جی ایم سی ایچ میں پڑی ہے غیر ملکی قرار دیئے گئے شخص کی لاش، اہل خانہ نے لینے سے کیا انکار

Share Article

 

قومی شہری رجسٹر (این آر سی) میں غیر ملکی قرار دیئے گئے افراد کی حالت انتہائی قابل رحم ہے۔ ایک طرف یہ لوگ آسام کے ڈیٹنشن کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں، دوسری طرف ان کی موت کے بعد قانونی الجھنوں سے بچنے کے لئے لواحقین بھی ان کی لاش لینے سے انکار کر رہے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ایک شخص کی لاش آج کی تاریخ میں بھی جی ایم سی ایچ کے مردہ گھر میں پڑی ہوئی ہے۔

تازہ معاملہ شونت پور ضلع کے ڈھیکیاجلی تھانہ کے تحت آلی سنگھ گاؤں کا ہے۔ یہاں کے باشندے دولال چندر پال کی گذشتہ 12 اکتوبر کی رات گوہاٹی میڈیکل کالج اسپتال (جی ایم سی ایچ) میں علاج کے دوران موت ہو گئی تھی۔ قانون کے مطابق جب تک ملکی-غیر ملکی کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتا، اس وقت تک لاشوں کی آخری رسومات نہیں ہو سکتیں۔ دولال کے مرنے کی معلومات 13 اکتوبر کی صبح ملی، جس کے بعد سے ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ اگر وہ غیر ملکی تھے، تو ان کی لاش کو بنگلہ دیش حکومت کے حوالے کر دیا جائے۔ دوسری صورت میں ان کے اس ملک کے ہونے کا سرٹیفکیٹ انتظامیہ جاری کرے، تبھی وہ لاش کو لیں گے۔

دولال چندر پال کے خاندان میں بیوی اور تین بیٹے ہیں۔ بڑے بیٹے آشیش چندر پال نے بدھ کے روز ہندوستھان سماچار سے کہا کہ ہم نے انتظامیہ کو واضح طور پر کہا ہے کہ جب تک ان کے والد کے شہری ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جاتا ہے، اس وقت تک لاش کو ہم قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے لاش کو قبول کر لیا تو ہمارے اوپر زندگی بھر کے لئے بنگلہ دیشی شہری کا ٹھپہ لگ جائے گا اور مستقبل میں بھی پولیس انتظامیہ ہمیں پریشان کرتی رہے گی۔

آشیش نے کہا کہ قومی شہری رجسٹر (این آر سی) میں نام داخل کرنے کے لئے ضروری دستاویزات میں ہم نے 1960 کے زمین کا دستاویزات داخل کیا تھا۔ اس کے باوجود میرے والد کو بنگلہ دیشی شہری قرار دے دیا گیا، جبکہ میرے والد کے بھائی اور ان کے اہل خانہ کے نام این آر سی میں شامل ہوگئے ہیں۔

مرنے والے کے بڑے بیٹے نے کہا کہ 11 اکتوبر، 2017 کو دو سال پہلے سادہ لباس میں پولیس اہلکار میرے گھر پرآئے اور میرے باپ سے کہا کہ آپ کے نام نوٹس آیا ہے، آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔ پولس انہیں تھانے لے گئی، جہاں سے جیل بھیج دیا گیا۔ آشیش نے کہا کہ 1960 کے زمین کے دستاویزات ہونے کے باوجود بھی انہیں گرفتار کیا گیا۔ انہیں گزشتہ دو سال سے بنگلہ دیشی قرار دیتے ہوئے جیل میں رکھا گیا۔ ان کی موت کے بعد بھی انتظامیہ ان کی لاش کو اہل خانہ کو دینا چاہتا ہے لیکن کاغذی کارروائی میں یہ بات کہی گئی ہے کہ دولال چندر پال غیر ملکی شہری ہیں۔ لاش اب بھی جی ایم سی ایچ کے مردہ گھر میں پڑی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ ڈیٹنشن کیمپ میں دولال کی حالت خراب ہونے کے بعد گذشتہ 28 ستمبر کو تیج پور ڈیٹنشن کیمپ سے تیج پور میڈیکل کالج اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ڈاکٹروں نے ان کی حالت نازک دیکھ کر جی ایم سی ایچ ریفر کر دیا۔ رات ہونے کی وجہ سے دوسرے دن 29 ستمبر کو دولال کو جی ایم سی ایچ میں داخل کرایا گیا، جہاں پر علاج کے دوران 12 اکتوبر کی رات ان کی موت ہو گئی۔

بتایا گیا ہے کہ دولال ذہنی طور پر بھی بیمار تھے۔ اس کے باوجود انہیں جیل میں رکھا گیا۔ اس واقعہ کے بعد سے پال کا خاندان صدمے میں ہے۔ صدمے کی وجہ سے دلال کی بیوی کی طبیعت خراب ہو گئی ہے۔ حالت سنگین ہونے پر ان کو بھی 16 اکتوبر کو ڈھیکیاجلی پرائمری اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں گذشتہ تین سالوں میں ڈٹیشن کیمپ میں غیر ملکی شہری کے طور پر بند کل 24 لوگوں کی موت مختلف وجوہات سے ہوئی ہے۔ مرنے والوں کے لواحقین مسلسل الزام لگاتے رہے ہیں کہ ڈیٹنشن کیمپ میں بنیادی سہولیات بھی مہیا نہیں کرائی جاتی ہیں۔ اس کی وجہ سے زیادہ تر قیدی ذہنی طور پر پریشان ہو رہے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ گذشتہ اپریل میں گوالپاڑا ڈیٹنشن کیمپ میں بند امرت داس کی ہارٹ اٹیک کی وجہ سے موت ہو گئی تھی۔ مئی میں واسودیو وشواس کو ڈیٹنشن کیمپ سے پراسرار حالت میں بیمار ہونے کے بعد اسپتال بھیجا گیا۔ بیچ راستے میں ہی اس کی موت ہوگئی۔
واضح رہے کہ ریاستی حکومت کے وزیر چندر موہن پٹواری نے اس سال جولائی ماہ میں اسمبلی میں بتایا تھا کہ رواں مالی سال کے دوران مختلف ڈیٹنشن کیمپوں میں سات قیدیوں کی موت ہوئی ہے۔ ریاست کے کل چھ ڈیٹنشن کیمپوں میں 11 ہزار سے زیادہ لوگ غیر ملکی شہری ہونے کے الزام میں بند ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *