عدالت میں جج کی تقرری کا معاملہ عوامی مانگ اور مطالبہ سے بالا ترہے اور جسٹس کی ترقی یا تقرری میں عوامی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ہے۔ مگر ہندوستانی مسلمان زندگی کے ہر شعبہ میں اپنی کم ہوتی ہوئی نمائندگی سے چونکہ تشویش میں مبتلا ہیں۔ لہٰذا ایسی صورت میں اگر سپریم کورٹ میں کوئی مسلم جج نہ ہو اور ملک کی 24 ہائی کورٹ میں بھی ان کی نمائندگی اوسط سے بہت کم ہو تو تشویش میں اضافہ ہونا فطری بات ہے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ ملک کی عدالتوں میں مسلمان کی نمائندگی کا اوسط کیا ہے۔
p-4گزشتہ 11برسوں میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ سپریم کور ٹ میں کوئی مسلم جج نہیں ہے۔یہ کمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عدالت میں طلاق اور یکساں سول کوڈ جیسے کئی حساس مسئلے زیر غور ہیں۔ سپریم کورٹ آف انڈیا میں موجود ججوں کی کل تعداد 31ہے اور فی الحال 4عہدے خالی ہیں۔ ہندستان کے سپریم کورٹ میں 2012میں مسلم ججوں کا تقرر عمل میں لایا گیا تھا اور جن میں جسٹس ایم۔وائی اقبال اور جسٹس فقیر محمد ابراہیم خلیف اللہ شامل تھے، لیکن جسٹس ایم وائی اقبال 2فروری 2016کو سبکدوش ہو چکے ہیں اور ان کے بعد جسٹس ابراہیم خلیف اللہ 22جولائی کو اپنی خدمات سے سبکدوش ہو چکے ہیں۔ ان دو ججوں کے بعد سپریم کورٹ میں اب کوئی مسلم جج نہیں بچے ہیں جن سے مسلم مسائل با لخصوص شرعی امور کے متعلق فیصلہ سے قبل مشورہ کیا جا سکے۔یہ تشویش نہ صرف مسلم طبقے میں پائی جاتی ہے بلکہ سابق چیف جسٹس آف انڈیا کے جی بالاکرشنن بھی سپریم کورٹ میں مسلم جج کے نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔انہوں نے ایک انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ جلد ہی کسی مسلم جج کی تقرری ہونی چاہئے،تاکہ ہر طبقے اور ہر مذہب کی اس باوقار عدالت میں نمائندگی ہو سکے‘۔
گیارہ برس کے وقفہ کے بعد سپریم کورٹ کا مسلم جج سے خالی رہنا تشویش کی بات ہے۔اس سے قبل اپریل 2003سے ستمبر 2005 کے دوران بھی سپریم کورٹ میں ڈھائی برس کی طویل مدت تک کوئی مسلم جج نہیں تھے۔یہی صورتحال 1988دسمبر میں بھی دیکھی گئی تھی۔ 4اپریل 2003کو جسٹس سید شاہ محمد قادری کی سبکدوشی کے بعد جسٹس التمش کبیر کو 9ستمبر 2005کو نامزد کیا گیا تھا ۔ سپریم کورٹ میں 4مسلم ججوں نے دسمبر 2012تا اپریل 2013کے درمیان خدمات انجام دی۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی تاریخ میں یہی وہ عرصہ ہے یعنی دسمبر 2012 سے لے کر اپریل 2013 کے چار ماہ، جن میں چار مسلم ججوںنے سپریم کورٹ میں اپنی خدمات انجام دیں۔ان کے بعد اور نہ ان سے پہلے کبھی ایسا موقع آیا کہ اتنی بڑی تعداد میں ایک ساتھ چار مسلم جج مقرر ہوں، اب تو صورت حال یہ ہے کہ فی الوقت وہاں ایک بھی مسلمان جج نہیں ہیں۔
ملک کی عدالت عالیہ میں اب تک کل 196 ریٹائر اور 28 موجودہ ججوں کی تقرریاں ہوئی ہیں۔ان میں 17 یعنی 7.5 فیصد جج مسلمان ہوئے ہیں۔ان میں سے چارنے چیف جسٹس کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج ایک مسلمان ہی تھیں اور ان کا نام ایم فاطمہ بی بی تھا۔انہوں نے 6اکتوبر 1989 سے لے کر29 اپریل 1992 تک اس عہدے پر کام کیا۔ لیکن اب تو مسلم خاتون کے بارے میں تصور کرنا بھی ناممکن لگتا ہے، البتہ راجستھان کی شرعیہ ضلع عدالت میں ایک 27 سالہ مسلم خاتون یاسمین خاں کو جج مقرر کیا گیا ہے۔لیکن ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں پھر کسی مسلم خاتون کا تقرر نہیں ہوا۔جہاں تک سپریم کورٹ کی بات ہے تو یہاں خاتون کی نمائندگی نہ کے برابر ہے ۔مجموعی ججوں میں سے ایک کرسچن جسٹس کوریان جوسیف اور ایک سکھ جسٹس جے ایس کھیہر اور ایک ہندو جسٹس آر بھانومتی ہیں۔رہی بات مسلمان کی توفی الوقت وہاں نہ کوئی مسلم مرد جج ہیں اور نہ ہی کوئی خاتون۔
اس وقت ملک کے دو ہائی کورٹ میں دو چیف جسٹس مسلمان ہیں۔ایک بہار کے چیف جسٹس اقبال احمد انصاری جو کہ آسام کے ہیں اور وہ اسی ماہ اکتوبر میں ریٹائر ہونے والے ہیں جبکہ دوسرے جج ہماچل کے چیف جسٹس منصور احمد میر ہیں جو کہ جموں و کشمیر کے ہیں اور اپریل 2017 میں ریٹائر ہوں گے۔ ملک کے بقیہ 24 ہائی کورٹ میں 601ججوں میں سے صرف 28 مسلم جج ہیں جبکہ آبادی کے حساب سے کم سے کم 86 ججوں کو ہونا چاہئے، اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ملک کی 15 فیصد والی آبادی کو اوسط سے بہت کم نمائندگی دی گئی ہے۔
اسی ماہ مرکز نے ایک آرڈر ایشو کیا ہے ۔اس آرڈر کے مطابق 17 نئے ججوں کی تقرری کولکاتا اور اور مدھیہ پردیش کے ہائی کورٹ میں ہونا ہے۔ان 17 میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ کرکے کسی حد تک کمی کو پوری کی جاسکتی تھی لیکن مرکز نے کولکاتہ کے ہائی دوکورٹ میں صرف دو مسلم جج ممتاز خاں اور میر دارا شیخو کو مقرر کیا ہے جبکہ مدھیہ پردیش میں کسی نئے مسلم جج کی تقرری نہیں ہوئی ہے۔اکتوبر کے آغاز میں بھی مدراس ہائی کورٹ کے لئے 15 ججوں کا تقرر ہوا تھا،لیکن ان میں بھی کوئی مسلم جج شامل نہیں تھے۔ جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت مسلمان ججوں کی اس کمی کو پورا کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

ظاہر ہے اس کمی کی وجہ سے مسلم طبقہ تشویش میںہے۔انہیں لگتا ہے کہ جس طرح سے دوسرے شعبوں میں انہیں نمائندگی نہیں دی جارہی ہے یا آبادی کے تناسب سے بہت کم دی گئی ہے ، کہیں وہی صورت حال عدالتی شعبوں میں بھی نہ پیدا ہوجائے۔

2011 کی مردم شماری کے مطابق اتر پردیش میں مسلمانوں کی آبادی 19.3فیصد ہے۔اس تناسب کو دیکھتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے کل 74 ججوں میں سے 15 ججوں کو مسلم طبقے سے ہونا چاہئے لیکن یہاں صرف 3 جج ہی مسلمان ہیں ۔ان میں سے ایک جج امسال ریٹائر ہونے والے ہیں اور دوسرے اگلے سال ریٹائر ہوجائیں گے۔اسی طرح حیدر آباد ہائی کورٹ میں 27 عہدے ہیں جن میں 3 عہدے مسلمانوں کے پاس ہونا چاہئے لیکن افسوس کی بات ہے کہ وہاں صرف ایک جج ہی مسلمان ہیں اور وہ بھی اسی سال ریٹائر ہوجائیںگے۔ممبئی میں کل 59 جج کے عہدے ہیں۔ان میں آبادی کے تناسب سے 7 عہدے پر مسلمان ججوںکو ہونا چاہئے لیکن وہاں صرف 2 مسلم جج ہیں اور ان میں سے ایک اسی سال ریٹائر ہوجائیںگے۔ کولکاتامیں 42ججوں کا عہدہ ہے۔ ان میں سے 11پر مسلمان کو ہونا چاہئے، لیکن کل4 پر ہی مسلم جج ہیں۔ان میں دو دو ججوں کا تقرر اسی ماہ ہوا ہے اس طرح سے یہاں مسلم ججوں کی تعداد چار تو ہوگئی ہے لیکن ان میں سے ایک امسال اور دوسرے آئندہ سال ریٹائر ہوجائیں گے۔اگر کسی نئے مسلم جج کا تقرر نہیں ہوا تو پھر ان کی تعداد گھٹ کر 2 رہ جائے گی ۔دہلی ہائی کورٹ کے 39 ججوں میں سے 5 پر مسلمان ہونا چاہئے لیکن یہاں بھی کل 2 مسلم جج ہیں۔آسام کے 16 جج کے عہدوں میںسے پانچ پر مسلمان ہونا چاہئے ،لیکن وہاںایک بھی مسلمان جج نہیں ہیں۔جموں و کشمیر میں10 عہدوں میں سے 7 پر مسلمان جج ہونا چاہئے، لیکن صرف3پر مسلمان ہیں جن میں سے ایک اگلے سال ریٹائر ہوجائیںگے۔ کیرالہ کے 35 عہدوں میں سے 9 پر مسلمان ہونا چاہئے، لیکن 5 جج ہی مسلمان ہیں اور ان میں سے 2 امسال ریٹائر ہوجائیںگے۔مدھیہ پردیش کے 30 عہدوں میں سے دو پر مسلمان ہونا چاہئے، لیکن ایک بھی مسلمان جج نہیں ہیں۔مدراس کے 37 عہدوں میں سے دو پر مسلمان ہونا چاہئے ،لیکن ایک بھی مسلمان نہیں ہیں۔پٹنہ کے 28میں سے 5 عہدوں پر مسلمان ہونا چاہئے ، لیکن صرف 2 جج مسلمان ہیں اور ان میں سے ایک امسال ریٹائر ہوجائیںگے۔پنجاب و ہریانہ کے ہائی کورٹ میں 50 عہدوں میں سے 2 عہدہ مسلمانوں کے پاس ہونا چاہئے، لیکن ایک بھی مسلم جج نہیں ہیں۔راجستھان کے ہائی کورٹ میں 25 عہدے ہیں۔ یہاں 3 عہدوں پر مسلمان کو ہونا چاہئے ، لیکن ایک عہدہ پر ہی مسلمان ہیں جو کہ امسال ریٹائر ہوجائیںگے۔اترا کھنڈ کے 6 عہدوں میں سے ایک عہدے پر مسلمان ہونا چاہئے ،لیکن کسی مسلمان کی تقرری نہیں ہوئی ہے۔اگر کل مسلم آبادی کا جائزہ لیا جائے تو 601 ججوں میں سے کم سے کم 86 مسلمانوں کو ہائی کورٹ کا جج ہونا چاہئے،لیکن ان کی تعداد صرف26 ہے جو کہ تناسب سے بہت ہی کم ہے۔
ظاہر ہے اس کمی کی وجہ سے مسلم طبقہ تشویش میںہے۔انہیں لگتا ہے کہ جس طرح سے دوسرے شعبوں میں انہیں نمائندگی نہیں دی جارہی ہے یا آبادی کے تناسب سے بہت کم دی گئی ہے ، کہیں وہی صورت حال عدالتی شعبوں میں بھی نہ پیدا ہوجائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here