غیر منقسم آندھرا کے آخری انتخابات: دو نئی ریاستوں کو درپیش چیلنجز

اے یو آصف
p-9یوں تو ہندوستان میں ابھی حال میں جو پارلیمانی اور اس کی چند ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوئے، وہ نتائج کے اعتبار سے اہم ہیں، مگر ان تمام انتخابات کے بالمقابل تلنگانہ اور سیماندھرا علاقوں میں ہوئے پارلیمانی اور اسمبلی دونوں انتخابات کو خصوصی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ دونوں انتخابات غیر منقسم آندھرا پردیش کے آخری انتخابات تھے اور ان انتخابات کے بعد 2جون 2014کو یہ دونوں نئی ریاستیں آزادانہ طور پر کام کرنا شروع کر دیں گی۔
قابل ذکر ہے کہ ان دونوں نئی ریاستوں میں مجموعی طور پر متوقع نتائج ہی سامنے آئے ہیں۔ 119سیٹوں والی تلنگانہ اسمبلی میں تلنگانہ راشٹریہ سمیتی(ٹی آر ایس)کے چند ر شیکھر رائو نے 63سیٹ اور کل 17پارلیمانی سیٹوں میں 11سیٹیں حاصل کر کے تاریخ رقم کی ہے۔ ملک کی اس نئی 29ویں ریاست میں تیلگو دیشم پارٹی( ٹی ڈی پی )اتحاد نے 21سیٹیں حاصل کی ہے جبکہ کانگریس اتحاد کو 22سیٹیں ملی ہیں اور دیگر امیدوار13سیٹوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ا سی طرح سیماندھرا میں175سیٹوں والی اسمبلی میں ٹی ڈی پی نے 107سیتیں پاکر اکثریت حاصل کر لی ہے۔ یہاں وائی ایس آر کانگریس کو 66سیٹیں ملی ہیں اور دیگر امیدواروں کے پلے صرف 2سیٹیں آئی ہیں۔ سیماندھرا میں ٹی ڈی پی کو 16پارلیمانی سیٹوں پر کامیابی ملی ہے جبکہ وائی ایس آر کانگریس کے نصیب میں9سیٹیں آئی ہیں۔ یہاں 3سیٹیں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا( سی پی آئی) اور 2ریولیوشنری سوشلسٹ پارٹی (آر ایس پی) کے ہاتھ آئی ہیں۔ ان دونوں نئی ریاستوں میں سب سے خاص بات یہ ہے کہ کانگریس جس نے مرکز میں سابقہ یو پی اے حکومت کے اپنے دور میں تلنگانہ کو نئی ریاست بنانے میں اہم کردار ادا کیا، وہاں پر اپنے اتحاد کے ساتھ اسمبلی میں محض 22سیٹ لائی اور دوسری نئی ریاست سیماندھرا میں ایک بھی سیٹیں نہیں لا پائی۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ایسی پارٹی جو کہ ملک کی سب سے قدیمپارٹی ہے اور جس کے دور حکومت میں تقسیم وطن کے بعد1948حیدرآباد پولس ایکشن وقوع پذیر ہوا تھا۔ علاوہ ازیں اس حقیقت کو بھی ذہن نشیں رکھنا چاہئے کہ یہ سب کچھ ایسے وقت ہوا جبکہ غیر منقسم آندھرا پردیش میں اسی کانگریس کی حکومت قائم تھی۔

بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ آندھرا پردیش سے نکل کر دونوں نئی ریاستوں سیماندھرا اور تلنگانہ کا مستقبل کیا ہوتا ہے اور دونوں کس طرح ایک دوسرے سے علیحدہ ہو کر ترقی کی منزلیں طے کرتے ہیں اور درپیش چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں؟

ان انتخابات میں کانگریس کے زوال کا سبب دل بہلانے کو اقتدار مخالف (Anti-Incumbency) ہوابتایا جا رہا ہے جبکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ چند دوسرے عوامل اس کے زوال کے ذمہ دار اور اصل ذمہ دار ہیں۔ جس بات نے اسے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے ، وہ تلنگانہ کو ریاستی درجہ دلانے میں انتخابی مہم کے دوران میں اپنی کارکردگی کی ٹھیک سے تشہیر نہیں کرنا ہے ۔ دوسرا مسئلہ جو کہ کانگریس کو درپیش تھا، وہ یہ تھا کہ تنظیم کے اندر چپقلش تھی۔ متعدد افراد وزیر اعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہونا چاہتے تھے۔ اس وقت تک کوئی جوش و خروش انتخابی مہم کے دوران ہرگز نہیں پایا جا تا تھا جب تک کہ صدر کانگریس سونیا گاندھی او رنائب صدر راہل گاندھی وہاں نہیں پہنچے اور کیڈروں میں نئی جان ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔ ان سب باتوں سے نقصان یہ ہوا کہ کانگریس عوام سے جڑ نہیں پائی اور اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طرح ان تمام حالات کو ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر رائو نے کیش کر کے زبردست فائدہ اٹھایا اور تلنگانہ ریاست کی تشکیل کا پورا کا کریڈٹ لیا۔
حالانکہ دوسرے لحاظ سے یہ ٹی ڈی پی تھی جو کہ تلنگانہ کے ایشو پر اپنے موقف میں یو ٹرن لینے کے سبب سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والی تھی۔ اس کے سپریمو چندر بابو نائیڈو نے ابتداء میں تلنگانہ کے کاز کی حمایت اور پھر اچانک اس کی مخالفت کرنے لگے۔ ان کا تبدیل ہوتا ہوا کردار عوام میں پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا۔ اس طرح تلنگانہ میں جو بھی ہوا، نائیڈو نے اس کی بھرپائی سیماندھرا میں کر دی اور زبردست اکثریت سے سیماندھرا میں برسر اقتدار ہو گئے۔
سیماندھرا اسمبلی میں دوسرے نمبر پر آنے والی پارٹی وائی ایس آر کانگریس ہے۔ اسے یہاں60سیٹیں ملیں اور اس نے 8پارلیمانی سیٹیں بھی جیتیں ۔ دراصل اس کی راہ میں جو فیکٹرس روڑا بنے ، وہ اس کی تنظیمیکمزور ی تھی۔ چونکہ یہ پارٹی صرف اپنے مرکز میں ہی سمٹی ہوئی ہے، اس کے مقامی لیڈران کوئی آزدانہ فیصلہ لینے کی حالت میں نہیں ہیں۔
بہر حال یہ سوال تو یقینا اہم ہے کہ ٹی ڈی پی کی زبردست کامیابی کے پس پردہ کیا ہے؟ بظاہر تو اس کے لیڈروں اور کیڈروں نے اس کی کامیابی کے لئے جی توڑ محنت کی۔ ویسے یہ آسان کام نہیں تھا۔ بی جے پی کو اپنا حلیف بنانے کے لئے ٹی ڈی پی کو کئی عملی دشواریاں درپیش تھیں۔ بہر حال نائیڈو نے ان عملی دشواریوں سے نمٹتے ہوئے 13اسمبلی اور 4پارلیمانی سیٹ پرمعاملہ کرتے ہوئے معاہدہ کیا۔ دریں اثنا ء انہیں خود اپنی پارٹی کے اندر بھی بی جے پی سے معاہدہ کرنے کے سبب جدوجہد کرنی پڑی۔ علاوہ ازیں جب نائیڈو نے بی جے پی کے ذریعہ طے کئے گئے امیدواروں کے تعلق سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو بی جے پی ترجمان پرکاش جاوڈیکر نے فوراً ہی حیدرآباد کا رخ کیا تاکہ معاملہ کو سنبھالا جائے۔
بہر حال اس بات سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ بی جے پی لیڈر نریندر مودی کے ذریعہ پیدا کردہ ٹیمپو نے ٹی ڈی پی کو ہاری ہوئی بازی کو جیتنے میں بڑی مدد کی۔ انہیں مقبول عام ٹولی ووڈ اسٹار کی شکل میں ایک غیر متوقع حمایتی مل گیا جنھوں نے پوری ریاست میں مودی کے لئے زبردست مہم چلائی۔ اس طرح اس فلمی اسٹار سے بی جے -پی ٹی ڈی پی اتحاد کو خوب فائدہ پہنچا۔
چندر بابو نائیڈو نے ان نتخابات میں کچھ خطرات بھی مول لئے تھے۔ مثلاً انھوں نے چندکانگریسی بھگوڑوں کو ٹکٹ دے دیئے تھے مگر بعد ان خطرات پر انھوں نے قابو پایا۔ بہر حال اب یہ سوال بہت بڑا ہے کہ کیا وہ سیماندھرا کے ان عوام کی ڈھیر ساری توقعات پر پورا اتر پائیں گے جنہیں اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم کے وقت انہیں ٹھگا گیا اور انہیں مکمل طور پر انصاف نہیں ملا۔
یہ بات بھی کم اہم نہیں ہے کہ گرچہ وائی ایس آر سربراہ جگن موہن ریڈی ایک ماہر سیاسی کھلاڑی تھے مگر وہ چندر بابو نائیڈو سے مقابلہ نہ کر پائے اور بازی ہار گئے۔ کیونکہ نائیڈو کے پاس ترقی کا اچھا ریکارڈ تھا اور وہ حیدرآباد کو سائبر سٹی میں تبدیل کرنے کے سبب نئی نسل کے ہیرو تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نئی ریاست سیماندھرا کے عوام نے غیر منقسم آندھرا پردیش کی مانند سیماندھرا کو بھی ترقی یافتہ اور سائبر سٹی بنانے کے لئے ٹی ڈی پی سربراہ پر اعتماد کیا ہے اور انہیں شاندار جیت سے نوازا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا چندر بابو نائیڈو غیر منقسم آندھرا پردیش کی مانند پسماندہ علاقہ گردانے جانے والے سیماندھر کو بھی وہی سب کچھ دے کر اسے چمکا پائیں گے؟
ان سب باتوں کے علاوہ جیسے جیسے ان دونوں نئی ریاستوں میں عملی شکل اختیار کرنے کا وقت قریب آ رہا ہے، ویسے ویسے عملی دشواریاں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ مثال کے طور پر تلنگانہ راشٹریہ سمیتی سپریمو کے چندر شیکھر رائو نے گزشتہ دنوں یہ کہہ کر آگ میں تیل ڈالنے کا کام کیا کہ 2جون کو نئی ریاست بننے کے بعد بطور وزیر اعلیٰ وہ آندھرا ڈومی سائیل والے ملازمین کو تلنگانہ کے دفاتر میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ عیاں رہے کہ انھوں نے اس موقف کا اظہار تب کیا ، جب تلنگانہ ملا زمین کی جانب سے یہ الزام لگایا گیا کہ آندھرا ڈومی سائیل والے ملازمین کو نئے تلنگانہ سکریٹریٹ کے اسٹاف کی فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے ۔ کے سی آر نے یہ بھی کہا کہ نئی تلنگانہ حکومت آندھرا پرودیش تنظیم نو بل کے پاس ہوتے وقت ملازمین کی فہرست کا مطالعہ کرے گی اور سیماندھرا سے اسٹاف کو اسی خطہ کے ضلعی و ریاستی عہدوں پر واپس بھیجے گی۔ اس اعلان نے پورے خطے میں بے چینی پیدا کر دی تھی تو وہاں کے ملازمین کی طرفداری کرتے ہوئے سیماندھرا کے ہیرو چندر بابو نائیڈو نے اس معاملہ میں یکساں انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
اس دوران نئی 29ویں ریاست تلنگانہ میں بھی دوسری سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ برسر اقتدار ہونے والی ٹی آر ایس نے مجلس اتحاد المسلمین کو نئی حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی ، جسے مجلس نے ٹھکرا دیا اور باہر سے اپنے تعاون کی بات کی۔ ویسے یہ خبر بھی گرم ہے کہ اکبر الدین اویسی کو نائب وزیر اعلیٰ بنانے لئے بات چیت کی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ یقینا بہت بڑی بات ہوگی۔ عیاں رہے کہ اکبر الدین اویسی کے والد مرحوم صلاح الدین اویسی تقریباً دو دہائی قبل غیر منقسم اسمبلی کے پروٹیم اسپیکر بنے۔ا سی کے ساتھ ساتھ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ مجلس اتحاد المسلمین کے مطالبہ پر تلنگانہ لوگو میں چار مینار کو شامل کیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *