وزیراعلیٰ دال۔ دال چاول اسکیم: غریبوں کے لئے حکومت کا بہتر قدم

Share Article

امریندر سمن
جاما بلاک کے بھیرو پور گاؤںکا سوکل ہاسدا گزشتہ 30 برسوں سے دُمکا میں رکشہ چلاکر اپنی اور اہلِ خانہ کی پرورش کررہاہے۔ رکشہ چلاکر ہر دن سوکل کی آمدنی صرف سو ڈیڑھ سو روپے ہی ہوتی ہے وہ کہتا ہے کہ ’’دن بھر رکشہ چلانے کے بعد رکشہ مالک کو 25 سے 40 روپے کرائے کے طور پر دینے پڑتے ہیں ۔ادھر کچھ دنوں قبل تک باقی بچی ہوئی رقم میں سے میں 20-30 روپے اپنے کھانے پینے پر خرچ کیا کرتا تھا۔‘‘ لیکن اب سوکل کے حالات میں ایک خوشگوار تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ اب وہ وزیر اعلیٰ دال-چاول اسکیم کے تحت صرف 5 روپے میں پیٹ بھر کر کھانا کھاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی روزانہ کی آمدنی میں ہونے والی بچت بڑھ گئی ہے۔اس کے بعد رقم جتنی زیادہ بچ جاتی ہے اسے وہ اپنے اہل خانہ پر خرچ کرکے بے حد خوش ہوتا ہے۔ 20-30 روپے روزانہ کھانے پر خرچ کرنے والا سوکل اب روزانہ مزید 25 روپے بچا لیتا ہے، جس کا براہ راست فائدہ اس کے گھر والوں کو ہوتا ہے۔
ضلع ہیڈ کوارٹر سے بمشکل 7-8 کلومیٹر دور کاٹھی کنڈ روڈ پر واقع ایک گاؤں نکٹی ہے۔ اس گاؤں میں دلتوں اور سنتالوں کی اکثریت ہے۔ گاؤں کے مردوں کا اہم پیشہ رکشہ وٹھیلا چلانا اور دہاڑی مزدور کے طور پر کام کرنا ہے جبکہ خواتین کھیتوں میں زراعتی مزدوری اور برتن وغیرہ مانجھنے کا کام کرتی ہیں، لیکن یہ کام سبھی گھروں کی خواتین نہیں کرتیں۔ منگل توری، پھاگو بیسرا، سنتوش ہریجن اور ایسے ہی دوسرے افراد دن بھر ایسے ہی چھوٹے کاموں کی بدولت اپنے خاندان کے لیے دو وقت کی روٹی کماتے ہیں۔ ان تمام لوگوں کے لیے وزیر اعلیٰ دال -چاول اسکیم کسی نعمت سے کم نہیں ہے، کیونکہ پہلے یہ صبح سے شام تک کی جانے والی جان توڑ محنت کے بعد حاصل ہونے والی مزدوری اور کمائی کا ایک بڑا حصہ اپنی ذات پر خرچ کر نے کو مجبور تھے، اس اسکیم کی مدد سے انہیں اب اس کمائی میں برکت اور اسی میں سے برے وقتوں کے لیے کچھ کفایت کرنے کی امید بھی پیدا ہوگئی ہے۔ بیہرا باک پنچایت کے ننکو کورووا بستی کے
وشنو دیہری کے مطابق، ’’روز بروز بڑھتی اس مہنگائی میں جہاں ایک طرف دال، تیل، مصالحہ، آلو ، پیاز اور نمک جیسی بنیادی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، وہیں ہمارے لیے ان کا خریدنا بھی ضروری ہو جا تا ہے، کیونکہ اس کے بغیر گزارہ ممکن نہیں ہے۔ لیکن دوسری طرف اچھی بات یہ ہے کہ سماج کے حاشیے پر رہنے والے لوگوں کو صرف 5 روپے میں دال،چاول،سبزی اور چٹنی مہیا کرائی جا رہی ہے۔ یہ انتہائی خوش کن بات ہے۔
مفلس و نادار افراد سمیت رکشہ و ٹھیلا چلانے والوں، دہاڑی مزدوروں، روزگار تلاش کرنے کے لیے گاؤں، دیہاتوں سے روزانہ قصبوں اور شہروں کا رخ کرنے والوں، غیر منظم سیکٹروں سے وابستہ لوگوں، کم آمدنی کمانے والے عام شہریوں کے لیے جھارکھنڈ حکومت کی اس پہل کو یقینا ایک مثبت فکر سے ہی تعبیر کیا جائے گا۔یہ بات دیگر ہے کہ وزیر اعلیٰ دال – چاول اسکیم کی طرح دوسرے ناموں سے اسکیمیں ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی چلائی جا رہی ہیں، لیکن جھارکھنڈ میں اس طرح کی اسکیم کا نفاذ غریبوں پر مشتمل ریاست کی کثیر آبادی کے لیے باعث سکون و راحت ہے۔15 نومبر 2000 کو جھارکھنڈ ملک کی 28 ویں ریاست کے طور پر وجود میں آیا۔ اب اس کی تشکیل کو 11 برس پورے ہونے کو ہیں اور ان 11 برسوں میں بھلے ہی یہ ریاست مختلف سیاسی پارٹیوں کی حکمرانی کے دوران ترقی کے منازل طے کرتی رہی ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ ان برسوں میں مسلسل ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے یہ ریاست خود کفیل بن کر اپنے پیروں پر کھڑی ہو چکی ہو، لیکن اس دوران غریبوں اور نادار کے لیے جس طرح کی اسکیمیںعمل میں لائی جانی چاہئیں تھیں یہ ریاست اس میں کافی پیچھے ہی رہی ہے۔ ریاست کی موجودہ حکومت نے 15 اگست 2011 کو غریبوں کے لیے وزیر اعلیٰ دال-چاول اسکیم کا آغاز کرکے جس دور اندیشی کا ثبوت دیا ہے اس کے نتائج بر آمد ہونے بھی لگے ہیں۔
15 اگست 2011 کو65 ویں یوم آزادی کے موقع پر شروع ہونے والی اس اسکیم کے تحت ریاست کے تمام اضلاع میں تقریباً 100 مراکز کے ذریعے سستا کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے۔ موصول اعداد وشمار کے مطابق دمکا میں 6، پاکوڑ میں 3، گڈا میں 3، صاحب گنج میں 3، دیوگھر میں 4، جام تاڑہ میں3، کوڈرما میں 3، رانچی میں 7، رام گڑھ میں 3، دھنباد میں 7، لوہر دگا میں 3، چائی باسا میں 4، بوکارو میں 5، گیری ڈیہہ میں 5، لاتیہار میں 3، چترا میں 3، جمشید پور میں 7، سمڈیگا میں 3، سرائے کیلا میں 4، پلامو میں 5، گُملا میں 4، ہزاری باغ میں 4، گڑھوا میں 3 اور کھونٹی میں 3 مراکز شروع کیے گئے ہیں۔ عوامی تقسیم اور صارفین کے امور کے شعبے کے تحت چلائے جانے والے ان مراکز پر اس اسکیم کے تحت کھانا حاصل کرنے والوں کی ایک لمبی قطار دیکھنے کو ملتی ہے۔ دُمکا میں ناگیشور ہیلتھ کیئر سینٹر (کچہری کا احاطہ)، سپریو داس گپتا (پاپولر کلب)، محترمہ مینا مورمو (نزدبلاک دفتر )، لوک کلیان ہیلتھ کیئر سینٹر، پوکھرا چوک (نزد صدر اسپتال)، جھارکھنڈ کمیونٹی بہبود کاؤنسل (نزددودھانی ٹاور) اور پورنیندو کمار دتّہ (واسوکیناتھ شیڈول ایریا) کو ان مراکز کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ان مراکز سے کھانا پانے والے ہر شخص کو محض پانچ روپے میں 200 گرام چاول، اسی کے تناسب میں دال اور سبزی دی جاتی ہے۔
کورووا گاؤں مزدور یونین کے صدر رمیش کمار چودھری کے مطابق، ’’جھارکھنڈ حکومت نے ریاست کے غریبوں، دلتوں اورمعاشی اعتبار سے پچھڑے طبقات کے لیے جس طرح کی اسکیم چلا رکھی ہے اور اس سے ان لوگوں کو جو راحت نصیب ہوئی ہے وہ اس ریاست کی تاریخ میں میل کے پتھر سے کم نہیں۔‘‘ چودھری کے مطابق ’’میں نے اپنی زندگی میں اس طرح کی کوئی بھی اسکیم پہلی مرتبہ دیکھی ہے۔متحدہ بہار کے کسی زمانے میں سستی روٹی کی دکانیں ہوا کرتی تھیں، جن سے لوگوں کو بڑی راحت ملتی تھی۔ ہم اس اسکیم کے بارے میں صرف سناکرتے تھے، مگر اس اسکیم سے تو میں لوگوں کو فائدہ حاصل کرتے دیکھ رہا ہوں۔ اس کارنامے کے لیے حکومت کو مبارکباد دی جانی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ دال-چاول اسکیم کے تحت ان مراکز سے روزانہ تقریباً 400 لوگوں کو کھانا مہیا کرایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ’’اس تعداد کو بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی شخص کو سینٹر پر پہنچ کر واپس جانے کی نوبت نہ آئے۔‘‘
مزدور لیڈر اور جھارکھنڈ لوکل باڈیز امپلائیز فیڈریشن کے سکریٹری احتشام احمد کے مطابق، ’’اس طرح کی اسکیمیں ہر بلاک کے ہیڈ کوارٹر میں ایک ساتھ چلائی جانی چاہئیں، کیونکہ دیہی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ ان بلاکس سے کافی فاصلہ پر واقع دو ر دراز علاقوں سے نوکری کی تلاش میں شہر اور بلاکس ہیڈ کوارٹرس کا رخ کرتا ہے۔‘‘ کامریڈ احتشام نے مزید کہا ’’اتنی بڑی آبادی کے لیے محض 5-7 مراکز شروع کرنا عوام کو بہلانے کے مترادف ہے۔‘‘ سابق ایم ایل اے کملا کانت سنہا کا ماننا ہے کہ ایسی اسکیمیں یقینا مالی اعتبار سے کمزور طبقات کے لیے سود مند ہیں لیکن ایسی اسکیموں کو مسلسل چلائے جانے کی ضرورت ہے، کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ حکومتیں اس طرح کی اسکیمیں شروع تو کر دیتی ہیں لیکن کچھ دنوں یا کچھ مہینوں کے بعد خود بہ خود یہ اپنا دم تو ڑ کر بند ہو جاتی ہیں۔ اس اسکیم کو اچھی طرح چلاتے رہنے کے لیے ہر سال ایک مخصوص بجٹ دیا جانا چاہیے۔‘‘ دیر سے ہی سہی لیکن موجودہ حکومت میںاگر ایسی فکر پیدا ہوئی ہے تو پورے ملک کو اس کام کے لیے جھارکھنڈ کی عزت و حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔g   (چرخہ فیچرس)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *