بات سے بات چلے

Share Article

انجم عثمانی
مشہور  افسانہ نگار ڈاکٹر نگار عظیم صاحبہ اور میں نے بھوپال کے پلیٹ فارم پر قدم رکھا تو گھنے بادلوں نے محبوب کی زلفوں کی طرح شہر کے چہرے کو ڈھک رکھا تھا۔ مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کی دعوت پر ہمیں یہاں افسانہ خوانی کی ایک شام میں حصہ لینا تھا۔ مشہور ادیب، صحافی اور شاعر ڈاکٹر اقبال مسعود صاحب اپنے دو پہیہ اسکوٹر کے ساتھ موجود تھے، جب کہ مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی نے اپنی کار بھیج رکھی تھی۔ اقبال مسعود اپنے دلی کے قیام کے زمانے سے ہمارے دوست ہیں۔ طے یہ پایا کہ بھوپال کے بادلوں کی دعوت قبول کرتے ہوئے کار میں بند ہونے کے بجائے اقبال مسعود کے اسکوٹر پر کھلی ہوا اور بارش میں اپنی قیام گاہ کی طرف چلا جائے، چنانچہ اپنی اٹیچی ڈاکٹر نگار عظیم کی تحویل میں کار میں روانہ کی اور ہم اسکوٹر پر پیچھے بیٹھ گئے۔ بارش شروع ہوچکی تھی، ہم بھیگنے کا مزہ لے رہے تھے (بھیگنے پر مجھے اقبال مجید کی مشہور کہانی ’’دو بھیگے ہوئے لوگ‘‘ یاد آئی۔ اقبال مجید صاحب بھوپال میں ہی رہتے ہیں۔) بارش نے بھوپال کو مزید خوبصورت بنادیا تھا، یوں لگ رہا تھا جیسے کوہِ قاف کی کوئی پری سبز لباس پہنے بارش میں کوہِ فضا پر کھڑی بھیگ رہی ہو۔ اسکوٹر کی رفتار کم ہوگئی تھی اور سارا منظر دھیرے دھیرے بارش کے ساتھ میرے اندر جذب ہورہا تھا۔
بھوپال ملک کے خوبصورت ترین تہذیبی شہروں میں سے ہے، یہاں صرف تالاب اور کوہِ فضا ہی نہیں ہیں، یہاں دلوں میں اترجانے والے ایسے خوش اخلاق احباب بھی ہیں، جن سے مل کر یوں لگتا ہے جیسے ہم تہذیب و تمدن کی روح سے ہم کلام ہوں۔ (نام گناؤں تو الگ سے ایک کتاب لکھنا پڑے) دہلی سے روانگی سے پہلے ہی بھوپال کی ثقافتی شگفتگی کے میر کارواں برادرم نسیم انصاری اور اقبال مسعود نے فون کرنا شروع کردیا تھا کہ اکیڈمی کی دعوت اپنی جگہ تم ہمارے مہمان ہوگے۔ ای ٹی وی اردو کے مہتاب عالم ہم سے وعدہ لے چکے تھے کہ ہم نہ صرف ’’ایک خاص ملاقات‘‘ ریکارڈ کرائیںگے، بلکہ وہ ہماری کتاب ’’ٹیلی ویژن نشریات‘‘ کے نئے ایڈیشن پر بات بھی کرنا چاہتے ہیں اور بھی کئی احباب کے مختلف ادیبانہ تقاضے تھے۔ چوبیس گھنٹے کے قیام میں چوبیس دن کی مصروفیات تھیں۔ جب ہمارے ساتھ ایسا ہوتا ہے تو ہم اکثر اپنے آپ کو حالات اور ماحول کے دھارے کے سپرد کردیتے ہیں، پھر جو ہوتا ہے خود ہی ہوتا ہے ہم صرف منظر کے معروضی مطالعے سے محظوظ ہوتے رہتے ہیں۔
بھیگے ہوئے لباس اور باطنی بہار کے موسم کو خود میں سمیٹے ہوئے ہم مقررہ قیام گاہ پر پہنچے۔ تھوڑی ہی دیر میں بمبئی سے مشہور مصنف، نقاد شمیم طارق صاحب بھی تشریف لے آئے۔ معلوم ہوا کہ آج کی شامِ افسانہ میں وہ افسانوں پر اظہار خیال فرمائیںگے، ہمارے لیے یہ مزید خوشی کی بات تھی۔ اس دوران ای ٹی وی اردو کے مہتاب عالم اپنے کیمروں اور کارندوں کے ساتھ آچکے تھے۔ گزشتہ تقریباً تیس برسوں سے کیمرے کے پیچھے کام کرتے کرتے مجھے کیمرے کے سامنے جانے کی عادت نہیں رہی، حالانکہ فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ پونے(ایف ٹی آئی آئی) میں ہدایت کاری کی مشق کے ساتھ تھوڑا بہت پریزینٹیشن بھی سکھایا گیا تھا، لیکن ڈائریکشن اور اس سے متعلق کام کرتے کرتے، ٹی وی پروگرامز پروڈکشن سے جھوجتے جھوجتے، اس سبق کو ہم کب کا بھول چکے ہیں۔
سہ پہر ڈھل چکی تھی، شام ہوا چاہتی تھی، بارش کم ہوگئی تھی، مگر بادل ہمارے استقبال میں ابھی تک سایہ فگن تھے۔ اس پر فضا موسم میں ہم مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کے دفتر لے جائے گئے۔ اکیڈمی کی عمارت اردو کے بہترین انشائیہ نگار ملا رموزی کے نام سے موسوم ہے۔ اس عمارت کا باہری حصہ بھوپال کی طرح خوبصورت اور اندرونی حصہ بھوپال والوں کے دلوں کی طرح کشادہ اور منور ہے۔ لوگ ہال میں جمع ہوچکے تھے۔ بھوپال کے اردو ہندی کے بہترین دماغ اور شعری و نثری منظرنامے کی نمایاں شخصیات موجود تھیں۔ اسٹیج پر مشہور افسانہ نگار، نعیم کوثر، اظہر راہی، ڈاکٹر نگار عظیم، شمیم طارق، اکیڈمی کی سکریٹری، مشہور معتبر شاعرہ نصرت مہدی، پروگرام کے ناظم انیس انصاری موجود تھے۔ اس اجلاس کی صدارت ایسے شخص کے سپرد تھی، جس نے کم از کم گزشتہ کئی دہائیوں سے اردو شاعری کی دنیا میں اپنی ذہانت سے دبدبہ قائم رکھا، ایک ایسا شخص جس نے کم از کم 25سال تک شہنشاہ مشاعرہ کا تاج پہنے رکھا، ایک ایسا شاعر جس کے بغیر جدید غزل کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی، ایک ایسا نام کہ دنیا میں جہاں جہاں اردو غزل اور مشاعرے کا تذکرہ ہوتا ہے،اس کا نام خود بخود ذہن میں آجاتا ہے، وہ نام ہے ڈاکٹر بشیر بدر۔ ڈاکٹر بشیر بدر گزشتہ کئی برس سے بھوپال میں مقیم ہیں اور ان دنوں مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کے وائس چیئرمین ہیں۔ ہال میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا والوں کے علاوہ بہت سے لوگ آچکے تھے۔ افسانے پڑھے جانے، سنے جانے اور ان پر گفتگو ہونی تھی۔
میں بہت دیر سے ڈاکٹر بشیر بدر کے پاس بیٹھا تھا۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ شاید ڈاکٹر بشیربدر صاحب کو میرا نام یاد نہیں ہے، کیوںکہ ان کے ملنے میں ان کا وہ مخصوص انداز شامل نہیں تھا، جس سے میں گزشتہ 25برسوں سے متعارف تھا۔  مجھے یاد نہیں کہ میں نے ان کے کتنے مشاعرے ریکارڈ اور ٹیلی کاسٹ کیے۔ ان کو شاید یہ بھی یاد نہیں کہ میں نے ان پر کم از کم دو تین مخصوص ٹی وی فیچر بنائے۔ تھوڑی ہی دیر میں مجھے اندازہ ہوگیا کہ ان کو واقعی میرا نام یاد نہیں ہے اور اب ان کو بہت سی باتیں یاد نہیں رہتیں۔ مجھے بتایا گیا کہ بیماری نے ان کا یہ حال کردیا ہے اور وہ خود ہی اپنے کئی اشعار کی تفسیر بنتے جارہے ہیں۔
خالق حقیقی، غزل کے بہترین اشعار کے اس خالق کو صحت عطا فرمائے اور وہ شعر و ادب کے سرمایے میں مزید اضافے کے لائق ہوسکیں۔
صورتِ حال مجھ میں اداسی، عبرت اور وسوسوں کو جنم دے رہی ہے، افسانوں کی حقیقت، حقیقی افسانوں سمیت میرے ذہن کو دھندلا رہی ہے۔ باقی باتیں آئندہ۔ یار زندہ صحبت باقی۔

Latest posts by انجم عثمانی (see all)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *