ارون تیواری
ملک کی 16ویں لوک سبھا کے انتخابات کئی معنوں میں تاریخی رہے۔ ان انتخابات پر نہ صرف ملک کے میڈیا کی نظر رہی، بلکہ غیر ملکی میڈیا نے بھی اس پر بھرپور نگاہ رکھی۔ غیر ملکی میڈیا میں پارٹیوں کے ’چناوی پرچار‘ سرخیاں بنتے رہے۔ ان انتخابات کو کئی تشبیہات سے نوازا گیا۔ اس انتخاب کو ہندوستان کی تاریخ کا اب تک کا سب سے مہنگا الیکشن بھی بتایا گیا۔ دراصل، دنیا کے سب سے بڑے ملکوں میں شمار ہونے کے سبب ہندوستان کے انتخابات پر غیر ملکی میڈیا کی ہمیشہ ہی نگاہیں جمی رہتی ہیں۔ آئیے، نگاہ ڈالتے ہیں کہ پارلیمانی انتخاب پر میڈیا نے کس طرح نظر رکھی اور کیا تاثرات پیش کیے۔

پاکستانی میڈیا
بھارتیہ جنتا پارٹی نے جب نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کا اعلان کیا، تو پاکستان میں ان کے لیے غصہ دیکھا گیا۔ گجرات فسادات کے سبب وہاںکے میڈیا میں مودی کی ایک سخت شبیہ ہے۔ مودی کا نام گجرات فسادات سے جوڑتے ہوئے پاکستانی میڈیا میں کافی کچھ لکھا گیا۔ عام طور پر پڑوسی ملک کے میڈیا میں یہی بات گردش کرتی رہی کہ مودی کے پی ایم بننے کے بعد ملک کی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کا جینا محال ہو جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مودی کی شبیہ وہاں کے میڈیا میں ایک سخت ہندو قوم پرست کی ہے۔
اس دوران خاص طور پر کانگریس اور بی جے پی کے لیڈروں کے بھڑکانے والے بیان سرخیوں میں رہے۔ میڈیا میںایسی کئی رپورٹیں لکھی گئیں، جن میں گجرات ماڈل کو بکواس قرار دیا گیا اور گجرات ماڈل کی کئی خامیوں کا ذکر کیا گیا۔ کئی غیر ملکی نامہ نگار تو محض گجرات ماڈل کو سمجھنے کے لیے ریاست میں ڈیرا ڈالے رہے۔ دراصل، پاکستانی میڈیا میں ہندوستانی انتخابات کی تعریف کے ساتھ ساتھ بھڑکانے والے بیانوں کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے، خاص طور سے ایسے بیان جو کسی خاص فرقہ کے خلاف دیے گئے ہوں۔

برٹش میڈیا
برطانیہ کے اخباروں میں بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی کو لے کر ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا۔ یہاں جو اہم خبر سرخیوں میں آئی، وہ یہ ہے کہ وہاں رہنے والے ہندوستان کے لوگوں اور دانشوروں نے نریندر مودی کی ایک خط لکھ کر مخالفت کی تھی۔ وہاں کے اخباروں کے اداریوں اور مضامین میں مودی کا پی ایم بننا ہندوستان کے لیے خطرناک بتایا گیا تھا۔ البتہ ایک بات خاص طور پر یہ دیکھی گئی کہ راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کے انتخابی حلقوں کا دورہ کر کے اچھی کوریج دینے کی کوشش کی گئی۔
ملک کے اخبار ’دی گارجین‘ نے ایگزٹ پول کے نتیجوں کے بارے میں کہا تھا کہ ان نتائج میں کچھ بھی چونکانے والا نہیں ہے۔ الیکشن ہونے سے پہلے جتنے بھی سروے میڈیا میں دکھائے گئے، ایگزٹ پول کے نتیجے بھی کم و بیش ویسے ہی ہیں۔ نوجوانوں کو اب نئی سرکار سے بہت امیدہے۔ گارجین نے نوجوان ووٹرس سے پوچھا کہ وہ نئی سرکار سے کیا چاہتے ہیں، تو انھوں نے تعلیم، بدعنوانی اور صاف شبیہ کی سرکار جیسے ایشوز اٹھائے۔

انتخابی نتائج پر ردّعمل
پاکستان کے اخبار ’روزنامہ ڈان‘ نے ہندوستان میںانتخابی نتائج آنے کے بعد کہا کہ ہندوستانی عوام نے مہنگائی، لچر اقتصادی پالیسی اور بدعنوانی کے لیے کانگریس کو ذمہ دار مانتے ہوئے ہندو قوم پرست طاقتوں کو اقتدار سونپ دیا ہے۔ ایسے میںبی جے پی 30 سال بعد اپنے دم پر سرکار بنانے جا رہی ہے۔ اخبار نے آگے لکھا ہے کہ حکومت بدلنے کا چرچا ہونے سے ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ ایک ہفتہ میں 5 فیصد اور انتخابی نتائج کے بعد سینسکس میں 6 فیصد کا ریکارڈ اچھال دیکھنے کو ملا ہے۔ اس کے علاوہ ایک دوسرا بڑا اخبار ’ڈیلی ٹائمز‘ لکھتا ہے کہ ایگزٹ پول کے مطابق پہلے ہی کٹر پنتھی نیتا نریندر مودی کو پی ایم قبول کرنے کی بات کہہ دی گئی تھی، جس پر نتیجے آنے کے بعد مہر لگ گئی ہے۔
امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے لکھا کہ تاریخی جیت درج کرتے ہوئے ہندو قوم پرست لیڈر نریندر مودی ہندوستان کے اگلے وزیر اعظم بننے جارہے ہیں۔ اخبار کے مطابق 63 سالہ نریندر مودی گجرات کے سی ایم ہیں اور انھوں نے ملک کو اقتصادی طور پر مضبوط کرنے کا وعدہ کر کے لوگوں میں جو امید جگائی، اسی کا نتیجہ ہے کہ جمعہ کو آئے انتخابی نتائج میں 10 سال سے حکومت چلا رہی کانگریس کو کراری ہار کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک اور امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ نے لکھا کہ آزادی کے بعد سے سب سے زیادہ وقت تک حکومت کرنے والی کانگریس پارٹی نے بی جے پی کے ہاتھوں ہار قبول کر لی ہے۔ اس کا سبب کانگریس کی لچر اقتصادی پالیسیوں اور پارٹی کے 10 سال کے دور اقتدار میں لگاتار ہونے والے گھوٹالوں کو مانا جا رہا ہے۔ وہیں پارٹی کی ریڑھ مانے جانے والے راہل گاندھی، جو کہ گزشتہ انتخاب میں قریب 3 لاکھ ووٹ سے جیتے تھے، اس بار ان کی اپنی سیٹ بھی مشکل سے بچی ہے۔
وہیں برٹش اخبار ’ٹیلی گراف‘ نے لکھا کہ ہندو قوم پرست اور متنازع لیڈر نریندر مودی نے نعرہ دیا تھا کہ اچھے دن آنے والے ہیں۔ اس کی پہلی مثال ہے بی جے پی کی یہ تاریخی جیت۔

امریکی میڈیا
امریکی میڈیا میں نریندر مودی کے تعلق سے کئی قسم کے اختلاف رہے۔ امریکی سرکار مودی کو ویزا نہیں دیتی ہے، لیکن پی ایم بننے کے بعد امریکی صدر براک اوباما نریندر مودی کو مبارکباد دینے والوںمیں سر فہرست رہے۔ اس سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ امریکہ کو ہندوستان کی ضرورت ہے، وہ ہندوستان سے اچھے تعلقات قائم کرنے کے لیے مستقبل میں اپنی پالیسی تبدیل کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی سینیٹ میں کئی ارکان پارلیمنٹ مودی کے فیور میںبھی دکھائی دیتے ہیں۔
گلف میڈیا
مشرق وسطیٰ میں زیادہ تر مسلم ممالک میں ان انتخابات کو خاص چشمہ سے نہیں دیکھا گیا۔ کافی لمبے وقت تک چلے انتخابات کی یہاں کے میڈیانے غیر جانبدارانہ انداز میں خبریں پیش کیں اور خبروں کو کوئی اینگل دینے کی کوشش نہیں کی گئی، چاہے وہ ہندوستانی لیڈروں کی زبانی جنگ ہو یا پھر ملک کے وارانسی الیکشن کا معاملہ، یہاںکے میڈیا نے قارئین کو سیدھے طور پر خبریں پہنچانا مناسب سمجھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here