قدرتی ذخائر کے باوجود صومالیہ غریب کیوں؟

Share Article

سوال یہ ہے کہ دنیا کا ایک ایسا ملک جس کا عظیم اسلامی تاریخی پس منظر ہے اور جو قدرتی ذخائر سے مالامال بھی ہے، آخر دنیا کے غریب ترین ممالک میں کیسے شامل ہوگیا؟ وہاں خانہ جنگی کو کن عالمی قوتوں نے فروغ دیا اور انتہاپسند الشباب کی کس نے ہمت افزائی کی؟ ان سب نکات پر سے پردہ اٹھاتی ہے ذیل میں وسیم احمد کی چونکانے والی رپورٹ….

p-9برّ اعظم افریقہ کا تاریخی ملک صومالیہ پوری دنیا کے لئے اس لئے بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ بعثت رسولؐ کے بعد مدینہ منورہ سے بھی پہلے یہ سرزمین اسلام سے متعارف ہوئی۔ اس سرزمین نے اسلام کے اولیں مہاجرین کواپنی آغوش میں پناہ دی تھی، اور حبشہ کے نجاشی ’’اصحمہ بن ابحر‘‘ نے ان مہاجریں کو آزادی کے ساتھ رہنے کی اجازت دی تھی ۔ چنانچہ صحابہ کرام نے جس جگہ کو اپنی پناہ گاہ بنایا تھا وہ آج صومالیہ کے ساحلی شہر زیلہ کا حصہ ہے اورصومالیہ کا حالیہ درالحکومت موگادیشو مشرقی افریقہ میں اسلام کا ایک مرکز بنا تھا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جس سرزمین نے مہاجرین صحابہ کرام کو پناہ دی تھی آج وہاں کے لوگ بھوک ،پیاس اور شدید ترین قحط کی زد میں ہیں ۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 99 فیصدمسلم آبادی پرمشتمل اس سرزمین کاشماردنیا کے غریب ترین ملکوں میں ہورہا ہے۔ جبکہ قدرت نے اس زمین کو ذخائر سے مالا مال کر رکھا ہے۔ تیل یورینیم ، گیس اور سونے کے ذخائر یہاں بڑی مقدار میں موجود ہیں لیکن اس کے باوجود گزشتہ دو دہائی میں 20 لاکھ افراد غذائی مواد کی کمی اور بھوک سے تڑپ تڑپ کر مرچکے ہیں جنمیں بچوں کی تعداد 30 ہزار بتائی جاتی ہے۔
آخر قدرتی ذخائر سے مالا مال اس ملک کے لوگ خستہ حالی کے شکار کیوں ہیں؟ اس سے پردہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔حالانکہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس بھکمری کی وجہ خانہ جنگی اور خشک سالی ہے لیکن گہرائی میں اتریں تو حقیقت کچھ اور نظر آتی ہے۔اس کو سمجھنے کے لئے ہمیں مغربی ممالک کے استعماری منصوبوں پر ایک نظر ڈالنی ہوگی۔ مغربی طاقتیں ہمیشہ سے عالم اسلام کو اپنے زیر نگیں کرنے ،ان کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے اور’ آپس میں لڑائو اور راج کرو‘ کے اصولوں پر کار فرما رہی ہیں۔چنانچہ 1980 کے بعد عالم اسلام میں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے اور مغربی طاقتوں کا عمل دخل ہماری اس بات کی تائید کررہے ہیں۔
یوروپ نے خلیجی ممالک جن کو قدرت نے تیل کی دولت سے مالا مال کررکھا ہے پر اپنے اثرو رسوخ اس طرح بڑھا لئے کہ تیل کی عالمی قیمتوں کو طے کرنے کا حق مغربی ملکوں کے پاس چلا گیا،تیل کی منڈی پر ان کا ہی قبضہ ہوگیا۔ جس نے مزاحمت کی اس کا انجام اقتدار سے محرومی اور موت کی شکل میں سامنے آیا ۔ اس کے علاوہ کچھ ایسے اسلامی ملک بھی تھے جہاں قدرتی وسائل کے ذخیرے تو موجود نہیں تھے لیکن محل وقوع کے عتبار سے وہ انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔جیسے افغانستان جہاں تیل یا سونے کے ذخیرے تو نہیں تھے لیکن تجارتی نقطۂ نظر سے خطے کو بڑی اہمیت حاصل تھی،لہٰذا پہلے روس اور پھر امریکہ نے یہاں کے قبائلی نظام اور ان کی روایتی تہذیب پر سیندہ لگائی ،وہ اس میں کس حد تک کامیاب ہوئے یہ ایک الگ موضوع ہے مگر اتنا تو طے ہے کہ مغربی طاقتوں نے اپنے ناپاک منصوبوں سے اس ملک کو جو نقصان پہنچایا وہ ہم سب کے سامنے ہے۔
مشرق وسطیٰ اور جنوب ایشیا میں اپنے اثر و رسوخ مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ افریقی ممالک پر بھی ان طاقتوں کی للچائی ہوئی نظر تھی۔چنانچہ صومالیہ اس کے لئے بہترین چراگاہ ثابت ہوا۔ مغربی طاقتیں اس بات کو سمجھ رہی تھیں کہ صومالیہ میں سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے سے انہیں دوہرا فائدہ حاصل ہوگا۔ ایک طرف انہیں یہاں کے 99 فیصد مسلمانوں کو ان کے روایتی رہن سہن اور اسلامی شناخت سے دور کرنے کا موقع ملے گا تو دوسری طرف قدرتی وسائل پر قابض ہونے کا بہانہ بھی ہاتھ آئے گا ۔چنانچہ صومالیہ کی سر حد سے ملحق ایتھوپیا جو ایک عیسائی ملک ہے کی مدد سے برطانیہ ، اٹلی اور فرانس تینوں ملکوں نے اس طرف کا رخ کیا اور ان کی دولت پر قبضہ کرنے کے لئے سب سے پہلے ان کی زراعت کے نظام میں تبدیلی کی۔دراصل صومالیہ کے لوگ اصلاً کاشتکار تھے۔ کھیتی کرنا اور گلہ بانی ان کا بنیادی پیشہ تھا۔ یہ لوگ اپنے کھتیوں میں کیمیکلز کا استعمال نہیں کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اگر کبھی بارش نہ بھی ہوئی تو ان کے کھیتوں سے اتنے اناج پیدا ہوجاتے تھے کہ ان کا گزر بسر ہوسکے۔ ان تینوں ملکوں نے سب سے پہلے ان کے اسی بنیادی وسیلے پر حملہ کیا اور زراعت کا ایسا نظام قائم کیا کہ ان کی زمینیں مخصوص کیمیکلز کی عادی ہوگئیں اور پھر دھیرے دھیرے اس میں مخصوس قسم کے اناج پیدا کرنے کی صلاحیت ہی باقی رہ گئی۔ 14 فیصدقابل کاشت زمینیں بنجر ہوگئیں۔ یونیسف کے سروے کے مطابق مزید 68 فیصد زمین کے بنجر ہوجانے کا قوی امکان ہے۔جب زمین سے ہر طرح کے اناج پیدا ہونے کی صلاحتیں معدوم ہوگئیں تو اس کے بعد یہ مغربی ممالک ان کے کھیتوں میں جو بھی اناج پیدا ہوتے تھے، ان کو سستے داموں میں خرید کر عالمی منڈیوں میں مہنگے داموں میں بیچنے کی ٹھیکداری بھی لے لی۔دوسری طرف شاید قدرت کو بھی ابھی صومالیوں کا امتحان لینا باقی تھا چنانچہ یہاں برسوں تک بارش نہیں ہوئی جس کی وجہ سے کھیت خشک ہونے لگے،پیداوار تقریبا ختم ہوگئی اور حیوان مرنے لگے۔ بعض علاقوں میں 70 فیصدسے 80فیصد گھریلو آمدنی صرف اتنی رہ گئی جس سے پینے کا پانی حاصل کیا جاسکے ۔ اس طرح صومالیہ سمیت افریقہ کے کئی ملک مدھیرے دھیرے غربت کے دلدل میں پھنستے چلے گئے۔
ایک طرف غریبی کی مار اور دوسری طرف مغرب کے ٹھیکدار اپنی سامراجی پالیسی پر سختی سے کاربند تھے،جس کا انجام یہ ہوا کہ پورا صومالیہ خانہ جنگی کے دلدل میں پھنستا چلا گیا۔ جب1991 میں جنرل محمد ساد بری کو ایتھوپیا کی مدد سے معزول کردیا گیا تو مرکزی حکومت کی غیر موجودگی میں مخالف عناصر کو غنڈہ گردی کا پورا موقع مل گیا اور اس طرح خانہ جنگی میں مزید شدت آگئی جس میں تقریباً پانچ لاکھ لوگ مارے گئے اور تین لاکھ بیس ہزار لوگ بے گھر ہوئے۔
قحط سالی کی وجہ سے پورے ملک میں پانی اور خوراک کی کمی تھی جس کو بنیاد بنا کر امریکہ نے انسانی ہمدردی کے نام پر وہاں سیاسی مداخلت شروع کردی۔امریکہ ایک طرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پربھوکوں کو کھانا فراہم کررہا تھا تو دوسری طرف وہ اس کوشش میں تھا کہ وہاں مرکزی حکومت قائم نہ ہو۔ کیونکہ اگر صومالیہ میں مرکزی حکومت قائم ہوجاتی تو ایسی صورت میں صومالیہ میں ایتھوپیا کی مداخلت پر روک لگ سکتا تھا۔ وہ اس طرح کہ ایتھوپیا کی سمندری ضرورت صومالیہ کی بندرگاہ سے پوری ہوتی ہے۔اگر وہاں مرکزی حکومت قائم ہوجاتی تو وہ اپنی بندرگاہ کو مشروط طور پر ہی استعمال کی اجازت دیتی۔دوسرے یہ کہ صومالیہ کے کچھ سرحدی علاقے ایتھوپیا کے قبضے میں ہیں جس کی واپسی کا مطالبہ شروع ہوجاتا اسی لئے ایتھوپیا چاہتا تھا کہ صومالیہ میں خانہ جنگی کا ماحول بنا رہے تاکہ وہ اپنے حقوق کی بازیابی کا مطالبہ کرنے کی پوزیشن میں نہ آئے۔
صومالیہ میں اسلام پسند جماعتیں امریکی سرگرمیوں کی مخالفت کر رہی تھیں۔اگرچہ ان کے پاس اسلحات کی کمی تھی،مگر طویل خانہ جنگی نے انہیں لڑنا سکھا دیا تھا۔ اس کے علاوہ ان کی ایک بڑی تعداد افغانستان میں جہاد میں بھی شریک رہ چکی تھی اور امریکی فوج کا سامنا کرنے کا ہنر سیکھ چکی تھی۔ چنانچہ انہوں نے اپنے تجربے کا بھرپور استعمال کرکے اپنی زمین کا دفاع کیا ۔ان سب کے باوجود ان کے پاس کوئی ایسی تنظیم نہیں تھی جو مغربی طاقتوں کے خلاف ان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے۔چنانچہ ایک اسلامی تنظیم تشکیل دینے کے بارے میں سوچا گیا۔ اس میں وہ لوگ پیش پیش تھے،جو امریکہ کے خلاف افغانستان میں جہاد کرچکے تھے۔ لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ان کے لئے اسلحات کی فراہمی کیسے ہو اور سرمایا کاری کون کرے ؟ چنانچہ صومالی قزاق ، اور ساحلی علاقے میں رہنے والے قبائلیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شدت پسند اسلامی جماعت تشکیل دینے کے لئے سرمایا کاری کا ذمہ لیا ۔ لہٰذا 2004 میں ’’حرکۃ الشباب المجاھدین‘‘ کے نام سے ایک تنظیم تشکیل دی گئی۔ اس تنظیم نے ایتھوپیا ئی فوج کی زبردست مزاحمت کی اور صومالیہ کے کئی علاقوں حتی کہ میگادیشو کے شمالی علاقے پر قبضہ کرکے وہاں اسلامی حکومت قائم کردی ۔اس تنظیم کا نظریہ وہی تھا جو نظریہ افغانستان میں طالبان کا تھا۔یعنی رقص ،گانے بجانے،سنیما اور تھیٹروں پر پابندی،فٹ بال ٹورنامنٹ پر روک،اور سزا کے طور پر کوڑے اور رجم (پتھر مار کر موت ) کی سزا تجویز کرنا۔
غرضیکہ اسلام میں حکمت و مصلحت کا جو تصور ہے اس کو نظر انداز کرکے انہوں نے اس میں شدت اختیار کرلی۔2006 تک الشباب نے بڑی قوت حاصل کرلی اور ملک کے شمالی حصے پر قبضہ کرکے اسلامی نظام قائم کرلیا۔ لیکن کچھ ماہ بعد ہی ایتھوپیا اور امریکی فوج کی مزاحمت کے بعد انہیں اس علاقے کو خالی کرنا پڑا۔ اس کے بعد 2007 میں عبد الحی یوسف کو میگادیشو میں داخل ہونے کا موقع ملا۔ الشباب نے شہر میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔امریکی حمایت کی وجہ سے یوسف کو ملک کا صدر نامزد کیا گیا لیکن شبابیوں کی مزاحمت جاری تھی ،جس کی وجہ سے ایسا محسوس کیا جانے لگا کہ اب ملک سے خانہ جنگی ختم ہونے والی نہیں ہے۔ دریں اثنا ایک نئی تنظیم ارپکٹ (Alliance for the Restoration of Peace and Counter-Terrorism )سامنے آئی۔یہ ایک اسلام پسند جماعت تھی لیکن اس نے الشباب کے برخلاف مذہب میں اعتدال پسندی اختیار کی۔اس میں زیادہ تر وہی لوگ تھے جو اسلامک کونسل یونین کے ممبر رہ چکے تھے اور ملک میں اسلامی نظام چاہتے تھے،لیکن الشباب کی طرح شدت پسندی سے دور رہنا چاہتے تھے۔کچھ سالوں میں ہی یہ ایک مضبوط سیاسی پارٹی بن گئی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 2009 کے انتخاب میں اس پارٹی نے مجموعی 440 سیٹوں میں سے 220 سیٹوں پر قبضہ کر لیا اور اس طرح وہاں اقوام متحدہ کی کوشش سے ایک فیڈرل حکومت قائم ہوگئی۔ جس کا صدر شریف حسن محمد کو اور وزیر اعظم عیدی فارح شیرڈون کو بنادیا گیا۔ شیخ شریف حسن اسلامی عدالت کے چیئر مین بھی رہ چکے تھے۔
اسلامی معتدل پارٹی کی طرف سے صدر منتخب کر لیے جانے کے بعد ایسا سمجھا جارہا تھا کہ اب صومالیہ میں امن بحال ہوجائے گا لیکن اس انتخاب سے الشباب کے جنگجو مطمئن نہیں ہیں۔وہ اپنی تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔لیکن سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ الشباب کی تحریک اب دم توڑ چکی ہے اور وہ ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی آخری لَو کی طرح ہے۔ ملک میں حکومت تو قائم ہوچکی ہے مگر اس وقت عالمی برادری کو عمومی اور عالم اسلام کو خصوصی طور پر اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ صومالیہ میں خانہ جنگی کی صورت حال کی شروعات غربت سے ہوئی تھی جو ہنوز برقرار ہے۔ اگر اس کے خاتمے کی طرف مخلصانہ کوشش نہیں کی گئی تو بعید نہیں کہ صومالیہ ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی کے دلدل میں پھنس جائے ۔لہٰذا غربت کو دور کرنے کے لئے یہاں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
صومالیہ کے لوگ کاشتکاری اور گلہ بانی میں مہارت رکھتے ہیں اور گوشت اور دودھ کی مصنوعات میں بھی وہ بہترین تجربہ رکھتے ہیں۔اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں سرمایا کاری کے بہترین مواقع ہیں۔اس کے علاوہ مکئی، مچھلی اور جوار کی پیداوار میں صومالیہ خود کفیل ہے۔ بس ان میں فنی مہارت کی کمی ہے ۔ اگر ہندوستان جیسا ملک جو کاشتکاری میں نمایاں مقام رکھتا ہے صومالیہ میں ماہی پروری، ڈیری کی مصنوعات اورگوشت کی پیداوار میں سرمایا کاری کرے تو اپنی اقتصادی پوزیشن کو بہتربنانے کے ساتھ صومالیہ کی غربت کو بھی دور کیا جاسکتا ہے اور اس طرح صومالیہ کو خانہ جنگی کے خطرے سے بچایا جاسکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *