سچ بولنے پر ملتی ہے سزا، لیکن میں نے اپنے بیان پر قائم ہوں: نوجوت سنگھ سدھو

Share Article

 

پلوامہ حملے کے بعد پنجاب حکومت میں وزیر نوجوت سنگھ سدھو کے ایک بیان کے بعد ان کی تنقید ہوئی تھی۔ اس درمیان انہوں نے ایک اور بیان دیتے ہوئے کہا کہ ملک پہلے آتا ہے اور دوستی بعد میں لیکن کچھ بزدلوں کی کرتوت کی وجہ سے پورے پاکستان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے ہیں،

Image result for navjot singh sidhu talk about pulwama

 

چندی گڑھ: پلوامہ حملے کے بعد پنجاب حکومت میں وزیر نوجوت سنگھ سدھو کے ایک بیان کے بعد ان کی تنقید ہوئی تھی۔ اس درمیان انہوں نے ایک اور بیان دیتے ہوئے کہا کہ ملک پہلے آتا ہے اور دوستی بعد میں لیکن کچھ بزدلوں کی کرتوت کی وجہ سے پورے پاکستان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے ہیں،جس کے بعد ملک بھر میں ان کے بیان پر تنقید ہوئی، سوشل میڈیا پر لوگوں نے سدھو پر مہم چلائی اور آخر کار سونی ٹی وی کے پروگرام ’دی کپل شرما شو‘ سے سدھو کو باہر کا راستہ بھی دکھایا گیا، اس کے بعد سدھو کو پنجاب حکومت کی کابینہ سے بھی باہر کرنے کی مانگ اٹھنے لگی جس کے بعد خود سدھو کو اپنی صفائی میں اترنا پڑا۔اپنے پریس کانفرنس میں سدھو نے اپنے سابقہ بیان پر صفائی دیتے ہوئے کہا کہ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔

 

Image result for navjot singh sidhu

 

انہوں نے کہا کہ میں اب بھی اپنے بیان پر قائم ہوں کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب، مذہب، ذات اور ملک نہیں ہوتا ہے۔ بتا دیں کہ جمعرات کو پلوامہ میں پاکستان کے دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے حملے کے دوران 40 جوان شہید ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد نوجوت سنگھ سدھو نے بیان دیتے ہوئے کہا تھا، ’دہشت گردوں کا کوئی ملک نہیں ہوتا ہے کوئی مذہب نہیں ہوتا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے کوئی ذات نہیں ہوتی ہے۔‘ اس بیان کے بعد سدھو کی کافی تنقید ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک بار پھر کہا،’میرے لئے دوستی سے پہلے ملک ہے لیکن میں نے کل کے دیے بیان پر اب بھی قائم ہوں۔ ہم کچھ بزدلوں کی اس حرکت کے لئے پورے پاکستان کو مجرم نہیں ٹھہرا سکتے ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے کے سبب کرتارپور کوریڈور کا مسئلہ متاثر نہیں ہونا چاہئے۔مجموعی طور پر سدھو کی صفائی کے بعد سوشل میڈیا پر معاملہ کچھ ٹھنڈا ہوا ہے، یعنی یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اگرچہ سدھو اپنے بیان پر قائم ہیں لیکن ہمیشہفرنٹ فٹ پر کھیلنے والے سدھو بیک فٹ پر ضرور آ گئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *