درمیان مودی کے سوال پر کھینچ تان چند سال قبل اس وقت شروع ہو ئی تھی، جب بی جے پی مجلس عاملہ کا اجلاس پٹنہ میں ہو رہا تھا اور اتحاد کا حصہ ہونے کے ناطے، بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے شریک اجلاس ہونے والے پارٹی رہنمائوں کو کھانے پر مدعوکیا تھا، مگر اچانک مقامی اخبارات میں نریندر مودی کے ساتھ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی ایک پرانی تصویر کی اشاعت سے نتیش اس قدر ناراض ہوئے کہ انہوں نے مہمان نوازی کے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی دعوت منسوخ کر دی۔ اس کے بعد سے تھوڑ ے تھوڑے وقفہ پر ان دونوں پارٹیوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوتے رہے اور ہر بار کشیدگی کی اہم وجہ کسی نہ کسی حیثیت سے مودی ہی رہے۔ گذشتہ اسمبلی انتخاب کے دوران بھی مودی کے سوال پر جنتا دل یو نے صاف کر دیا کہ اسے مودی سے پرہیز ہے، اس لیے انتخابی مہم میں باقی چاہے جس لیڈر کو بھی بہار بلایا جائے، مگر مودی کو ہر گز نہ بلایا جائے۔ بی جے پی نے اس وقت معاملے کو طول نہ دینا ہی بہتر سمجھا اور مودی ایک بار پھر بہار کی انتخابی مہم سے الگ رکھے گئے ۔ اپنی اس بے عزتی کا بدلہ انہوں نے گجرات کے اسمبلی انتخاب میں اس طرح لیا کہ انہوں نے اپنی ریاست میں انتخابی مہم چلانے کے لیے بہار کے کسی لیڈر کو مدعو نہیں کیااور نتیش اتنے بے تعلق بنے رہے کہ وہ عین موقع پر پاکستان کے دورہ پر نکل گئے۔
لیکن اس سال کے شروع میں جب نریندر مودی ایک بار پھر پوری اکثریت کے ساتھ اپنے بل بوتے پر اقتدار میں آگئے، تو اچانک بی جے پی میں تو تو میں میں کا دور شروع ہو گیا۔ لوگ انہیں مبارکباد کم پیش کر رہے تھے اور انہیں وزیر اعظم کا امید وار بنانے کی بات زیادہ کر رہے تھے۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ مودی کو عوام نے گجرات کی نہیں، بلکہ ملک کی کمان سونپی ہو۔ اس وقت بھی جنتا دل یو نے صاف کہہ دیا کہ اس سلسلے میں اس کاموقف وہی ہے، جس کا اظہار بہت پہلے وزیر اعلیٰ نتیش کمارنے ایک انگریزی رسالہ کو دیے گئے اپنے انٹر ویو میں کر دیا ہے۔ اس کے باوجود بی جے پی نے راجناتھ سنگھ کی ٹیم میں مودی اور ان کے حامیوں کو اہمیت دے کر اپنے ارادے ظاہر کر دیے، تو جے ڈی یو کی پیشانی پر بل آگئے۔ پھر باری آئی جنتا دل یو کے دہلی اجلاس کی۔ میں نے پہلے ہی اشارہ دے دیا تھا کہ اس اجلاس میں اگلے انتخاب اور اس میں وزیر اعظم کی امید واری پر بھی بات ہوگی، کیوں کہ لوک سبھا انتخاب اپنے وقت پر ہو، جب بھی انتخابی سال تو آہی گیا ہے او رانتخابی سال میں اس طرح کی بات غیر متوقع نہیں کہی جا سکتی۔ اجلاس سے پہلے نتیش کمار نے اپنی حلیف بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر راجناتھ سنگھ اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر ارون جیٹلی سے مل کر یہ صاف کر دیا کہ مودی ہمارے لیے نا قابل قبول ہیں اور ہم اس پر کسی طرح بھی سجھوتہ نہیں کریں گے۔ حالانکہ اتحاد کی مصلحت کے پیش نظر ہم بہت جارحانہ رویہ نہیں اپنائیں گے، لیکن اپنی بات اشاروں میں ہی صاف ضرور کردیں گے۔ اور یہی ہوا بھی۔ جے ڈی یو نے صاف کر دیا کہ ہم اتحاد کو پوری اہمیت دیتے ہیں اور اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں، مگر مودی ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہیں اور اگر پارٹی نے مودی کو تھوپنے کی کوشش کی اور ایک عام اور سب کے لیے قابل قبول وزیر اعظم کا امید وار نہیں دیا، تو پھر اتحاد ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ جے ڈی یو نے یہ بھی کہہ دیا کہ یہ کام ہم فوری طور پر کر نے کے لیے بھی نہیں کہہ رہے ہیں۔ ہم اس کے لیے بی جے پی کو 6-7 ماہ کا وقت، یعنی سال کے آخر تک کی مہلت دے سکتے ہیں۔ بی جے پی باقی جو جی چاہے کرے، مگر اجودھیا، یکساں سول کوڈ، دفعہ 370 اور مودی کو آگے نہ بڑھائے، کیوں کہ ویسی صورت میں ہمارے اتحاد میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔ ہم اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی تنازعہ کو لے کر چل سکتے ہیں، لیکن مودی کے تعلق سے اشاروں میں کہی گئی بات بھی اتنی واضح تھی کہ بی جے پی کا مودی نواز خیمہ تلملا گیا اور اس کے دبائو پر پارٹی کے قومی صدر راجناتھ سنگھ اور دوسرے بڑے رہنمائوں نے اس پر فوری رد عمل دینا ضروری سمجھا۔ رد عمل میں یہ واضح کیا کہ پارٹی مودی کے خلاف کچھ بھی سننا برداشت نہیں کر سکتی۔ بی جے پی نے اس بات پر بھی اعتراض جتایا کہ جنتا دل یو نے اپنی ساری صلاحیت مودی کی مخالفت میں صرف کی، مگر حکمراں یو پی اے کے خلاف ایک لفظ بولنا بھی گوارہ نہیں کیا۔ اس لیے بی جے پی نے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اتحاد میں شامل پارٹیوں اور ان کے رہنمائوں کو چاہیے کہ وہ بی جے پی کو نہیں، بلکہ یو پی اے کو نشانہ بنائیں او رآئندہ لوک سبھا انتخاب میں حکمراں اتحاد کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں اپنی طاقت صرف کریں۔
یہاں تک تو معاملہ پھر بھی کنٹرول میں تھا اور دونوں فریق اپنے اپنے موقف کی وضاحت کے باوجود اتحادی مصلحت سے کام لے رہے تھے۔ حالات تب بے قابو ہوتے نظر آئے، جب بہار کے مودی نواز بی جے پی رہنما، جن میں نتیش کابینہ میں شامل گری راج سنگھ اور اشونی کمار چوبے کے علاوہ سابق ریاستی صدر ڈاکٹر سی پی ٹھاکر بھی شامل تھے ، دہلی دربار پہنچ گئے اور راجناتھ سنگھ سے مل کر نریندر مودی کے معاملے میں جنتا دل یو، خصوصاً وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے رویہ پر سخت ناراضگی جتائی اور یہ واضح کیا کہ ہم نریندر مودی کی تذلیل برداشت نہیں کریں گے۔ حالانکہ بی جے پی اعلیٰ کمان نے اس موضوع پر انہیں زیادہ کھل کر نہ بولنے، بلکہ حتی الامکان بیان بازی سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا اور اس بات کا یقین دلایا کہ پارٹی مناسب وقت پر مناسب فیصلہ کرے گی، مگر بہار بی جے پی کے رہنما اور خاص طور سے ریاستی وزیر گری راج سنگھ او رپارٹی کے قومی ترجمانوں نے جس طرح سے کھل کر نتیش کو نشانہ بنایا اور گودھرا المیہ کے سلسلہ میں بطور وزیر ریل نتیش کے رول کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، اس سے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اس قدر دل برداشتہ ہوئے کہ انہوں نے پیر کے روز ہونے والے جنتا دربار کے بعد اپنی معمول کی پریس کانفرنس تک رد کردی۔ حالانکہ وہ اسی لیے دہلی سے وزرائے اعلیٰ کی کانفرنس چھوڑ کر پٹنہ لوٹ آئے تھے اور کانفرنس میں ان کی تحریری تقریر بہار کے وزیر تعلیم پی کے شاہی نے پیش کی تھی۔ عام حالات میں نتیش نہ صرف پریس کانفرنس کرتے، بلکہ مودی کے معاملے پر کھل کر بولتے، لیکن تیزی سے بدلتے ہوئے حالات نے انہیں دفاعی رویہ اپنانے پر مجبور کر دیا۔ ممکن ہے انہوں نے ایسا اس لیے کیا ہو کہ فوری رد عمل کی صورت میں بات مزید بگڑ جانے کا اندیشہ ہو ا ور وہ اسے ٹالنا چاہتے تھے، لیکن دوسرے دن انہوں نے گودھرا المیہ پر جس طرح تفصیلی رد عمل ظاہر کیا اور گودھرا معاملے کے لیے محکمہ ریل یا اس وقت کے وزیر ریل (خودنتیش کمار) کی بجائے حکومت گجرات کو ذمہ دار ٹھہرایا، اس سے یہ بات صاف ہو گئی کہ اب زیادہ دنوں تک یہ اتحاد چلنے والا نہیں ہے اور بہار میں نتیش کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کی آخری گنتی شروع ہو گئی ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سب اسی نریندر مودی سے پرہیز کی وجہ سے ہو رہا ہے، جن کی مدد نتیش کمار نے گودھرا کانڈ کے بعد بطور وزیر ریل کی تھی۔ گودھرا آتشزنی معاملے کی رپورٹ کو دبا کر اور اس معاملے میں نریندر مودی اور سنگھ پریوار کو اپنی مرضی کے مطابق فرقہ وارانہ رنگ دینے کی پوری اجازت دی تھی۔ تب انہیں نریندر مودی کا غیر سیکولر، بلکہ مسلم کش چہرہ نظر نہیں آیا تھا، تو اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ نتیش اس وقت اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی مرکز کی این ڈی اے حکومت میں وزیر ریل تھے اور نریندر مودی کو راج دھرم نبھانے کے باجپئی کے مشورہ کے باوجود، نہ تو مودی نے راج ھرم نبھایا اور نہ ہی وزیرریل کی حیثیت سے نتیش کمار نے۔ نتیش نے بھی اس وقت گٹھ بندھن دھرم نبھاتے ہوئے نریندر مودی اور ان کی پارٹی، بی جے پی کی مدد کی تھی، کیو ں کہ اس وقت نہ تو کوئی گجرات ماڈل تھا اور نہ ہی اس کے مقابلے میں کوئی نتیش ماڈل تھا۔ اس کے علاوہ اس وقت نتیش کو اپنے ووٹ بینک کے کھسکنے کا بھی کوئی خوف نہیں تھا، کیوں کہ اس وقت بہار کی کمان ان کے ہاتھ میں نہیں تھی۔ وہ بی جے پی کی حمایت سے بہار سے جیت کر پارلیمنٹ میں جاتے تھے، بی جے پی کا کھاتے تھے اور وقت پڑنے پر بی جے پی کا ہی گاتے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مودی کے سوال پر اگر بی جے پی اور جنتا دل یو کا پرانا اتحاد ٹوٹتا ہے اور آئندہ لوک سبھا انتخاب اور اس کے بعد ہونے والے اسمبلی انتخاب میں اگر دونوں پارٹیاں اپنے بل بوتے پر اترتی ہیں، تو کون سی پارٹی فائدے میںرہتی ہے اور کسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *