ایک سرکاری نوکر کیسے بنا گوا کا نیا سی ایم، جانئے پرمود ساونت کی پوری کہانی

Share Article
pramod-sawant-1

گوا: بی جے پی کے آنجہانی لیڈر منوہر پاریکر کے انتقال کے بعد پرمود ساونت گوا کے نئے وزیر اعلی بن گئے ہیں۔ گزشتہ رات 2 بجے راج بھون میں منعقد تقریب میں انہوں نے عہدے اور رازداری کا حلف لیا۔ پرمود کو ریاست کے گورنر مردلا سنہا نے عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔

اس خاص موقع پر پرمود ساونت نے کہا کہ پارٹی نے جو مجھے ذمہ داری دی ہے اسے ادا کرنے کی میری پوری کوشش رہے گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میں جو بھی کچھ ہوں منوہر پاریکر کی وجہ سے ہوں، انہوں نے ہی مجھے سیاست میں لائے، ان کی ہی وجہ سے پہلے اسمبلی کا اسپیکر اور اب وزیر اعلیٰ بنا ہوں۔ بتا دیں کہ پرمود ضمنی انتخاب لڑنے کے لئے اپنی سرکاری نوکری تک چھوڑ چکے ہیں۔

کیوں پرمود ہی بنے گوا کے وزیر اعلیٰ:

پرمود ساونت آنجہانی منوہر پاریکر کی پہلی پسند تھے۔ وہیں پارٹی کے لئے وفاداری بھی ایک بڑی وجہ تھی، چونکہ پرمود ذاتی مفاد سے پہلے پارٹی کے بارے میں سوچتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ایسا بتایا جاتا ہے کہ پاریکر کی خواہش تھی کہ اگلا وزیر اعلیٰ کوئی بی جے پی کا ممبر اسمبلی کی بنے، ایسے میں پرمود ساونت سب سے زیادہ درست دعویدار تھے.

آر ایس ایس سے پرمود ساونت کا تعلق:

پرمود گوا میں بچولم تعلقہ کے ایک گاؤں کوٹونبی کے رہنے والے ہیں اور بچپن سے ہی ان کا آر ایس ایس سے تعلق رہا ہے۔ وہیں ان کے والد پانڈورنگ ساونت سابق ضلع پنچایت رکن رہ چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ بھارتیہ جن سنگھ، بھارتی مزدور یونین کے سرگرم رکن بھی تھے۔ ان کی شناخت بی جے پی کے لئے وقف کارکن کے طور پر ہے۔ بتا دیں کہ سیاست میں زیادہ دلچسپی کے سبب پرمود آر ایس ایس کو زیادہ وقت نہیں دے پائے اور سیاست میں آ گئے.

سال 2008 میں ان کی سیاست میں انٹری ہوئی۔ سانکیلم (ساکھلی) سیٹ سے الیکشن لڑنے کے لئے انہوں نے ضلع اسپتال کے ڈاکٹر کے عہدے کی سرکاری نوکری چھوڑ دی، لیکن اس ضمنی انتخاب میں وہ ہار گئے۔ حالانکہ 2012 میں انہیں کامیابی ملی، وہیں 2017 کے انتخابات کی جیت کے بعد وہ گوا اسمبلی میں پہنچے۔ منوہر پاریکر کی قیادت والی حکومت میں پرمود اسمبلی اسپیکر بنائے گئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *